usman buzdar 124

عید بازاروں کیلئے 20 ملین روپے کی سبسڈی منظور، چینی کی برآمد پرربیٹ ختم کرنے کا فیصلہ

Spread the love

لاہور(جنرل رپورٹر)پنجاب کابینہ نے صوبہ بھر کے رمضان بازاروں میں

صارف کو فی کس 2 کلو تک چینی دینے کا فیصلہ کیا گیا ،کابینہ نے صارف کو

رمضان بازاروں میں 2 کلو تک چینی دینے کے فیصلے کی منظوری دی،21

رمضان المبارک سے صوبہ بھر کے رمضان بازاروںمیں عید سے متعلق اشیاء

خوردونوش بھی فروخت کی جائیںگی اوررمضان بازارکے ساتھ عید بازاروں

میںسوجی، سو یاں اور دیگر 5 اضافی اشیائے خورد و نوش ارزاں نرخوں پر فراہم

کی جائیں گی اوراس ضمن میں پنجاب حکومت 20 ملین روپے کی سبسڈی دے

گی۔کابینہ کے اجلاس میں پنجاب حکومت کی جانب سے چینی کی برآمد پر ربیٹ

ختم کرنے کا فیصلہ کیاگیااور چینی کی قیمتوں میں استحکام کیلئے برآمدپر سبسڈی

ختم کرنے کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں سپریم کورٹ کے احکامات کی

روشنی میںزمین سے پانی نکال کر استعمال کرنے والی بیوریج کمپنیوں اور واٹر

بوٹلنگ پر فی لٹر ایک روپیہ ایکوافر ٹیرف (واٹر چارجز)لگانے کی منظوری دی

گئی اوراس ضمن میں واساز، لوکل گورنمنٹس اور محکمہ آبپاشی مذکورہ چارجز

وصول کرنے کے حوالے سے اپنے اپنے دائرہ کار میں نوٹیفکیشن جاری کریں

گے۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فورٹ منرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی کانام تبدیل

کرکے کوہ سلیمان ڈویلپمنٹ اتھارٹی رکھنے کی منظوری دی گئی اور اتھارٹی کا

دائرہ کار ڈی جی خان اور راجن پور کے قبائلی علاقوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا

گیا اوراس ضمن میں ایکٹ میں ضروری ترامیم بھی کی جائیںگی ۔کابینہ کو سکول

ایجوکیشن کے اساتذہ کی ٹرانسفر پالیسی میں ترامیم سے آگاہ کیا گیا اوراس بارے

میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کے فیصلے کے مطابق ٹیچرز کی ای ٹرانسفر

پالیسی کے بارے میں پارلیمانی پارٹی کو بھی بریفنگ دی جائے گی۔اجلاس میں

پنجاب ریونیو اتھارٹی کے ورک چارج ملازمین کو ریگولر کرنے کیلئے عدالتی

احکامات کے مطابق ضروری اقدامات کی منظوری دی گئی۔ میرج وبینکویٹ ہالز

اور مارکی کیلئے زیراستعمال زمین کے حوالے سے ایل ڈی اے قوانین میں ترامیم

کا فیصلہ کیا گیا اور اس ضمن میںقوانین میں ترامیم کے حوالے سے اعلیٰ سطح

کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔اجلاس میں پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ

1967 میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے گندم خریداری کا ٹارگٹ حاصل

کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا ۔اجلاس میں 7ویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کی

ششماہی مانیٹرنگ رپورٹس برائے جولائی تا دسمبر 2016، جنوری تا جون

2017 اور جولائی تا دسمبر 2017 کی منظوری دی گئی جبکہ تعمیرات و

مواصلات، ہائوسنگ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ، آبپاشی، بلدیات اور انفراسڑکچر

ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب کی 2018-19 کی سالانہ آڈٹ رپورٹس کی توثیق کی

گئی۔ آڈٹ رپورٹس پنجاب اسمبلی میں پیش کی جائیں گی۔اجلاس میں صوبائی کابینہ

کے 10ویں اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ اجلاس میں صوبائی کابینہ

کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کے 9ویں اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی

گئی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے

کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پنجاب حکومت کی کاوشوں سے گندم کے

کاشتکاروں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ ملا ہے اورپنجاب حکومت نے

کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ صوبہ بھر میں لگائے گئے

رمضان بازاروں کے ذریعے عوام کو ریلیف ملا ہے اورپنجاب حکومت مستقبل

میں بھی عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے مزید اقدامات کرے گی۔بعدازاںوزیراعلیٰ

پنجاب سے داتا دربار کے باہر دھماکے میں شہید افراد کے لواحقین نے ملاقات

کی۔وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں ریلوے کالونی گڑھی شاہو کے

رہائشی شہید رفاقت علی کی بیوہ نازیہ بی بی ،مصطفی آباد سوئی گیس چوک

شاہدرہ کے رہائشی شہید محمد نواز کی بیوہ ثریا بیگم ،پاکپتن کے رہائشی شہید

طاہر اسلم کے والد محمد اسلم اورلوہاری گیٹ سوترمنڈی لاہور کے رہائشی شہید

مدثرکی والدہ نوشے شامل تھیں۔ وزیراعلیٰ نے شہید رفاقت علی کی بیوہ نازیہ بی

بی، شہید محمد نواز کی بیوہ ثریا بیگم، شہید طاہر اسلم کے والد محمد اسلم اورشہید

مدثر کی والدہ نوشے کو 10،10 لاکھ روپے مالی امداد کے چیک دیئے۔وزیراعلیٰ

نے دھماکے میںشہید افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ۔

وزیراعلیٰ نے شہید رفاقت علی کی کمسن بیٹی سے شفقت کا اظہاربھی کیا۔

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ مجھے آپ کے پیاروں کے بچھڑنے کا بے حد

افسوس ہے۔ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ہم آپ کے غم میں برابر

کے شریک ہیں اورہماری ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں۔حکومت آپ کے ساتھ کھڑی

ہے۔ آپ تنہا نہیں،قوم آپ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی امداد کسی انسانی

جان کا مداوا نہیں لیکن ہم آ پ کے ساتھ کھڑے رہیںگے اور آپ کے دیگر مسائل

بھی حل کیے جائیںگے۔انہوںنے کہا کہ ہم شہداء کے خاندانوں کو سلام پیش کرتے

ہیں۔



اپنا تبصرہ بھیجیں