طوائف کی باکردار بیٹی؟(سچی کہانی)

Spread the love

عزیز اعظمی اصلاحی

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایم اے کا فارم جمع کرا رہا تھا پیچھے سے آواز آئی اردو کے فارم یہیں ملتے ہیں ایسی خوبصورت آواز کہ کانوں میں رس گھول گئی مڑ کر دیکھا تو وہ فارم لینے والوں کی بھیڑ میں کہیں کھو گئی لیکن اسکی پر کشش آواز مجھ پر سحر کر گئی، فارم جمع کیا کچھ دن کے بعد ٹیسٹ ہوا ایم اے میں ایڈمیشن ہوگیا ایڈمیشن فیس جمع کراکے 10 دن کےلئے گھر چلا گیا گھر سے واپس آیا دوسرے دن یونیوسٹی پہونچا پروفیسر خالد محمود صاحب کی اردو کی کلاس تھی انکی عادت تھی کہ وہ کلاس میں آتے ہی دوازہ بند کرتے پھر لکچر شروع کرتے تھوڑی دیر بعد دروازہ پر دستک ہوئی سر نے لکچر دیتے ہوئے دروازہ کھولا ،May i come in sir پھر وہی پرکشش خوبصورت آواز میری سماعت کے تار چھیڑ گئی جس کے بول کی مٹھاس اب تک کانوں میں شہد کی طرح موجود تھی وہ معذرت کرتے ہوئے کلاس میں بیٹھ گئی ایسا لگا جیسے پورا کلاس روشنی سے بھر گیا وہ بلا کی خوبصورت تھی غزالی آنکھیں، مخملی پلکیں، ریشمی زلفیں، چمکتا چہرہ جیسے ستاروں کے درمیان چاند ہو وہ سر سے پاؤں تک حسن کا لا زوال شاہکار تھی۔

اسکے حسن میں ایسا ڈوبا کہ ڈاکٹر محمود صاحب نثر پڑھاتے رہے میں غزل لکھتا رہا، اسکے حسن کا نہ صرف میرا کلاس بلکہ پورا ڈیپارمنٹ شیدائی تھا دوسری کلاسیں بھلے ہی چھوٹ جائیں لیکن اردو کلاس کبھی مس نہیں ہوتی اللہ نے اسکو حسن کے ساتھ ساتھ ذہانت اور قابلیت سے بھی نوازا تھا ،غالب، مومن، حالی، ذوق جیسے شعراء کا بیشتر کلام اسے یاد تھے اپنے یاقوتی ہونٹوں سے جب کبھی شعر گنگناتی تو اسکی خوبصورت آواز پر پوری فضا رقص کرتی میں اسکے حسن پرمائل توتھا ہی اسکی قابلیت کا بھی قائل ہو گیا لیکن نہ جانے کیوں وہ ہر وقت خاموش رہتی فاخرہ باجی کے ساتھ صبح آتی اور انہیں کے ساتھ واپس چلی جاتی انکے علاوہ نہ اسکی کوئی سہیلی تھی نہ کوئی دوست وہ اتنی کم گو تھی کہ ضروت کے وقت بھی کم ہی بولتی ہروقت کھوئی کھوئی دنیا سے بےخبررہتی خالی گھنٹیوں میں ہم سب کینٹین جاتے تو وہ لائبریری چلی جاتی باخدا علم حاصل کرنے کا اس قدر شوق میں نے کم ہی لوگوں میں دیکھا ہر روز بلا ناغہ دل میں حسرت لئے کالج آتا کہ کاش کسی دن وہ مجھ سے مخاطب ہو اور اورمیں اپنا دل نکال کر اسکے قدموں میں رکھ دوں لیکن پورے سال میری طرف کیا پورے کالج میں کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا اسکی عفت نظری نے میرے دل میں اسکی عزت اور عظمت کو اور بڑھا دیا دانستہ طور پرکسی کی طرف تونہیں دیکھتی لیکن اکثرمیرے سلام کا جواب دیتے وقت اسکی ریشمی پلکیں میری طرف اٹھ جاتیں میں اکثر اپنے آپ سے سوال کرتا پتہ نہیں وہ میری حسرت بھری نگاہ اور احساس کو پڑھتی بھی ہے یا نہیں؟۔کیا وہ محبت نہیں سمجھتی؟ اسکے سینے میں بھی تو آخر دل ہے کیا وہ کبھی مجھ سے بات کرے گی اگر کسی دن مخاطب ہوئی تو بلا تاخیر اپنے پیار کا اظہار کر ہی دونگا اسی سوچ اورکشمکش میں پورا سال ختم ہوگیا لیکن وہ کبھی بھول کر بھی مخاطب نہیں ہوئی امتحان شروع ہوگئے۔

میں دیگر ساتھیوں کی طرح بہت محنتی تو نہیں تھا گھنٹوں بیٹھ کر پڑھنے کی عادت تو کبھی نہیں رہی لیکن لکھنے میں مجھے بڑا مزا آتا اور یہی وجہ تھی کہ امتحان کے زمانے میں نوٹس بنانے سے پہلے ہی میرے نوٹس تیار رہتے، استاد جتنا کلاس میں پڑھاتے اسکو لکھ لیتا۔ اس طرح امتحان کی تیاری کے لئے مکمل نوٹس میرے پاس موجود ہوتے اور یہ بات فائزہ کو معلوم تھی اتفاق سے ایک دن میں کالج لیٹ پہنچا اور اسی دن وہ ڈیپارٹمنٹ کے سامنے بیٹھی میرا انتظار کر رہی تھی میں کالج آیا اسے سلام کرتے ہوئے ڈاکٹر حلیم صاحب کے چیمبر کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ اس نے مجھے آواز دی عزیز سنو میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی۔

اسکے مرمری لہجے سے نکلا ہوا لفظ عزیز اور بھی عزیز ہو گیا پل بھرکے لئے میں حسین خیالوں میں ڈوب گیا جان بوجھ کر نظر انداز کیا کہ وہ اپنے یا قوتی ہونٹوں سے میرا نام لیتی رہے اور میں سنتا رہوں چیمبر سے نکلتے ہوئے کسی لڑکے نے مجھے اشارہ کیا کہ تمھیں کوئی بلا رہا ہے تب تک وہ خود ہی میرے پاس آگئی عزیز کب سے بلا رہی ہوں سن نہیں رہے ہو۔

اوہ سوری نہیں سنا کہو کیسے یاد کیا جیسے میری آواز حلق میں اٹک گئی ہو قبل اس کے کہ میں اس سے کچھ کہہ پاتا وہ دوٹوک لفطوں میں وضاحت کرتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوئی عزیز مجھےتمہارے نوٹس چاہئیں۔ لیکن پلیز اپنے دل میں کوئی خوش فہمی مت رکھنا کہ میں نے تم سےبات کی، کتابوں کے ساتھ ساتھ میں نے تمہاری خاموش نگاہوں کو بھی اکثر پڑھا ہے اسکی قدر کرتی ہوں لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تمہاری یہ محبت، ہوس کے سوا کچھ نہیں۔ سچا انسان پہلے نکاح اور پھر محبت کرتا ہے۔

سکول، کالج، آفس اور سڑکوں پر پلنے والی محبت کی میرے نزدیک کوئی حیثیت نہیں بڑے بے باک انداز میں محبت کی جگہ اپنے خیالات اور احساسات کو خوبصورت طریقے سے میرے سینے میں اتار کر چلی گئی ایسا لگا جیسے اس نے میری آنکھیں ہی نہیں میری سوچ کو پڑھ رکھا ہو میں اسکا لہجہ اور اپنی مایوسی دل میں لیئے بیٹھا سوچتا رہا کہ اتنی چھوٹی سی عمر اتنا تلخ تجربہ اکثر ایسے خوبصورت اور حسین چہرے تو بڑے مغرور اور دل فریب ہوا کرتے ہیں، لیکن اسکی سادگی، شرافت، پرعزم لہجہ بتا رہا ہے یا تو کسی اعلی اور شریف خاندان سے ہے یا پھر کسی بدترین سانحے نے اسکے دل میں مردوں کے بارے میں نفرت اور تلخی پیدا کردی ہے۔ لیکن محبت تو پتھروں میں بھی جان ڈال دیتی ہے،میں اپنی محبت ثابت کر کے رہونگا وہ اسکا عزم ہے یہ میرا عزم ہے۔

دوسرے دن وہ میری بیاض واپس کرنے آئی اور شکریہ ادا کرتے ہوئے جانے لگی میں نے اس بلایا اور بےجھجک کہہ دیا کہ فائزہ تم جو بھی سمجھو پرمیں تم سے محبت کرتا ہوں تھوڑی دیر وہ خاموش رہی اور طنزیہ لہجے میں کہا جاؤ عزیز میرے پیچھے اپنا وقت اور مستقبل برباد مت کرو میں نے تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا میں کسی محبت کو نہیں جانتی میرا اس سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔

محبت کیا ہے میں تمہیں بتا چکی ہوں جو تم محبت میں چاہتے ہو وہ میں کر نہیں سکتی اور جو میں چاہتی ہوں وہ تم کر نہیں سکتے عارضی اور تفریحی محبت کے لئے میرے سینےمیں کوئی جگہ نہیں، فائزہ تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو میری محبت کسی مقصد کے لئے نہیں مردوں کی محبت کو میں اچھی طرح جانتی ہوں کیا تمہارا معاشرہ مجھ جیسی لڑکیوں کو اپنے گھر کی بہو بنائے گا ہاں میں تم سے محبت کرتی ہوں ٹوٹ کر محبت کرتی ہوں کیا تمہارے اندر مجھ سے شادی کرنے کی ہمت ہے کیا تمہاری سچی محبت میں اتنی طاقت ہے۔۔

فائزہ کیا مطلب تمہارا تم تو ایک شریف اور اچھے گھرانے سے لگ رہی ہو ہاں میں بہت شریف ہوں اور پاک دامن بھی لیکن میرا گھرانہ اچھا نہیں میں کسی اعلی خاندان سے نہیں میں اس راز کو بتانا تو نہیں چاہتی تھی لیکن تمہاری روایتی محبت اور مصنوعی دیوانگی کے سامنے اب حقیقت کو واضح کر دینا بہت ضروری ہے عزیز میں ایک طوائف کی بیٹی ہوں اور مجھ جیسی لڑکیوں کی اس سماج میں کوئی جگہ نہیں اس ماں کے لئے جس نے مجھے اس مقام پہ لا کھڑا کیا اسکو ایسے برے لفظ سے پکارنے کی مجھ میں ہمت تو نہیں لیکن یہی حقیقت ہے میری بے بس ماں چاہے جیسی رہی ہو لیکن وہ ایک باہمت عورت تھی مجھے اس ناپاک زندگی سے بچانے کے لئے نہ جانے کتنےسفید پوش لوگوں سے بھیک مانگی، مگر ان مردو ں کی بھیڑ میں ماں کے جسم کو نوچنے والے بھیڑئیے تو ملے لیکن اس بھیڑ میں کوئی ایک اعلی ظرف نہیں ملا جو مجھے اپناتا یا میری ماں کو کوٹھے کے اندھیرے سے نکال کر روشنی کی دنیا میں لاتا، کوئی اعلی ظرف ملا تو وہ فاخرہ نامی ایک عورت تھی جو فرشتے کی طرح محلے کی اس دوکان پر مل گئیں جہاں میں روز ٹافیاں لینے جایا کرتی تھی۔

میری معصومیت دیکھ کر پوچھ بیٹھیں کہ کہاں رہتی ہو میں نے ان سے بتایا تو وہ سمجھ گئیں ایک دن میری اماں سے ملیں اور مجھے پڑھانے کی بات کی تو میری اماں خوشی سے رو پڑیں انکی پتھرائی آنکھوں کو روشنی مل گئی بالآخر فاخرہ باجی کی مدد سے رام پور نسواں سکول میں میرا داخلہ ہوگیا اور وہی میری اتالیق تھیں معاشرے کے خوف اور میری عزت کی خاطر اماں مجھ سے ملنے نہیں آتیں پورے سال میں صرف دو بار سکول آتیں ایک بار 6 مہینے کی فیس جمع کروا کے چلی جاتیں اور پھر 6 مہینے اپنا جسم بیچتیں اور پھر اگلے 6 مہینے کی فیس جمع کروانے کے لئے آتیں۔

جب وہ مجھ سے ملنے آتیں تومیرے سامنے نظریں جھکائے ڈری سہمی سی نظر آتیں میں اپنی بے بسی اور ما ں کے حال پر خون کے آنسو روتی تھوڑا شعور ہوا تو ماں کو بہت سمجھایا لیکن انکا اب اس کالی دنیا سے نکلنا بہت مشکل تھا فاخرہ باجی جیسی پاکدامن اور مخلص عورت میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا وہ میری ماں کو سکول کے بچوں کے سامنے اپنی بہن کہتیں فاخرہ باجی میری دوسری ماں تھیں۔ میرا کوئی گھر نہیں تھا سکول اور دوستوں کی نظر میں میری عزت کو بحال رکھنے کی خاطر سال میں جب چھٹی ہوتی تو وہ مجھے اپنے گھر لے جاتیں میں ایک مہینہ وہیں رہتی انکے والد محترم بڑے مذہبی تھے مجھے بیٹی کی طرح مانتے جب تک میں وہاں رہتی معا شرے کے خوف سے میری ماں مجھ سے ملنے نہیں آتیں۔

میں ایک مہینے بعد جب واپس مدرسہ چلی جاتی تو فیس جمع کروانے آتیں تو وہیں ملاقات ہوتی میں کلاس کے آخری سال میں تھی 6 مہینہ گزر گیا اماں فیس جمع کروانے نہیں آئیں مہینوں گزر گئے کوئی خبر نہیں فاخرہ باجی کو فون کرکے پتہ کروایا تو پتہ چلا کہ 3 مہینہ پہلے رامپور میں ہوئے ایک بس حادثے میں ان کا انتقال ہوگیا اتفاق سے وہ منحوس حادثہ میرے سکول گیٹ کے سامنے ہی ہوا تھا پر مجھ بدنصیب کو کیا پتہ کہ میری ماں نے آخری سانس میرے سکول گیٹ کے سامنے لی اللہ کا شکر ادا کیا کہ انکو اس گھناونی دنیا سے آزادی مل گئی۔ شاید میری بہترین پرورش، گناہ کی دنیا سے محفوظ رکھنے اور میری تعلیم کے لیے انکی قربانی کے نتیجہ میں اللہ انکی مغفرت فرما دے۔

ماں کے مرنے کی خبر سن کر بھی معاشرے کے خوف سے دوستوں کے سامنے اپنے غم اور آنسو کو پی کر مسکراتی رہی روتی بھی تو کس سے روتی جاتی بھی تو کہاں جاتی نہ تو میرا کوئی خاندان تھا نہ کوئی گھر فاخرہ باجی بھی دوسال پہلے فارغ ہوکر یہاں سے جا چکی تھیں میرا اسکول ہی میری کل کائنات اور فاخرہ باجی ہی میرا آخری سہارا بلآخر انھوں نے ہی میرا آنسو پوچھا مدرسہ آئیں اگلے 6 مہنے کی اسکول کی فیس جمع کی اسکول کے فراغت کے بعد اپنے گھر لے گئیں ۔ فاخرہ باجی کا دیندار گھرانہ مجھے بیٹی کی طرح مانتا تھا معاشرہ لاکھ برا ہو پر آج بھی نیک لوگوں کی اس دنیا میں کمی نہیں فاخرہ باجی کے ابا نے ذاکر حسین کالج میں بی اے میں ایڈ میشن کرا دیا اور ایم اے کے لئے جامعہ بھیج دیا اور یہاں تم جیسے دیوانے سے ملاقات ہوگئی۔

عزیزمجھ سے کسی خیالی امید کے بجائے یہ بات اپنے دامن میں باندھ لو فاخرہ باجی کے دیندار گھرانے کی عظمت میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہے آج کے بعد میری اور تمہاری کوئی بات نہیں ہوگی اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو اس محبت کی قسم میرے اس راز کو راز رکھنا اور اگر اپنانا چاہتے ہو تو باوقار طریقے سے اپنے والدین کے ساتھ فاخرہ باجی کے گھر آنا اور فاخرہ باجی کے ابا سے میرا ہاتھ مانگ لینا – وہ بڑے بے باک انداز میں میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے درد کو میری آنکھوں میں انڈیل کر چلی گئی۔

اسکے بے باک سوالوں کا نہ تو مرے پاس کوئی جواب تھا اور نہ سچی محبت ثابت کرنے کی ہمت، ذات پات، حسب و نسب کے فرسودہ رسم و رواج میں بندھا میرا گھرانہ نہ تو فائزہ کو قبول کرتا اور نہ گھر سے بغاوت کرنے کی میرے اندر جرآت گھنٹوں وہیں بیٹھا اپنی جھوٹی محبت اور پشیمانی پر ماتم کرتا رہا اور اسکی عفت اور عظمت کو سلام کرتا رہا میں اپنی ہی نظروں میں اس قدر چھوٹا ہوا کہ دوبارہ اس سے نظر ملانے کی ہمت نہ رہی لیکن میرے دل میں اسکی عزت و عظمت اور بڑھ گئی امتحان ختم ہوگیا میں گھر چلا گیا ۔

والد صاحب کی نوکری چھوٹ گئی میرے اوپر زمہ داری آگئی دلی آکر نوکری ڈاٹ کام اپنا کوائف نامہ(سی وی) پوسٹ کیا اور خانہ فرہنگ ایران کی لائبریری میں وقتی طور کام کرنے لگا کچھ ہی دن بعد نوکری ڈاٹ کام سے فون آیا کہ سعودی عرب کا ویزہ ہے اگر جانا چاہتے ہیں تو پاسپورٹ لیکر آجاو۔ موقع کو غنیمت سمجھا اور سعودی عرب چلا گیا 5 سال بعد سعودی عرب سے واپس آیا لکھنو ائیر پورٹ سے باہر نکلا ٹیکسی لیکر ہوٹل جا رہا تھا کہ راستے میں میری نظر ایک کار پر پڑی کالا چشمہ لگائے ڈرائیو کرنے والی عورت ہو بہو فائزہ کی طرح تھی لیکن فائزہ تو دہلی میں رہتی تھی یہاں کیسے؟

دل نہیں مانا اگلی ریڈ لائیٹ پر کار رکی جلدی سے اتر کر کار کے پاس گیا کار کے بند شیشے کے باہر سے ہاتھ ہلا کر سلام کیا وہ دیکھتے ہی پہچان گئی جلدی سے کار سے باہر نکلی علیک سلیک ہوئی خیریت دریافت کی مجھے دیکھ کر وہ بے انتہا حیرت میں تھی کہ اسی لمحے گرین لائیٹ ہو گئی جلدی سے اس نے کار کو سائیڈ پر لگایا اس سے بتایا کہ 5 سال بعد سعودی سے آرہاہوں گھر جارہا ہوں اور کوئی ہے ساتھ میں نہیں اکیلا ہوں تو گھر چلو آج یہیں رکو کل چلے جانا۔

ارے نہیں ایسے کیسے گھر پہ لوگ انتظار کر رہے ہونگے پھر کبھی آونگا نہیں تمہیں آج رکنا ہوگا گھبراو مت میرا یہاں اپنا گھر ہے ایک بیٹی ہے میرے شوہر تمارے دوستوں میں سے ہیں میرے دوست کیسے ۔۔۔۔ چلو سب بتاتی ہوں تم ہمیشہ جلدی میں رہتے ہو اتنی جلدی کیا میرے شوہر تم سے ملکر بہت خوش ہونگے باتوں باتوں میں میرا سامان ٹیکسی سے نکلواکر اپنی کار میں رکھوایا اور مجھے لیکر گھر کی جانب چل پڑی۔

عزیز میں بیٹی کو سکول چھوڑ کر یونیورسٹی جارہی تھی لیکن آج نہیں جاونگی، تم میرے مہمان ہو برسو ں بعد اچانک ایسے ملے ہو، اس دن کی طرح آج بھی وہی بولتی رہی میں سنتا رہا، اس سے ملکر ایسا لگا میں آج بھی شرمندہ ہوں۔ جب وہ چپ ہوئی تو میں نے پوچھا لکھنو کیسے مسکراتے ہوئے بولی عزیز پھر تم کو ایک اور کہانی سننی پڑے گی۔

سناو میری قسمت میں توکہانی سننا ہی لکھا ہے،

عزیز قسمت روایتوں اور رواجوں سے نہیں اسکو بدلنے سے بدلتی ہے تمہارے اندر جذبہ تو تھا لیکن ہمت نہیں خیر جہاں سے تم چھوڑ گئے تھے وہیں سے شروع کرتی ہوں ایم اے کے امتحان کے بعد میں نے تمہارا بہت انتظار کیا کہ اگر تم مجھ سے شادی کر لوگے تو میں اپنا گھر بسا کر نئی زندگی کی شروعات کر لونگی۔

فاخرہ باجی کا گھر میرا گھر ہی تھا کوئی پریشانی تو نہیں تھی لیکن میں اپنے آپکو ایک بوجھ سمجھتی تھی سوچا کوئی چھوٹی موٹی نوکری کرکے پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن کرا لونگی لیکن میری خوبصورتی میری جان کا وبال تھی جہاں جاتی لوگ بری نظر سے دیکھتے فاخرہ باجی کے ابا بھی چاہتے تھے میرا کہیں نکاح ہو جائے لیکن میری خوبصورتی کے باوجود کوئی رشتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتا فاخرہ باجی کے ابا کی طرح اعلی ظرف لوگ کم ہی ہیں ان کے سارے رشتہ دار مجھ کو جانتے تھے کچھ لوگوں نے تو میری وجہ سے انکے یہاں آنا جانا بھی کم کر دیا تھے ۔

اللہ سے دن رات دعا کرتی اللہ کہیں میرا نکاح ہو جائے اللہ نے میری یہ بھی دعا قبول کر لی ہمارے کلاس میٹ قمر نے بھی تمہاری طرح مجھے آفر کی تھی وہ بھی اچھا لڑکا تھا اس سے بھی میں نے وہی باتیں کی جو تم سے کی تھی کچھ دن بعد وہ اپنے والد کو لیکر گھر آیا اسکے والد بھی صوم وصلاۃ کے پابند انتہائی شریف آدمی ہیں فاخرہ باجی کے ابا کو بہت پسند آئے اور رشتہ طے ہو گیا دس دن کے بعد نکاح ہو گیا میں قمرکے ساتھ رہنے لگی بی ایڈ کرنے کے بعد قمر کو ہمدرد پبلک سکول میں نوکری مل گئی ذاکر نگر میں کرائے کا مکان لے لیا قمر کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا والد صاحب اکیلے چچا کے یہاں رہتے تھے توان کو بھی اعظم گڑھ سے یہیں بلا لیا۔

قمر کے والد کی اجازت سے میں نے بھی پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن کرا لی الحمداللہ دو سال بعد مجھے بھی نوکری مل گئی اور اس طرح میں بھی قمر کا ہاتھ بٹانے لگی 3 سال میں پی ایچ ڈی کے لیے مقالہ جمع کروا دیا، لکھنو یونیورسٹی میں اردو لکچرر کی پوسٹ خالی تھی میں نے اپلائی کیا اور ہوگیا قمر بھی میری وجہ سے ہمدرد پبلک سکول چھوڑ کرلکھنو آگئے انکی بھی پی ایچ ڈی مکمل تھی خواجہ غریب نواز یونیورسٹی میں وہ بھی پڑھا رہے ہیں……….

فاخرہ باجی کہاں ہیں انکے ابا کیسے ہیں …. دلی میں ہی ہیں جاتی ہو ان سے ملنے اتنے اعلی ظرف انسان کو کیسے بھول سکتی ہوں آج میں جو کچھ بھی ہوں انہیں کی مرہون منت تو ہوں وہ میرا گھر ہے کیوں نہیں جاونگی بلکہ فاخرہ باجی کے ابا کو یہیں لے آتی ہوں قمر کے ابا اور انکے مزاج ایک جیسے ہیں دونوں میں بڑے اچھے تعلقات بھی ہیں ابھی پچھلے ہفتہ تو دلی گئے ہیں فاخرہ باجی دلی یونیورسٹی میں پرفیسر ہیں۔

تم نے تو اپنے بارے میں کچھ بتایا ہی نہیں میں ہی بو لے جا رہی ہوں پڑھائی کیوں چھوڑ دی تم اس دن کے بعد ایسا غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ، جب میں نے تمہیں بہت دنوں تک نہیں دیکھا تو اپنے آپ سے بہت شرمندہ ہوئی اپنے آپ کو کوستی رہی کہ شاید میری وجہ سے تم یونیورسٹی کو خیر باد کہ دیا

ہاں فائزہ شرمندہ ہی نہیں بلکہ اپنی نظروں میں ہی گر گیا تم سے نظر ملانے کی ہمت نہیں تھی کہ ہم لڑکے صرف سچی محبت کا ڈھونگ رچاتے ہیں جب ثابت کرنا ہو تو ہار جاتے ہیں،

یونیورسٹی چھوڑنے کی وجہ یہ تو نہیں میرے معاشی حالات کچھ ایسے ہوگئے کہ چھوڑنا پڑا شادی ہو گئی تھی ذمہ داری بڑھ گئی تھی ابا کی نوکری چھوٹ گئی آنا فانا کچھ سمجھ میں نہیں آیا سعودی عرب چلا گیا تب سے وہیں ہوں ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔

اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی، لگتا ہے قمر آگئے فائزہ نے دروازہ کھولا قمر مجھے دیکھ کر چیخ پڑا ارے عزیز میرے دوست آج برسوں بعد دیکھ کر دل خوش ہو گیا کیسے آنا ہوا بس اچانک فائزہ سے ملاقات ہوئی اور تمہاری یہ بیوی نے جانے نہیں دیا یہ کہ کر مرے پیر باندھ دیئے کہ قمر سے نہیں ملوگے تو بغیر ملے کیسے چلا جاتا ہے ……….. بہت شکریہ دوست بہت اچھا لگا ۔

اچھا فائزہ اب اجازت دو مجھے بھی گھر جانا ہے میرے بیوی بچے بھی 5 سال سے میرا انتظار کر رہے ہیں زندگی رہی تو پھر ملاقات ہوگی قمر نے مجھے بس اسٹینڈ چھوڑا اس طرح میری محبت اور میرے سفر کا آج اختتام ہوگیا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply