103

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کیخلاف ریفرنس کی سماعت14جون کو ہو گی

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ،آن لائن ) سپریم جوڈیشل کونسل نے

عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی اور سندھ ہائی کورٹ کے جج

جسٹس کے کے آغا کے خلاف دائر صدارتی ریفرنسز میں اٹارنی جنرل کو نوٹس

جاری کردیئے۔اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف ریفرنس کی سماعت 14 جون کو

ہوگی۔ ریفرنس صدر مملکت کی جانب سے 2 روز قبل سپریم جوڈیشل کونسل کو

بھیجوایا گیا تھا، جس میں جسٹس قاضی فائز عیسی اورجسٹس کے آغا پر اثاثے

چھپانے کے مبینہ الزمات لگائے گئے ہیں۔ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے

ان ججز کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

اٹارنی جنرل ان صدارتی ریفرنسوں میں پراسیکیوٹر جنرل کا کردار ادا کریں گے

اور اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ان

کیمرہ ہو گی۔قانونی ماہرین کے مطابق جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کے خلاف حالیہ

مہم نومبر 2017 میں تحریک لبیک پاکستان کے فیض آباد دھرنے کے خلاف 6

فروری کو دیے گئے فیصلے میں سخت الفاظ استعمال کرنے کے بعد شروع

ہوئی، جس میں انہوں نے وزارت دفاع، پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے

سربراہان کو اپنے ماتحت، ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی،

جو اپنے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف

جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز ہونے والے متوقع ججز میں شامل ہیں، ۔یاد

رہے کہ ججز کی بے ضابطگیوں اور دیگر شکایات درج کرانے کا واحد فورم

سپریم جوڈیشل کونسل ہے۔پاکستان کی عدالتی تاریخ میں سپریم جوڈیشل کونسل کی

سفارشات کی روشنی میں اب تک 2 ججز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں

عہدوں سے ہٹایا جاچکا ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل نے گزشتہ سال اسلام آباد

ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی

پر عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی جس کے بعد صدر مملکت نے اس کی

منظوری دے دی تھی۔اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس

شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

دوسری طرف اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان بار کونسل نے اپنا ہنگامی

اجلاس 12 جون کو طلب کیا ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف دائر

کیے جانے والے ریفرنس پر غور کیا جائے گا۔پاکستان بار کونسل کے وائس

چیئرمین امجد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان بار کونسل اعلیٰ عدلیہ کے

ججوں کا احتساب کرنے کے حق میں ہیں لیکن اعلیٰ عدلیہ کے ایک دو ججوں کو

ٹارگٹ کر کے ان کا احتساب کرنا کسی طور پر بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔انھوں نے

کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں بدعنوان اور نااہل ججوں کی بھرمار ہے جس کی نشاندہی

پاکستان بار کونسل کرے گی۔ امجد شاہ کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں اعلیٰ عدلیہ

میں تعینات ایسے ججوں کی ایک فہرست تیار کی جا رہی ہے جو پاکستان کے

چیف جسٹس کو پیش کی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جو فیصلہ تحریر کیا ہے اس سے حکمراں جماعت

ان کے خلاف بغض رکھتی ہے اور اس صدارتی ریفرنس کی بنیاد بھی یہی بغض

ہے۔ وائس چیئرمین کا کہنا ہے کہ 14 جون کو ان دونوں ججوں کے خلاف ان

صدارتی ریفرنسوں کی ابتدائی سماعت ہو گی۔انھوں نے کہا کہ اگر ان ریفرنسوں

کو جاری رکھنے کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوا تو پھر پاکستان بار کونسل وکلا

کی دیگر تنظیموں کے ساتھ مشاورت کر کے اپنا لائحہ عمل تیار کریں گے۔ دریں

اثنا اعلی عدالتوں کے ججز کے خلاف مبینہ ریفرنس دائرکیے جانے کے معاملے

پر سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس میں حکومتی فیصلے کی

شدید مذمت کی گئی ۔ رشید اے رضوی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اگر

ججز کو فارغ کیا گیا تو 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے۔جمعرات

کوسندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس ہوا،اجلاس سے سابق صدر

سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن جسٹس (ر)رشید اے رضوی اور دیگر وکلا نے

خطاب کیا۔وکلا کی جانب سے ججز کے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے پر سخت

الفاظ میں مذمت کی گئی ۔اس موقع پر سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن

رشید اے رضوی ایڈووکیٹ نے کہا کہ جو سازش اب ہوئی ہے وہ اکتوبر میں

شروع ہوئی تھی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف درخواست سماعت کے لیے

منظور کی گئی ہے کہ ان کا سپریم کورٹ میں تقرر ہی غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ

اگرججز کو فارغ کردیا گیا تو عدلیہ کا برا حال ہوجائے گا۔رشید اے رضوی

ایڈووکیٹ نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ججز کو فارغ کیا گیا تو

2007 ء سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے۔



اپنا تبصرہ بھیجیں