روات ریپ کیس: ملوث تینوں پولیس اہلکار ملازمت سے برطرف

Spread the love

پولیس پر کسی قسم کا دبا ئونہیں ، انصاف ہوتا نظر آئے گا

عوام کی جان ومال کا تحفظ کرنا پولیس کا فرض ہے،ایس پی مظہر اقبال کی پریس کانفرنس

راولپنڈی(نامہ نگار، کرائم رپورٹر)راولپنڈی پولیس نے روات گینگ ریپ کیس میں 3 پولیس اہلکاروں سمیت

پرائیویٹ شہری کو ملوث قرار دیتے ہوئے چالان عدالت میں پیش کرتے ہوئے واقعے میں ملوث تینوں پولیس

اہلکاروں کو ملازمتوں سے برطرف کردیا۔ایس پی صدر رائے مظہر اقبال نے واضح کیا ہے کہ پولیس پر کسی

قسم کا دبائو نہیں، انصاف ہوتا ہوا نظر آئے گا۔ روات گینگ ریپ کیس جس میں متاثرہ لڑکی اپنے پہلے بیان

سے منحرف ہو کر 3 پولیس اہلکاروں سمیت چاروں ملزمان کو پہچاننے سے انکار کرچکی ہے، کے معاملے

پر ایس پی صدر رائے مظہر اقبال کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گینگ ریپ کیس 18تاریخ کو

رپورٹ ہوا، متاثرہ لڑکی نے3 پولیس اہلکاروں سمیت پرائیویٹ شہری کو نامزد کیا جنھیں گرفتار کر لیا گیا اور

متاثرہ لڑکی نے نہ صرف پولیس کے سامنے بلکہ خود عدالت کے سامنے اپنے 164 کے بیان سمیت وڈیو میں

ملزمان کو شناخت بھی کیا۔ بعد میں لڑکی بیان سے منحرف ہوگی اور منگیتر انیس کے ساتھ جانے اور 164 کا

بیان دوبارہ دینے کو کہا ،دوبارہ بیان لینا عدالت کی صوابدید ہے۔ روات گینگ ریپ کیس راولپنڈی پولیس کے

لیے ٹیسٹ کیس ہے اور اب بھی متاثرہ فریق کے ساتھ کھڑی ہے، تینوں پولیس اہلکار تفتیش میں ملزم ہیں جن

سے واردات کے دوران چھینی گئی اشیا، نقدی اور لڑکی کی انگوٹھی بھی برآمد کرلی گئی ہے، تینوں پولیس

اہلکاروں کو نوکریوں سے برطرف کردیاگیا ہے، چاروں افراد کو ملزم قرار دے کر چالان عدالت میں پیش کر

دیا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply