کراچی اور بنوں میں پولیو وائرس کی انتہائی درجے تک موجودگی کا انکشاف

Spread the love

کراچی,بنوں(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی اور بنوں میںمیں پولیو وائرس کی موجودگی

انتہائی درجے تک بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے۔انسداد پولیو سیل کی جانب سے کئے

گئے ماحولیاتی نمونوں کے سروے نے شہر کے 10 سے زائد مقامات کے

ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس سامنے آنے کی تصدیق بھی کر دی ۔نجی ٹی

وی کو حاصل دستاویزات کے مطابق شہر کے جن علاقوں میں وائلڈ پولیو وائرس

ٹائپ ون سامنے آیا ہے ان میں صدر، گڈاپ، گلشن اقبال، کورنگی، لانڈھی، بلدیہ،

لیاقت آباد، سائٹ ایریا، اورنگی اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ گزشتہ دو ماہ میں سب

سے زیادہ گڈاپ کے مختلف مقامات سے 6،گلشن اقبال سے 4، صدر، لانڈھی اور

اورنگی کے دو، دو مقامات جبکہ بلدیہ،کورنگی، لیاقت آباد اور سائٹ ایریا کے

علاقے کے سیوریج کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی پائی

گئی ہے۔ترجمان ایمرجنسی آپریشن سیل کے مطابق شہر سے رواں سال 2 پولیو

کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کے فوکل پرسن برائے پولیو

بابر بن عطا نے ایک بیان میں کہا کہ صرف بنوں ڈویژن سے 11 کیسوں کا

سامنے آنا لمحہ فکر یہ ہے۔انہوں نے والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے خدارا

بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے قطرے ضرور پلائیں اور پولیو

مخالف من گھڑت پروپیگنڈاے سے ہوشیار رہیں۔بابر بن عطا نے مزید کہا کہ عید

کے بعد پولیو مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔دوسری جانب

عالمی ادارہ صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کا پولیو پروگرام درست

ٹریک پر نہیں۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان پولیو کے خاتمے کی

کوششوں کو تیز کرے، پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد تشویشناک حد بڑھ گئی

ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پر دوبارہ سفری پابندیاں لگنے کے امکانات

بڑھ گئے، پاکستان سے باہر سفر کرنے والوں کیلئے پولیو ویکسی نیشن ضروری

ہے کیونکہ کراچی کا وائرس ایران میں بھی پایا گیا ۔



Please follow and like us:

Leave a Reply