ضیا الرحمن سابق صدر بنگلہ دیش

Spread the love

19 جنوری 1936 تا 30 مئی 1981

تحریر و تحقیق: محمد مدثر بھٹی

صاحب مضمون

خوش قسمتی کہیں یا بدقسمتی کہ بنگلہ دیش پاکستان سے علیحدہ ہو گیا چند سالوں کے بعد ہی ایک حصے کی علیحدگی اس بات کی علامت ہے کہ اس وقت کے حکمرانوں کو سوائے اپنے اقتدار کے کسی چیز کا شعور بہرحال نہیں تھا دونوں طرف سے الزامات اور جلد بازی نے دشمن قوتوں کو اپنی سازش میں کامیاب ہونے میں پوری طرح مدد دی۔ مشرقی پاکستان میں بھی علیحدگی کے بعد سازشوں نے بام عروج دیکھا اور اس علیحدگی کی تحریک میں جو بھی لوگ شامل تھے وہ سب بعد میں سازش کا شکار ہوئے اور ایک نوزائیدہ مملکت کو کسی طور بھی سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔ اس سازش کا سرخیل شیخ مجیب الرحمن اور کچھ عرصہ بعد ان کو قتل کر دیا گیا۔ شیخ مجیب کے قتل کی سازش کا بنیادی مہرہ مشتاق احمد صدر بنا اور بعد میں ایک سازش کے نتیجے میں قتل ہو گیا۔ پھر کئی طرح کی سازشوں کے بعد ضیاالرحمن صدر بنے اور قتل ہوئے۔ اسی طرح بھارت میں آزادی کے روح رواں گاندھی جی قتل ہوئے، پاکستان میں مسٹر جناح کے بارے میں ایک حلقہ ہے جس کا یہ خیال ہے کہ ان کو بھی قتل ہی کیا گیا ہے یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ان کی گاڑی کو جان بوجھ کر سست رفتاری سے چلایا گیا تاکہ مطلوبہ مقام تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو جائے۔ تاریخ کے یہ تاریک گوشے اپنے اندر بہت سے سوالات لیے ہوئے ہیں جن کے جواب مجھے آج تک نہیں مل سکے، سوال یہ ہے کہ آخر تینوں ممالک کی جنگ آزادی کے سالارِ اعظم اور ان کے رفقا کار کو اس طرح مارا جانا کیا محض اتفاق تھا یا یہ لوگ کسی اور کے لیے کام کر رہے تھے اور ان کا کام ختم ہوتے ہی ان کو ویسے راستے سے ہٹا دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا تینوں ممالک کی آزادی کسی منظم جدوجہد کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی گہری سازش تھی جس کا مقصد خطے میں دو اقوام کے درمیان جنگ کا بیج بونے اور اس کو ہوا دینے کے لیے کوئی سازش ہوئی تھی۔ سوال اور بھی بہت ہیں مگر کچھ بے محل ہو جائیں گے اور کچھ موضوع سے باہر نکل جائیں گے۔ اگر کسی کو ان سوالات کے جوابات ملیں تو لازمی آگاہ کرے۔آج ان سوالات کا خیال مجھے اس طرح سے آیا ہے کہ آج ہی کے دن ضیاالرحمن کو قتل کیا گیا تھا۔

صدر ضیا الرحمن، اپنی بیوی خالدہ ضیادائیں طرف اور بائیں طرف بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ یاد گار تصویر

ضیاء الرحمن 19 جنوری 1936 کو پیدا ہوا اور 30 مئی 1981 کو قتل کر دیا گیا۔ آپ 21 اپریل 1977 کو بنگلہ دیش کے چوتھے صدر بنے۔ ضیاء الرحمن کے والد کا نام منصور رحمان اور والدہ کا نام جہان آرا خاتون تھا۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد آپ کے والد کراچی منتقل ہو گئے جہاں ضیاء الرحمن نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ 1953 میں ضیاء الرحمن پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں کیڈٹ بھرتی ہوئے۔ 18 ستمبر 1955 کو بارہویں پی ایم اے لانگ کورس میں آپ پاس آؤٹ ہوئے۔ 1960 میں آپ کی شادی خالدہ ضیا کے ساتھ ہوئی، جو بعد میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنیں۔

بنگلہ دیشی تحریک آزادی

جنرل یحییٰ اور مغربی پاکستان کے لیڈر 25 مارچ 1971 کو مشرقی پاکستان سے طیارے میں مغربی پاکستان روانہ ہوئے تو حالات انتہائی نہج پر پہنچ چکے تھے۔ اس کی اگلی رات 26 مارچ 1971 کو شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری سے قبل اس نے ریڈیو مشرقی پاکستان پر بنگالیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ میر ا آخری پیغام ہو۔ آج بنگلہ دیش کی آزادی کا دن ہے۔ آپ جو بھی ہیں اور جہاں بھی ہیں اپنی آزادی کے لیے لڑیں۔ تقریر کے آخر میں اس نے نعرہ لگایا ’’جے بنگلہ ‘‘اس کے لہجے میں اتنی شدت تھی کہ تھوک منہ سے نکل کر مائیک پر پھیل گیا۔ اگلے روز بنگالی لبریشن آرمی کے میجر ضیاء الرحمن نے مشرقی پاکستان کے مختلف ریڈیو سٹیشنوں پر بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کیا۔ اس اعلان سے پہلے میجر ضیاء الرحمان نے اپنے سینئر لیفٹیننٹ کرنل جنجوعہ کو گرفتار کرنے کے بعد قتل کر دیا۔

شیخ مجیب الرحمن کا قتل

15 اگست 1975 کو بھارت کی یومِ آزادی کے دن شیخ مجیب الرحمن ایک فوجی بغاوت میں مارا گیا۔ اس بغاوت کا منصوبہ مشتاق احمد نے بنایا تھا جو شیخ مجیب الرحمان کا قریبی دوست تھا۔ لیکن بعد میں شیخ مجیب الرحمان کی بھارت نواز، سیکولر، مخالفین کے خلاف جبر وتشدد اور دیگر پالیسیوں کی وجہ سے سخت ناراض تھا۔ شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے بعد مشتاق احمد بنگلہ دیش کا پانچواں صدر بنا۔ ایک دوسری بغاوت کے نتیجے میں مشتاق احمد کو 9 نومبر 1971 کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ یہ بغاوت بریگیڈیئر خالد مشرف نے کی تھی۔ بریگیڈیئر خالد مشرف نے ضیاء الرحمان کو گرفتار کر لیا اور خود میجر جنرل کے عہدے پر براجمان ہو گیا۔ لیکن 7 نومبر 1971 کو ایک اور بغاوت کے نتیجے میں خالد مشرف کو قتل کر دیا گیا۔ یہ بغاوت ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل ابو طاہر اور دیگر سوشلسٹ فوجی افسران نے کی تھی۔ لیفٹیننٹ کرنل راشد نے ضیاء الرحمان کو چھڑایا اور اسے دوبارہ آرمی چیف بنا دیا گیا۔ اس کے بعد آرمی ہیڈ کوارٹرز میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں جسٹس محمد صائم ابو سادات کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا اور میجر جنرل ضیاء الرحمان، ایئر وائس مارشل تواب اور ریئر ایڈمیرل خان اس کے نائب مقرر ہوئے۔ میجر ابوطاہر کی جانب سے ایک اور بغاوت کے پیش نظر ضیاء الرحمان نے اسے 21 جولائی 1976 کو قتل کر دیا۔ 19 نومبر 1976 کو ضیاء الرحمان چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔

سیاست

ضیاء الرحمان 21 اپریل 1977 کو بنگلہ دیش کے صدر بنے۔ آپ نے بنگلہ دیش کو شیخ مجیب الرحمان کی بھارت نواز، سیکولر اور جبر وتشدد کی پالیسیوں سے آزادی دلائی۔ شیخ مجیب الرحمان نے جنوری 1975 میں اپنی پارٹی کے علاوہ تمام جماعتوں پر پابندی لگا دی تھی۔ ضیاء الرحمان نے صدر بننے کے بعد 1978 میں جماعت اسلامی سمیت تمام جماعتوں پر سے پابندی ہٹا دی۔ شیخ مجیب الرحمان کے قتل میں ملوث افراد کو معافی نامہ جاری کر دیا۔ آئین کے دیباچے میں بسم اللہ الرحمان الرحیم کے الفاظ شامل کیے۔ مسلمان ممالک سے تعلقات پر خصوصی توجہ دی اور پاکستان، سعودی عرب، چین اور دیگر اسلامی ممالک سے تعلقات بہتر کیے۔ بنگلہ دیش کے شہریوں کے لیے لفظ بنگالی کی بجائے بنگلہ دیشی کا لفظ آئین میں شامل کیا کیونکہ بنگلہ دیش میں اردو بولنے والے بہاری اور دیگر غیر بنگالی قومیں بھی موجود تھیں جو اپنے ساتھ بنگالی کی بجائے بنگلہ دیشی کا لفظ استعمال کرنے کو ترجیح دیتی تھیں۔

ضیاء الرحمان کا قتل

ضیاء الرحمان 1981 میں چٹاگانگ کے دورے پر گئے تاکہ ایک انٹرا پارٹی مسئلے کو حل کریں۔ آپ کا قیام چٹاگانگ سرکٹ ہاؤس میں تھا۔ 30 مئی 1981 کی صبح چند فوجی افسران نے ضیاء الرحمان کو چھ باڈی گارڈز سمیت قتل کر دیا۔ آپ کا جنازہ پارلیمنٹ سکوائر میں ہوا جس مین لگ بھگ دو ملین افراد نے شرکت کی۔

اولاد

ضیاء الرحمان کی بیوی خالدہ ضیاء سابقہ وزیر اعظم رہ چکی ہیں، جس سے ان کے دو بیٹے طارق رحمان اور عرفات رحمان پیدا ہوئے۔ عرفات رحمان فوت ہو چکے ہیں جبکہ طارق رحمان سیاست میں سرگرم ہیں۔

Please follow and like us:

Leave a Reply