88

جاسوسی کا الزام,سابق جنرل, بریگیڈیر,سویلین ملازم کو سزائیں

Spread the love

راولپنڈی ( سٹاف رپورٹر ) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے

2سابق فوجی افسران اور ایک سول آفیسر کو جاسوسی کرنے اورحساس معلومات

غیر ملکی ایجنسیوں کو فراہم کرنے کے الزام میں سزائوں کی توثیق کردی ،

بریگیڈیئر(ر)راجہ رضوان کو مذکورہ الزامات کے تحت سزائے موت جبکہ

لیفٹیننٹ جنرل (ر) جا و ید اقبال کو 14سال قید کی سزا سنا دی گئی۔جمعرات کو

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف

جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2سابق فوجی افسران اور ایک سول آفیسر کو جاسوسی

کرنے اورحساس معلومات غیر ملکی ایجنسیوں کو فراہم کرنے کے الزام میں

سزائوں کی توثیق کر دی، ان افسران پر پاکستان آرمی ایکٹ اور آ فیشل سیکرٹ

ایکٹ کے تحت علیحدہ علیحدہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت کاروائی مکمل

کی گئی، لیفٹیننٹ جنرل (ر)جاوید اقبال کو 14سال قید کی سزا سنائی

گئی،بریگیڈیئر(ر) راجہ رضوان کو سزائے موت سنائی گئی اس کے علاوہ سویلین

ملازم ڈاکٹر وسیم اکرم جو حساس ادارے میں تعینات تھے انہیں بھی سزائے موت

سنائی گئی، فوج کے دونوں افسران غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کو معلومات دے

رہے تھے۔خیال رہے رواں برس فروری میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل

آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی تصدیق کی تھی

آرمی کے دو سینئر افسران جاسوسی کے الزام میں زیر حراست ہیں اور آرمی

چیف نے ان کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل آرڈر کیا ہوا ہے۔پاک فوج کے ترجمان

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے یکساں احتساب کی پالیسی پرآئندہ بھی سختی

سے عمل ہوگا، گزشتہ2 سالوں میں مختلف رینک کے 400 افسران کو سزائیں دی

گئیں، متعدد افسران کو نوکریوں سے فارغ ہونا پڑا، لیفٹیننٹ جنرل ر محمد افضل

اور میجرجنرل ر خالد زاہد اختر کو این ایل سی کے4.3 ارب اسٹاک مارکیٹ میں

لگانے سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا، اسد درانی کو’’را‘‘ کے سابق سربراہ اے ایس دلت

کے ساتھ ملکر کتاب لکھنے پرکورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا۔



اپنا تبصرہ بھیجیں