143

موجودہ حالات میں مراعات دینا ناممکن ،ٹیکسوں کا بوجھ کچھ عرصے کیلئے برداشت کرنا ہوگا،حفیظ شیخ

Spread the love

اسلام آباد،لاہور(سٹاف رپورٹر) وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ

نے کہا ہے حکومت موجودہ حالات میں مراعات دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی

اور ٹیکسوں کا بوجھ کچھ عرصے کیلئے برداشت کرنا ہوگا۔گزشتہ روز ڈاکٹر عبد

الحفیظ شیخ کی زیر صدارت تاجروں اور صنعتکاروں کا اجلاس ہوا جس میں

مشیر خزانہ نے شرکاء کو ملک کی معاشی صورتحال سے آگاہ کیا۔ تا جر و ں نے

ملک کی معاشی صور تحال پر تشویش کا اظہار کیا اور مشیر خزانہ کو معیشت

کے حوالے سے تجاویز بھی دیں،اس موقع پر حفیظ شیخ کا کہنا تھا افسوسناک بات

یہ ہے کوئی بھی سیکٹر ٹیکس دینے کو تیار نہیں، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا

مجبوری ہے، کوشش کریں گے صنعتکاروں اور تاجروں کی تجاویز پر عمل کیا

جا سکے۔ بعدازاں گورنر ہائوس لاہور میں بزنس کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے

وزیر اعظم کے مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا آئی ایم ایف کے بعد عالمی

بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی کم شرح سود پر قرض ملے گا،عا لمی

اور ایشین ڈویلپمنٹ بینکوں سے 2 تا 3ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے،ریفنڈز کا

مسئلہ جلد حل ہوجائے گا،ملک کو معاشی مسائل سے نجات دلانے کیلئے مشکل

فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد

سرور،وزیراعظم کے مشیرتجارت عبدالرزاق دائود، وزیرمملکت ریونیو حماد

اظہر، ڈاکٹر سلمان شاہ، خاقان نجیب، الماس حیدر ،خواجہ شہزاد ناصر، فہیم

الرحمن سہگل ،افتخار علی ملک، شاہد حسن شیخ، فاروق افتخار، محمد علی میاں،

ملک طاہر جاوید، نبیل ہاشمی ،گو ہر اعجاز اور فاروق نسیم سمیت دیگر بھی

موجود تھے۔ ملاقات تین گھنٹے تک جاری رہی جس میں بزنس کمیونٹی نے اپنے

مسائل سے بھی آگاہ کیا ۔ اس موقع پر بجٹ کے حوالے سے تجاویز بھی دی گئیں۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا تاجر برادری کی تجاویز پر خصوصی غور کیا جارہا ہے

کیونکہ

یہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کاروباری آسانیوں کے حوالے سے صورتحال

بہتر کرنے کیلئے حکومت خصوصی اقدامات اٹھارہی ہے۔ تحریک انصاف نے

اقتدار سنبھالا تو معاشی حالات اچھے نہیں تھے،حکومت مشکل فیصلے کر رہی

ہے ،آ ئی ایم ایف پروگرام میں جانا اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ ملک کو معاشی

طور پر مضبوط کرنے کیلئے لانگ ٹرم پالیساں بنائی جارہی ہیں،ہم معاشی

استحکام کی جانب آرہے ہیں، ملک کو معاشی مسائل سے نجات دلانے کیلئے

مشکل فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ بجٹ میں اولین ترجیح عام آدمی کوریلیف دینا

ہے۔نئے ٹیکسز اور پٹر ولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے جیسے اقدامات

سے عوام کو مشکل آئیگی مگر پاکستان کا مستقبل ترقی یافتہ اور خوشحال بنا

رہے ہیں ۔ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے کہا آئی ایم ایف کے بعد عالمی بینک اور

ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی کم شرح سود پر قرض ملے گاجس سے ملک کی

معاشی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی وزیر اعظم عمران خان سے میری جب بھی

ملاقات ہوتی ہے تو عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی بات کرتے ہیں۔

عالمی مالیاتی فنڈ سے معاہدے میں تین چار چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان کے

کمزور طبقے کے فائدے میں ہیں آئی ایم ایف نے این ایف سی ایوارڈ پر بات کی

اور نہ یہ ان کا حق ہے۔ بجلی قیمت میں اضافے سے 300یونٹس سے کم بجلی

استعمال کر نیوالوں کو بوجھ سے بچانے کیلئے 216 ارب روپے رکھے جارہے ۔

حکومت نے تجارتی خسارہ کم کیا ہے،زرمبادلہ پر دبا ئوکم ہوا،کمزور طبقہ کی

معاونت کیلئے تمام سکیمو ں کو ملا کر احساس پروگرام بنایا معاشی صورتحال کی

بہتری کیلئے متعدد اقد ا مات کیے،حکو مت نے گورننس بہتر کی،حکومت پر

کرپشن کے الزام نہیں ہیں بجٹ میں تین بڑی ترجیحات ہیں،اول مشکل حا لا ت میں

عوام کی بنیادی ضر و ر ت پوری کرنا،دوم معاشی بحران حل،سوم اخراجات میں

کمی اور ٹیکس وصولیاں بڑ ھا نا شامل ہیں،قرضوں کا بوجھ عوام پر کم از کم

رکھنے کی کوشش کی جائیگی، بجٹ میں اولین ترجیح عام آدمی کو ریلیف دینا

ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت ہے تمام پالیسیاں عوامی مفاد کیلئے بنائی

جائیں۔اس موقع پر گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا پاکستان کی تاریخ

میں شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے گور نر ہائوس میں ایک ہی وقت میں مشیر خزانہ

‘وزیر ریونیو اور وزیر ٹیکساٹل سمیت دیگر حکومتی نما ئندگان یہاں تین گھنٹے

سے موجود ہے جنہوں نے سب کے مسائل سنے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان اور

ہماری حکومت نے عام انتخابات سے پہلے اور حکومت میں آنے کے بعد جو بھی

بزنس کمیونٹی سے وعدے کیے ہیں ان پر ہر صورت عمل کیا جائیگا اوراس میں

کوئی شک نہیں آج ملکی ترقی کیلئے حکومت اور بزنس کیمونٹی ایک پیج پر

آچکی ہے اور ہماری حکومت ڈنگ ٹپائو پالیسی نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کو

محفوظ اور خوشحال بنانے کیلئے لانگ ٹر م پالیساں بنا رہی ہے، وزیر مملکت

میاں حما داظہر نے کہا ایف بی آر میں بہت زیادہ تبدیلیوں کی ضرورت ہے، اس

کو تھوڑا بہت ٹھیک کرنے سے بات نہیں بنے گی، وفاق جو ٹیکس جمع کر تا ہے

اس کا 57فیصد صوبوں کو چلا جاتے ہیں حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس

ریونیو کا نیا ٹارگٹ فائنل کر لیا اور مجھے یقین ہے ہم اس کو حاصل کر نے میں

کامیاب بھی ہوجائیں گے اور معاشی چیلنج سے نمٹنے کیلئے ٹیکس ریونیومیں

اضافہ ضروری ہے ہماری حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم ماضی کی سکیموں

سے مختلف ہے جس کے تحت جو جائیداد ظاہر ہوگی وہ موجودہ مارکیٹ ریٹ

کے مطابق ہوگی بے نامی اکانٹس اور جائیداد ظاہر نہ کرنے کی سزا سات سال

ہے اور اب حکومت ایک بے نامی قانون لارہی ہے جس کے تحت اس سکیم سے

فائدہ نہ اٹھانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ ملک بھر کے تاجروں نے

وزیراعظم عمران خان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر کوئی اس نئی ٹیکس

ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائے گا تو تاجر برادری حکومت کی جانب سے

کسی ایکشن کی مخالفت نہیں کرے گی۔وزیراعظم کے مشیر تجارت عبد الرزاق

دائود نے کہا شہریوں کی خوشحالی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے سرمایہ

کاری کا فروغ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کا محور ہے پاک چین بزنس فورم

سے تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اور کاروباری برادری

کے درمیان رابطے بڑھیں گے۔ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور تاجر برادری

کیلئے حکومت آسانی پیدا کر رہی ہے اس حوالے سے ڈی ٹی آر ای کے نظام کو

مزید سہل کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر ، سینئر

نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا خام مال

پر زیادہ ٹیکسز ، لیویز ، ایڈوانس اور ودہولڈنگ ٹیکسز کی وجہ پاکستانی صنعتیں

عالمی منڈی میں مشکلات سے دوچار ہیں، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریفنڈز جلد

ادا کیے جائیں کیونکہ صنعتوں کو سرمائے کی قلت کا سامنا ہے۔ پانچ صنعتوں

کیلئے زیرو ریٹنگ کی سہولت کسی بھی صورت ختم نہ کی جائے کیونکہ ان

سیکٹرز کے ریفنڈز حکومت کی ٹیکس کلیکشن سے کہیں زیادہ ہیں، اس سہولت

کی منسوخی سے حکومت کی طرف ریفنڈز میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا جس

کو ادا کرنے میں سالوں لگ جائیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا خام مال پر ڈیوٹیاں

اور ٹیکسز کم ،کسٹم ڈیوٹیز ختم یا انتہائی کم ہونی چاہیے، ریگولیٹری ڈیوٹی اور

ایڈیشنل کسٹم ختم کیا جائے تاکہ لوکل انڈسٹری ان مسائل پر قابو پا سکے، اس سے

حکومت کو بہت سے ایس آر اوز ختم اورکرپشن کے دروازے بند کرنے میں مدد

ملے گی۔ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز ٹیکس دہندگان سے حاصل ہونیوالی رقم پر چل

رہے ہیں، حکومت ان کے بارے میں خصوصی منصوبہ بندی کرے۔



اپنا تبصرہ بھیجیں