خواہش کا مقتول(افسانہ)نجیب محفوظ

Spread the love
نوبل انعام یافتہ مصری ادیب نجیب محفوظ

نجیب محفوظ کا شمار مصر کے ترقی پسند مصنفین میں ہوتا ہے۔

مصر کے مشہور مصنف۔ نجیب محفوظ پہلے عرب مصنف تھے جن کو ادب کا نوبل پرائز ملا۔ قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ نجیب محفوظ نے سترہ سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا لیکن جب ان کی پہلی تصنیف شائع ہوئی تو اس وقت ان کی عمر اڑتیس سال تھی۔ 1988ء میں ان کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ نجیب محفوظ کہا کرتے تھے کہ ایک مصنف کا کام ان حالات کی نقشہ کشی کرنا ہوتا جن میں وہ رہتا ہے اور اگر حالات تبدیل ہو جاتے ہیں تو مصنف بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ نجیب محفوظ کے ناولوں میں قاہرہ کی زندگی کی نقشہ کشی کی گئی ہے۔ ابتدائی سالوں میں، نجیب محفوظ نے حافظ نجیب، طہ حسین اور سلمہ موسی کو پڑھا اور ان سے متاثر بھی تھے۔

انہوں نے کم از کم پچاس کے قریب ناول اور سینکڑوں کہانیاں لکھیں۔ اس کے علاوہ دو سو سے زیادہ مضامین لکھے ہیں لیکن ان ناولوں اور مضامین کی تفصیل کے لیے ایک الگ دفتر درکار ہے۔ کچھ سال پہلے ان کی ایک کلیات پانچ جلدوں میں شائع ہوئیں جو تین ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور یہ ان کا نصف کام بھی نہیں ہے۔

یہ کہانی ان کی سینکڑوں لازوال کہانیوں میں سے ایک ہے امید ہے اپ کو پسند آئے گی۔

گاڑی کی آمد کا وقت قریب آیا تو ریلوے اسٹیشن زقازیق پر سب سے پہلے پہنچنے والا شخص حجشہ سگرٹ فروش تھا۔

وہ بجا طور پر ریلوے اسٹیشن کو اپنی چلتی منڈی تصور کرتا تھا اور بے مثال پھرتی کے ساتھ پلیٹ فارم پر گھومتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی جہاں دیدہ آنکھوں سے گاہکوں کو شکار کرتا تھا۔ حجشہ سے اگر اس کے پیشے کے بارے میں سوال کیا جاتا تو شاید وہ اس پر بدترین لعنت بھیجتا کیونکہ‘ لوگوں کی اکثریت کی طرح‘ وہ بھی اپنی زندگی سے اکتایا ہوا اور اپنے مقدر سے ناخوش تھا۔ اگر اسے انتخاب سے آزادی حاصل ہوتی تو وہ‘ یقیناً‘ کسی رئیس کا موٹر ڈرائیور ہونا پسند کرتا تاکہ بابووں کا لباس پہنے‘ صاحب کے کھانے میں سے کھانا کھائے‘ گرمیوں سردیوں اس کے ساتھ اچھے اچھے مقامات کی سیر کرے اور روزی کمانے کے لئے ایسے کام منتخب کر سکے جو تفریح اور دل لگی سے قریب تر ہوں۔ مگر اس کے پاس کچھ خاص اسباب اور کچھ منفی محرکات بھی تھے جن کے باعث وہ اس پیشے کو پسند کرتا تھا۔

اس کے دل میں اس خواہش نے اس وقت جنم لیا جب اس نے ایک بڑے آدمی کے ڈرائیور الغر کو تھانیدار کی نوخیز ملازمہ نبویہ کو راستے میں روک کر اعتماد اور جرأت کے ساتھ اظہار محبت کرتے دیکھا تھا۔ بلکہ ایک بار تو اس نے اسے خوشی سے ہاتھ پر ہاتھ رگڑتے ہوئے لڑکی سے یہ کہتے بھی سنا کہ ’’بہت جلد میں انگوٹھی لے کر آ رہا ہوں‘‘۔ اس نے دیکھا لڑکی بڑے ناز سے مسکرائی اور سر پر سے پلو یوں کھسکایا گویا اسے درست کر رہی ہو۔ مگر حقیقت میں وہ تیل سے چمکتے ہوئے اپنے سیاہ بالوں کی نمائش کرنا چاہ رہی تھی۔ یہ سب دیکھ کر اس کے دل میں ایک شعلہ سا بھڑک اٹھا اور جذبہ رقابت نے اسے ڈسنا شروع کر دیا اور لڑکی کی سیاہ آنکھوں نے اسے غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا۔

وہ دور دور سے اس کا پیچھا کرتا‘ آتے جاتے اس کا راستہ کاٹتا اور کسی موڑ پر اسے تنہا پا کر الغر کا جملہ اس کے سامنے دہراتا: ’’بہت جلد میں انگوٹھی لے کر آ رہا ہوں‘‘۔ مگر وہ اس کی طرف سے منہ پھیر کر اور تیوری چڑھا کر حقارت سے کہتی: ’’اچھا ہو گا کہ اپنے لیے کوئی ڈھنگ کے جوتے تو خرید لو‘‘۔ اس پر وہ اپنے بھدے پاوں دیکھتا جیسے ان میں اونٹ کے پاؤں ٹھنسے ہوئے ہوں اور اپنے میلے چغے اور ٹوپی پر نظر ڈالتا اور سوچتا کہ ’’یہ ہے میری بدنصیبی اور میرے ستارے کے زوال کا سبب‘‘۔ تب اسے الغر کے پیشے پر رشک آتا بس اسی وجہ سے وہ ڈرائیور بننا چاہتا تھا۔

بہر کیف خواہشات کی وجہ سے وہ اپنے پیشے سے دور نہیں ہوا۔ چنانچہ اپنے دکھوں میں صرف خوابوں پر قناعت کرتے ہوئے اس نے اپنا کام جاری رکھا۔ اس شام اس نے اپنا صندوقچہ اٹھائے‘ آنے والوں پر نگاہ رکھتے ہوئے ریلوے اسٹیشن زقازیق کا رخ کیا۔ افق پر نظر دوڑائی تو ریل گاڑی دور سے دھویں کے بادل کی طرح آتی دکھائی دی۔

پھر وہ قریب سے قریب تر ہوتی چلی گئی اور اس کے ڈبے الگ ا لگ نظر آنے لگے۔ اس کی گڑگڑاہٹ میں اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ وہ پلیٹ فارم پر آ کر رک گئی۔ حجشہ کھچا کھچ بھرے ہوئے ڈبوں کی طرف لپکا تو اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ دروازوں میں مسلح گارڈ تعینات ہے اور اجنبی چہرے تھکی تھکی‘ سراسیمہ نگاہوں سے کھڑکیوں سے باہر جھانک رہے ہیں۔ لوگوں کے سوال کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ اطالوی جنگی قیدی ہیں جنہوں نے شکست تسلیم کرتے ہوئے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور اب ان کو ان کیمپوں میں لے جایا جا رہا ہے جہاں دوسرے قیدی رکھے جاتے ہیں۔

حجشہ عالم حیرت میں کھڑا ان غبار آلود چہروں پر نظر دوڑاتا رہا۔ پھر اسے اس یقین سے افسردگی ہونے لگی کہ اڑی اڑی رنگ والے‘ مصیبت و افلاس میں ڈوبے ہوئے یہ چہرے ہرگز اس کے سگرٹوں سے اپنی لت پوری کرنے کی سکت نہ رکھتے تھے۔ اس نے دیکھا کہ وہ حرص و طلب کے عالم میں اس کے صندوقچے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں نگلے چلے جا رہے ہیں۔ اس نے ان پر ایک حقیر اور ناراض نگاہ ڈالی اور ارادہ کیا کہ پیٹھ پھیر کر واپس چلا جائے مگر اس نے فرنگی لہجے میں ایک آواز سنی جو عربی میں اس سے کہہ رہی تھی: ’’سگریٹ‘‘

اس نے تعجب اور شک کی نگاہ اس پر ڈالی اور پھر انگشت شہادت کو انگوٹھے سے رگڑا یعنی ’’پیسے نکالو‘‘۔ سپاہی بات سمجھ گیا اور سر ہلایا۔ وہ ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا اور اتنے فاصلے پر رک گیا کہ کہ سپاہی کا ہاتھ اس تک نہ پہنچ سکے۔ سپاہی نے بڑے اطمینان سے اپنا کوٹ اتارا اور اسے لہراتے ہوئے اس سے کہا: ’’یہ رہے میرے پیسے‘‘۔
حجشہ حیران ہوا ا ور پیلے بٹنوں والے خاکستری کوٹ کو حیرت اور حرص کے ساتھ خوب نظر جما کر جانچا۔ اس کا دل دھڑک اٹھا مگر وہ سادہ لوح یا بدھو نہیں تھا چنانچہ اس نے اپنے دلی جذبات پوشیدہ رکھے مبادا اطالوی کی طمع کا شکار ہو جائے۔ اس نے ظاہری سکون برقرار رکھتے ہوئے سگرٹ کی ڈبیا دکھائی اور کوٹ لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ سپاہی نے تیوری چڑھائی اور چلا کر کہا:
’’کوٹ کے بدلے صرف ایک ڈبیا؟ دس تو دو۔‘‘

حجشہ سٹپٹا کر پیچھے کو ہٹا۔ اس کی خواہش پست ہو گئی اور قریب تھا کہ وہ کوئی اور راستہ لے کہ سپاہی نے چیخ کر کہا: ’’کچھ مناسب تعداد تو دو… نو … یا آٹھ‘‘۔

اس پر اس نے سختی سے سر ہلا دیا۔ سپاہی نے کہا: ’’چلو سات سہی‘‘۔مگر اس نے پہلے کی طرح سرہلایا اور یہ ظاہر کیا کہ وہ چلنا چاہتا ہے۔ سپاہی چھ تک اور پھر پانچ تک آ گیا۔ اس پر حجشہ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ہاتھ ہلایا اور پیچھے ہٹ کر بنچ پر بیٹھ گیا۔ دیوانے سپاہی نے اسے پکار کر کہا:
’’چلو آجاو میں چار لے لیتا ہوں‘‘۔

اس نے کوئی توجہ نہ دی اور‘ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ اسے کوئی دلچسپی نہیں‘ ایک سگریٹ سلگایا اور اطمینان سے مزے لے لے کر کش لگانے لگا۔ سپاہی غصے سے پھٹ پڑا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس وقت اس کی زندگی کا واحد مقصد صرف سگرٹوں کے حصول تھا۔ چنانچہ وہ تین اور پھر دو تک اتر آیا۔ حجشہ اپنے بھڑکتے جذبات اور دکھتی خواہش پر قابو پاتے ہوئے بیٹھا رہا۔ جب سپاہی دو تک آ گیا تو غیر ارادی طور پر اس نے سر کو یوں جنبش دی جیسے اس کو یہ سودہ منظور ہے۔ سپاہی نے دیکھ لیا اور ہاتھ بڑھا کر کوٹ دکھاتے ہوئے کہا: ’’… لاؤنا!‘‘

اب اسے اٹھنے کے سوا چارہ نہ رہا۔ وہ گاڑی کے قریب آیا۔ کوٹ لے لیا‘ دو ڈبیاں سپاہی کو دے دیں اور خوشی اور اطمینان کی نگاہ سے کوٹ کا بغور جائزہ لینا شروع کر دیا۔ اس کے ہونٹوں پر فتح مندی کی مسکراہٹ چمکنے لگی۔ اس نے صندوقچہ بنچ پر رکھ کر کوٹ پہنا اور بٹن لگا لئے۔ وہ خاصا ڈھیلا معلوم ہوا مگر اس نے کچھ پروا نہ کی اور خوشی اور فخر کے احساس سے پھولانہ سمایا۔ صندوقچہ پھر سے اٹھا کر اس نے عالم سرور میں اترا اترا کر پلیٹ فارم کے چکر لگانے شروع کئے۔

اس کی نگاہوں میں نبویہ کی صورت پھرنے لگی … اپنی چادر اوڑھے ہوئے۔ وہ زیر لب بڑبڑایا: ’’اب وہ مجھے د یکھے تو سہی! ہاں آج کے بعد وہ مجھ سے بے اعتنائی نہ کر سکے گی اور حقارت سے منہ موڑ لینا اس کے لئے ممکن نہ رہے گا۔ الغر کے پاس مجھ پر برتری جتانے کے لئے اب کچھ نہ ہو گا …‘‘ مگر اسے یاد آیا کہ الغر‘ صرف کوٹ نہیں‘ مکمل سوٹ پہنتا ہے۔ سو پتلون کا کیا انتظام ہو؟ وہ دیر تک سوچتا رہا اور قیدیوں کے گاڑی کی کھڑکیوں سے جھانکتے سروں پر ایک معنی خیز نظر دوڑائی۔ خواہش نے اس کے دل میں پھر چٹکی لی اور اس کی طبیعت پر سکون ہوتے ہوئے پھر اضطراب کا شکار ہو گئی۔ وہ گاڑی کی طرف بڑھا اور دل مضبوط کر کے آواز لگائی: ’’سگرٹ‘ سگرٹ‘ ایک ڈبیا پتلون کے بدلے‘ جس کے پاس پیسے نہ ہوں‘ پتلون کے بدلے ڈبیا‘‘۔

اس نے دوبارہ سہ بارہ ہانک لگائی۔ پھر اسے اندیشہ ہوا کہ شاید اس کا مطلب ان کی سمجھ میں نہ آئے۔ چنانچہ اس نے سگرٹ کی ڈبیا ہلاتے ہوئے کوٹ کی طرف اشارہ کرنا شروع کیا جو وہ پہنے ہوئے تھا۔ اس اشارے کی خاطر خواہ اثر ہوا۔ چنانچہ ایک قیدی جھٹ اٹھا اور اپنا کوٹ اتارنے لگا۔ حجشہ نے لپک کر اسے توقف کرنے کو کہا اور پھر اس کی پتلون کی طرف اشارہ کیا کہ اس کو یہ مطلوب ہے۔ قیدی نے بے پروائی کے انداز میں کندھے اچکائے اور پتلون اتار دی۔

اس طرح تبادلہ مکمل ہو گیا۔ حجشہ نے پتلون کو مضبوطی سے گرفت میں لے لیا اور خوشی سے دیوانہ ہو گیا۔ پلٹ کر اسی پہلی جگہ پر آیا اور پتلون پہننے لگا۔ اس میں ایک منٹ سے بھی کم لگا اور وہ مکمل اطالوی سپاہی بن گیا۔ بھلا اب کیا کسر رہ گئی تھی۔ مگر افسوس! یہ قیدی سروں پر ٹوپیاں نہیں پہنتے مگر پاؤں میں بوٹ ضرور پہنتے ہیں۔ چنانچہ الغر کی برابری کرنے کے لئے جو اس کے لئے سوہانِ روح بن گیا تھا … بوٹ کے بغیر گزارہ نہ تھا۔ اس نے صندوقچہ اٹھایا اور لپک کر‘ صدا لگاتے ہوئے ‘ گاڑی کی طرف آیا:

’’… سگریٹ‘ بوٹ کے بدلے ڈبیا‘ بوٹ کے بدلے ڈبیا‘‘۔

اس نے بات سمجھانے کے لئے‘ پہلے کی طرح‘ پھر اشارے سے کام لیا لیکن اس سے پہلے کہ نیا گاہک ہاتھ آ سکتا گاڑی نے روانگی کی سیٹی بجا دی جس سے محافظ دستے کے تمام سپاہیوں میں چوکسی کی لہر دوڑ گئی۔ دھویں کے بادل ریلوے سٹیشن کے اطراف و جوانب پر چھائے ہوئے تھے۔ رات کا پرندہ فضا میں منڈلا رہا تھا۔ حجشہ دل میں کسک اور آنکھوں میں حسرت اور جھنجھلاہٹ لئے کھڑا تھا۔ جب گاڑی حرکت میں آ گئی تو ایک اگلے ڈبے میں سوار محافظ کی نگاہ اس پر پڑی۔ اس کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے پہلے انگریزی اور پھر اطالوی میں چیخ کر کہا:

’’جلدی کر‘ سوار ہو جا‘ سوار ہوجا‘ او قیدی!‘‘

اس کی بات حجشہ کی سمجھ میں نہ آئی۔ اس نے دل ہلکا کرنے کے لئے تمسخر کے انداز میں اس کی حرکات و سکنات کی نقل اتارنی شروع کر دی۔ اسے اطمینان تھا کہ وہ اس کی دسترس سے دور ہے۔ محافظ ایک بار پھر چلایا جب کہ گاڑی رفتہ رفتہ دور ہوتی جا رہی تھی۔

’’سوار ہو جا‘ میں تجھے وارنگ دیتا ہوں‘ سوار ہو جا‘‘۔

حجشہ نے حقارت سے منہ چڑایا اور اس کی طرف سے پیٹھ پھیر کر چلنے کا ارادہ کیا۔ محافظ نے دھمکی کے انداز میں بائیں ہاتھ کی مٹھی بھینچی اور بے خبر لڑکے کی طرف بندوق تان لی اور گولی چلا دی۔ گولی کی سنسناتی گونج سے کان بند ہو گئے اور پھر درد اور خوف کی ایک چیخ سنائی دی۔ حجشہ کا جسم وہیں کا وہیں اکڑ کر رہ گیا۔ صندوقچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا۔ سگرٹ ا ور ماچس کی ڈبیاں بکھر گئیں۔ پھر وہ منہ کے بل گر کر ٹھنڈا ہو گیا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply