حویلی کے گیٹ پر دستک (Der Schlag ans Hoftor)

Spread the love

(فرانز کافکا کی ایک کہانی، جرمن سے براہ راست اردو میں)

یہ گرمیوں کے ایک گرم دن کی بات ہے۔ میں اپنی بہن کے ساتھ گھر کی طرف جاتے ہوئے ایک حویلی کے صدر دروازے کے پاس پہنچ چکا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ اس نے دروازے پر شرارت سے دستک دی تھی یا بے دھیانی میں یا پھر اس نے صرف اپنی مٹھی سے اشارہ ہی کیا تھا اور سرے سے کوئی دستک دی ہی نہیں تھی۔ آگے جا کر بائیں طرف مڑ جانے والی سڑک پر سو قدم کے فاصلے پر گاؤں شروع ہو جاتا تھا، جس سے ہم اچھی طرح واقف نہیں تھے۔ لیکن جیسے ہی ہم پہلے گھر کے پاس سے گزرے، سامنے سے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے ہمیں دیکھ کر ہاتھ ہلانا شروع کر دیے۔

ان کے ہاتھوں کے اشارے یا تو دوستانہ تھے یا پھر انتباہی، وہ خود خوف زدہ تھے اور خوف کی وجہ سے جھکے ہوئے بھی۔ وہ اس حویلی کی طرف اشارہ کر رہے تھے، جس کے پاس سے ہم گزر کر آئے تھے۔ وہ ہمیں حویلی کے صدر دروازے پر دی جانے والی دستک کی یاد دلا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ حویلی کے مالک ہم پر مقدمہ کر دیں گے اور جلد ہی چھان بین بھی شروع ہو جائے گی۔ میں بالکل پرسکون رہا اور میں نے اپنی بہن کو بھی پرسکون رہنے میں مدد دی۔ اس نے شاید دستک بالکل نہیں دی تھی اور اگر اس نے دی بھی تھی تو دنیا میں کہیں بھی اس کا کوئی ثبوت تو تھا ہی نہیں۔

میں نے یہ بات اپنے ارد گرد موجود انسانوں کو بھی سمجھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے میری بات توجہ سے تو سنی لیکن خود کوئی بھی فیصلہ سنانے سے احتراز کیا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ صرف میری بہن ہی نہیں بلکہ اس کے بھائی کے طور پر مجھے پر بھی مقدمہ چلایا جائے گا۔ میں نے مسکراتے ہوئے بس سر ہلا دیا۔ پھر ہم سب پلٹ کر حویلی کی طرف دیکھنے لگے، جیسے کوئی دور سے اٹھنے والے دھوئیں کے کسی بادل کا مشاہدہ کر رہا ہو اور شعلوں کے انتظار میں ہو۔ پھر ہم نے واقعی ایسے گھڑسوار دیکھے جو حویلی کے پورے کھلے ہوئے گیٹ کی طرف بڑھ رہے تھے۔

ان کے گھوڑوں کے ٹاپوں سے اتنی گرد اٹھ رہی تھی کہ اس نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ان کے صرف بلند نیزوں کے سرے چمک رہے تھے۔ یہ گھڑ سوار دستہ ابھی حویلی کے اندر جا کر نظروں سے اوجھل ہوا ہی تھا کہ اس کے سواروں نے اپنے گھوڑوں کا رخ موڑا اور وہ ہماری طرف بڑھتے دکھائی دیے۔ میں نے اپنی بہن سے مطالبہ کیا کہ وہ مجھے چھوڑ کر وہاں سے چلی جائے اور میں اکیلا ہی سارا معاملہ سنبھال لوں گا۔ اس نے مجھے اکیلا چھوڑ کر وہاں سے جانے سے انکار کر دیا۔ میں نے کہا کہ وہ جا کر کم از کم اپنا لباس ہی بدل لے، تاکہ وہ ان معزز افراد کے سامنے کسی بہتر لباس میں تو پیش ہو سکے۔

بالآخر اس نے میری بات سنی اور گھر کی طرف طویل راستے پر چل پڑی۔ اتنی دیر میں وہ گھڑ سوار ہمارے پاس پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے گھوڑوں پر بیٹھے بیٹھے ہی پوچھا کہ میری بہن کہاں تھی۔ وہ اس وقت یہاں نہیں ہے لیکن بعد میں آ جائے گی، انہیں خوف زدہ آواز میں جواب دیا گیا۔ یہ جواب تقریباً بڑی لاپرواہی سے سنا گیا، بظاہر سب سے اہم بات یہ لگتی تھی کہ انہوں نے مجھے تلاش کر لیا تھا۔ ان گھڑ سواروں میں معززین بنیادی طور پر دو ہی تھے، ایک جج جو نوجوان اور زندگی سے بھرپور انسان تھا اور دوسرا اس کا خاموش معاون جسے آسمَن کہہ کر پکارا گیا تھا۔

مجھے حکم دیا گیا کہ میں اس کمرے میں داخل ہو جاؤں جہاں کسان جمع ہوتے تھے۔ اپنی پتلون کو کچھ اوپر کھینچتے اور اپنا سر ہلاتے ہوئے میں نے اس کمرے کی طرف آہستہ آہستہ بڑھنا شروع کر دیا جب کہ مجھے وہاں لانے والے معززین مسلسل کڑی نظروں سے میرا جائزہ لے رہے تھے۔ مجھے ابھی تک پختہ یقین تھا کہ میں، جو تاحال ایک عزت دار شہری تھا، صرف ایک لفظ بولوں گا اور خود کو کسانوں کے اس گروہ سے آزاد کرا لوں گا۔ جیسے ہی میں دروازے کی چوکھٹ پار کر کے کمرے میں داخل ہوا، تو وہ جج، جو پہلے ہی سے میرا انتظار کر رہا تھا اور تیزی سے سامنے آ گیا تھا، بولا، “مجھے افسوس ہے اس آدمی پر۔” اہم بات لیکن یہ شبہ تھا کہ اس کی اس بےیقینی سے مراد میری موجودہ حالت نہیں تھی بلکہ وہ جو میرے ساتھ ہونے والا تھا۔

یہ کمرہ کسانوں کے جمع ہونے کے کمرے سے زیادہ کسی قید خانے کا کمرہ دکھائی دے رہا تھا۔ فرش پر بڑی بڑی پتھریلی ٹائلیں، تاریک، بالکل ننگی دیوار، قریب ہی زمین میں گڑا ہوا ایک فولادی کڑا، اور کمرے کے وسط میں کوئی ایسی شے جو آدھی ایک چپٹا بستر اور آدھی آپریشن کے لیے استعمال ہونے والی میز تھی۔ کیا میں اب بھی اس جیل کی ہوا کے علاوہ کسی دوسری ہوا کا مزہ لے سکتا تھا؟ یہ ایک بڑا سوال تھا یا پھر اس سے بھی کہیں زیادہ بڑا سوال یہ تھا کہ آیا اب بھی میری رہائی کا کوئی امکان تھا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply