7 جون کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

2008ء میاں محمد شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلی منتخب۔

1981ء اسرائیل نے ایف سولہ طیاروں کے ذریعے عراق کا نیوکلیئر رئیکٹر تباہ کیا

1692ء جمیکا میں تباہ کن زلزلے سے سولہ ہزار افراد ہلاک اور تین ہزار شدید زخمی ہوئے

1557ء برطانیہ نے فرانس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا

ولادت

1570ء شہزاہ مراد مرزا مغلیہ سلطنت کے شہنشاہ جلال الدین اکبر کا دوسرا فرزند اور شہزادہ نور الدین جہانگیر کا چھوٹا بھائی تھا۔ 12 مئی 1599 کو ان کا انتقال ہوا۔

1862ء فلپ لینارڈ جرمنی کے ایک طبیعیات دان تھے، جنھیں 1905ء میں نوبل انعام برائے طبیعیات دیا گیا جس کی وجہ ایٹم کے ایک اہم جز یعنی کیتھوڈ شعاعوں کی دریافت کی تھی۔ ان کا انتقال 20 مئی 1947 کو ہوا۔

1871ء نواب سر خواجہ سلیم اللہ بہادر چوتھے نواب ڈھاکہ اور برطانوی راج کے دوران معروف مسلم سیاست دانوں میں سے ایک تھے۔ 1906ء میں مسلم لیگ کا باضابطہ قیام محمڈن ایجوکیشن کانفرنس کے دوران ڈھاکہ میں ہوا۔ اجتماع احسان منزل میں منعقد ہوا جو نواب ڈھاکہ رسمی رہائش گاہ تھی۔ ان کا انتقال 15 جنوری 1915 کو ہوا۔

1877ء چارلس گلور بارکالا برطانیہ کے ایک طبیعیات دان تھے، جنھیں 1917ء میں نوبل انعام برائے طبیعیات دیا گیا، جس کی وجہ انکی دریافت تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کیسے ایکس رے چمک دمک پیدا ہوتی ہے۔ اس کے سبب اکس رے قلم طیف بینی کی اہم ابتدا ہوئی۔ انھوں نے تاببکار مادوں کی ایک اہم خصوصیت یعنی ایکس رے کے چمک دمک بھی دریافت کی تھی۔ وہ 23 اکتوبر 1944 کو انتقال کر گئے۔

1914ء خواجہ احمد عباس ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے مشہور و معروف افسانہ نگار، فلمی ہدایتکار، صحافی اور فلمی کہانی کار تھے۔ خواجہ احمد عباس 7 جون 1914ء میں پانی پت ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ میں تعلیم پائی۔ صحافت کا شوق میدان صحافت میں لے آیا۔ بمبئی کرانیکل کے سب ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ 1936ء میں پہلی تصنیف محمد علی شائع ہوئی۔ ایک لڑکی ان کا پہلا افسانوی مجموعہ تھا۔ متعدد افسانوی مجموعے زعفران کے پھول، پاؤں میں پھول، اندھیرا اجالا، کہتے ہیں جس کو عشق اور ڈرامے زبیدہ، یہ امرت ہے، چودہ گولیاں، انقلاب وغیرہ اور سفرنامہ مسافر کی ڈائری شائع ہوچکے ہیں۔ متعدد فلموں کے مصنف اور ڈائریکٹر بھی رہے۔ ان کا انتقال یکم جون 1987ء کو ہوا۔

1925ء رابرٹ ڈی سلوا ایک پاکستانی رومن کاتھولک پریسٹ تھے۔ وہ کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سینٹ پیٹرکس ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی اور وہ وہاں ایل کے اڈوانی کے ہم جماعت تھے۔ انہوں نے 1944ء میں علم الٰہیات کی تعلیم شیلانگ سے حاصل کی اور 24 اگست 1952ء کو نفاذ فرمان حاصل کر کے پریسٹ مقرر ہوئے۔ وہ سینٹ لارنس چرچ، کراچی اور سینٹ پیٹرکس کیتھیڈرل، کراچی کے پیرش پریسٹ بھی رہے۔ ان کا انتقال – 15 اکتوبر 2015 کو ہوا۔

1946ء انور سیف اللہ، سیاست دان۔ سابق قومی اسمبلی اور سینٹ کے ارکان۔ سابق وزیر پیٹرولیم، موجودہ ممبر صوبائی اسمبلی صوبہ سرحد۔ 7 جون 1946ء کو پشاور صوبہ سرحد میں پیدا ہوئے۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق لکی مروت غزنی خیل سے ہے۔ صوبہ سرحد کے ایک نامور سیاسی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ بیگم کلثوم سیف اللہ کے فرزند اور سابق صدر مملکت غلام اسحاق خان کے داماد ہیں۔

1952ء اورخان پاموک ترک ناول نگار، پاموک نے ادب کا نوبل انعام 10 دسمبر 2006ء کو وصول کیا۔ پاموک کو جرمن بک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے امن انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔ ادب کے شعبے میں نوبل اعزاز جیتنے پر انہیں تقریباً ڈیڑھ ملین امریکی ڈالر کا انعام ملا۔ حالانکہ وہ نوبل انعام حاصل کرنے والی پہلی ترک شخصیت ہیں لیکن اس اعزاز کو حاصل کرنے کے باوجود ترک باشندے ان کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے جس کی وجہ ان کی متنازع شخصیت ہے۔ ناقدین نے پاموک کو نوبل انعام دینے کے فیصلے کو سیاسی قرار دے دیا۔ اورخان اسلامی دنیا کے پہلے ادیب ہیں جنہوں نے ایران کی جانب سے سلمان رشدی کے قتل کے فتوے کی مذمت کی تھی۔ وہ تھامس مین، مارسل پروسٹ، لیو ٹالسٹائی اور فیودور دوستوفسکی سے متاثر ہیں۔

1952ء سوشیلا کارکی 13 اپریل 2016ء کو نیپال سپریم کورٹ کی خاتون چیف جسٹس کے طور پر تقرر کی گئی ہیں۔ وزیر اعظم کے پی اولی کی صدارت میں آئینی کونسل نے نیپال کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کے لیے ان کے نام کی سفارش کی۔ کارکی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو عدلیہ میں بدعنوانی کے سخت خلاف ہیں۔

1966ء سائرہ افضل تارڑ، پاکستانی سیاست دان سابق صدر رفیق تارڑ کی بہو ہیں وہ 7 جون 2013 – 28 جولائی 2017 تک وفاقی وزیر صحت رہیں۔ وہ 2008 کو پہلی مرتبہ حافظ آباد سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔

1969ء ڈاکٹر طارق فضل چوہدری پاکستانی سیاست دان ہیں۔ وہ ن لیگ کے ٹکٹ پر 2013 کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

وفات

1848ء ویسارین بیلنسکی (روسی مصنف، نقاد، فلسفی)

1954ء ایک انگریز سائنسدان اور ریاضی دان تھے، جنہوں نے عالمی جنگ دوم کے دوران جرمن فوج کے پیغاموں کا رمز توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ کمپیوٹر سائنس کی نشو و نما میں بہت اثر انداز تھے اور مفروضاتی کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلیجنس) کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ عالمی جنگ دوم کے دوران انہوں نے بلیچ لی پارک (Bletchley Park) میں کام کیا، جو برطانیہ کا رمز شکنی (codebreaking) کا مرکز تھا۔ یہاں انہوں نے جرمن رمز بند (encoded) پیغاموں کی ترجمانی کرنے کے لیے کچھ تکنیک ایجاد کیے۔ ترسیل کے عمل میں پکڑے ہوئے سندیسوں کا اصل روپ دریافت کرنے میں اُن کا کلیدی کردار نے انہی کی وجہ سے اتحادی افواج نے نازی فوجوں کو متعدد اہم محاذوں پر فتح دلائی۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ بلیچلی پارک میں ہونے والے کام کے سبب ہی یورپ نے جنگ میں فتح پائی۔
1952 میں ٹورنگ ہم جنسیت کے الزام پر قصور وار ٹھہرائے گئےیہ اس وقت کی بات ہے جب برطانیہ میں ایسے فعل غیر قانونی ہی تھے۔ 1954 میں، اپنی بیالیسویں سالگرہ سے سولہ دن پہلےسائنائڈ کھانے سے اس کی موت ہو گئی۔ تفتیش میں اس کو موت کو خود کشی قرار دیا گیا مگر اس کی والدہ سمیت متعدد لوگ تھے جن کا کہنا تھا کہ اس نے غلطی سے سائناڈ نگل لیا تھا۔ 2009 میں، ایک انٹرنیٹ کمپین کے نتیجے میں، برطانوی وزیر اعظم گارڈن براؤن نے اُس کے ساتھ سلوک کے لیے برطانوی حکومت کی جانب سے عوام سے معافی مانگی اور ملکہ الیزابتھ دوم نے اُس کو 2013 میں بعد از موت معافی دے دی۔

1978ء رونالڈ جارج ورے فورڈ نورش ایک برطانوئی کیمیاء دان تھے جنھوں نے 1967 میں نوبل انعام برائے کیمیاء وصول کیا۔ وہ 9 نومبر 1897 کو پیدا ہوئے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply