4 جون کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

781ق م قبل مسیح: چین میں پہلی بارتاریخی سورج گرہن ہوا ۔

1845ء میکسیکو اور امریکا کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا ۔

ولادت

1877ء ہائنرش اٹو ویلینڈ ایک جرمن کیمیا دان جس نے بائل تیزاب پر تحقیق کی ۔ انھیں 1927 میں کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔ ان کا انتقال 5 اگست 1957 کو ہوا۔

1903ء ڈاکٹر شیخ عبد الرحمان پاکستان کے منصف اعظم (چیف جسٹس) تھے۔ آپ وزیر آباد پنجاب میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا۔ 1926ء میں آئی سی ایس کے لیے آکسفورڈ میں داخلہ لیا اور السنۂ شرقیہ میں آرنرز کیا۔ 1928ء میں آئی سی ایس کا امتحان پاس کیا اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں ایس ڈی او اسسٹنٹ کمشنر اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدوں پر مامور رہے۔ 1946ء میں لاہور ہائی کورٹ کے قائم مقام جج مقرر ہوئے۔ 1947ء میں بنگال باؤنڈری کمیشن کے رکن اور 1948ء میں متروکہ املاک کے کسٹوڈین بنائے گئے۔ اسی سال لاہور ہائی کورٹ کے جج کے منصب پر فائز ہوئے۔ 1950ء میں جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر بنائے گئے۔ 1954ء میں لاہور ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس مقرر ہوئے۔ 1954ء تا 1955ء چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔ 1955ء میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور 1958ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج مقرر ہوئے۔ بعد ازاں چیف جسٹس بنا دیے گئے۔ 1968ء میں اسی عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے، خود بھی شاعر اور ادیب تھے۔ علامہ اقبال کی فارسی مثنوی اسرارِ خودی کا اردو میں ترجمہ کیا۔ 1965ء میں ان کی ایک طویل منظوم تصنیف ’’سفر‘‘ شائع ہوئی۔ پنجاب یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے مستقل رکن تھے۔ دفتری زبان کمیٹی کے صدر، مجلس ترقی ادب کے ناظم، پنجاب پبلک لائبریری کے چیرمین اور پاکستان آرٹ کونسل کے صدر رہ چکے ہیں۔ ان کا انتقال 25 جولائی 1990 کو ہوا۔

1916ء معروف امریکی نوبل انعام یافتہ سائنس دان وہ 4 جون 1914ء کو امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا میں پیدا ہوئے۔ رابرٹ فرشگوٹ کو1998ء میں ان کی تحقیق پر، جس میں نائٹرک آکسائڈ گیس کی انسانی قلب اور گردش خون کے نظام میں اہمیت کا پتہ چلایا گیا مشترکہ طب کا نوبل انعام دیا گیا۔ یہ دریافت کہ یہ گیس خون کی شریانوں کو کھولنے میں ایک اہم عنصر ہے، ویاگرا نامی دوائی جو دل کے مریضوں کے لیے کافی مفید ثابت ہوئی کی تیاری میں انتہائی مدد گار ثابت ہوئی۔19 مئی 2009ء کو امریکی ریاست ریاست واشنگٹن میں ان کا انتقال ہو گیا۔

وفات

1984ء سارہ شگفتہ 31 اکتوبر، 1954ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ وہ اردو اور پنجابی میں شاعری کرتی تھیں۔ ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی۔ ریب اور ان پڑھ خاندانی پس منظر کے باوجود وہ پڑھنا چاہتی تھیں مگر میٹرک بھی پاس نہ کر سکیں۔ ان کی سوتیلی ماں، کم عمر کی شادی اور پھر مزید تین شادیوں(ان کے دو شوہر شاعر تھے) نے انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ انہیں دماغی امراض کے ہسپتال بھیجا گیا جہاں انہوں نے خودکشی کی ناکام کوشش کی۔ سارا شگفتہ کی پنجابی شاعری کے مجموعے ‘بلدے اکھر’، ‘میں ننگی چنگی’ اور ‘لکن میٹی’ اور اردو شاعری کے مجموعے ‘آنکھیں’ اور ‘نیند کا رنگ’ کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے۔ 4 جون، 1984ء کو انہوں نے کراچی میں ٹرین کے نیچے آکر جان دے دی۔ ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی شخصیت پر امرتا پرتیم نے ‘ایک تھی سارہ’ اور انور سن رائے نے ‘ذلتوں کے اسیر’ کے نام سے کتابیں تحریر کیں اور پاکستان ٹیلی وژن نے ایک ڈراما سیریل پیش کیا جس کا نام ‘آسمان تک دیوار’ تھا۔

1986 علامہ سید احمد سعید کاظمی ایک متبحر عالم دین تھے۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور جمیعت علمائے پاکستان، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان اور جماعت اہل سنت جیسی جماعتیں اور ادارے قائم کرنے میں انکا کلیدی کردار ہے۔ انہیں غزالئ زماں اور امام اہل سنت کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش کا سال ریکارڈ کے مطابق 1913 بیان کیا جاتا ہے۔

1988ء پروفیسر مجنوں گورکھپوری پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز محقق، افسانہ نگار، نقاد، مترجم اور پروفیسر تھے۔ وہ 10 مئی1904ء کو پیدا ہوئے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply