رکاوٹوں کے درمیان (افسانہ) سامیعہ اتوت (فلسطین)

Spread the love

یہ افسانہ عالمی ادب کے اردو تراجم سے ہمارے محترم یاسر حبیب صاحب نے فراہم کیا ہے جو اس سے قبل ان کے گروپ میں شائع ہو چکا ہے۔ مترجم کا تعلق پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد سے ہے اور ان کو اس اشاعت کے بارے میں باضابطہ ان کے برقی پتہ پر خط ارسال کیا گیا اس افسانے کا لنک آخر میں دیا گیا ہے۔اس کا عکس بھی عالمی ادب کے اردو تراجم کے صفحہ سے ہی لیا گیا ہے۔

ترجمہ: محمد محمود (اسلام آباد)

وقت رک سا گیا تھا۔ میں نے اپنی شرٹ کی جیب سے ایک سگریٹ نکالی اور سلگالی۔ میں مسکراتے ہوئے مسلسل اس کے چہرے کی طرف دیکھے جارہا تھا۔

“برائے مہربانی سگریٹ بجھا دیں۔ یہاں موجود آکسیجن ہمارے لیے کافی نہ ہو۔” اس نے کہا۔
“کیا آپ اتنی خوفزدہ ہیں؟” میں نے پوچھا۔

“مجھے اپنی زندگی بہت عزیز ہے، اور یہ جان کر میں بہت دکھی ہوں کہ کچھ دیر میں موت مجھے آلے گی وہ بھی ایک خوبصورت حسینہ کے اتنے نزدیک ۔۔”

“تم کتنے بدتمیز ہو!” اس نے یہ کہتے ہوئے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔

اس کو کپکپاتا دیکھ کر میں دل ہی دل میں مسکرایا۔

اس کی بیچارگی دیکھ کر مجھے مزا آرہا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ میری کمینگی تھی۔۔۔ جو کچھ بھی ہورہا تھا۔ میں اس سے خوش تھا۔ تاہم اس کے شانوں پر گرتی ہوئی خوبصورت زلفوں کو دیکھ کر میں نے اپنی سگریٹ بجھادی۔

“اب تو تم خوش ہونا؟”

اس نے کوئی جواب نہ دیا اور کچھ دیر تک خاموش ہی رہی۔ اس نے اپنے دستی بیگ سے رومال نکالا اور اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کیا۔

“وہ کب آئیں گے؟ میرا تو دم گھٹ رہا ہے۔ ایک دفعہ گھنٹی کا بٹن دباؤ۔ برائے مہربانی ایک دفعہ اور کوشش کرو۔”

“ٹھیک ہے میں کوشش کرتا ہوں، اگرچہ جب سے یہ لفٹ خراب ہوئی ہے میں کئی مرتبہ کوشش کرچکا ہوں۔ میں نے زور سے اپنا ہاتھ دروازے پر مارا، مگر کوئی فائدہ نہیں۔”

“کیا اب میں مرجاؤں گی؟ آج صبح ہی میں سوچ رہی تھی کہ آج کا دن میرے لیے اچھا نہیں ہے۔ مگر میں سوچتی تھی کہ میری موت شاید کسی مختلف انداز میں ہو۔۔۔۔۔ کسی زلزلہ میں ۔۔۔ کسی کار حادثہ میں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری موت دم گھٹنے سے ہوگی اور یہ کہ میں اپنے مکمل ہوش و حواص میں موت کو گلے لگاؤں گی۔”

“کیا تم افسردہ ہو؟”

“تو کیا مجھے خوش ہونا چاہیے؟” اس نے دھیمے غمزدہ لہجے میں طنز کیا۔

“میرا خیال ہے کہ تمھیں اپنی نیکیاں گننی چاہیں۔”

“پر کیوں؟”

“کیونکہ تم جوان ہو، خوبصورت ہو اور دیکھنے میں خوشحال لگتی ہو۔”

“کیا تم اپنی زندگی سے خوش ہو؟”

“اپنی پیدائش سے لے کر آج تک میری زندگی میں اس سے پُر لطف دن کوئی نہیں آیا۔”

“تم تو بڑے پیچیدہ انسان ہو، باتوں سے تو پاگل ہی لگتے ہو۔”

“نہیں بلکہ میں حقیقت پسند ہوں۔ میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں کسی خوب صورت لڑکی سے بات کروں گا۔ اب یہ
دیکھو میرا خواب تو سچ ہوگیا۔”

“تمھاری ان باتوں سے مجھے خوف آتا ہے۔ تم تو کہہ رہے ہو کہ ہم مرنے جارہے ہیں۔ میں تو مرنا نہیں چاہتی!”
کچھ دیر خاموشی رہتی ہے۔

“تمھارے بیوی بچے ہیں؟” اس نے پوچھا۔

“تم یہاں کام کرتے ہو؟”

“میں اس عمارت کا لفٹ آپریٹر ہوں۔ کیا تم نے میرے کپڑے نہیں دیکھے؟ مگر تم کیا کرتی ہو؟ کہاں کیوں آئی ہو؟”

“میں کام سے تھک چکی ہوں اور چھٹیوں پر یورپ جانے والے قافلے میں شریک ہونا چاہتی ہوں۔”

“۔۔۔۔۔۔ آہ! ۔۔۔ افسوس ۔۔۔”

“کیا تم مزاق اڑا رہے ہو؟”

“نہیں ۔۔ مگر یہ صورتِ حال ضرور ۔۔۔۔۔۔ مجھے سانس لینے میں مشکل ہورہی ہے۔”

میں بڑبڑایا۔
“اور میرا تو دم گھٹ گیا ہے۔۔۔۔۔۔”

اس نے اپنا دستی بیگ زمین پر گرا دیا اور دیوار سے ٹیک لگا دی۔ میں نے شیشے میں اس کے زرد پڑتے چہرے کا عکس دیکھا اس کے ماتھے پر پسینہ بہہ رہا تھا۔ وہ رو پڑی۔

میں نے اس کو حوصلہ دینے کی کوشش کی۔ اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے کندھوں کو تھپ تھپایا۔ میں جوشِ جذبات میں اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں اس زور سے تھامہ کہ ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ میری انگلیوں کے نشان اس کے رخسار پر نہ گڑ جائیں۔

ہمارے درمیان مکمل خاموشی تھی۔

میں تو تقریباً رو رہی پڑا۔۔۔ اس کے بارے میں سوچ کر یا شاید یہ آنسو میرے اپنے لیے تھے۔

میں نے پھر سے ہمت کی اور اس سے پوچھا ، “تمھارا نام کیا ہے؟”

“حنان”

“ایسا لگتا ہے جیسے ساری دنیا کا درد تمھاری آنکھوں میں سمٹ آیا ہے۔”

“اور ساری دنیا کا کھوکھلا پن تمھاری آنکھوں سے عیاں ہے۔”

اس نے بس یہ کہا ہی تھا کہ لفٹ نے حرکت کرنا شروع کردی۔

وہ خوشی سے چلائی۔ بچہ کی طرح چھلانگ لگائی، عورت کی طرح قہقہہ لگایا۔ وہ اپنے آپ کو لے کر بہت خوش تھی۔ اس دوران میں سوچ رہا تھا کہ میں اس سے کیسے کہوں کہ وہ پھر کب ملے گی۔ جب اس نے دیکھا کہ میں خاموش اور افسردہ ہوں تو وہ پُرسکون ہوگئی۔ اس نے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھتے ہوئے اپنے بال سنوارے کپڑے سیدھے کیے۔ پھر اپنا پرس اٹھایا اور کہا،

“برائے مہربانی ۔۔ پانچویں منزل۔ ۔۔ جلدی کریں!”

اس نے شستگی سے کہا۔

اس کا لہجہ تحکمانہ تھا۔

فیس بک پر یہ افسانہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Leave a Reply