3 جون کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1947ء برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پاکستان کا دورہ کیا ۔

1979ء میکسیکو کے ساحل پر مال بردار بحری جہاز کو حادثہ،6لاکھ ٹن تیل ضائع ہو گیا ۔

ولادت

1853ء انگریز ماہر مصریات۔ 1875ء تا 1880ء آثار قدیمہ کی تحقیق کی اور اپنے نتائج دو ضخیم کتابوں میں قلمبند کیے۔ 1881ء میں اہرام اور قدیم معبدوں کا مطالعہ کرنے کے لیے مصر گیا اور اپنے تاثرات ایک کتاب میں بیان کیے۔ پھر مصر کے مختلف حصوں میں اہم کھدائیاں کیں۔ 1885ء میں نیل کے ڈیلٹا میں ایک قدیم یونانی شہر دریافت کیا۔ آئندہ سال فرعون کے زمانے کے دو شہر دریافت کیے۔ 1891ء میں میدم کا قدیم مندر ڈھونڈ نکالا۔ 1892ء میں ’’مصری مرکز تحقیق‘‘ قائم کیا۔ جسے 1905ء میں توسیع دے کر آثار قدیمہ کی اکیڈیمی بنادیا۔ 1923ء میں اسے ’’عظیم ترین ماہر مصریات‘‘ قرار دے کر سر کا خطاب دیا گیا۔ 1927ء سے 1938ء تک فلسطین کے مختلف حصوں میں کھدائی کرائی۔ آثار قدیمہ پر متعدد کتابوں کا مصنف ہے۔ ان کا انتقال 28 جون 1942 کو ہوا۔

1857ء علامہ شبلی نعمانی، معروف ماہر تعلیم، محقق، سیرت نگار و سوانح نگار اعظم گڑھ جیراج پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی مولوی فاروق چریاکوٹی سے حاصل کی- 1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کیا مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ تھی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔

مزید تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

1872ء والئی افغانستان امیر عبدالرحمن کے بڑے بیٹے تھے۔ سمرقند میں پیدا ہوئے۔ ان کے عہد میں انگریزوں نے افغانستان کی خارجی اور داخلی امور میں کامل آزادی تسلیم کر لی۔ 1905ء میں ہندوستان کا سفر کیا۔ اور اسلامیہ کالج لاہور کا سنگ بنیاد رکھا، کالج کا حبیبیہ ہال ان کے نام سے منسوب ہے۔ ان کے زمانے میں افغانستان میں ڈاکٹری علاج شروع ہوا۔ مغربی طرز کے مدرسے کھولے گئے اور پن بجلی گھر قائم ہوا۔ جلال آباد کے قریب شکار گاہ میں قتل ہوئے۔ 1901 سے لے کر 1919 تک افغانستان پر حکومت کی۔

1873ء اوٹو لوئی ایک جرمن نژاد امریکی ماہر ادویات ونفسیات تھے جنھوں نے 1936 کا نوبل انعام برائے طب و فعلیات حاصل کیا۔ ان کا انتقال 25 دسمبر 1961 کو ہوا۔

1899ء جارج وون بیکسی ہنگری کے ایک ماہر حیاتیاتی طبیعیات تھے جنھوں نے ممالیہ جانوروں کی قوت سماعت کے حوالے سے کیے گئے کام کی وجہ سے شہرت پائی۔ انھوں نے 1960 کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔ ان کا انتقال 13 جو 1972 کو ہوا۔

1946ء ـ میر محمد سومرو (سندھ کے شاعر، مورخ، مفسرِ قرآن) بمقام ضلع خیرپور سندھ، پاکستان

1958ء علی اردشیر لاریجانی، ایران کے ایک قدامت پسند سیاست دان ، فلسفی اور سابق فوجی افسر ہیں۔ وہ قُم کے حلقہ انتخاب سے منتخب ہوئے اور 12 جون 2008 سے مجلس شورائ اسلامی ایران کے سپیکر ہیں۔ مارچ 2016 میں مجلس شورائی اسلامی ایران کے دسویں دور کے انتخابات میں قُم سے دوسری بار منتخب ہوئے۔ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نشریاتی ادارے کے سربراہ، وزیر ثقافت و اسلامی راہنمائی اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔

1966ء وسیم اکرم، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی

1970ء – خواجہ عمار صامت، شاعر، صحافی، نقاد، مضمون نگارجائے پیدائش، 30 نسبت روڈ ضلع لاہور صوبہ پنجاب پاکستان

1986ء شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، ریاست قطر کے آٹھویں اور موجودہ امیر ہیں۔ وہ 25 جون 2013 کو اپنے والد کے امیر قطر کے عہدہ سے دستبردار ہونے کے بعد قطر کے امیر منتخب ہوئے۔ وہ سابق امیر قطر، شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کے چوتھے بیٹے ہیں۔ امیر منتخب ہونے سے پہلے شیخ تمیم ملک میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ شیخ تمیم دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ ہیں۔

وفات

1924ء فرانز کافکا، ناول نگار

1975ء ایساکو ساٹو، جاپان کے ایک سیاست دان ،او ر39 ویں وزیر اعظم تھے، جن کی امن کی خدمات کودیکھ کر 1974ء میں انھیںنوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔ وہ 27 مارچ 1901 کو پیدا ہوئے۔

1977ء ارکیبالڈ ہل ایک انگریز ماہر فعلیات تھے جنھیں حیاتیاتی طبیعیات کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انھیں 1922 کا نوبل انعام برائے طب دیا گیا۔ وہ 26 ستمبر 1886 کو پیدا ہوئے۔

1989ء سید روح اللہ موسوی خمینی المعروف امام خمینی ایران کے اسلامی مذہبی رہنما اور اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی تھے۔

1992ء اختر حسین جعفری پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کی جدید نظم کے ممتاز شاعر تھے۔ وہ 15 اگست، 1932ء کو پیدا ہوئے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply