رضیہ سلطان بنت سلطان شمس الدین التمش

Spread the love

تحریر و تحقیق: مدثر بھٹی

صاحب مضمون

رضیہ سلطان یا (شاہی نام: جلالۃ الدین رضیہ) (فارسی:جلالہ الدین رضیہ جنوبی ایشیا پر حکومت کرنے والی پہلی مسلمان خاتون تھیں، سلطان شمس الدین التمش نے اپنے بیٹوں کی موجودگی میں سلطنت کا ولی عہد مقرر کیا۔ وہ 1205ء میں پیدا ہوئیں اور 1240ء میںاس جہانِ فانی سے رخصت ہوئیں۔ وہ ترک سلجوق نسل سے تعلق رکھتی تھیں اور کئی دیگر مسلم شہزادیوں کی طرح جنگی تربیت اور انتظام سلطنت کی تربیت بھی حاصل کی تھی۔
سلطنت دہلی کے خاندانِ غلاماں کے فرمانروا شمس الدین التمش کی بیٹی تھی جس نے اپنی اس ہونہار بیٹی کو اپنے کئی بیٹوں پر ترجیح دیتے ہوئے اپنا جانشیں مقرر کیا۔ تاہم التمش کے انتقال کے بعد رضیہ کے ایک بھائی رکن الدین فیروز نے حکومت پر قبضہ کرلیا اورکن الدین نے صرف چھ مہینے اٹھائیس روز حکومت کی۔ لیکن رضیہ سلطان نے دہلی کے لوگوں کی مدد سے 1236ء میں بھائی کو شکست دے کر تخت حاصل کرلیا۔ کہا جاتا ہے کہ تخت سنبھالنے کے بعد انہوں نے زنانہ لباس پہننا چھوڑدیا تھا اور مردانہ لباس زیب تن کرکے دربار اور میدان جنگ میں شرکت کرتی تھیں۔
رضیہ کو اس بات کاشدت سے احساس تھا کہ دہلی کا تخت حاصل کرنے کے لئے اسے مضبوط سہارے کی ضرورت ہے اس لئے رضیہ نے بھٹنڈہ کے گورنر ملک التونیہ سے شادی کی تاکہ تخت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے لیکن جنگ میں انہیں شکست ہوئی۔رضیہ اپنے شوہر کے ہمراہ جان بچانے کے لئے کرنال کی طرف چلی گئی جہاں ڈاکوؤں کے ہاتھوں دونوں میاں بیوی مارے گئے۔ سلطان بہرام شاہ کے سپاہی جو ان کی تلاش میں تھے ان کی لاشوں کو پہچان کر دہلی لے آئے۔ انہیں پرانی دلی میں سپرد خاک کیا گیا۔ سرسیداحمد خان کی کتاب آثار الصنادیدکے مطابق دہلی کےترکمانی دروازہ کے اندر محلہ بلبلی خانہ میں دو قبریں ہیں۔ ان قبروں کو ’’رجی سجی ‘‘کی درگاہ کہاجاتا ہے۔یہ قبریں رضیہ سلطان اور ان کی بہن شازیہ کی ہیں۔ ان پر کسی قسم کی کوئی تختی نہیں ہے۔ یہاں ہر جمعرات کوہر مذہب کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ قبروں پر چراغاں کیاجاتا ہے اور لوگ منتیں بھی مانتے ہیں۔
واضح رہے کہ رضیہ اپنے لئے سلطانہ کا لقب پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ اس کا مطلب ہے سلطان کی بیوی بلکہ اس کی جگہ خود کو رضیہ سلطان کہتی تھیں۔

کی تھی۔
سلطنت دہلی کے خاندانِ غلاماں کے فرمانروا شمس الدین التمش کی بیٹی تھی جس نے اپنی اس ہونہار بیٹی کو اپنے کئی بیٹوں پر ترجیح دیتے ہوئے اپنا جانشیں مقرر کیا۔ تاہم التمش کے انتقال کے بعد رضیہ کے ایک بھائی رکن الدین فیروز نے حکومت پر قبضہ کرلیا اورکن الدین نے صرف چھ مہینے اٹھائیس روز حکومت کی۔ لیکن رضیہ سلطان نے دہلی کے لوگوں کی مدد سے 1236ء میں بھائی کو شکست دے کر تخت حاصل کرلیا۔ کہا جاتا ہے کہ تخت سنبھالنے کے بعد انہوں نے زنانہ لباس پہننا چھوڑدیا تھا اور مردانہ لباس زیب تن کرکے دربار اور میدان جنگ میں شرکت کرتی تھیں۔
رضیہ کو اس بات کاشدت سے احساس تھا کہ دہلی کا تخت حاصل کرنے کے لئے اسے مضبوط سہارے کی ضرورت ہے اس لئے رضیہ نے بھٹنڈہ کے گورنر ملک التونیہ سے شادی کی تاکہ تخت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے لیکن جنگ میں انہیں شکست ہوئی۔رضیہ اپنے شوہر کے ہمراہ جان بچانے کے لئے کرنال کی طرف چلی گئی جہاں ڈاکوؤں کے ہاتھوں دونوں میاں بیوی مارے گئے۔ سلطان بہرام شاہ کے سپاہی جو ان کی تلاش میں تھے ان کی لاشوں کو پہچان کر دہلی لے آئے۔ انہیں پرانی دلی میں سپرد خاک کیا گیا۔ سرسیداحمد خان کی کتاب آثار الصنادیدکے مطابق دہلی کےترکمانی دروازہ کے اندر محلہ بلبلی خانہ میں دو قبریں ہیں۔ ان قبروں کو ’’رجی سجی ‘‘کی درگاہ کہاجاتا ہے۔یہ قبریں رضیہ سلطان اور ان کی بہن شازیہ کی ہیں۔ ان پر کسی قسم کی کوئی تختی نہیں ہے۔ یہاں ہر جمعرات کوہر مذہب کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ قبروں پر چراغاں کیاجاتا ہے اور لوگ منتیں بھی مانتے ہیں۔
واضح رہے کہ رضیہ اپنے لئے سلطانہ کا لقب پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ اس کا مطلب ہے سلطان کی بیوی بلکہ اس کی جگہ خود کو رضیہ سلطان کہتی تھیں۔


دہلی میں وہ مقام جس کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ رضیہ سلطان اور اس کی بہین شازیہ کی قبریں ہیں

وہ مردوں کے سماج کو ٹکر دینے کا حوصلہ رکھتی اور خود کو مردوں سے کسی بھی طرح سے کم نہیں سمجھتی تھی۔ علم و حکمت میں لاثانی اور میدان جنگ میں تلوار چلانے کا ہنر بھی جانتی تھی۔ ظاہری شکل و صورت اور کردارمیں بے مثال اور اپنے بھائیوں سے ہر معاملے میں برتر تھی لہٰذا کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ کسی سے دب کر رہے ۔ اس کی انھیں خوبیوں نے اسے ہندوستان پر حکومت کرنے کا حق دیا تھا اور رضیہ نے جنوبی اشیا کی اولین مسلمان خاتون حکمران بن کر ایک تاریخ رقم کی۔ ان سطور کے تحریر کرنے تک میرے علم میں رضیہ سلطان سے پہلے برصغیر میں عورت کی حکمرانی کا کوئی سراغ نہیں ملا اور اس کے بعد بھی ہندوستان میں کسی عورت باضابطہ ولی عہد سلطنت مقرر کر کے حکومت اس کے حوالے نہیں کی گئی۔ شاید اس کے لئے مردوں کی احساس برتری والی نفسیات اور خواتین کو دباکر رکھنے کا مزاج ذمہ دار رہا ہے۔ حالانکہ مغل بادشاہ کی ملکہ نورجہاں نے پردے کے پیچھے سے اقتدار چلایا اور جنوبی ہند میں چاند بی بی نے جو کارنامے انجام دیئے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، مگر رضیہ سلطان کی تاریخ بے مثل و بے مثال ہے۔ اس نے سماجی بندشوں کی پروا کئے بغیرمردوں کے دبدبہ والے سماج سے ٹکرانے کا بیڑا اٹھایا ۔ اس کے عزم وحوصلہ کو توڑنے اور اس کے قدموں کو محل کی چہاردیواریوں میں قید رکھنے کے لئے مذہب کا بھی سہارا لیا گیا مگر وہ ہمت وولولہ کا کوہ گراں تھی جس نے کبھی جھکنا نہیں سیکھا تھا۔ اس نے ثابت کیا کہ وہ اس سلطان التتمش کی سچی جانشیں ہے جس نے جنگوں میں لازوال کارنامے انجام دیئے تھے اور دشمنوں کو دھول چٹانے کا کام کیا تھا۔

رضیہ سلطان، سلطان شمس الدین التمش کی بیٹی تھی جسے اس نے اپنا جانشیں مقرر کیا تھا۔ اپنے آخری دنوں میں التمش اپنی جانشینی کے سوال کو لے کر فکر مند تھا۔ التمش کے سب سے بڑے بیٹے ناصرالدین محمود جو اپنے والد کے نمائندہ کے طور پر بنگال پر حکومت کر رہا تھا،اپریل 1229 ء میں انتقال کر گیاتھا۔یہی شہزادہ قابل اور حکومت کے کام کاج سنبھالنے کے لائق تھا۔ سلطان کے باقی زندہ بیٹے آرام پسند، عیاش اور بزدل تھے۔ وہ حکومت کے کام کے لائق نہیں تھے۔

رضیہ سلطان میں وہ تمام صفات موجود تھیں جو ایک حاکم میں ہونا ضروری ہیں۔ عقل و فہم اور حسن تدبیر اور سیاسی بالغ نظری میں یہ عورت اپنے زمانے کے بہترین مردوں سے کسی طور بھی کم نہ تھی۔ انسانی فضیلتوں کے جانچنے والوں کو رضیہ میں سوائے نسوانیت کے اور کوئی ایسا عیب نہ ملتا تھا جو حکمرانی کے عظیم الشان مرتبے تک پہنچنے میں رکاوٹ بن سکے۔ رضیہ قرآن عظیم کی بہت ادب کے ساتھ تلاوت کرتی تھی، مذہبی معلومات کے علاوہ دوسرے علوم و فنون میں بھی اسے اچھی خاصی دسترس حاصل تھی۔ التمش کے زمانے ہی سے رضیہ امورِ سلطنت میں حصہ لیا کرتی تھی۔ شمس الدین کے عہد میںاکثر پیچیدہ مسائل اسی دانشمند عورت کی رائے سے طے ہوتے تھے۔ التمش کو خود بھی رضیہ کی فہم و فراست پر پورا اعتماد تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ اس کی مداخلت کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا تھا۔ گوالیار کے جشن فتح میں التمش نے اپنے چند خاص امرا کے سامنے رضیہ سلطان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا۔ ان امرا نے بادشاہ سے پوچھا کہ بیٹوں کے ہوتے ہوئے بیٹی کو تخت کا وارث بنانے میں کیا حکمت ہے؟ التمش نے جواب دیا کہ میں بیٹوں کی عادات و اطوار سے خوب واقف ہوں۔ آج جبکہ ابھی وہ میرے محتاج ہیں دن رات شراب خوری اور عیش و عشرت میں مشغول ہیں، ان میں سلطنت کا بوجھ اٹھانے کی قابلیت ہی نہیں ہے، اس کے برعکس رضیہ اگرچہ عورت ہے لیکن فہم و فراست کے اعتبار سے مرد ہے اور اسی لئے میں رضیہ کو بیٹوں پر ہر طرح ترجیح دیتا ہوں۔

رضیہ سلطان کی باقاعدہ تخت نشینی

۶۳۴ ہجری میں رضیہ نے عنان حکومت سنبھالا۔ بطور حکمران رضیہ نے پردہ چھوڑ کر مردا نہ لباس میں دربارِ عام کا آغاز کیا۔ شمس الدین کے زمانےکے وہ تمام قواعد و ضوابط جو رکن الدین کی غفلت کی وجہ سے ترک ہو گئے تھے رضیہ نے پھر سے انہیں نافذ کیا۔ رضیہ نے حکومت کے فرائض انجام دینے میں باپ کی پوری تقلید کی اور عدل و انصاف کو اپنا دستور العمل بنایا۔ رضیہ کے تخت نشین ہوتے ہی وزیر سلطنت نظام الملک محمد جنیدی اور علاؤ الدین شیرخانی اور ملک سیف الدین کوچی وغیرہ نامی امیروں نے باہم اتفاق سے رضیہ کے خلاف بغاوت کی۔ ان امرا نے ملک کے دوسرے امرا اور جاگیرداروں کو بھی خطوط بھیج کر رضیہ کی مخالفت پر آمادہ کیا۔ اَودَھْ کے جاگیردار ملک نصیر الدین نے ان امیروں کی بیوفائی کا قصہ سن کر رضیہ کی امداد کا فیصلہ کیا اور اَودھ سے دہلی روانہ ہوا۔ ملک نصیر الدین دریائے گنگا کو پار کر کے آگے بڑھا ہی تھا کہ مذکورہ بالا باغی امیر اس پر ٹوٹ پڑے۔ ان امیروں نے ملک نصیرالدین کو گرفتار کر کے اس کی فوج کو درہم برہم کر دیا۔ ملک نصیرالدین نے کمزوری کی وجہ سے قید خانہ ہی میں دم توڑ دیا۔ رضیہ کو جب امیروں کی بغاوت کے بارے میں علم ہوا تو اس نے نہایت دانش مندا نہ طریقہ سیاست اختیار کیا اور اپنے حسن تدبیر سے ان احسان فراموش امیروں کی قوت کو توڑکر کے ایک ایک کو موت کے گھاٹ اتارا۔ ملک سیف الدین اور اس کے بھائی کو میدان جنگ سے گرفتار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ علاوالدین شیر خانی کو بابل کی حدود سے گرفتار کر قتل کیا گیا۔ ملک نظام الدین نے میدان جنگ سے بھاگ کر کوہِ سر مور میں پناہ لی اور وہیں طبعی موت مرا۔

حکومت کی نئی تنظیم

ان امیروں کی شکست اور موت کے بعدعوام کے دلوں پر رضیہ کا بھرپور رعب و دبدبہ قائم ہو گیا اور حکومت باغیوں اور سرکشوں سے یکسر صاف ہوگئی۔ رضیہ نے سلطنت کی بنیاد مستحکم کر کے ملک کے عظیم الشان عہدوں پر نامور اور قابل اعتماد امرا کو تعینات کیا۔ سابق وزیر سلطنت نظام الملک کے نائب خواجہ مہدی غزنوی کو نیا وزیر سلطنت مقرر کیا گیا۔ نئے وزیر کو بھی نظام الملک ہی کا خطاب عطا کیاگیا۔ فوج کی کمان ملک سیف الدین ایبک کے سپرد کر کے اسے قتلغ خان کا خطاب دیا گیا۔ رضیہ کی اطاعت قبول کرنے والے اعزالدین کبیرخانی کو لاہور کا حاکم مقرر کیا گیا۔ اسی طرح لکھنوتی، دیبل، سندھ اور دوسرے مشہور علاقوں پر بھی نامور امیروں کو حاکم بنانے کے لئے دارالحکومت سے تقرری کافرمان دے کر اپنے اپنے علاقوں کو روانہ کیا گیا۔

اس تقرر کے کچھ ہی دنوں بعد سیف الدین ایبک نے وفات پائی اور اس کی جگہ قطب الدین کو لشکر کا نائب مقرر کیا گیا۔ رضیہ نے قطب الدین کو نائبِ لشکر بنا کر اسلامی فوج کو قلعہ رنتھنبور کی تسخیر کے لیے بھیجا۔ قطب الدین نے رنتھنبور پہنچ کر ان مسلمان قیدیوں کو جن کو التمش کے بعد سے اب تک ہندوئوں نے گرفتار کیاتھا آزاد کروا کر قلعے کو فتح کیے بغیر دہلی لوٹ آیا۔ قطب الدین کے رنتھنبور روانگی کے بعد دارالحکومت کا رنگ ہی تبدیل ہو گیا۔ ملک اختیار الدین الپتگین امیر صاحب حاجب مقرر کیا گیا اور جمال الدین یاقوت حبشی جو اب تک امیر اخورکی حیثیت سے شاہی دربار اچھا میں رسوخ رکھتا تھا نے اب رضیہ کے دل میں ایساگھر کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے امیر الامرائی کے مرتبے تک پہنچ گیا اور جب رضیہ گھوڑے پر سوار ہونے لگتی تو اس کی بغل میں ہاتھ دے کر گھوڑے پر سوار کرانے لگا۔ یاقوت کے سر چڑھتے ہی یاقوت کا یہ مقام و مرتبہ دیکھ کر تمام امیر اس کی جان کے دشمن بن گئے۔

رضیہ کا زوال و اسیری

لاہور کے حاکم ملک اعزالدین نے ۶۳۷ ہجری میںبغاوت کی۔ رضیہ نے ایک عظیم لشکر کے ساتھ اعزالدین پرحملہ کیا۔ اعزالدین نے رضیہ کی فوج سے جنگ کو خلافِ مصلحت سمجھ کر اس کی اطاعت قبول کر لی۔ رضیہ نے اعزالدین کے طریقہ اطاعت کو بہت پسند کیا اور لاہور کے ساتھ ملتان کی حکومت بھی اعزالدین کے حوالے کردی۔ اسی سال بھٹنڈہ کے حاکم ملک التونیہ نے جو ترکان چہل گانی (’’ترکان چہل گانی‘‘ التمش کے چالیس مشہور ترکی غلاموں کا لقب ہے ان میں سے بیشتر بہت بڑے علاقوں کے حاکم اور عہدے دار رہے۔) میں سے ایک تھا یاقوت حبشی کے اثر و رسوخ اور اقتدار سے عاجز آکر رضیہ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ رضیہ نے اپنا لشکر ترتیب دے کر بھٹنڈہ پر حملہ کیا۔ شاہی لشکر ابھی راستے ہی میں تھا کہ ترکی امیروں نے بغاوت کر کے رضیہ کی فوج پر ھلہ بول دیا۔ ترکی سپاہیوں نے یاقوت حبشی کو قتل کیا اور رضیہ کو گرفتار کر کے بھٹنڈہ کے قلعے میں قید کیا اور ترکی امیر دہلی پہنچ گئے۔ ان باغی امرا نے دارالحکومت کے دوسرے امیروں کو اپنے ساتھ ملا کر التمش کے بیٹے معزالدین بہرام شاہ کو تختِ حکومت پر بٹھا دیا۔ اسی دوران رضیہ نے حاکم بھٹنڈہ التونیہ سے نکاح کر لیا۔ رضیہ نے التونیہ کے ساتھ مل کرقلیل مدت میںکھکروں، جاٹوں اور گرد و نواح کے دوسرے جنگجو زمینداروں کی ایک فوج تیار کر کے دہلی پرحملہ کر دیا۔

معزالدین نے بھی شمس الدین التمش کے داماد اعزالدین بلبن جو بعد میں الغ خاں کے نام سے مشہور ہوا کی زیر نگرانی اپنا لشکر رضیہ کے مقابلے کے لیے روانہ کیا۔ بیچ راہ میں ہی دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ ہوگئی۔ اس جنگ میں رضیہ کو شکست ہوئی اور وہ میدان جنگ سے بھاگی اور بھٹنڈہ میں پناہ لی۔ رضیہ کی بے چین اور اقتدار پسند طبیعت نے اسے اب بھی چین سے بیٹھنے نہ دیا اورکچھ ہی عرصہ بعد اپنی منتشر فوج کو جمع کر کے دوبارہ دہلی پر حملہ کیا۔ بہرام شاہ نے اس مرتبہ بھی اعزالدین کو رضیہ کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ ۴ ربیع الاول ۶۳۷ ہجری میں کرنال کے نواح میں جنگ ہوئی اور رضیہ کو اس بار بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

رضیہ سلطان کا قتل

میدان سے بھاگتے وقت رضیہ اور التونیہ دونوں کو کچھ زمینداروں نے گرفتار کر لیا۔ ان میاں بیوی کے قتل کے بارے متضاد رائے ہے، ایک رائے یہ ہے کہ ان کو زمینداروں نے قتل کر دیا جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ ان کو گرفتار کر کے بہرام شاہ کے سامنے پیش کیا گیا اور بہرام شاہ کے حکم سے ان دونوں کا سرکاٹ دیا گیا۔ رضیہ نے تین سال چھ ماہ چھ دن حکومت کرنے کے بعد ۲۵ ربیع الاول ۶۳۷ ہجری کو قتل کر دی گئی۔

رضیہ کی قبر

رضیہ سلطانہ کی قبر پر شدید تنازعہ ہے۔ یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی قبر کہاں ہے؟ سلطانہ اور اس کے حبشی درباری یاقوت کی قبر کا دعوی تین مختلف جگہوں پر کیا جاتا ہے۔ پرانی دلی میں ایک چھوٹے سے احاطے میں دوقبریں ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ رضیہ اور یاقوت کی قبریں ہیں۔سرسیداحمد خان کی کتاب ’’آثارالصنادید‘‘میں ’’مقبرہ رضیہ سلطان بیگم‘‘ کے عنوان سے ایک چھوٹاسا مضمون یوں ہے:

’’شہر شاہجہاں آباد میں بلبلی خانے کے محلے میں ترکمان دروازے کے پاس ایک ٹوٹی سی چار دیواری اور پھوٹی سی قبر رضیہ سلطان بیگم بنت سلطان شمس الدین التمش کی ہے جو خود بھی چند مدت تخت پر بیٹھی 638 ہجری مطابق 1240 عیسوی معز الدین بہرام شاہ کے وقت میں قتل ہوئی جب یہ مقبرہ بنا مگر اب بجز نشان کے اور کچھ نہیں۔‘‘

ظاہر ہے کہ جب سرسید کے زمانے میں ہی اس مقبرے کا نام ونشان مٹ گیا تھا تو آج اس کی حالت کیا ہوگی سمجھا جاسکتا ہے۔رضیہ کی قبر تک پہنچنے کے لئے تنگ وتاریک گلیوں سے گزرنا پڑتا ہے اور آس پاس اس قدر غلاظت رہتی ہے کہ آنے والے ناک بند کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس مختصر سے احاطے کے آس پاس اونچی اونچی عمارتیں ہیں اور لوگوں نے اپنے ایئرکنڈیشنڈ اور کولر اسی سمت میں لگا رکھے ہیں۔تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے اکادکا لوگ ادھر آجاتے ہیں اوریہاں کی بدحالی دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ یہ جگہ اے ایس آئی کے زیرنگرانی ہے اور اس قبر سے ہندوستان کی تاریخ کا اہم باب وابستہ ہے مگر حکومت کی طرف سے کبھی ایسی کوشش نہیں ہوئی کہ اس طرف سیاحوں کو راغب کیا جائے۔

یہ مضمون تاریخ فرشتہ مطبوعہ توصیف پبلی کیشنزپہلی منزل مکہ سنٹر لاہور سے اختصار کے ساتھ اخذ کر کے مہتمم اسلم تنولی صاحب کی اجازت سے شائع کیا گیا ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply