مجروح سلطانپوری: غزل کامسیحا

Spread the love
صاحب مضمون

ڈاکٹرقطب سرشار تلنگانہ

ڈاکٹر قطب سرشار کا اصل نام سید قطب الدین ہے۔ جامعہ عثمانیہ سے تعلیمی سفر شروع کرکے وہیں ختم کیا اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوئے اور گورنمنٹ کالج تلنگانہ کے شعبہ اردو کے صدر نشین رہے، یہیں سے وظیفہ فراغت پایا۔ تمام عمر تحریر و تصنیف میں بسر کی 12 کتب کے مصنف ہیں اور کوئی چھ کے قریب کتابیں زیر طبع ہیں۔ ان کا قلم کو تمام ہنرجانتا ہے۔ 27 مئی کو مجروح سلطانپوری کی برسی تھی جس پر ایک مضمون شائع کرنا چاہ رہا تھا ایک سکالر کے توسط سے یہ مضمون تو ملا مگر اس کی اشاعت کے لیے محترم ڈاکٹر قطب شرشار سے اجازت لینے کے مراحل اور قانونی تقاضہ پورے کرنے میں کچھ وقت لگا بس اسی بھاگ دوڑ میں تاخیر ہوئی ہے۔

قطب سرشار کے مضمون کا بطور خاص اشاعت کا اہتمام اس لیے کیا گیا ہے کہ ان سے قبل جن لوگوں نے مضامین لکھیں ہیں انہوں نے عام طور پر مجروح کو بطور نغمہ نگار شناخت کیا ہے۔ میری نظر سے جو مضامین گزرے ہیں ان میں یہ واحد مضمون ہے جس میں مصنف نے مجروح سلطانپوری کو بطور غزل گو شاعر پیش کیا ہے اسی انفرادیت کی بنیاد پر یہ مضمون قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

–اردو شاعری میں مولانا حالیؔ کی تحریک کے بعد ترقی پسند تحریک (۱۹۳۶ء) دوسری طاقت ور تحریک تھی جو بہت ہی منظم اور جاندار ثابت ہوئی۔ اس تحریک نے بڑی سرعت کے ساتھ پریم چند، مولوی عبدالحق، اقبال، جوش ؔ ملیح آبادی، حسرت موہانی، فراقؔ گورکھپوری اور علی سردار جعفری جیسی دیوقامت ہستیوں کو متاثر کیا۔ مولانا حالیؔ اور محمد حسین آزادؔ نے غزل گوئی سے گریز کرتے ہوئے نظم گوئی کی ترویج کو عصری تقاضا قرار دیا۔ ان کے بعد ترقی پسندوں نے ترک غزل کو اس لیے ضروری گردانا کہ غزل عیش پرستانہ، زوال آمادہ جاگیر دارانہ سماج کی ترجمان ہے، غزل فارغ البال طبقے کی سقیم اور فاسد رجحانات کی آئینہ دار ہے۔ خانقاہوں میں پرورش پانے والے شکست خوردہ ذہنیت کے سبب دنیا کی بے ثباتی کے راگ مصنوعی رومانیت، عاشقانہ جذبات اور جنسی ترغیبات ہی کو غزل کے موضوعات اور رنگ تغزل سمجھا گیا۔ اس طرح غزل فرمار اور انحطاط کی نمائندہ ہو کر رہ گئی۔ خاص طور پر ترقی پسندوں نے غزل کو شجر ممنوعہ سمجھا اور شعوری طور پر ترک غزل کو وطیرہ بنا کر نظم ہی کو وسیلۂ اظہار بنالیا۔ ۱۹۴۰ء کے آس پاس نظم معریٰ اور آزاد نظم کے فارم کو برتنے کی شعوری کوششیں ہونے لگیں۔ ۱۹۴۰ء کا دور غزل سے گریز کا دور رہا۔ غزل نیم وحشی صنف قرار دی گئی۔ حالی ؔ ، آزاد، عبدالحلیم شرر اور اسماعیل میرٹھی کے بعد نظیراکبر آبادی ، اقبال اور جوش کی نظمیہ شاعری نے اردو ادب کو غزل کے بغیر ایک نئی فکر اور تجربے سے روشناس کیا۔ نظم گوئی کے تیسرے دور میں میرا جی، ن ۔ م ۔ راشدؔ اور فیض نے نظم کو ایک طاقت ور صنف شاعری کا درجہ عطا کیا۔ پھر علی جعفری، مجاز، کیفی اعظمی، اختر الایمان، مخدوم اور عمیق حنفی نے نظم کے میدان میں بے پناہ محاسن اور اثر آفرینی کے امکانات کو یقینی بنایا۔ ترقی پسندوں کی صفوں میں فیض، مخدوم اور جاں نثار اختر نے غزل کو شجر ممنوعہ بالکل نہیں سمجھا کہ ان کا ایقان غزل کی اثر آفرینی اور جامعیت پر برقرار تھا۔ نظم گوئی کے دور میں اپنے بھر پور کلاسیکی مزاج اور روایت کے احترام کے حامل غزل گو شعرا میں حسرتؔ موہانی ، یاس یگانہ چنگیزی، اصغر گونڈوی، فانی بدایونی، اثر لکھنوی، جگر مراد آبادی، فراق گورکھپوری، اور مجروح سلطان پوری کا عقیدہ غزل کی اثر پذیری اور جامعیت کے سلسلے میں کبھی کمزور نہیں ہوا۔ انھیں اردو دنیا میں کماحقہ عزت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ بہرحال بیسویں صدی کا چوتھا اور پانچواں دہا ترقی پسندوں کی گونج اور ہما ہمی کا دور تھا۔ ۱۹۴۰ء کے بعد ترقی پسندوں نے غزل کو منہ لگانا پسند نہیں کیا ان میں بعض غزل کی جانب مائل بھی رہے تو رسماً۔ ایسے حالات میں ترقی پسندوں کی صف میں مجروحؔ سلطان پوری واحد شاعر تھے جنہوں نے غزل کو سینے سے لگائے رکھا اور دم آخر تک غزل کا ساتھ نبھاتے رہے۔

اگرچہ ان کے پیش رو فیض احمد فیضؔ نے بھی غزلیں کہیں۔ ان کے مجموعہ کلام’’نقش فریادی‘‘ میں جو تیرہ غزلیں شامل تھیں ان کی نظموں کے مقابل میں بہت کمزور لگتی ہیں۔ مجروحؔ نے صرف غزل کو اپنا یا ان کی ابتدائی دور کی غزلوں میں غالباً جگر کی قربت کے سبب جگر کے لہجے کا حسن جھلکتا ہے۔ بعد میں رشید احمد صدیقی جیسے عاشق غزل کی تربیت کے نتیجے میں ان کے لہجے اور آواز نے اپنی علیحدہ شناخت بنالی۔ ۱۹۴۵ء میں جگر صاحب کی معرفت مجروحؔ کا تعارف فلمی ہدایت کار اے۔ آر ۔ کاردار سے ہوا۔ پہلی فلم ’’شاہ جہاں‘‘ سے فلمی نغمہ نگار بن گئے۔ اور آخری دم تک فلمی نغمہ نگاری ہی ان کا واحد ذریعہ معاش رہا۔

اس کے چند ماہ بعد مجروحؔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے باقاعدہ ممبر بن گئے۔اتنا ہی نہیں بلکہ عملی سیاست میں سرگرم عمل ہوگئے اور باغیانہ گیت لکھنے کی پاداش میں انھیں ایک سال جیل کی سزا بھی بھگتنی پڑی۔ مجروحؔ کی ابتدائی تعلیم اعظم گڑھ میں ہوئی پھر فیض آباد گئے یہاں انھوں نے دینیہ مدرسہ میں صرف ونحو، حدیث اور تفسیر کا درس حاصل کیا۔ اسی دوران الہ آباد یونیورسٹی سے مولوی عالم اور مولوی فاضل کے امتحانات خانگی طور پر پڑھ کر کامیاب کئے۔ چوبیس برس کی عمر میں تکمیل الطب کالج سے طب کی سند حاصل کی اور فیض آباد جا کر مطب کھول لیا اور پریکٹس کرنے لگے۔

اس دوران وہ شعر گوئی کی طرف مائل ہوئے اور پہلی غزل۔ ۱۹۴۰ء میں کہی۔ ان کی خدادا طبیعت نے انھیں شعر گوئی کی طرف مائل کیا ور نہ ان کا ادبی مطالعہ شاید کچھ ایسا نہیں تھا کہ مطالعہ کی فضا میں انہیں شعر گوئی کی تحریک ہوتی۔ ۱۹۵۰ء میں جیل کی ایک برس کی زندگی میں انھوں نے اردو ، فارسی کے قدیم اورکلاسیکی شعرا کا مطالعہ کیا ان شعراء میں انھیں میر تقی میرؔ نے بڑی شدت کے ساتھ اپنی جانب مائل کیا۔ یہاں سے مجروحؔ کی غزلوں میں لفظیات اور اسلوب کی نئی جہت کا آغاز ہوتا ہے۔ انھوں نے غزل کو’’لال پھریرا اس دنیا میں سب کا سہارا ہوکے رہے گا ‘‘ جیسے بیانیہ انداز سے بدل کر سیاسی مضامین کو استعاروں اور کنایوں کی زبان میں پیش کیا۔

مجھے سہل ہوگئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
ترا ہاتھ ہاتھ میں آگیا کہ چراغ راہ میں جل گئے

اس شعر سے اور اس قبیل کے اور کئی اشعار سے غزل پر ان کی مضبوط گرفت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلا:

دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

حادثے اور بھی گزرے ترے الفت کے سوا
ہاں مجھے دیکھ مجھے اب مری تصویر نہ دیکھ*

کس نے کہا کہ ٹوٹ گیا خنجر فرنگ
سینے پہ زحم نو بھی ہے زخم کہن کے ساتھ

روک سکتا ہمیں زندانِ بلا کیا مجروح
ؔہم تو آواز ہیں دیوار سے چھن جاتے ہیں

پندار تمنا ٹوٹ کے بھی دل کا کوئی عالم کیا ہوگا
جو تاب سکوں تک لا نہ سکے وہ دردِ مجسم کیا ہوگا

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

ہر دور میں غزل اپنا الگ رنگ رکھتی ہے۔ غزل میں ہر جذبے اور تاثر کو ہر تحریک اور رجحان کو اپنے اندر سمونے کی بھر پور صلاحیت موجود ہے۔ معدودے چند شاعروں سے قطع نظر نظم گوئی کے کٹر دور میں بھی حالی ، اقبال، جوش، اور ترقی پسند شعرا میں فیض، مجاز، جاں نثار اختر اور مخدوم نے غزلیں کہیں، ان میں فیض اور مخدوم نے غزل کے ساتھ انصاف کیا۔ ان کی غزلوں کا اسلوب اور لب ولہجہ جدید آہنگ اور بانکپن کے سبب چونکاتا ہے۔ مجروحؔ نے غزل کو سیاسی ، قومی، ملکی مسائل اور عصری حسیت کے تناظر میں نیا پیراہن اور تیور عطا کیے۔ سیاسی اور سماجی مسائل اور انقلاب کے موضوعات کو انھوں نے وجدان اور جمالیاتی حسیت کے رنگوں میں سمو کر انھیں طاقت ور عزم اور جرأت مندی کی حرات بخشی اور غزل کی خوبصورت قوسِ قزح بنائی اور غزل کے فن کو ایک نیا موڑ دیا۔

اس فنی اجتہاد کے بارے میں مجروحؔ خود کہتے ہیں۔’’ ۱۹۵۰ء کے آخر میں جب جیل سے اپنی غزلیں لے کر باہر آیا تو ہمارے رفیقوں کو غزل کے بارے میں نئے سرے سے رائے قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہی دنوں پروفیسر احتشام حسین نے غزل اور اس کی تکنیک کا نئے سرے سے جائزہ لیتے ہوئے ایک مضمون بھی لکھا جس میں انہوں نے غزل سے پر امید رہنے کی تلقین کی ہے۔ عام طور پر غزل سماجی اور سیاسی مسائل کا اور خصوصاً سیاست کا ذکر اس کی اپنی تمام اشاریت اور غزلیہ طرز بیان کی اولیت کا مستحق لوگ فیض احمد فیض کو سمجھتے ہیں‘‘۔ ہر چند میں فیض کو اپنا بزرگ اور پیش رو مانتا ہوں۔ یہاں یہ کہنے سے گریز نہیں کروں گا کہ ممکن ہے ایسا پاکستان میں رہا ہو لیکن ہم ہندوستانی شاعروں اور ادیبوں کی ان دنوں یعنی ۱۹۵۰ء کے آخر میں ان کی صرف ایک غزل کا علم ہوسکا تھا اور یہ ان کی مشہور اور خوبصورت غزل ہے جس کا مطلع کا مصرعہ ہے

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے

اگر ہمارے ملک میں ان کے کسی مخصوص دوست تک ان کی کچھ غزلیں پہنچی ہوں، جس کا امکان کم ہی ہے۔ کم از کم ہم جیسے لوگ ان غزلوں اور اشعار سے نا واقف تھے۔ اس بات پر میں اس لیے اصرار کرہا ہوں کہ سیاسی مضامین برتنے کے سلسلے میں میں نے صرف لائق ستائش اشعار ہی نہیں کہے بلکہ افراط وتفریط کا بھی شکار رہا ہوں جس کی سزا مجھے اس حد تک مل رہی ہے کہ لوگ میری اصل شاعرانہ حیثیت کو تسلیم کرنے میں اب بھی تامل کرتے ہیں۔ یعنی غزل کے موضوع میں پہلی بار ایک نئے موڑ کا اظہار میری شاعری میں ہوا ‘‘ ۔(فن اور شخصیت غزل نمبر ص ، ۳۴۹)’’

سیاسی مضامین کے برتنے کے سلسلے میں میں نے صرف لائق ستائش اشعار ہی نہیں کہے بلکہ افراط وتفریط کا بھی شکار رہا ہوں‘‘۔ اس اعترافی فقرے کے تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مجروحؔ نے سیاسی مضامین کے برتنے کے سلسلے میں اتنی ادبی دیانت داری کو ملحوظ رکھا ہے کہ بہرحال غزل کی تہذیب اور منفرد مزاج کے بدلنے کے سلسلے میں افراط وتفریط کا شکار ہونے کے باوجود کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا۔ مجروحؔ کی ادبی زندگی کا دھارا اس وقت بدل گیا جب وہ فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے۔

دوسرا ان کے بڑے لڑکے کی ناگہانی موت کا سانحہ ہوا۔ مجروحؔ ٹوٹ کر بکھر گئے اور ایسے ٹوٹے کہ فلمی دنیا کی غیر ادبی فضاء نے انھیں خود کو سمیٹنے کا موقع نہیں دیا۔ ۱۹۵۲ء میں مجروحؔ کا شعری مجموعہ ’’غزل‘‘ شائع ہوا اس کے بعد مسلسل تیس برسوں کے دوران ’’غزل‘‘ کے یکے بعد دیگرے چھ ایڈیشن شائع ہوتے رہے۔ آخری ایڈیشن میں مجروحؔ نے چند پرانی غزلوں کو حذف کر کے چند تازہ غزلوں کو شامل کیا یعنی شعری مجموعہ ’’غزل‘‘ کے بعد ان کی رفتار شعر گوئی نہایت سست رہی۔ ۱۹۴۹ء میں ترقی پسندوں کے منشور کے بعد مجروحؔ اپنے منفرد لہجے کو چھوڑ کر ’’عوامی تغزل‘‘ کی طرف مائل ہوئے۔ تب ان کے قلم کی جنبش سے ایسے اشعار ٹپکنے لگے۔

اب زمین گائے گی ہل کے ساز پر نغمے
وادیوں میں ناچیں گے ہر طرف ترانے سے

کس نے کہا کہ ٹوٹ گیا خنجر فرنگ
سینے پہ زحم نو بھی ہے زخم کہن کے ساتھ

ہشیار! سامراج کہ زنجیر ایشیاء
ٹوٹے گی تری سلسلۂ جان وتن کے ساتھ

لال پھیریرا اس دنیا میں سب کا سہارا ہو کے رہےگا
ہو کے رہے گی دھرتی اپنی دیش ہمارا ہو کے رہے گا

میری نگاہ میں ہے ارض ماسکو مجروحؔ
وہ سر زمین ستارے جسے سلام کریں

پہلی بار ’’غزل‘‘ کی اشاعت عمل میں آئی تو اس میں (۳۳) غزلیں اور چند متفرق اشعار شامل تھے۔ ۱۹۸۳ء میں اس مجموعہ کی اشاعت ہوئی تو اس میں (۴۵) غزلیں تھیں۔ چند اور غزلیں اس کے بعد بھی ہوئیں۔ مشاعروں میں وہ انہی غزلوں کو سناتے رہے تاہم سامعین کا انہماک اور دلچسپی ان غزلوں سے کم نہیں ہوئی۔ اکثر مبصرین اور ناقدین نے ان کی شاعری کو دو ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ وہ غزلیں جو ۱۹۴۰ء سے ۱۹۴۵ء کے دوران ہوئیں، کہا گیا کہ ان پر جگر کی چھاپ ہے اور دوسرے دور کو ترقی پسند غزل گوئی یعنی ’’ عوامی غزل‘‘ سے تعبیر کیا گیا۔ ہوسکتا ہے مجروح کی ابتدائی غزلوں میں کسی قدر جگر مراد آبادی کی صحبتوں میں فیض کے اثرات فطری طور پر پائے جاتے ہوں لیکن مجروحؔ نے بعد میں اپنی الگ آواز بنائی ہے جس میں مجروحؔ کے افکار کے تیو راور ایک منفرد تہذیب وکردار کو نمایاں طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔

’’عوامی تغزل‘‘ کو اپنانے کے بعد مجروح نے جلد ہی سنبھالا اور بدلتے ہوئے حالات اور تقاضوں کا بھر پور ادراک کلاسیکی سطح پر ان کی غزلوں میں آگیا۔ ’’ جدید تغزل‘‘ کے رجحان کے تحت غزل گو شعرا نے جو تجربے کیے وہ اگرچہ چونکادینے والے لگتے ہیں لیکن ان میں غزل کا فطری آہنگ نہیں پایا جاتا، مجروح نے کسی بھی تقلیدی رجحان کے تحت خود کو شعوری طور پر نہیں بدلا۔ جیسا کہ اپنی منفرد غزل گوئی کے بارے میں ان کا اپنا ادعا تھا

’’غزل کے موضوع پر پہلی بار نئے موڑ کا آغاز میری شاعری میں ہوا‘‘

کے مصداق مجروحؔ نے ثابت کر دکھایا۔میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگرلوگ ساتھ آگے گئے اور کارواں بنتا گیا اسی لہجے میں مخدوم بھی بولنے لگے :

حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

اور خورشید احمد جامیؔ نے حالات کے جبر کو اپنی غزلوں میں خاص طور پر موضوع بنایا :

دن گزرتا ہے حوادث کی توقع کرتے
رات زخموں کی مدارات میں کٹ جاتی ہے

مجروحؔ اپنے اسلوب کے خود موجد تھے۔ ان کے اسلب میں ان کی انا، بے نیازانہ روش ، انحراف اور اجتہادی رویے کو بڑا دخل ہے۔ یہ انا غرور تکبر کی نہیں بلکہ خلوص ومحبت اور شرافت کی نمائندہ ہونے کے سبب مثبت معنویت کی حامل ہے۔ چنانچہ:

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

جس طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایان شوق
خار سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا

شمع بھی اجالا بھی میں ہی اپنی محفل کا
میں ہی اپنی منزل کا راہبر بھی راہی بھی اور ایسے بہت سے اشعار ان کی مثبت انا کے مکمل ترجمان ہیں۔ ڈاکٹر وحید اختر کہتے ہیں۔’’مجروحؔ کی غزل انحراف اور اجتہاد کی آواز ہے۔۔۔‘‘ مجروحؔ کے ہاں لفظی تراکیب کا جو نظام ہے اس پر غالب کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں( پروفیسر غیاث متین ، روزنامہ منصف حیدرآباد ۲۸؍ مئی ۲۰۰۰ء)

مجروحؔ کے لہجے میں جہاں غالب کے انداز فکر کی پرچھائیاں ہیں وہیں آتش بیگانہ کی باغیانہ لے بھی شامل ہے۔ یہ سب اثرات ان کی شاعرانہ شخصیت کا جز بن کر ان کے مخصوص تیور کو خلق کرتے ہیں ( حسن نعیم روزنامہ سیاست حیدرآباد ۲۹ ؍ مئی ۲۰۰۰ء)

مجروحؔ اپنی ہم عصر شاعروں میں مجھے سب سے زیادہ ممتاز نظر آتے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ و ہ فطری شاعر ہیں۔ ان کی شخصیت میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جو ایک شاعر کو غیر شاعر سے ممیز کرتے ہیں ( معین احمد جذبی، سیاست ، ۲۹ ؍ مئی ۲۰۰۰ء)

تراکیب لفظی کے حوالے سے مجروحؔ میں کسی کو غالبؔ کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں تو کسی کو لہجے اور انداز فکر کے اعتبار سے مجروحؔ کی آواز میں آتش اور یگانہ کی باغیانہ لے کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ کوئی ان کی ’’انا‘‘ اور بے نیازانہ روش ، انحراف اور اجتہاد کے وسیلے سے انھیں انحراف واجتہاد کا شاعر مانتا ہے۔ یقیناً مجروحؔ کی شاعری کا خمیر ان تمام عناصر سے اٹھتا ہے۔ انا، انحراف اور اجتہاد مجروحؔ کی شاعری اور شخصیت کا محور ہیں اور توانائی بھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض نقادوں کو ان میں غالب کے تیور نظر آگئے:میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگرلوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیااس شعر میں جو شخصیت اور کردار ابھرتے ہیں وہ انا، انحراف اور اجتہاد کے ہتھیاروں سے لیس ہے۔ اس طرح کا کردار کسی سماجی منظر میں اکیلا ہی نمودار ہوتا ہے۔ انا جس کی توانائی، انحراف جس کی روش اور اجتہاد جس کی طاقت ہوتی ہے سماج اسے شروع میں بالکل قبول نہیں کرتا لیکن جوں جوں اس کیاسرار کھلنے لگتے ہیں اس قبیل کے لوگ اس کے ہم سفر اور ہم رکاب بن جاتے ہیں۔ اس طرح ایک قافلہ تشکیل پاتا ہے۔

سرسید ؔ ، عبدالحق ؔ ، سید محی الدین قادری زورؔ ، غالبؔ ، اقبالؔ اور جوشؔ ایسی ہستیاں ہیں جنھوں نے زبان حال سے کہا تھا ’’ ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں ‘‘ ایسی منفرد شخصیتیں اکیلے ہی اپنے اسلوب اور کردار کا علم لے کر اٹھتی ہیں۔ بعد میں ان کی بے پناہ مقبولیت کے باعث ان کی اتباع میں ان کے پیچھے چلنے والوں کا ایک کارواں بن جاتا ہے۔ لوگ ساتھ آتے گئے۔ مجروحؔ کا یہ شعر اردو دنیا کا مقبول ترین اور زبان زد خاص وعام شعر ہے ترقی پسند نظم گو شاعروں نے نہ جانے کتنی معرکۃ الآراء نظمیں کہی ہوں گی لیکن مجروح کی غزل کا یہ ایک شعر عوام وخواص کے دلوں میں جاگزیں اور ذہنوں پر نقش ہوگیا۔

شاید یہ زندہ فکر کی ایک سچی مثال ہے۔ مجروحؔ اپنے ہم عصر شاعروں میں ممیز اور ممتاز شاعر تھے اس لیے کہ انہوں نے غیر فطری رجحانات اور مصنوعی شعری رویوں سے نہ صرف گریز کیا بلکہ اپنی روش کے وہ خود خالق ہوئے۔ مجروحؔ کے گلے میں جو سوز وہ ان کے شعروں میں بھی ہے۔ جب مشاعروں میں وہ اپنی غزل سنانے لگتے تھے تو سماں بندھ جاتا تھا۔ ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے باوجود ان کی غزلیں روایتی تغزل اور رومانیت سے بالکل یہ مبرا نہیں رہیں۔

مجھے نہیں کسی اسلوب شعر کی ہے تلاش
تری نگاہ کا جادو مرے سخن میں رہے

شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی
کبھی اک چراغ بجھادیا کبھی اک چراغ جلادیا

ملی جب ان سے نظر بس رہا تھا ایک جہاں
ہٹی نگاہ تو چاروں طرف تھے ویرانے

مجھے سہل ہوگئیں منزلیں وہ ہوا کا رخ بھی بدل گئے
ترا ہاتھ ہاتھ میں آگیا کہ چراغ راہ میں جل گئے

ڈاکٹر راج بہادر گوڑ نے مجروحؔ کی غزل گوئی کا تجزیہ آل احمد سرور کے حوالے سے بڑی عمدگی سے کیا ہے۔’’ پہلے شاعر غم روزگار سے بھاگ کر غم عشق میں پناہ لیتا تھا لیکن سماجی اور سیاسی حالات اور معاشی الجھنوں نے اس دور کے ذہن کی اس طرح پرداخت کی ہے کہ یہ پناہ ناکافی ہوگئی ( آل احمد سرور)

غزل کی اسی پناہ گاہ سے بھاگ نکلنے اور شاہراہوں پر انسانوں کے مصروف قدموں کے ساتھ قدم ملا کر چل پڑنے کا نام مجروحؔ سلطان پوری ( ڈاکٹر راج بہادر گوڑ)

جس طرح علامہ اقبال کے اجداد کشمیری برہمن تھے اسی طرح اسرار حسن خاں مجروحؔ سلطان پوری بھی راجپوت النسل تھے پٹھان تھے ہی نہیں بس خان ان کا لقب تھا۔

اردو غزل کا یہ سورج ۱۹۱۹ء میں طلوع ہوا اور ۲۷؍ مئی ۲۰۰۰ء کو غروب ہوگیا۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔(مطبوعہ ’’گلکارئ وحشت کا شاعر مجروح مرتبہ ڈاکٹر خلیق انجم)

Please follow and like us:

Leave a Reply