9 جون کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1940ء جنگ عظیم دوم:ناروے نے جرمنی کے سامنے ہتھیار ڈالے

1974ء پرتگال اور سوویت یونین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے

2004ء جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز نے بیس غیر ملکی عسکریت پسندوں کوہلاک کیا

2008ء ایپل کمپیوٹر کمپنی نے نیاآئی فون تھری جی کی گنجائش کے ساتھ متعارف کرایا

2008ء چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو معزول کیے جانے پر ملک بھر کے وکلا نے لانگ مارچ کا آغاز کیا

ولادت

1843ء برتھا فان ستنر چیک آسسٹریلین ناول نگار اور امن کارکن تھیں۔ وہ پہلی خاتون تھی جنھیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ انھیں یہ انعام 1905ء میں دیا گیا۔ وہ 21 جون 1914ء کو پیدا ہوئیں۔

1875ء ہنری ہالٹ ڈییلی ایک انگریز ماہر فعلیات و ادویات تھے جنھوں نے 1936 کا نوبل انعام برائے طب و فعلیات حاصل کیا۔ ان کا انتقال 23 جولائی 1968 کو ہوا۔

1923ء ایئر چیف مارشل ادریس حسن لطیف سابق سربراہ بھارتی فضائیہ تھے، لطیف نے بطور چیف آف ایئر سٹاف 1978ء تا 1981ء تک خدمات سر انجام دیں۔ ریٹائرڈ منٹ کے بعد، انھوں نے بطور گورنر ریاست مہاراشٹر (1982–تا 1985) رہے اور اس کے بعد فرانس میں بھارتی سفیر رہے (1988ء تک)۔ وہ پہلے اور اب تک کے واحد مسلمان تھے جو بھارتی فضائیہ یا کسی بھی بھارتی عسکری شاخ کے چیف بنے۔ ان کا انتقال – 30 اپریل 2018 کو ہوا۔

1938 مسعود رانا پاکستان کے مشہور ترین گلوکاروں میں سے ایک تھے۔ وہ 9 جون 1938ء کو میرپورخاص کے ایک زمیندار کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1962ء میں گلوکاری شروع کی اور پہلی فلم انقلاب کے لیے پہلا گانا گایا۔ وہ اردو اور پنجابی فلموں کے صفِ اوّل کے گلوکار تھے۔ انہوں نے 500 سے زائد فلموں کے لیے گانے گائے اور ان کے گائے ہوئے گانے پاکستان کے تمام بڑے اداکاروں پر فلمبند ہوئے جن میں ندیم، محمدعلی، وحیدمراد، شاہد، غلام محی الدین، اعجاز، حبیب، سدھیر، اکمل، وغیرہ قابل ذکرہیں۔ اُن کا انتقال 4 اکتوبر 1995ء کو ہوا۔ انہوں نے مشہور فلموں آئنہ، دل میرا دھڑکن تیری، خواب اور زندگی، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہمراہی، بدنام، چاند اورچاندنی، نازنین، نیند ہماری خواب تمہارے، آنسو، بہاروں پھول برساؤ، دل لگی، شرافت، شرارت، یہ راستے ہیں پیارکے، مجاہد، نائلہ، کون کیسی کا، بھیّا، سنگدل، پاکدامن، احساس، دامن اور چنگاری، میراماہی، مرزاجٹ، دھی رانی،مکھڑاچن ورگا، وریام، اج دا مہینوال، وارنٹ، بادل وغیرہ کے لیے گانے گائے جو بے انتہا مقبول ہوئے۔ انہوں نے کافی سارے قومی نغمات بھی گائے جو انتہائی جوشیلے اندازمیں گائے ہیں۔ اُنہیں پاکستانی رفیع کا خطاب بھی دیا گیا۔

1952ء مخدوم یوسف رضا گیلانی، ضلع ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے۔ ان کی مادری زبان سرائیکی ہے۔ ملتان کی درگاہ حضرت موسی پاک کا گدی نشین ہونے کی بنا پر ان کا خاندان مریدین یا روحانی پیروکاروں کا بھی وسیع حلقہ رکھتا ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے 1970 میں گریجویشن اور 1976 میں یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ یوسف رضا گیلانی فروری 2008 کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان کے 24 ویں وزیر اعظم ہیں۔ 2012ء تک مسلسل چار سال وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کے بعد وہ تاریخ میں پاکستان کا سب سے لمبی مدت وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 19 جون 2012ء کو توہین عدالت کے مقدمہ میں سزا کی وجہ سے پارلیمان رکنیت اور وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

1975ء سہیل عباس 9 جون 1977ء کراچی، پاکستان میں پیدا ہونے والے پاکستان کے موجودہ کپتان اور ہاکی کے مایہ ناز کھلاڑی ہیں۔ سہیل عباس کا شماردنیا کے سب سے بہترین پینلٹی کارنر میں کیا جاتا ہے۔ سہیل عباس انفرادی طور پر دنیا کے سب سے زیادہ گول بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ سہیل عباس کے اب تک انفرادی گول کی تعداد 345 ہے (2012ء-2013ء)۔ سہیل عباس نے حبیب پبلک اسکول، کراچی میں تعلیم حاصل کی۔

وفات

879ء یعقوب لیث صفاری یا یعقوب بن اللیث بن الصفار (پیدائشی نام رادمان پور ماہک) ایک فارسی النسل کسیرا (صفار) جو سیستان کی صفاری سلطنت کے بانی تھے۔ اپنے عہد میں انہوں نے عظیم تر فارس کا زیادہ تر حصہ فتح کیا، جو موجودہ ایران، افغانستان، ازبکستان، پاکستان کے مغربی علاقے، ترکمانستان، تاجکستان اور عراق کا کچھ حصہ ہے۔ وہ 25 اکتوبر 840ء کو پیدا ہوا۔

1911ء مادام کیری امیلی مور نیشن اٹھارہویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل کی مشہور خاتون ہے۔ اس کے دور میں امریکا میں شراب کی تجارت عروج پر تھی اور اس شرابیت میں شرابور قوم کے اکثر مرد اپنے بیوی بچوں سے ہی نہیں بلکہ اپنی جان سے بھی غافل تھے اور ہر سال لاتعداد لوگ موت کے منہ میں صرف اور صرف اس ام الخبا ُ ث کے استعمال کی وجہ سے چلے جاتے تھے ان حالات میں چھ فٹ طویل قامت کی حامل ایک سو پچہتر پونڈ وزنی کیری نیشن نے شراب پرستوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا جس کی پاداش میں انہیں تیس بار جیل یاترا کرنا پڑی ہ۔ اتھ میں کلہاڑی سنبھالے شراب خانوں کو تہس نہس کر دینے والی خاتون کہ اس جہاد کو “Hatchetations” کا نام دیا گیا مادام کیری نیشن کو اپنے اس جہاد کی وجہ سے صرف ملک گیر ہی نہیں بلکہ عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ وہ 25 نومبر 1846 کو پیدا ہوئیں۔

1930ء سر ٹامس واکر آرنلڈ ، سی آئی ای ایک برطانوی متشرق اور اسلامی فنون لطیفہ کا مؤرخ تھا جس نے محمڈن اینگلواورینٹل کالج، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں تعلیم دی۔ وہ سر سید احمد خان کا دوست تھا، اور سر سید کے اصرار پر ہی اس نے اپنی مشہور کتاب “اسلام کی تبلیغ”لکھی۔ آرنلڈنے شاعر اورفلسفی محمد اقبال اور سید سلیمان ندوی کو بھی پڑھایا، اور وہ شبلی نعمانی کا بھی اس وقت سے گہرا دوست تھا جب نعمانی علیگڑھ میں پڑھایا کرتے تھے۔ ہندوستان میں مسلم قوم پرستی کی تحریک پر آرنلڈ کی تعلیمات کے گہرے نقوش دیکھے جا سکتے ہیں۔

1959ء ایڈولف اٹو رائنہولڈ ونڈاؤس ایک جرمن کیمسٹری کا ماہر تھا جسنے سٹیرول اور وٹامن پر کھوج کیا۔ انھیں 1928 کا کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔ وہ ایڈلف بوتنانت کے پی ایچ ڈی کا ایڈوائزر تھا جنھیں 1939 میں کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔ وہ 25 دسمبر 1876 کو پیدا ہوئے۔

1989ء جارج ویل بیڈل جینیٹکس کے شعبے کے ایک امریکی سائنسدان تھے جنھوں نے 1958 کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔ وہ 22 اکتوبر 1903 کو پیدا ہوئے۔

1990ء اسد اللہ خاں المروف اسد بھوپالی، بھارت کے نامور شاعر اور فلمی گیت نگار تھے۔ انہیں فلم میں نے پیار کیا کے گیت دل دیوانہ بن سجنا کے مانے نہ پر بھارت کی فلمی صنعت کا سب سے بڑا انعام فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ وہ 10 جولائی، 1921ء کو پیدا ہوئے۔

1994ء جان ٹنبرجن نیدر لینڈ کے ماہر اقتصادیات ہیں اقتصا دیات میں ان کی کام کی اہمیت کو دیکھ کر 1969 میں انھیں اور راگنرفرشچکو نوبل میموریل انعام برائے معاشیات دیا گیا۔ وہ 12 اپریل 1903کو پیدا ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں

2004ء سکندر شاہین ٹی وی کے مشہور اداکار گزرے ہیں۔ بے شمار ٹی وی ڈراموں اور فلموں اور اسٹیج ڈراموں میں کام کیا۔ ان کے یادگار ٹی وی ڈراموں میں زمین، وارث، سنہرے موسم اور پاگل، احمق اور بیوقوف شامل ہیں۔ سکندر شاہین گورنمنٹ کالج میں انگریزی کے لیکچرار بھی رہے۔ بعد میں انہوں نے وزارت اطلاعات کے موبائل یونٹ کے سربراہ اور پی ٹی وی اکیڈمی کے نائب پرنسپل کے طور بھی کام کیا۔ زمانہ طالب علمی میں گورنمنٹ کالج میں وہ سائیکلنگ کے چیمپئین رہے۔ ان کے ایک صاحبزادے حسن سکندر اچانک انتقال کر گئے تھے جس سے وہ خاصے افسردہ رہے۔اور لاہور 9 جون 2004 کو اپنے بیٹے کے غم میں انتقال کر گئے۔

2011ء جمیل فخری پاکستان کے معروف اداکار جمیل فخری 16 دسمبر 1944ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1970ء کی دہائی میں انہوں نے اطہر شاہ خان کے اسٹیج ڈرامے ’’اندر آنا منع ہے‘‘ سے اپنے فنی زندگی کا آغاز کیا۔ ان کے دیگر مشہور اسٹیج ڈراموں میں زبان دراز اور لاہور بائی پاس کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ پاکستان ٹیلی وژن کے معروف فن کاروں میں بھی شمار ہوتے تھے۔ ان کے مشہور ٹیلی وژن ڈراموں میں تانے بانے، دلدل، وارث، بندھن اور ایک محبت سو افسانے شامل ہیں۔ ٹیلی وڑن کی مشہور ڈرامہ سیریز ’’اندھیرا اجالا‘‘ ان کی فنی زندگی کا ایک اہم سنگ میل سمجھی جاتی ہے جس میں انہوں نے انسپکٹر جعفر حسین کا یادگار کردار ادا کیا تھا۔ جمیل فخری نے 50 کے لگ بھگ فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں مسکراہٹ اور دیوانے دو خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ جمیل فخری 9 جون 2011ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔وہ لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی فنی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 14 اگست 2001ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply