کیا یہ بدن میرا تھا؟(افسانہ) صبا ممتاز بانو

Spread the love

آفتاب اپنی حدت کھو چکا تھا۔ نقرئی کرنیں اس کے وجود میں پوری طرح سما چکی تھیں۔تحت ِتاریکی بچھ چکا تھا۔نرم خود روگھاس نے پانی سے رازو نیاز شروع کردیا تھا۔پیڑوں کی دنیا آباد ہو چکی تھی۔راستے کو چْپ لگتی جارہی تھی۔اکا دکا مسافر گزرتا تو دھرتی کھنکنے لگتی۔ ایسے میں ویران پگڈنڈی پر تیز تیز قدم اٹھاتی میں زمانے کو شکست دینے کی کوشش میں تھی۔ مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی اور اسے گزر جانے کی۔میرادل چاہا کہ بھا گ کر اس سے لپٹ جا ئوںمگر وہ کب ہاتھ آتا تھا؟۔اس کے لمبے لمبے ڈگ میرے سو قدموں پر بھی بھاری تھے۔ویسے بھی ضرورت کے لمحوں میں دامن بچا کر گزر جانے کا ہنراسے خوب آتا تھا۔

وہ نظام ِ فطرت کا اسیرتھا۔میں تھوڑی سی بے رخی کیا برتتی ، وہ وفا کی زنجیروں سے رہا ہوجاتااور بے وفائی کے جنگل میں اچھلتا کودتا مجھ سے آگے نکل جاتا۔آج بھی وہ مجھ سے آگے آگے دوڑ رہاتھا۔ اکا دکا مسا فر بھی جب دغا دے گئے۔ سوچ میری تمنائوں کی ہمرکاب ہوگئی۔

“بے وفا کہیں کا۔کیا ہوا ساتھ نہیں۔ ابھی دو چار قدم اور چلوں گی تو لْٹیا کو آواز دوں گی۔ “

ایسا ہی ہوا۔ جوں ہی دور ایک کٹیا کی مدھم روشنی نے میری آنکھوں کو جوت بخشی۔میں نے لْٹیا کو آواز دی۔

لْٹیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہی پکار پر کالے ریشمی بالوں والی لْٹیا اچھلتی کودتی اوربھاگتی دوڑتی ہوئی میرے مقابل آکھڑی ہوئی۔
لْٹیا کے تو جیسے کان ہی میری آواز پر لگے ہوتے تھے۔ ایسے لگتا تھااس کا دل اس کے کانوں میں بولتا رہتا تھا۔۔

” لو اب آئی کہ اب آئی تیری مالکن۔”

میری پہلی صدا پر ہی وہ ہر مشکل کو اپنے پائوں سے روندتی ہوئی میرے پاس پہنچ جاتی۔

لْٹیا کو دیکھتے ہی میرے گلابی عارض مہکنے لگے۔جاندار مسکراہٹ نے میرے بھرے بھر ے لبوں پر جگہ گھیر لی۔ خوف کی وجہ سے جمی پپڑیاں خودبخود اکھڑنے لگیں۔میرے ریشمی بالوں میں ہوا کنگھی کرنے لگی۔ان کی سرسراہٹ سے دماغ کی حکومت کمزور پڑنے لگی۔ بدن کے فرش پر تمنائوں نے رقص کرنا شروع کردیا۔بلبل چہکنے لگی۔
’’حزن نہ کوئی غمِ بربادی۔آزادی جیسی آزادی۔”

میں وفور مسرت سے ہم کنار، خوش وقتی جذبو ں سے مہکتی اورشب ماہتاب کی ضیا سے دمکتی ہوئی لٹیا کے سنگ سفر کرنے لگی

“زیست ہے تو میں ہوں۔ اگر یہ نہیں تو پھر کیا ہے۔ نگاہ ِسرمگیں بھی نہیں اور خوشبوئے بدن بھی نہیں۔ واپسی کے سفر پر صرف حسرتوں کا قیام ہو تا ہے۔جی بھر کر جیا جائے یا بندھ باندھ لیا جائے۔”

میری سوچوں میں مرغان خوش نوا محو پرواز تھے کہ لٹیا کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ایک خیال نے مجھے پریشان کردیا۔

“اور یہ لْٹیا اپنی محبت ، اپنی شفقت اوراپنے تحفظ کی چھایا مجھ پر کیے ہوئے ،کیا یہ ہمیشہ اسی طرح میرے ساتھ رہے گی یا میری سانسوں کے نڈھال ہوتے اورمیرے شباب کے ڈھلتے ہی مجھے چھوڑ جائے گی۔کیا اس کی عمر میری عمر کا ساتھ دے پائے گی۔؟”

“مالکن تم نے میرا نام لْٹیا کیوں رکھا۔” چلتے چلتے جانے اُسے یہ آج کیا سوال کرنے کی سوجھی تھی۔
“لْٹیا ہر سوال پوچھنے کے لئے نہیں ہوتا۔ ”

“مالکن ہر جواب سننے کے لئے ہوتاہے۔ اگر حوصلہ ہو۔ “

“بڑی حوصلے والی ہے تو میڈم فلاسفر ۔ کتا بیں پڑھتی ہے کیا؟”۔ میں اس کے دل کو دُکھانا نہیں چاہتی تھی۔
” نہیں زندگی کو “۔لْٹیا بھی آج مجھے لاجواب کرنے پر تلی ہوئی تھی۔میں نے لْٹیا کو دیکھا جو اب مجھ سے دو قدم دور ہٹ کر چلنے لگی تھی۔لْٹیا کی اس حرکت سے دل رنجور ہوا۔دیدہ تر نے پلکوں کو بگھو دیا۔

“تو جانتی ہے نا لْٹیا۔ کتنے ہی تیرے اردگرد منڈلاتے تھے۔ تجھ پر اپنی رال ٹپکاتے تھے۔ ہر کوئی تجھے لوٹنے کی فکر میں رہتا تھا۔ تیرا نام لْٹیا نہ رکھتی تو کیا رکھتی۔ “

“چھوٹی تو مجھے بِٹیا کہتی ہے۔” اس کے لہجے میں گِلہ نمایاں تھا۔

“تجھے کیا اچھالگتا ہے۔” میں نے اس سے پوچھا۔

“مجھے تو بِٹیا اچھا لگتا ہے۔مالکن چھوٹی بہت بڑی ہے نا۔؟” آج وہ مجھے پوری طرح زچ کرنے پر کمر بستہ تھی۔

“اری، “بِٹیا اور لْٹیا” میں فرق ہی کتنا ہے۔ ؟ب کے نیچے سے نقطہ اور زیر ہٹا لواور اوپر پیش ڈال دو۔ اس کا قد لمبا کردواور پھیلائو تھوڑا زیادہ کردو۔بس اتنی سی بات ہے۔”

” اتنی سی بات کہاں ہے مالکن۔ چیزوں کو ان کے اصل مقام سے ہٹا دیا جائے تو باقی کچھ نہیں رہتا۔ عزت دیواروں سے لگ کر روتی ہے اور بدنامی انہیں پھلانگ کر باہر نکل جاتی ہے۔بیٹیاں لٹنے لگتی ہیں اور ضمیر فروشوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔سودے بازی یا جبر کا کالا ناگ عزت نفس کو ڈس لیتا ہے۔لالچ کا راج ہو جاتا ہے۔ ” لْٹیا کی باتوں نے مجھے حیران پریشان کر دیا۔ “یااللہ کہیں لْٹیا کے دن تھو ڑ ے تو نہیں رہہ گئے۔”

“لْٹیا ، تو بھی تو کالی ہے۔” میں نے لْٹیا کو سمجھانے کی کوشش کی۔

” یاد کر مالکن جب میں پیدا ہوئی تھی تو کیا کالی تھی۔ اوج ثریا تک جانا ہے تجھے اورمجھے سیاہی کے سفر پر رہنا ہے۔ “

کسی سیانے نے کہا تھا کہ سفر باتوں میں ہو تو آسانی سے کٹ جاتا ہے۔آج ایسا ہی تو ہوا تھا۔

کٹیا جونہی آئی، لْٹیا نے میرے ریشمی لبادے سے کھیلنا شروع کردیا۔میں نے بیگ سے گوشت کے ٹکڑ ے نکالے اور لْٹیا کو ڈال دئیے۔لْٹیا نے سیر شکم ہو کربھی پیاسی نگاہوں سے مجھے دیکھا تو میں اس کے من کی بات سمجھ گئی ا ور خاکی لفافے سے کیک نکالا۔

” بڑی ندیدی ہے تو۔ میٹھا بھی کھائے گی”۔ لْٹیا نے جواب دینے کی بجائے کیک میرے ہاتھوں سے چھین لیا۔

لْٹیا کے مطمئن ہونے کے بعد میں نے جونہی قدم اندر بڑھائے۔ سکون میرے بدن میں ہلکورے لینے لگا۔ نیند مجھ سے محبت کا تقاضا کرنے لگی۔

“ایک اور رات محفوظ پناہ گا ہ میں بسر ہوجائے گی۔ ہاتھو ں کی دنیا جب تک آباد رہے گی۔ سعی مسلسل تو کرنا ہوگی۔ آبلہ پائی بھلے ستم ڈھائے لیکن امید تو اپنی جگہ شاداب کھڑی ہے ،زندگی موت کے آنے تک سنبھل ہی جائے گی۔”

میں درماندہ حال نے خوش خیا لی کے ساتھ اپنے آستاں میں پناہ لی اور لْٹیا گھر کے باہر مورچہ سنبھال آکر بیٹھ گئی۔اس رات بدن کو حرارت نے گھیر لیا۔ چاند جیسے مکھڑا کملا گیا۔ تیسرے روز طبیعت سنبھلی تو من باہر جانے کو مچلا۔

شال کو جسم پر لپیٹا اور باہر نکل گئی۔ ” لٹیا ،چل آ۔ ٹہلتے ہیں۔”

لٹیا تو مجھے دیکھتے

ہی نہال ہوگئی۔ اس کی باتوں میں شہدساگھل گیا۔

“حسن جاناں ہے کچھ عنابی سا۔کتنے دنوں کے بعد تمہارامکھڑا دیکھا ہے مالکن۔ بدن سے ضیا پھوٹ رہی ہے اور مخمور آنکھوں کا حسن دوآتشہ ہوچکا ہے۔ بیماری میں کوئی یوں بھی خوبصورت ہوتا ہے۔ “
باتوں باتوں میں ہم سرحد کے پاس پہنچ گئے۔میرادل تھا آج بن سے نکل کر دیکھوں۔ میں نے جو نہی حدِ فاصل کو پار کرنے کی کوشش کی۔ لْٹیا مچلنے لگی۔

وہ نہیں چاہتی تھی کہ میں آگے جائوں۔آخر کیا تھا بن کے پار۔؟ میں دیکھنا چاہتی تھی اور لْٹیا مجھے روکنا چاہتی تھی۔ آخرکار لْٹیا نے فیصلہ کن انداز میں میری طرف دیکھا اور اپنے پائوں اٹھائے۔ ” پہلے میں جائوں گی۔”

اب اسے روکنا بے سود تھا۔میں جانتی تھی کہ وہ ہٹ کی پکی ہے۔ رات کی سیاہی کو چیرتی ہوئی وہ اندھیرے میں روپوش ہوگئی۔ کچھ پل ٹھہر گئے اور پھر ساعتوں کی خاموشی چیخم دھاڑ میں بدل گئی۔”کون تھا؟ کون تھا؟”

“مجھے لٹیا کے ساتھ جانا چاہیے تھا۔مجھے اس کی بات نہیں ماننی چاہیے تھی۔ وہ تو سدا کی پگلی ہے۔”

تیز و تند طوفان ، چنگھاڑتی ہوئی آواز یں ،سماعتوں کو بہرا کردینے والی دھاڑیں اور میرا ساکت ہوتا ہوا بدن۔ میں نے قدم اٹھانے کی کوشش کی لیکن میں تو پتھر کی بن گئی تھی۔ میرا پیرھن پھٹ چکا تھا۔میرا جسم حرکت نہیں کررہا تھا۔ بس دماغ کام کررہا تھا۔ لیکن وہ ایک ساعت پھر اس کے بعد جیسے کسی نے مجھ میں جان ڈال دی ہو۔

میں اپنا فگار فگار بدن سنبھالتی سرپٹ اس طرف دوڑی جدھر لْٹیا گئی تھی۔ کالے بالوں اور بھورے پا ئوں والی لْٹیا کا زخمی بدن خاک پر پڑا تھا۔ روحیں چیخ رہی تھیں۔

میں نے اس کی پتلیوں میں جھانکا۔۔۔” میرا عکس”

کیا یہ بدن میرا تھا۔؟

Please follow and like us:

Leave a Reply