154

26 مئی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1824ء امریکا نے برازیل کی خود مختاری کو تسلیم کیا

1993ء پاکستان کی عدالت عظمی نے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دے کر ان کی حکومت کو بحال کر دیا۔

2005ء پاک بھارت حکام کے درمیان سیاچن پر فوجوں کے انخلا پر بات چیت کا آغاز ہوا

2006ء انڈونیشیا میں زلزلے سے پانچ ہزار سات سو افراد ہلاک اور دولاکھ بے گھر ہوئے

ولادت

1566ء محمد ثالث 1595ء سے اپنی وفات تک سلطنت عثمانیہ کا فرمانروا رہا۔ وہ اپنے والد مراد سوم کی جگہ تخت سلطانی پر بیٹھا۔ سلطنت عثمانیہ میں تخت سنبھالنے کے ساتھ ہی “قتل برادران” کی قبیح رسم کا آغاز سلطان محمد فاتح کے دور میں ہوا اور آہستہ آہستہ یہ رسم زور پکڑتی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ نئے سلطان کے لیے بغاوت کے خطرات کو کم کرنا تھا لیکن محمد ثالث کا تخت سنبھالنا برادر کشی کے اس سلسلے میں ایک سیاہ باب کا اضافہ تھا اور 27 بھائیوں کا قتل محمد ثالث کو عثمانی تاریخ میں ناپسندیدہ کرداروں میں شامل کرنے کے لیے کافی تھا۔ اس نے اپنی بیس سے زائد بہنوں کو بھی قتل کیا۔ اس میں حکمرانی کا کوئی گُر نہ تھا اور تمام تر اختیارات اس کی والدہ صفیہ سلطان کے ہاتھ میں تھے۔ اس کے دور کا اہم واقعہ ہنگری میں آسٹریا اور عثمانیوں کے درمیان جنگ تھی جو 1596ء سے 1605ء تک جاری رہی۔ جنگ میں عثمانیوں کی شکست کے باعث سلطان کو افواج کی قیادت خود سنبھالنی پڑی اور وہ سلیمان اول کے بعد میدان جنگ میں اُترنے والا پہلا عثمانی حکمران تھا۔ اس کی افواج نے 1596ء میں اگری فتح کیا اور جنگ کرسزتس میں ہیبسبرگ اور ٹرانسلوانیا کی افواج کو شکست دی۔ اگلے سال معالجین نے سلطان کو کثرت شراب نوشی اور بسیار خوری سے پیدا ہونے والے امراض کے باعث میدان جنگ میں اترنے سے منع کر دیا۔ ان جنگوں میں فتوحات کے باعث محمد ثالث کے دور میں زوال پزیر سلطنت عثمانیہ کو کوئی اور دھچکا نہیں پہنچا۔

1667ء ابراہام ڈی موافر فرانسسی ریاضی دان تھا جو 26 مئی 1667ء کو فرانس میں پیدا ہوا۔ اس کی وجہ شہرت ڈی موافر کلیہ ہے۔ وہ آئزک نیوٹن۔ ایدمنڈ ہیلی اور جیمز اسٹرلنگ کا دوست تھا۔ اس نے نظریۂ احتمال پر ایک کتاب بھی لکھی۔ جیسے جیسے اُس کی عمر بڑھتی گئی وہ زیادہ تھکتا گیا اور اُسے سونے کے لیے زیادہ وقت درکار ہونے لگا۔ اُس نے مشاہدہ کیا کہ اسے ہر رات 15 منٹ زیادہ سونا پڑتا ہے۔ اُس نے اپنی موت کے دن کا صحیح تخمینہ لگایا جس دن اُسے سونے کے لیے 24 گھنٹوں سے زیادہ وقت درکار ہو گا۔ 27 نومبر 1754ء کو لندن انگلستان میں اُس کا انتقال ہو گیا۔

1799ء الیکزاندرپشکن (روس کے قومی شاعر، ناول و افسانہ نگار، ڈراما نویس)

1904ء تُرک کے مشہور قلم کار، شاعر،ادیب اور مفکر نجیب فاضل قیصاکورک (1904 تا 1983ء) کے خاندان کا تعلق اناطولیہ کے شہر مرعش سے تھا، لیکن آپ کی پوری زندگی استنبول میں گزری۔ یہیں آپ کی ولادت ہوئی اور آخردم تک آپ نے یہیں قیام کیا۔ امریکی کالج اور بحریہ اسکول میں تعلیم پائی۔ بعد ازاں دارالفنون کے شعبہ فلسفہ اور سوبورن یونیورسٹی پیرس سے وابستہ رہے۔ بینک میں آڈیٹر کی ملازمت کی مگر اس میں دل نہ لگا آپ نے یہ ملازمت چھوڑ دی۔ پھر آپ نے قومی ادارہ برائے موسیقی اوراکادمی برائے فنونِ لطیفہ میں شمولیت اختیارکی اور ہر اہل و نااہل کے دل میں فن کی روح پھونک دی۔ آپ نے ‘‘بویوک دوغو’’ Büyük Doğuیعنی مشرقِ عظیم نامی مکتب فکر کی بنیاد رکھی اور اسی نام ایک رسالہ شائع کرتے رہے، اس رسالے نے ترکی کی فکری زندگی کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کیاہے۔ ترکی کو عظیم ترکی بنانے میں نجیب فاضل کے اس ادارے کا کام، کوشش اور محنت شامل ہے۔ نجیب فاضل نے نوجوان نسلوں کو خود اعتمادی سکھائی، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اخلاق اور ناموس سے عاری افکار دائم نہیں رہ سکیں گے۔ نجیب فاضل کو ترکی میں شیکسپیئر کے برابر کا ڈراما نگار مانا جاتا ہے۔ آپ شعرونثر کے نامی گرامی اساتذہ میں سے تھے۔ آپ کا شمار مستقبل کے فکری معماروں میں ہوتا ہے۔ صوفیانہ افکار سے شغف، مابعدالطبیعات پر گہری نظر، عمربھر‘‘حقیقتِ مطلقہ’’ کااحترم اور سیدالانامﷺ کی غیر معمولی عزت و توقیر آپ کی ہمہ جہت شخصیت کے چند گوشے ہیں۔

1907ء جان وین، امریکی اداکار

1930ء قاضی واجد، ایک پاکستانی اداکار تھے۔ قاضی واجد پاکستانی ریڈیو انڈسٹری کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ 25 سال ریڈیو پر کام کرنے کے بعد انہوں نے استعفا دے دیا اور ایک اداکار بن گئے۔ قاضی واجد کو 1988ء میں تمغائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا تھا۔ ان کا انتقال 11 فروری 2018 کو ہوا۔

1998ء جیکب برنیٹ ایک سولہ سالہ امریکی طبیعیات کا طالب علم اور عبقری طفل ہیں۔(عبقری طفل اس بچے کو کہا جاتا ہے جو بہت کم عمر میں ہی بڑے ناقابل یقین کارنامے کر دکھائے۔ جو بھی خاص صلاحیتیں اس بچے کے پاس ہوتے ہیں وہ خداداد ہوتے ہیں۔) ان کے ماں کے بقول جیکب ابتدائی زندگی میں بول بھی نہیں سکتا تھا اور ڈاکٹروں نے اسے ذہنی بیمار قرار دیا تھا۔ لیکن جب والدین نے جیکب کو دھیرے دھیرے تعلیم دینا شروع کردی تو جیکب کے ذہنی صلاحیتیں ظاہر ہونے شروع ہو گئی۔ کم عرصے میں جیکب تعلیم میں بہت آگے بڑھا اور اس کے اس بات نے نہ صرف والدین بلکہ بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اور نہ صرف یہ بلکہ بعض اوقات ایسے پیچیدہ اور مشکل مسائل کو بھی حل کردیتاہے جس نے پروفیسروں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ کچھ سائنسدانوں نے تو جیکب کا شمار انسانی تاریخ کے نمایاں شخصیات میں کیا۔ کہاجاتا ہے کہ جیکب کا آئی کیو لیول 170 ہے۔ کچھ لوگوں نے تو یہ پیشنگوئی بھی کردی کہ عنقریب بہت کم عمر میں جیکب بارنیٹ نوبل انعام حاصل کرلے گا۔ اس وقت جیکب مشہور امریکی جامعہ میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے۔ ان کے استاتذہ کا ماننا ہے کہ یہ طالب علم آئن سٹائن کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔

وفات

1421ء محمد اول کا پورا نام محمد اول چلبی سلطنت عثمانیہ کے سلطان اور دوسرے بانی تھے۔ وہ بایزید اول کے صاحبزادے تھے۔ جنگ انقرہ میں بایزید یلدرم کی امیر تیمور کے ہاتھوں شکست اور سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے بعد محمد اول نے ادرنہ (ایڈریانوپل) میں تخت سنبھالا اور دار الحکومت بروصہ سے ادرنہ منتقل کرکے سلطنت کو ختم ہونے سے بچایا اور بغاوتوں کو فرو کرنے کے ساتھ ساتھ البانیہ سمیت کئی علاقے فتح کرکے سلطنت میں شامل کیے۔ محمد اول کی عمر انتقال کے وقت محض 40 سال تھی اور انہوں نے صرف 8 سال حکومت کی تاہم ان کا دور اس لیے اہم ہے کہ جنگ انقرہ میں اپنے والد کی شکست اور سلطنت کے ٹکڑے ہوجانے کے بعد انہوں نے اسے از سر نو پیروں پر کھڑا کیا اور سلطنت کے دوسرے بانی کہلائے۔ ان کا مزار بروصہ میں مسجد سبز کے ساتھ واقع ہے۔

1512ء بایزید ثانی سلطنت عثمانیہ کے آٹھویں حکمران، جو اپنے والد محمد فاتح کے انتقال کے بعد تخت پر بیٹھے۔ انہوں نے 1481ء سے 1512ء تک حکومت کی۔ وہ 3 دسمبر 1447ء کو پیدا ہوئے۔

1702ء زیب النساء ہندوستان کے بادشاہ اورنگزیب کی بیٹی عالمہ، فاضلہ، عارفہ اور فارسی زبان کی شاعرہ تھی۔ زیب النساء نے تین سال کے عرصے میں قرآن مجید حفظ کیا۔ فارسی، عربی اور اردو زبان سے کافی واقفیت پیدا کرلی۔ ہیت، فلسفہ اور ادبیات میں بھی کافی عبور تھا۔ دانشمند، ادب دوست اور شاعر پرورتھی۔ ان کی حمایت کرتی یہی وجہ ہے کہ بہت زیادہ کتابیں، رسالے اور دواوین کا انتساب ان کے نام لکھے گئے ہیں۔ ان کے والد ہر کام میں اس سے مشورہ کرتے تھے۔ شادی نہیں کی۔ 65سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ زیب المنشات اور زیب التفاسیر کتابیں ان کے آثار ہیں۔ ان کی پیدائش 15 فروری 1638 میں ہوئی۔

1883ء عبدالقادر الجزائری، الجزائر کی تحریک آزادی کے عظیم رہنما

تعطیلات و تہوار

1966ء گیانا کا یوم آزادی

آسٹریلیا میں معافی مانگنے کادن منایا جاتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں