24 مئی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1922ء روس اور اٹلی کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پایا

1985ء بنگلہ دیش میں طوفان سے دس ہزار افراد ہلاک ہوئے

2000ء جنوبی لبنان پر بائیس سالہ قبضے کے بعد اسرائیلی فوج کاانخلا ہوا

2001ء نیپال کے شہری شرپا تیمبا شیری نے پندرہ سال کی عمر میں دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ سرکی

ولادت

1819ء ملکہ وکٹوریہ سلطنت برطانیہ کی ملکہ تھی۔ ملکہ وکٹوریہ انیسویں صدی عیسوی میں دنیا کی با اثر ترین حکمرانوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ ملکہ وکٹوریہ کا شمار برطانیہ کی تاریخ میں انتہائی با اثر حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ 1858ء میں اسی کے دور حکومت میں ایسٹ انڈيا کمپنی کے 120 سالہ تسلط کو ختم کر کے ہندوستان کو باضابطہ طورایک برطانوی کالونی بنادیا گيا۔ 1876ء میں ملکہ وکٹوریہ قیصرِ ہند بن گئیں۔ ملکہ وکٹوریہ نے تقریباً 64 سال حکومت کی۔ ملکہ وکٹوریہ کے دور میں سلطنت برطانیہ اپنی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ میں اپنی انتہا پر تھی اور یہ دور بہت تبدیلیوں کا دور تھا۔ ملکہ وکٹوریہ 22 جنوری 1901ء کو اِنتقال کرگئیں۔ اُن کے انتقال کے بعد ایڈورڈ ہفتم تخت نشین ہوا۔ ملکہ وکٹوریہ 22 جنوری 1901ء سے 9 ستمبر 2015ء تک مملکت متحدہ کی طویل ترین عہدِ حکومت والی حکمران کی حیثیت سے تاریخ کا حصہ رہیں، بعد ازاں 9 ستمبر 2015ء کو یہ ریکارڈ ملکہ ایلزبتھ دوم کو حاصل ہو گیا۔

1894ء کرتار سنگھ سرابھا، ہندوستانی سکھ انقلابی اور غدر پارٹی کے لیڈر تھے جن پر مشہور زمانہ لاہور سازش کیس نامی مقدمہ چلایا گیا اور انہیں غدر سازش کے جرم میں لاہور سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔

1899ء قاضی نذر الاسلام ایک بنگالی شاعر، انہیں اردو، فارسی اور ہندی پر یکساں عبور تھا۔انہوں نے بنگالی زبان کو اظہار کا ذریعہ بنایا، موسیقی کار اور تحریک پسند تھے۔ انہیں بنگلہ دیش کا قومی شاعر قرار دیا گیا ہے۔ نذر کے نام سے شہرہ یافتہ نذرالاسلام، بھارتی اسلامی نشاة ثانیہ کے لیے اپنی تحریک چلائی اور فاشزم اور اپریشن کے خلاف کام کیا۔ سماجی مساوات کے لیے دم بھرنے والے نذر کو باغی شاعر کے خطاب عوام سے نوازا گیا۔ چونکہ نذر موسیقی کے بھی دلدادہ تھے، انہوں نے اس پر بھی کام کیا اور شہرت یہاں تک ہوئی کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے انہیں اپنا قومی شاعر کا اعلان کیا۔ نذر مغربی بنگال کے شہر کلکتہ میں ایک عالم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ عالم گھرانہ قاضی گھرانہ تھا۔ نذر دینی علوم سے فارغ ہوکر، موذن کے کام سے وابستہ ہو گئے۔ شاعری سیکھی، ڈراما، ادب اورتھیٹر آرٹ سیکھے۔ مشرق وسطیٰ میں پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانوی افواج کے لیے بھی کام کیا۔ بعد ازاں بھارت میں مقیم ہوئے۔ شہر کلکتہ میں اخبار کے لیے کا کام کیا، باغی شاعر ، بھانگر دان، دھوم کیتو جیسی فنی تخلیقات کیں۔ تحریک آزادی میں حصہ لیا، جیل بھی گئے۔ ان کی شاعری اور ادبی کارنامے جنگ آزادی بنگلہ دیش تحریک میں ماثر رہے۔ ان کا انتقال 29 اگست 1976 کو ہوا۔

1915ء دلشاد کلانچوی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر اور سرائیکی زبان و ادب کے نامور محقق، نقاد، شاعر، ناول نگار، مترجم، ماہرِ اقبالیات اور شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے پروفیسر تھے۔ آپ کا انتقال 16 فروری، 1997ء کو ہوا۔

دلشاد کلانچوی کے بارے میں مزید جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

1928ء آئرش ناول نگار اور ڈراما نویس،ولیئم ٹریور 1928ء جمہوریہ آئرلینڈ کی کاؤنٹی کورک کے قصبے مچلز ٹاؤن میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے سینٹ کولمبس اینڈ ٹرینٹی کالج ڈبلن سے تعلیم حاصل کی۔ ولیئم ٹریور کچھ عرصہ شعبہ درس و تدریس سے بھی منسلک رہے۔ ولیئم ٹریور کا پہلا ناول ‘سٹینڈرڈ آف بیہیویئر 1958ء میں شائع ہوا۔ انھوں نے 1965ء کے بعد سے اپنی ساری توجہ اپنی تحریروں پر مرکوز کی۔ ولیئم ٹریور نے بعد اپنے پہلے ناول ‘سٹینڈرڈ آف بی ہیویئر سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 1962 میں شائع ہونے والا ناول ‘دی اولڈ بوائز ان کی پہلی ادبی تخلیق ہے۔ ولیئم ٹریور نے تیس ناول لکھے۔ ولیئم ٹریور نے کالج کے زمانے سے اپنی دوست جین سے شادی کی۔ انھوں نے اپنی بہت سے ادبی تخلیقات کو اپنی بیوی کے نام کیا۔ ولیئم ٹریور کو 1977ء میں ان کی ادبی خدمات کے صلے میں سی بی ای ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انھیں 2001ء میں اعزازی ‘نائٹ ہڈ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ولیئم ٹریور کا آخری ناول ‘لو اینڈ سمر 2009ء میں شائع ہوا جسے مین بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا۔ ولیئم ٹریور کے ناول ‘فیلیشیا جرنی پر فلم بنائی گئی جس میں ایکٹر باب ہاسکن اور ایلن کیسڈّی نے کلیدی کردار نبھائے۔ ولیئم ٹریور کی ادبی خدمات کے سلسلے میں انھیں 1994ء میں ‘وائٹ بریڈ انعام سے نوازا گیا۔ ولیئم ٹریور کو چار بار مین بکر پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ 88 برس کی عمر میں 21 نومبر 2016ء کو انتقال کر گئے۔

1940ء جوزف برودسکی، ایک روسی نژاد امریکی ادیب ہیں انہیں 1987ء کا نوبل انعام برائے ادب دیا گیا۔ ان کا انتقال 28 جنوری 1996 کو ہوا۔

1942ء فریزر ستوڈدارٹ، ایک برطانوی نژاد امریکی کیمیاء دان ہیں سال 2016 کا نوبل انعام برائے کیمیاء حاصل کیا۔

1946ء تانسو چیلر ایک ترک پروفیسر، ماہر اقتصادیات اور سیاست دان ہیں جو 1993ء سے 1996ء تک ترکی کی بائیسویں وزیر اعظم بھی رہی ہیں۔ وہ ترکی کی واحد خاتون وزیر اعظم ہیں۔

وفات

1966ء صادق محمد خان پنجم ریاست بہاولپور کے آخری (بارہویں) نواب تھے۔ نواب کی تین سال کی عمر میں دستار بندی کی گئی۔ تقریباً بیس سال کی عمر میں اختیارات حکمرانی تقویض کیے گئے۔ نواب کے دور حکومت میں ریاست صحیح معنوں میں ایک فلاحی ریاست تھی۔ نواب نے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔ 3 اکتوبر 1947ء کو ریاست بہاولپور نے پاکستان سے الحاق کیا۔ 1955ء میں ریاست کو مغربی پاکستان میں شامل کر دیا گیا۔ ریاست کے اختتام کے بعد نواب نے لندن میں رہائش اختیار کر لی اور ادھر ہی 24 مئی 1966ء میں وفات پائی۔ نواب کی تدفین فوجی اعزاز کے ساتھ 28 مئی کو دراوڑ کے شاہی قبرستان میں کی گئی۔ وہ 29 ستمبر 1904ء میں پیدا ہوئے۔

1978ء شیخ عبد المجید سندھی پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور سیاستدان، مصنف اور صحافی تھے۔ انہوں نے ریشمی رومال تحریک میں حصہ لینے کے پاداش میں تین سال اور تحریک خلافت میں انگریزوں کے خلاف تقریر کرنے کے الزام میں 2 سال قید کاٹی۔ 1937ء میں سندھ اسمبلی کے پہلے آزاد انتخابات میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں بھی رہے۔ وہ 7 جولائی، 1889ء کو پیدا ہوئے۔

1983ء شیخ الحدیث مولانا محمد زكريا کاندھلوی، اكابرین علمائے ديوبند ميں سے تھے۔ محمد یحیی کاندھلوی کے بیٹے، محمد الیاس کاندھلوی کے بھتیجے اور محمد یوسف کاندھلوی کے چچا زاد بھائی ہیں۔ ان کی مشہور تصنیف فضائل اعمال ہے۔ یہ کتاب تبلیغی جماعت کا تبلیغی نصاب (فضائل اعمال) ہے۔ اس کتاب میں اعمال اسلامی کے فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ جنہیں تبلیغی جماعتیں گھر، محلہ، مسجد اور تبلیغی سفر میں بطور خاص اس کی تعلیم کرتے ہیں۔

2000ء مجروح سلطانپوری کا اصل نام اسرارالحسن خان تھا۔ وہ یکم اکتوبر 1919 کو اترپردیش کے ضلع سلطانپور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد ایک سب انسپکٹر تھے۔ مجروح نے صرف ساتویں جماعت تک اسکول میں پڑھاتھا۔ اس کے بعد انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی تھی جس کے ساتھ ہی انہوں نے سات سال کا کورس پورا کیا تھا۔ درس نظامی کا کورس مکمل کرنے کے بعد عالم قرار پائے تھے۔ اس کے بعد لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج سے یونانی طریقہ علاج میں تعلیم حاصل کی اورحکیم بن گئے۔ ایک موقع پر سلطان پور میں مشاعرہ منعقد ہوا۔ اس موقع پر مجروح نے غزل پڑھی جسے سامعین نے بے حد سراہا۔ یہیں سے حکمت پس منظر میں چلی گئی اور شاعری میدان عمل میں رہنما بن گئی تھی۔ جگر مرادآبادی بھی مجروح کے مصاحبوں میں سے ایک تھے۔

تعطیلات و تہوار

1902ء برطانیہ میں پہلی بار برطانوی راج کا جشن منایا گیا

Leave a Reply