طوائفیں کن کی بیٹیاں ہوتی ہیں

Spread the love

تحریر : بابا جیونہ

آج سے قارئین کرام کے لیے سچی کہانیوں کا ایک مستقل سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے اس سلسلہ کی آج پہلی کہانی پیش کی جارہی یہ کہانی فی الحال’’بابا جیونہ‘‘ گاہے بگاہے لکھا کریں گے۔ اگر آپ اس طرح کی کہانی ہمارے قارئین کے لکھنا چاہیں تو دل و صفحات پر وافر جگہ موجود ہے۔

بابا جیونہ معاشرے کے ایک نبض شناس مصنف ہیں افسانہ نگاری اور کالم نگاری سے دل بہلانے کے علاوہ اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ پولیس جیسے سخت گیر محکمہ میں ہونے کے باوجود بھی ایک نرم دل رکھتے اور مشق سخن کرتے ہیں، میں نے ان کی کہانی پڑھی قلم میں پختگی سے معلوم ہوتا ہے بابا جیونہ پیدائشی فنکار ہیں لفظوں کا چناو اچھا ہے اور کہانی جھرنے کے پانی کی طرح بہتی چلی جا رہی ہے جس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لکھنے کا عارضہ کسی حادثے کے نتیجے میں لاحق نہیں ہوا بلکہ لفظ لہو میں بہتے ہیں۔ سچی کہانی سنانا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا اس کو سن کر خونِ جگر سے لکھنا پڑتا ہے۔ پل صراط سے گزرنے کے لیے ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے یہ وہی کر سکتا ہے جس کے اندر باہر سچ موجود ہو۔ انہوں نے اپنے ابارے میں چند سطور خود بھی لکھی ہیں گو بہت سادہ ہیں مگر بہت خوب ہیں۔ (مدیر)

جب سے مجھے کہانیاں افسانے لکھنے کی لت لگی۔ ہمیشہ ہی میں کسی نہ کسی سچی کہانی کی تلاش میں رہتا۔ میر ا دل چاہتا میرے پاس بیٹھنے والا ہر شخص مجھے اپنی زندگی میں پیش آنے والا کوئی واقعہ یا کوئی ایسی بات سنائے جو مجھ سمیت لوگوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہو اور اس سے کوئی سبق یا منطقی نتیجہ اخذ کیا جا سکے یا کم از کم اس میں ایسی معلومات ہوں جو اس سے قبل کم ہی دستیاب ہوں۔ میں اسے اپنے الفاظ کا جامہ پہنا کر اپنی یادوں کی ڈائری میں محفوظ کر لوں۔

عید کی چھٹیاں تھیں پورا پولیس کالج خالی تھا۔ میں اور میرا روم میٹ انسپکٹر بندوخان عید پہ ڈیٹین تھے۔ میں جناب احسان دانش کی کتاب ’’جہاں دانش ‘‘ کے سفر پر نکلا اور تھک کر چور ہو گیا تو بندوخان سے کہا۔۔۔ سر ہے عید کا دن کس قدر بےقاعدہ بوجھل اور بور ہے۔ شاید وہ بھی چپ چاپ لیٹے لیٹے تھک چکے تھے۔ انھوں نے میری ہاں میں ہاں ملائی اور کہا بابا۔ ’’تیرا کمرے میں ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہے۔‘‘ پتہ نہیں اس کتاب میں ایسا کیا ہے؟ جو تم نکالنے بیٹھ گئے ہو۔ مطلب وہ بھی میرے ساتھ باتیں کرنا چاہتے تھے۔ میں نے ہنستے ہوئے کتاب کو ایک طرف رکھا۔ اپنے سرکاری صندوق سے آڑوئوں کا شاپر نکال کر بندو خان صاحب کے سامنے رکھ دیا اور کہا۔ سر، کتابوں کے سہارے ہی تو زندہ ہوں۔ ورنہ یہ تنہائی، گھر سے دوری اور عید جیسے تہوار پہ چھٹی نہ ملنا میری جان ہی لے جاتا۔ خیر چھوڑیں آپ آڑو کھائیں۔ میری متجسس طبیعت کسی چیز کی تلاش میں تھی جس کے بارے میں اس وقت شاید میں خود بھی نہیں جانتا تھا اور ظاہری سی بات ہے کہ ایسی صورت سے میں گھر والوں سے دور عید کے دن چار دیواروں ایک دروازے کھڑی اور چھت کے پنکھے کے درمیان منتشر خیالوں کے ساتھ دور بہت دور کسی حسین وادی میں گم تھا جس کے بارے میں میں خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہا ہے۔ میں نے غیر ارادی طور پر بندو خان سے کہا، سر آج کوئی ایسی بات سنائے جو ہمارے اس کٹھن اور خار دار سفر اور عید کی تنہائی کے درد کو کچھ کم بھی کرے اور وقت بھی کٹ جائے۔ آج کوئی ناقابل فراموش کہانی سنائیں۔ اپنی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ جسے آپ کبھی بھی بھول نہ پائے ہوں۔ تو سرد آہ بھر کر کہنے لگے،

بابا جی۔ پولیس افسر کی تو پوری زندگی ہی ناقابل فراموش واقعات سے بھری ہوتی ہے۔ میں ان کی بات کی گہرائی کو ماپ سکتا تھا، میں نے کہا۔ کچھ تو سنائیں سر۔۔

انھوں نے شاپر سے ایک آڑو اٹھا یا، اپنے تکیے سے رگڑ کر صاف کرتے ہوئے وہ کہنے لگے۔

بندوخان۔ ’’بابا جی 1992ء کی بات ہے جب بطور ٹی، اے، ایس، آئی میری تعیناتی تھانہ ٹبی سٹی لاہور میں ہوئی۔ وہاں ڈیوٹی کے اوقات بڑے عجیب تھے۔ رات دس بجے ڈیوٹی شروع ہوتی اور صبح اذان فجر تک ہم گلیوں میں پیدل گشت کیا کرتے۔ ان گلیوں کی خاک چھانے میں جیرا اور فضل دین سپاہی بھی ساتھ ہوا کرتے تھے۔ ان کے ہاتھ میں لمبی لمبی بانس کی سوٹیاں اور میرے ہاتھ میں سیاہ چھڑی ہوا کرتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب محافظانِ وطن بڑی بڑی بندوقوں کے ساتھ لدے نہیں پھرتے تھے اور اس دور میں گلیاں کوچے اور بازاروں نے کبھی بم دھماکوں کی آوازیں نہ سنی تھیں اہل وطن نے فضاوں میں بارود کی بو محسوس کرنا تو دور کی بات ہے کبھی اس کے بارے میں تصور بھی نہ کیا تھا۔

رات بھر ہم گشت کرتے تو ہمارے پاوں آرام کی دہائی دیتے اور دن کے وقت چارپائیاں ہمارے بوجھ سے لدی رہتی تھی۔

طبلے، سارنگی ، ڈھولکیوں اور گھنگروئوں کی آوازیں ایک عجیب و غریب فضا بنا دیتی تھیں۔ دن کے وقت لگتا تھا جیسے ان گلیوں میں سامری کی سواری گزر گئی ہو اور رات ہوتے یوں محسوس ہوتا کہ جیسے شہر کے تمام راستے انہی گلیوں میں پہنچتے ہیں۔ ہر رات ہم کسی نہ کسی تماش بین یا دلال کی ٹھکائی کرتے تھے۔ آمدن بھی خوب ہوتی۔ جیرا اور فضل دین ایک عرصہ سے اس تھانہ میں تعینات تھے۔ وہ اس بازار کی ہر اونچ نیچ اور یہاں نوکری کے طور طریقوں سے بخوبی واقف تھے۔ میں نیا نیا تھانیدار تھا۔ انھوں نے مجھے کہا۔ ’’سر جی اس تھانے میں اگر عزت سے نوکری کرنی ہے تو طوائفوں سے اور دلالوں سے دور ہی رہنا۔ ہم نے بڑے بڑے تیس مار خان تھانیداروں کو یہاں سے بے عزت ہوکر نکلتے دیکھا ہے۔‘‘ ایک بات اور سر جی۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا، کنجر کتنے بدشکل بدصورت ہوتے ہیں مگر ان کی بچیاں خوبصورت ترین، جیرے نے میرے چھریرے بدن اور سرخ و سپید چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ’’جناب ہوری مطلب سمجھ گئے ہون گے‘‘

میں جیرے اور فضل دین کی اس بات کو بخوبی سمجھ رہا تھا لیکن جیرا اور فضل دین مجھے یہ سب کیوں بتا رہے تھے میں بہت دیر بعد سمجھا تھا۔

شام سات بجے کا وقت تھا۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھا کسی ضرورت کے لیے سرکاری صندوق میں رکھی اپنی’’خون پسینے‘‘ کی کمائی گن رہا تھا جب منشی الٰہی بخش نے آکر مجھے مخاطب کیا۔

’’سر جی آپ کا فون ہے‘‘

میں نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھ کر کہا، میرا فون ؟

منشی، جی کوئی خاتون ہیں، کہہ رہی ہیں بندوخان سے بات کروائیں۔

میں نے خود کلامی کے انداز میں کہا، میرے گھر میں تو فون لگا ہی نہیں، پھر میرے گھر کی کوئی خاتون بھلا مجھے فون کیوں کرنے لگی؟ فون تک جاتے جاتے میں نے خود سے کئی سوال کیے۔ میں نے رسیور اٹھایا اور کہا جی ہیلو۔ تو دوسری طرف سے ایک خاتون گویا ہوئیں ۔

بندو خان کتنی بری بات ہے، آپ کو ہمارے علاقے میں آئے ڈیڑھ ماہ ہوگیا اور آپ میرے دفتر تشریف نہیں لائے۔ ( طوائفیں اپنے کوٹھے کو دفتر کہا کرتی تھیں )۔
جی دفتر؟ آپ کا کون سا دفتر ہے ؟ اور میرآپ کے دفتر میں کیا کام ہے؟

خاتوننے ہنستے ہوئے کہا، اچھا میں اپنا بندہ بھیجتی ہوں وہ آپ کو لے آئے گا۔ باقی باتیں دفتر میں بیٹھ کر کریں گے۔

دوسری طرف موجود خاتون نے میری بات سنے بغیر ہی رسیور رکھ دیا۔ میں حیران تھا۔ میری حیرانی اس وقت اور بھی بڑھ گئی جب ایک پان تھوکتا ہوا کالا سیاہ لمبا تڑنگا شخص میرے کمرے کے دروازے میں آکھڑا ہوا۔

سر جی مجھے کرن باجی نے بھیجا ہے۔ وہ آپ کو دفتر بلا رہی ہیں۔

کون کرن باجی؟ اور مجھے کیوں بلا رہی ہیں؟

سر جی وہ آپ کی کچھ خدمت کرنا چاہتی ہیں۔

میں نے افسرانہ رعب کے ساتھ ڈانٹتے ہوئے اس شخص کو کہا۔ دفع ہو جائو۔ مجھے کسی دفتر شفتر نہیں آنا۔ دوبارہ ادھر شکل دکھائی تو حوالات میں بند کردوں گا۔

وہ شخص ہاتھ جوڑ کر بولا سر جی میں تو نوکر ہوں۔ مجھے معاف کر دیں دوبارہ نہیں آئوں گا۔

دن گزرتے رہے۔ میں کرن اور اس کے فون کو بھول چکا تھا۔ ایک دن منشی نے مجھے ایک درخواست پکڑائی اور کہا’’ بندوخان یہ درخواست لو او ر اس خاتون سے ملو اس کے کوٹھے کے سامنے کوئی تنور والا ہے جو اسے تنگ کرتا ہے اشارے کرتا ہے اور آنکھیں مارتا ہے۔ ایس ایچ او صاحب نے درخواست تمھارے نام مارک کی ہے۔ ‘‘

میں نے درخواست پکڑی جیرے، فضل دین کو ساتھ لیا اور مطلوبہ کوٹھے پر پہنچ گئے۔ واقعی کوٹھے کے عین دروازے کے سامنے ایک بڑی بڑی مونچھوں والا تندورچی موٹی موٹی آنکھوں میں سرمہ لگائے تندور میں روٹیاں لگانے میں مصروف تھا۔ میں نے صرف تندورچی کا نام پوچھا اور جیرے اور فضل دین کو اشارہ کیا کہ شابا، دونوں نے تندورچی کو مارنا شروع کردیا سامنے کوٹھے سے بھاگ کر ایک بندہ آیا اور بولا سر جی باجی کرن کہتی ہیں پہلے میری بات سنیں۔ جب میں نے غور سے دیکھا تو یہ وہی دلال تھا جو تھانے میں مجھے کرن کا سندیسہ دینے آیا تھا۔ میں نے جیرے اور فضل دین کو کہا بس بس چھوڑ دو اسے، وہ تندورچی بیچارہ پوچھتا ہی رہ گیا کہ میرا قصور کیا ہے سر جی میر ا قصور کیا ہے۔ میں نیا نیا تھانیدار تھا اس لیے موقعہ پر انصاف دینا مجھے بڑا پسند تھا۔ ویسے بھی آج والا دور نہیں تھا۔ اس دور میں جب بھی کوئی سپاہی جس بازار میں گھس جاتا دلال کنجر اور تماش بین سہم جایا کرتے تھے۔

ہم تینوں کوٹھے پر پہنچے تو ہنستی مسکراتی بیس بائیس سال کی ایک بہت خوبصورت حسینہ نے ہمارا پرتپاک استقبال کیا۔ خوشبوئوں سے لبریز کمرے کی فضا کو سارنگی کی مدھم مدھم آواز کے ساتھ کسی ماہر طبلچی کی انگلیوں کی طبلے پر پڑتی چوٹ ماحول کو دلفریب کیے ہوئے تھی۔ فوری طور پر جیرے اور فضل دین کو مرنڈا کی ایک ایک بوتل کے ساتھ پانچ پانچ سو روپے کے کڑکتے نوٹ پکڑا دیے گئے۔

میںنے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا، جی تو آپ کرن ہیں ؟
کرن نے گائو تکیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور! تشریف رکھیے، میں ہی کرن ہوں اور میرے سامنے قالین پہ بیٹھتے ہوئے مخصوص ادا سے بولی حضور! آپ نے تو پوری بات سنے بغیر ہی بیچارے جہانے کو مار مار کے بھرکس نکال دیا۔ خیر کوئی بات نہیں میں اسے سمجھا دوں گی۔

لیکن آپ نے تو اس کے خلاف درخواست دی تھی۔

حضور! وہ تو آپ کو اپنے دفتر بلانے کا ایک بہانہ تھا۔کرن نے کہا

میںنے پوچھا کہ آپ مجھے اپنے دفتر کیوں بلانا چاہتی تھیں؟

حضور روز شام کو اپنی اس کھڑکی سے (سامنے کھلی کھڑکی کی طرف اشارہ کرکے) آپ کو اپنے دو سپاہیوں کے ساتھ گزرتا دیکھتی ہوں۔ اور کوئی قسمت جلا ہی ہوگا جو چاند دیکھ کر عید نہ کرنا چاہے۔

کرن کے پتلے پتلے ہونٹ جنبش کرتے تو پتہ نہیں کیوں میرے بدن میں سرسراہٹ پیدا ہوتی۔ پہلی بار کسی خوبرو حسینہ کو اپنے اتنا قریب اور بے تکلف دیکھا تھا۔ اس کے کاغذی نتھنوں میں باریک سی نتھلی میرے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ایک تسلسل کے ساتھ ختم کیے جا رہی تھی۔ کام والا سرخ لہنگا، ہلکی ہلکی سرخ لپ سٹک سے مزیں کچنار کی پتیوں جیسے ہونٹ۔ ہاتھوں میں موتیے کے پھولوں کے تازہ گجرے پائوں میں گھنگرو باندھے کسی قیامت کا پیش خیمہ کرن میرے ناتواں ذہن و قلب پر شائد اپنی غلامی کی مہر لگا چکی تھی۔ ناجانے میں کن خیالوں میں گم تھا کہ کرن نے اچانک پوچھا حضور کیا سنیے گا؟

جی کچھ نہیں۔ میں نے سرعت سے جواب دیا۔

جیرا اور فضل دین اب تک نان اور چرغہ اڑا چکے تھے۔ میں نے اجازت لے کر اٹھنا چاہا تو کرن نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اس کی گرفت تو کوئی مضبوط نہیں تھی پھر اس کے مخملی ہاتھوں میں نے مجھے ایسے جکڑ لیا جانو کہ ہتھ کڑی ہی لگا دی ہو۔ ’’اجی کچھ دیر تو تشریف رکھیے ‘‘لیکن میں نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔ پوری رات گلیوں میں گشت کرتے وقت اپنے ذہن سے جھٹکنے کے باوجود میں کرن کی ادائوں، باتوں، جادوئی شباب کے سحر سے نہ نکل پایا۔ طلوع فجر کے تک ہم نے گشت ختم کی میں سونے کے لیے چارپائی پر لیٹا تو ایسا لگا تو مجھ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی مجھے محسوس ہونے لگا کہ شاید کرن کے کوٹھے سے اٹھنے والی مہک، سازوں کی آواز، اس کے پیروں میں بندھے گھنگروئوں کی چھن چھن۔ کرن کی ناک کی نتھلی کی جنبش اس کے ہاتھ کا لمس میں اپنے ساتھ لے آیا ہوں۔ وہ سب میرے کمرے میں موجود تھا جو میں کرن کے کوٹھے پر دیکھ کر آیا تھا۔

اگلی شام میں نہا کر وردی پہن رہا تھا جب منشی نے مجھے آکر بتایا کہ بندوخان اسی خاتون کا فون ہے کہہ رہی ہے بندو خان سے بات کروا دیں، میں بھاگ کر فون کی طرف لپکا جیسے شاید پہلے ہی میں کرن کے فون کا انتظار کر رہا تھا۔

حضور ! بندی منتظر ہے۔

نے اختیار میرے منہ سے نکلا، آتا ہوں۔

اب میرا معمول بن گیا ہر رات گشت کرن کے کوٹھے سے شروع ہوتی اور کرن کو الوداعی سلام کے ساتھ ختم ہوتی۔ اس سے پہلے میں نہیں جانتا تھا کہ میری خون پسینے کی کمائی کا اصل مصرف کیا ہے مگر اب تو سوچنے سمجھنے کی بات ہی نہیں رہ گئی تھی ان رپووں نے جو راہ نجات درکار تھی وہ مل چکی تھی۔ شروع شروع میں کرن مجھے منع کرتی رہی مگر پھر وہ بھی کبھی کبھار تھانے بندہ بھیج کر پیسے منگوانے لگی۔

میں تھانہ ساندہ سے ٹرانسفر ہوکے تھانہ ٹبی سٹی آیا تھا۔ تھانہ ساندہ کے علاقے سے میں نے نوجوان نسل کی رگوں میں اترنے والے زہر کی بہت کثیر مقدار میں پکڑی تھیں۔ ملک دشمن اور انسانیت کے دشمنوں کی جعلی ادویات کی فیکٹریاں بند کی تھیں اور اس خدمت کے عوض اللہ نے مجھے جو کچھ عطا کیا تھا وہ پوری سروس میں پھر نہ مل سکا، خون پسینہ بہا کر جان ہتھیلی پر رکھ کر کمایا ہوا پیسہ،

کرن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے میں ہر وقت کوشاں رہنے لگا میری نیکی اس کے اس طرح کام آئی کہ اب اس کا کوٹھا کوٹھا نہ رہ گیا تھا جانوں کہ وہ جگہ تماش بینوں کے لیے علاقہ غیر بن چکی تھی۔

کرن کے کوٹھے کے دلال جب کبھی مجھے گلی محلے میں کہیں مل جاتے تو سو دوسو پانچ سو تک خرچ لینا ان کا معمول بن گیا۔ بے شک کرن آج بھی میرا اسی طرح خیال کرتی جس طرح پہلے دن سے کرتی آئی تھی میرے آنے پر باقی تمام تماش بینوں کو کمرے سے باہر نکال دیا کرتی۔ مگر جس کالے اور مکروہ شکل دلال کو میں نے بے عزت کر کے تھانے سے نکال دیا تھا اب وہ مجھ پر حکم چلانے لگا۔ فضل دین اور جیر ا بھی جان گئے کہ کرن میری مجبوری بن چکی ہے۔

راتوں کے پچھلے پہر کرن کاگھر میرے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا تھا، میرے ہوتے کسی کی جرات نہ تھی کہ وہ اس جگہ پہنچ سکتا اب یہاں انسانیت کی تذلیل کے لیے کسی دوسرے کو آنے کی اجازت نہ رہی تھی گویا یہی مرا مقصد حیات بن گیا تھا۔ میرے ’’پاکیزہ‘‘قدموں نے کرن کے کوٹھے کی سیڑھیوں کو کیا چوما، میں تو اپنے گھر کے رستے ہی بھول گیا۔ کرن کے دودھیا مہکتے اور کھلے بدن نے میرے لیے زندگی کے تمام دروازے ہی بند کردیے۔ وہ تماش بین دلال اور عیاش لوگ جو تھانیدار بندوخان کو دیکھ کر راستے بدل لیا کرتے تھے، میرے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہوگئے۔ وہ کنجر جو میری آمد کا سن کر کھڑے ہوجایا کرتے تھے مجھے عام نظروں سے دیکھنے لگے۔ دن بدن میں کرن کے بدن کا اسیر ہوکر نوکری سے میرا دھیان ہٹنے لگا۔ کرن کے ہونٹوں سے چھو کر ملنے والا شراب کا گلاس میری حسرت بن گیا۔ سگریٹ پان سے نفرت کرنے والا تھانیدار بندوخان شراب پینے لگا۔ میری خون پسینے کی کمائی نے چھ ماہ بھی ساتھ نہ دیا۔ اکثر جب کرن پیسے مانگتی تو میں کل کا وعدہ کرکے آجاتا اور پھر اس کے لیے خوب خوب محنت مشقت کرتا کہ جان و جسم ہلکان ہو جاتے۔ شاید کرن کو میری حالت کا اندازہ ہونے لگا تھا۔ پتہ نہیں کیوں وہ اب ہر رات مجھے بچہ پیدا کرنے کا مشورہ دیتی۔ کبھی پیار سے کبھی ناراض ہوکر کبھی غصے سے اس کی ایک ہی خواہش تھی میں اس کے بچے کا باپ بنوں۔ مگر میں نے ہمیشہ احتیاط سے کام لیا بے شک میں کرن کی محبت میں اندھا ہو چکا تھا مگر جیرے اور فضل دین کی وہ بات مجھے

ہمیشہ یاد رہتی۔

آج بھی میری اور کرن کی اسی موضوع پہ بحث ہو رہی تھی کہ کرن کے کوٹھے پہ لگے پی ٹی سی ایل فون کی گھنٹی بجی۔ کرن نے فون اٹھایا اور کہا دومنٹ بعد فون کریں اور دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ دومنٹ بعد پھر فون کئی گھنٹی بجی تو دوسرے کمرے میں کرن نے بھی فون اٹھایا پاس ہی پڑے فون کو میں نے بھی بڑے احتیاط سے اٹھا لیا۔ دوسری طرف کوئی عورت بول رہی تھی

کرن دبئی سے میمن صاحب آنے والے ہیں کب تک عشق کا لولی پاپ چوستی رہو گی۔ جان چھڑوائو اس پولسیے سے۔ بہت ہوگیا۔

کرن، ہاں! امی بس دل آگیا تھا اس پر، دل کے ہاتھوں مجبور ہوگئی تھی۔

بس بہت ہوگیا۔ جانتی ہو میمن صاحب ہر مہینے پچاس ہزار تیرا خرچ بھیجتے ہیں تاکہ کوئی اور مرد تیرے پاس نہ آئے۔ یہ پولسیا تیرا دس دن کا بوجھ نہیں اٹھا پائے گا۔

امی بس آج امید ہے میں جان چھڑوا لوں گی۔

یاد رکھنا کرن ہم طوائفوں کو عشق وشق ہضم نہیں ہوتے۔ صرف تیری وجہ سے کوٹھا چل رہا ہے۔ یہ فقرے عاشق بدن کا رس چوس کر نظریں پھیر لیں گے۔ کوئی منہ نہیں لگائے گا۔

بس کر امی، کہا تو ہے۔ بس آج کی رات۔

اچھا، چل ٹھیک ہے۔ کل گھر لازمی آنا۔ جوہر ٹائون ایک شادی پر جانا ہے۔

اور فون کال بند ہوگئی۔ میں نے ماں بیٹی کی ساری گفتگو سن لی ۔

میرے ساتھ عشق محبت کے وعدے اور دعوے کرنے والی کرن کا اصلی روپ میں دیکھ چکا تھا۔ جب تک کرن فون سن کر واپس آتی میں کپڑے پہن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کرن کے کوٹھے کی سیڑھیاں اتر گیا۔ تین بار میں نے ایس پی صاحب کو کہلوا کر ٹبی سٹی تھانہ سے تبادلہ کروایا۔ مگر ہر بار میرا تبادلہ منسوخ کردیا جاتا۔ آخر چوتھی بار جب میں نے ایس پی صاحب کو تبادلے کی سفارش کروائی تو انھوں نے مجھے اپنے دفتر بلایا اور ڈانٹ کر کہنے لگے بندوخان اگر تم ٹبی سٹی نہیں چھوڑنا چاہتے تو تبادلے کی سفارش ہی کیوں کرواتے ہو۔ تبادلہ رکوا بھی خود ہی لیتے ہو اور سفارش بھی کرواتے ہو۔ جب نے عرض کی کہ سر میں نے تو ایک بار بھی تبادلہ رکوانے کی کوشش کی نہیں کی بلکہ میں تو ایک دن بھی اب ٹبی سٹی تھانہ میں نہیں رہنا چاہتا تو ایس پی صاحب مسکرا کر کہنے لگے۔
اچھا، تو مطلب کوئی طوائف نہیں چاہتی کہ تمھا را وہاں سے تبادلہ ہو۔ جائو ایک رپٹ اپنے تبادلے کی لکھو اور اگلی رپٹ میں تھانہ سے روانگی کر و۔ کرن کو پتہ چل گیا تھا کہ میرا تبادلہ تھانہ مغلپورہ ہو گیا۔ ایک دو بار اس نے تھانہ مغلپورہ فون بھی کیا مگر میں نے کبھی کرن سے نہ بات کی اور نہ کبھی بتایا کہ میں نے تمھاری اور تمہاری امی کی گفتگو سن لی تی۔ کرن کو بھول جانا مشکل تھا۔ شاید مجھے سچ مچ کرن سے محبت ہوگئی تھی۔ سینکڑوں بار میرا دل چاہا کہ کرن سے ملا جائے مگر کرن اس رات مجھ سے جان چھڑوانے کے باوجود مجھے اپنے کوٹھے پر ہمیشہ دیکھنا چاہتی تھی۔ شاید مجھ سے کوئی بچہ چاہتی تھی ۔اب میں سوچتا ہوں تو میری سمجھ میں آتا ہے کہ طوائفوں کی بچیاں خوبصورت کیوں ہوتی ہیں۔

Please follow and like us:

Leave a Reply