آئی ایم ایف نے امریکہ کو تجارتی خطرات سے آگاہ کردیا

Spread the love

امریکہ کو چین کے ساتھ تجارتی تنازع حل کرنے کی ضرورت ہے ، تنازع سے عالمی معیشت کو خطرہ ہے ،عالمی مالیاتی فنڈ

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے امریکہ کو معیشت کے لیے خطرہ بننے

والے تجارتی تنازعات اور مالیاتی مارکیٹ میں مندی کے رجحان سے خبردار کردیا۔ برطانوی خبررساں ادارے

کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے امریکہ کی پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ امریکی معیشت رواں

برس 2.6 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ اپریل میں آئی ایم ایف نے شرح نمو میں 2.3 فیصد اضافے

کی پیش گوئی کی تھی جس میں مالیاتی مارکیٹ کی آسان شرائط کی وجہ سے تیزی کا رجحان رہا۔ آئی ایم ایف

حکام کا کہنا ہے کہ امریکی مالیاتی نظام خطرناک ہوتا نظر آرہا ہے اور تجارتی تنازعات کے باعث سرمایہ کار

پریشان ہیں، اس وجہ سے مالی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے چیف برائے امریکہ

نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ‘ یہ وہ خطرہ ہے جس کی وجہ سے ہم امریکی معیشت کے لیے انتہائی

تشویش کا شکار ہیں۔ اپنی رپورٹ میں آئی ایم ایف نے محصولات میں اضافہ کرکے عالمی تجارتی تعلقات متاثر

کرنے کی کوششوں پر تنقید کی۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ امریکہ کو خاص طور پر چین کے ساتھ تجارتی

تنازع حل کرنے کی ضرورت ہے، اس تنازع سے عالمی معیشت کو خطرہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے

چینی درآمدات پر اربوں ڈالر کے ٹیرف عائد کردیے ہیں اور گذشتہ ہفتے میکسیکو کو امریکہ آنے والی غیر

قانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاون نہ کرنے کی صورت میں تمام درآمد پر ٹیرف میں اضافے کی دھمکی

دی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘ درآمدات پر ٹیرف میں اضافے اور انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے دیگر

اقدامات عالمی تجارتی نظام کو کمزور کررہے ہیں۔ آئی ایم آیف نے یہ بھی کہا کہ امریکی فنانشل ریگولیٹرز

مالیاتی نظام میں بڑھتے ہوئے خطرات کے خاتمے کے لیے کام نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے امریکی

معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اپریل میں اسٹینڈرڈ اور پورے 500 انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا

لیکن گذشتہ ماہ میں اس میں 4 فیصد کمی آئی کیونکہ تجارتی تنازعات کے باعث سرمایہ کار پریشان ہیں اور

عالمی معیشت کی صورتحال امریکہ کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ ‘ اس ماحول کی غیر

متوقع تبدیلی سے کارپوریٹ بیلنس، سرمایہ کاری اور ملازمت کے مواقع میں مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ واضح

رہے کہ گذشتہ برس 22 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات کی درآمدات پر تقریبا 60

ارب ڈالر کے محصولات عائد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔ جس کے بعد چین نے انتقاماً 128

امریکی مصنوعات پر درآمد ڈیوٹی میں 25 فیصد تک اضافہ کردیا تھا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply