سری لنکا: مسلمان گورنر، وزرا اور اراکین اسمبلی مستعفی

Spread the love

کولمبو( مانیٹرنگ ڈیسک ) سری لنکا کے دو مسلمان گورنروں، وزرا اور اراکین پارلیمنٹ نے ملک بھر میں

مسلمانوں کے خلاف پرتشدد حملوں پر استعفی دے دیا ہے اور حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان

کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز رویے اور ملک میں جاری مہم کا خاتمہ کیا

جائے۔ایسٹر کے موقع پر ہونے والے بم دھماکوں کے بعد سے ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر

پرتشدد ہنگاموں کا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق صدر میتھری پالا

سریسینا کے حامی رکن اسمبلی نے تین مسلمان سیاستدانوں کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد دو

گورنروں، وزرا اور 9 اراکین اسمبلی نے استعفی دے دیا۔مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق کینڈی میں

ہونے والے مظاہرے میں بدھ مت سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما اتھرالیے رتنا نے دو صوبائی گورنروں

اورایک رکن کابینہ کی معطلی کا مطالبہ کیا تھا۔مذہبی رہنما اتھرالیے رتنا کا الزام تھا کہ جن افراد کی انہوں نے

نشاندہی کی ہے مبینہ طور پر ان کا تعلق ایسٹر کے موقع پر ہونے والے بم دھماکے کے ذمہ داروں سے تھا۔

انہوں نے بطور احتجاج بھوک ہڑتال بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔خبررساں اداروں کے مطابق صوبائی گورنروں

کے مستعفی ہونے کے بعد چند گھنٹوں کے اندر 9 مسلمان اراکین پارلیمنٹ نے استعفے دے دیے اور ساتھ ہی

انہوں نے کہا کہ وہ یہ اقدام اس لیے اٹھا رہے ہیں کہ ایسٹر حملوں کی تحقیقات شفاف طریقے سے کی جا سکیں۔

سری لنکا کے مسلمان اراکین پارلیمنٹ نے استعفے کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا کہ جب سے

ایسٹر دھماکوں کی ذمہ داری مسلمان انتہا پسندوں پر عائد کی گئی ہے اس وقت سے یہاں مسلمانوں کو تشدد،

نفرت اور تعصب کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔مستعفی ہونے والے اراکین پارلیمنٹ نے کہا کہ ہم مسلمانوں کے خلاف

نفرت پھیلانے والوں کو تحفظ دینے کے رویے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔مسلمان اراکین پارلیمنٹ نے حکام پر زور

دیا کہ وہ مسلمانوں پر لگائے جانے والے الزامات کی تفتیش ایک ماہ میں مکمل کرلیں۔مسلمان رہنماوں کا کہنا

تھا کہ جب سے ایسٹر دھماکوں کی ذمہ داری مسلم انتہاپسندوں پر عائد کی گئی ہے اس وقت سے ان کی برادری

تشدد، نفرت انگیز تقاریر اور تعصب کا نشانہ بنی ہے۔ وزیر پانی رووف حکیم کا کہنا تھا کہ مسلمانوں نے

مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کیا لیکن برادری کو مشترکہ طور پر نشانہ

بنایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پھیلانے والوں کو تحفظ دینے کے رویے کا

خاتمہ چاہتے ہیں مستعفی مسلمان وزرا نے مشترکہ طور پر وزیراعظم رانیل وکرامے سنگھے کی حکومت کی

حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔اپریل 2019 میں سری لنکا کے اندر ایسٹر کے موقع پر گرجاگھروں پہ

بم حملے کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں 359 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ مذہبی اعتبار

سے سری لنکا میں بدھ مت کے پیروکاروں کی غالب اکثریت ہے۔سری لنکا میں جب حکام نے بم حملوں کی

ذمہ داری انتہا پسند مسلمانوں پر عائد کی تو اس کے بعد مسلمان مخالف مظاہروں و احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا

جس میں دو درجن کے قریب مسلمان زخمی ہوئے ہیں۔پرتشدد مظاہرین نے اپنے احتجاج کے دوران مسلمانوں

کے 200 سے زائد گھروں اور دکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سری لنکن حکومت نے اس صورتحال

کے بعد ملک میں ایمرجنسی بھی نافذ کردی تھی۔

Leave a Reply