رمضان میں قتل کی جانے والی ایک عظیم فلسطینی بیٹی کی مختصر کہانی

Spread the love

رزان اشرف عبد القادر النجار

1997 تا 10 جون 2018

رزان اشرف عبد القادر النجار ء – وفات: بروز جمعہ 1 جون سنہ 2018ء بمطابق 16 رمضان 1439ء بمقام غزہ، فلسطین) فلسطینی ادارہ برائے طبی امداد میں ایک رضاکار فلسطینی نرس تھی جو اسرائیلی افواج کے مظالم کے خلاف اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے خاصی سرگرم اور متحرک رہتی تھی۔ سنہ 2018ء میں غزہ کی سرحد پر فلسطینی عوام نے امریکی سفارت خانہ کی منتقلی کے خلاف جم کر احتجاج کیا تو اسرائیلی فوجیوں نے ان مظاہرین پر گولیاں چلائیں جس سے سینکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ رزان بڑی تندہی کے ساتھ انہی زخمی افراد کو طبی امداد پہنچاتی رہی تھیں۔ رزان کی انہی انسان دوست کوششوں کی بنا پر عین اس وقت جب وہ زخمیوں کی مرہم پٹی میں مصروف تھی ایک اسرائیلی قاتل نے 1 جون 2018ء کو بروز جمعہ تقریباً ساڑھے پانچ بجے خان یونس میں ان کے سینے پر گولی داغی جس سے وہ فوراً جاں بحق ہو گئی۔

رزان پہلی فلسطینی لڑکی تھی جس نے جامعہ ازہر میں ایک سال تک طبی امداد اور تیمارداری کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ سنہ 2014ء میں خانگی حالات بگڑنے اور ان کے والد پر قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے انہیں اپنی تعلیم چھوڑنی پڑی۔ چنانچہ رزان واپس فلسطین پہنچ کر مریضوں اور زخمیوں کی رضاکارانہ طبی امداد میں جت گئیں، اس طرح ان کے تجربات اور تربیت پختہ ہو گئے۔ اس دوران میں بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ ضروری طبی آلات کی کمی کے باعث انہیں اپنی جیب خاص سے خریدنا پڑا۔ رزان اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی ریلیوں میں دس سے زائد دفعہ زخمی بھی ہوئیں لیکن پیچھے نہیں ہٹیں اور مسلسل زخمیوں کو طبی امداد پہنچاتی رہیں۔ بالآخر انہی کوششوں کے دوران میں مشرقی خان یونس میں روزہ کی حالت میں انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔

جنازہ
بروز سنیچر 2 جون کو غزہ کے قبرستان خزاعہ میں رزان نجار کی تدفین عمل میں آئی۔ ان کے جنازے میں شرکت کے لیے فلسطینیوں کا ہجوم امڈ پڑا تھا، ہزاروں افراد مشایعت کر رہے تھے جن میں ان کے مریض بھی بڑی تعداد میں تھے۔ رزان کو خزاعہ قبرستان لے جانے سے قبل فلسطینی پرچم میں لپیٹ کر ان کے گھر پہنچایا گیا جہاں ان کے جنازے پر پھول نچھاور کیے گئے۔

شہادت کے دن کی گفتگو

رزان نے یکم جون 2018 کو اپنی شہادت سے چند گھنٹے پہلے ایک انٹرویو کے دوران میں کہا کہ

میرا نام رزان نجار ہے اور میں 20 سال کی ہوں۔ میں یہاں بطور نرس کام کر رہی ہوں۔ یہاں میرے لیے پہلا دن بہت ہی زیادہ کٹھن تھا۔ کیونکہ آنسو گیس سے میں تین بار اپنی سانس کھو بیٹھی تھی جس سے پوری امدادی ٹیم کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایک ساتھی کو کمر پر گولی مار دی گئی جبکہ میری ایک دوست نرس کا ہاتھ گولی کا نشانہ بنا۔ اور ایک دوسرے ساتھی کے کان کے قریب گولی لگی۔ ہم نے انھیں میدان جنگ میں ہی ابتدائی طبی امداد دی۔ پھر انھیں ہسپتال میں منتقل کر دیا اور ہم نے اپنا کام جاری رکھا۔ آج میں قریب قریب گولی لگنے سے بچی جس کے لیے میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں محفوظ تھی۔ اور کل میں آنسو گیس کا نشانہ بنی جس کے قریبا ایک گھنٹے بعد جب مجھے ہوش آیا تو میں پاگل سی ہو گئی کیونکہ میں اپنا کام اور سفر جاری رکھنا چاہتی تھی اس لیے میں ایمبولینس سے فوراً اتر گئی۔ میں نے کہا کہ میں یہاں لوگوں کی مدد کرنے آئی ہوں نہ کہ خود علاج کروانے۔ میں پورے فخر کے ساتھ کہتی ہوں کہ میں اپنے آخری دن تک اسے جاری رکھوں گی۔

اور رزان اسی دن شہید کر دی گئی۔

Leave a Reply