شیر شاہ سوری(1486 تا 22 مئی 1545)

Spread the love

گذشتہ روز شیر شاہ سوری کی برسی تھی اور مصروفیت کی وجہ سے مضمون شائع نہیں کیا جا سکا اس لیے مفصل مضمون دو حصوں میں شائع کیا جا رہا ہے۔ اس مضمون کے لیے دوستوں اور قارئین کا بہت اصرار بھی رہا ہے۔ مضمون ’’تاریخ فرشتہ‘‘ سے اخذ کر کے کچھ اختصار کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس کا دوسرا حصہ 24 مئی 2019 کو شائع کیا جائے گا۔

صاحب مضمون

ترجمہ و تحقیق: محمد مدثر بھٹی

مدثر بھٹی 30 برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں اور گذشتہ برس تاریخ فرشتہ کا ترجمہ بھی انہی کی محنت کا نتیجہ ہے 100 برس سے زائد عرصہ کے بعد تاریخ فرشتہ 12 مقالات کے ساتھ شائع ہوئی ہے اور اس پر ان کے تحقیقی کام کو بھی سراہا گیا۔ اکبر شاہ نجیب آبادی کی تین جلدوں کی کتاب تاریخ اسلام کا حوالہ لکھ چکے ہیں جو چند ماہ میں شائع ہو جائے گا۔ عرصہ دراز تک روزنامہ پاکستان میں کالم لکھتے رہے ہیں اور صرف اردو ڈاٹ کام کے موجودہ ایڈیٹر بھی ہیں۔

شیرشاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا۔ 1486ء میں پیدا ہوئے جونپور میں تعلیم پائی۔21 سال والد کی جاگیر کا انتظام چلایا پھر والی بہار کی ملازمت کی۔ جنوبی بہار کے گورنر بنے۔ کچھ عرصہ شہنشاہ بابر کی ملازمت کی بنگال بہاراور قنوج پر قبضہ کیا مغل شہنشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان پر اپنی حکومت قائم کی۔ اپنی مملکت میں بہت سی اصلاحات نافذ کیں۔ اپنے تعمیری کاموں کی وجہ سے ہندوستان کے نپولین کہلائے سنار گاؤں سے دریائے سندھ تک پندرہ سو کوس لمبی جرنیلی سڑک تعمیر کروائی جو آج تک جی ٹی روڈ کے نام سے موجود ہے۔ مغل شہنشاہ اکبر مملکت کا انتظام چلانے میں شیرشاہ سے بڑا متاثر تھا۔ مورخین شیر شاہ سوری کو برصغیر کی اسلامی تاریخ کا عظیم رہنما, فاتح اور مصلح مانتے ہیں۔ اردو ادب میں شیر شاہ سوری سے متعلق کئی مثالی قصے ملتے ہیں۔ شیر شاہ سوری ایک انتہائی ذہین انسان تھا اس نے فوج کی عدم موجودگی میں جس طرح اپنی جاگیر کا خراج جمع کیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے اسی طرح قلعہ روہتاس کی فتح کا قصہ بھی ایک مثال ہے، روہتاس کی فتح سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیر شاہ سوری تاریخ کا گہرا مطالعہ رکھتا تھا ۔
شیر شاہ سوری (1476ء تا 1545ء ) ایسا فرماں روا تھا جس کی ستائش نامور مؤرخین اور عالمی مبصرین کرتے رہے ہیں۔ وہ ہندوستان کا پہلا حکمران تھا جس نے عوامی فلاح کی جانب بھرپور توجہ دی اور ایسے ایسے کارنامے انجام دئیے جو تاریخ کی کتب میں سنہرے حروف میں تو لکھے ہی گئے، ان کے نقوش آج تک موجود ہیں۔ ساڑھے پانچ سو سال قبل اس نے زرعی اصلاحات کا کام شروع کروا دیا تھا، جس کی پیروی بعد کے حکمرانوں نے کی۔ شیر شاہ نے سہسرام سے پشاور تک گرینڈ ٹرنک روڈ یعنی جرنیلی سڑک کی تعمیر کروائی تھی اور اس کے کنارے کنارے سایہ دار اور پھل دار اشجار لگوائے، سرائیں تعمیر کروائیں اور سب سے پہلا ڈاک کا نظام نافذ کیا تھا۔ دلیر، پرجوش، جواں مرد اور اول العزم شیر شاہ نے مغل سلطنت کے بانی بابر کے صاحبزادے ہمایوں کو دو دو بار شکست دی۔ پہلی بار چوسہ کے میدان میں اور دوسری بار قنّوج کے میدان میں۔ اْس کے بعد ہمایوں کو برسوں دربدری کی زندگی گزارنا پڑی اس دربدری کے دور میں ہی اکبر کی پیدائش ہوئی تھی جو بعد میں تاریخ کا اکبر اعظم بنا۔
اپنی جدوجہد سے شیر شاہ نے عظیم سلطنت قائم کی تھی۔ لیکن اس نے اپنی آخری آرام گاہ کے طور پر سہسرام کو ہی پسند کیا تھا اس لیے اپنی زندگی میں ہی کیمور کی پہاڑی پر مقبرہ تعمیر کروایا تھا جس کے چاروں جانب جھیل پھیلی ہوئی ہے۔

شیر شاہ کا نام فرید خان اور اس کے باپ کا نام حسن تھا حسن خان افغان ردہ کی نسل سے تھا۔ سلطان بہلول لودھی کے دورِ حکومت میں شیر شاہ سوری کا داداابراہیم خان ملازمت کی تلاش میں دہلی آیا تھا۔ ردہ وہ کوہستانی ممالک ہیں جن کا سلسلہ طول میں سواد دِیجور سے لے کر مضافات بکر تک اور عرض میں حسن ابدال سے لے کر کابل تک پھیلا ہوا ہے۔ ردہ میں افغانوں کے مختلف قبیلے آباد ہیں جن میں سے ایک قبیلے کا نام’’ سور‘‘ ہے۔ قبیلہ سور کے لوگ خود کو سلاطین غور کی نسل سے بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک غوری شہزادہ جس کا نام ’’محمد سوری‘‘ تھا کسی وجہ سے اپنا ملک چھوڑ کر افغانان ردہ کے درمیان آکر آباد ہوا۔ ایک افغانی رئیس نے محمد سوری کے عالی نسب ہونے کا یقین کر کے اپنی بیٹی کا نکاح محمد سوری کے ساتھ کر دیا حالانکہ ان کے قبیلے میں خاندان سے باہر شادی کا رواج نہ تھا۔ اس افغانی زوجہ سے محمد سوری کی اولاد پیدا ہوئی جو سوری افغان کے نام سے مشہور ہے اور یہی وجہ ہے کہ جس کی بنیاد پر سوری قبیلے کو تمام افغانی قبائل سے برتر خیال کیا جاتا ہے۔

مختصر یہ کہ بہلول لودھی کے دورِ حکومت میں ابراہیم خان اپنے قبیلے سے الگ ہو کر نوکری کے لیے دہلی آیا اور ایک لودھی امیر کا ملازم ہو گیا۔ ابراہیم نے کچھ دن قلعہ فیروز پو رمیں اور تھوڑے دن موضع نارنول میں گزارے۔ بہلول لودھی کے بعد اس کا بیٹا سلطان سکندر تخت نشین ہوا اور جمال خان جو سکندر لودھی کا نامور امیر تھا حاکم جونپور مقرر ہوا۔ جمال نے حسن بن ابراہیم سو رکی جو اس کا پرانا ملازم تھا عزت افزائی کی اور مضافات روہتاس میں سہسرامپور اور خواص پور ٹانڈہ، حسن کو بطور جاگیر عطا کر کے پانچ سو سواروں کا امیر مقرر کیا۔ حسن کے گھر میں کل آٹھ بیٹے پیدا ہوئے، فرید(شیر شاہ سوری) اور نظام، افغانی بیوی کے بطن سے تھے اور باقی بیٹے اس کی لونڈی سے تھے۔ شیر شاہ سوری کا باپ اس کی ماں کی نسبت اپنی لونڈی سے زیادہ محبت کرتا تھا اسی لئے فرید بھی دوسرے بیٹوں کی طرح باپ کا لاڈلانہ تھا۔

باپ کے رویے سے ناراض ہو کرایک دن شیر شاہ سوری جونپور کے حاکم جمال خان کے پاس چلا گیا۔ اس کے باپ نے جمال خان کو لکھا کہ فرید کو سمجھا بجھا کر واپس بھیج دے تاکہ اس کی تعلیم و تربیت پوری ہو سکے۔ جمال خان نے باپ کے پاس واپس جانے کے لئے فرید پر بہت دباو ڈالالیکن فرید نے انکار کر تے ہوئے کہا کہ سہسرام پور سے جونپور میں کہیں زیادہ علما موجود ہیں اس لئے میںیہیں رہ کر علم حاصل کروں گا۔ فرید ایک مدت تک جونپور میں رہا اور اس زمانے میں ذریعہ تعلیم فارسی تھا اس لئے فرید نے بھی فارسی کتب میں گلستان، بوستان، سکندر نامہ، کافیہ اور اس کے حواشی اور دیگر علمی کتب پڑھیں اور نظم و نثر اور علمِ تاریخ میں مہارت حاصل کر لی۔ دو یا تین برس کے بعد حسن جو نپور آیا اور سوری قبیلے کے دوسرے اراکین نے درمیان میں پڑکر باپ بیٹے کی صلح کرا دی جب اس کا باپ جاگیر کا انتظام و انصرام فرید کے حوالے کر کے اسے رخصت کرنے لگا تو فرید نے چلتے وقت باپ سے کہا ’’دنیا کے ہر کام خصوصاً سرداری اور امیری کا دار و مدار انصاف پر ہوتا ہے، آپ مجھے جاگیر پر بھیج رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ میں عدل و انصاف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، آپ کے متعدد نوکر آپ کے قریبی عزیز ہیںمگر جو شخص بھی انصاف کی راہ میں حائل ہو گا میں اس کو سزا دوں گا‘‘ غرض کہ فرید باپ سے اسی قسم کی باتیں کر کے رخصت ہو کر جاگیر پر پہنچا۔
فرید نے جاگیر پہنچ کر تجربہ کاری اور کفایت شعاری سے کام لے کر عزیزوں کے درمیان عدل اور مساوات کا برتائو رکھا اور کچھ سرکش اور مفسد سرداروں کی سرکوبی کے لئے اپنے ملازمین سے مشورہ کیا۔ تمام ماتحتوں نے متفقہ طور پر کہا کہ تمام لشکر آپ کے والد کے ساتھ ہے اور وہ لوگ بہت دور معرکہ پر ہیں اس لئے ان کی واپسی تک کسی قسم کی محاذ آرائی سے باز رہنے میں ہی عافیت اور دانشمندی ہے۔ اس نے سب کی باتیں تو سنی مگر اپنی رائے پر عمل کرتے ہوئے فرید نے دوسو زین تیار کر کے ہر علاقہ کے صاحب حیثیت سے ایک گھوڑا ادھار مانگنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اردگرد موجود بیکار جوانوں کو بلا کر ان کو کچھ کپڑے اور خرچ دیا اور آئندہ کے لیے انعام کا وعدہ کر کے ان نئے بھرتی کئے ہوئے سپاہیوں کو مستعار گھوڑوں پر سوار کیا اور سرکش زمینداروں کے سر پر پہنچ گیا اور ان مفسدوں کے علاقے کے قریب قیام پذیر ہوا۔ فرید نے اپنے گرد قلعہ بنا کر ہر روز جنگل کو کٹوانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ سرکش زمینداروں کے قلعہ تک جا پہنچا۔ جنگل سے حاصل ہونے والی لکڑی سے سرکوب تیار کیا اور اس ترکیب سے دشمنوں پر فتح حاصل کی۔ ان زمینداروں میں سے متعدد کو نظر بند کر دیا اور بہت سے مارے گئے۔ اس واقعے سے لوگوں کے دلوں میں فرید کی ہیبت بیٹھ گئی اور سر زمین کے تمام سرکش فرید کے مطیع اور فرمانبردار ہو کر مال گزاری وقت پر ادا کرنے لگے اور جاگیر کے سارے علاقے خوشحال اور آباد ہوگئے۔ غرض کہ اس طریقہ سے فرید کو پوری قوت حاصل ہوئی اور اس کی شجاعت اور سیاسی بصیرت کا ہر طرف چرچا ہونے لگا۔

ایک مدت کے بعداس کا باپ حسن جاگیر پر واپس آیا اور فرید کے انتظام اور سربراہی کے طریقے کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور بیٹے کی خوب تعریف کی۔ حسن کے گھر میں ایک کنیز تھی جس سے دو بیٹے سلیمان اور احمد پیدا ہوئے تھے۔ حسن اس لونڈی پر جان و دل سے عاشق تھا۔ سلیمان اور احمد کی ماں نے حسن سے کہا کہ تم نے وعدہ کیا تھا کہ میرے بیٹوں کے جوان ہونے پر علاقوں کا انتظام و انصرام ان کے حوالے کرو گے۔ اب چونکہ سلیمان اور احمد دونوں بالغ ہو چکے ہیں لہٰذا اب تم اپنا وعدہ پورا کرو۔ دوسری طرف حسن ہمیشہ سے یہ سمجھتا تھا کہ فرید ہر طرح سے اس کا جانشین بننے کا اہل ہے اس لئے وہ بہانے سے اپنی محبوبہ کو ٹال دیا کرتا تھا۔ فرید کو یہ بات سمجھ آگئی تو اس نے جاگیر کے انتظام و انصرام سے علیحدگی اختیار کر لی۔ حسن نے اپنی جاگیر سلیمان اور احمد کے حوالے کرتے ہوئے فرید سے کہا کہ اس تبدیلی سے میرا مقصد یہ ہے کہ جس طرح تم یہ کام کر کے تجربہ کار ہو گئے ہو اسی طرح تمہارے بھائی بھی یہ کام کرنے کے قابل ہو جائیں ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ میرے بعد میرا جانشین تمہارے علاوہ اور کوئی نہیں بن سکتا۔ اس طرح جاگیر کے انتظامات سلیمان اور احمد کو مل گئے۔

فرید رنجیدہ ہو کر اپنے حقیقی بھائی نظام کو ساتھ لے کر آگرہ پہنچ گیا۔ یہاں پہنچ اس نے سلطان ابراہیم لودھی کے نامور امیر، دولت خان لودھی کی ملازمت کر لی۔ فرید ایک مدت تک لودھی امیر کے پاس رہا اور اپنی خدمت گزاری سے اس کا دل جیت لیا۔ ایک دن دولت خان نے فرید سے اس کا اصل مقصد پوچھا، فرید نے کہا کہ میرا باپ ایک ہندی کنیز کی محبت میں گرفتار ہے اور وہ عورت میرے باپ پر غالب آچکی ہے کہ جس کی وجہ سے جاگیر بالکل خراب اور سپاہی پریشان حال ہو رہے ہیں، اگر باپ کی جاگیر ہم دونوں بھائیوں کو مل جائے تو ہم میں سے ایک بھائی پانچ سو سواروں کے ساتھ ہمیشہ بادشاہ کی خدمت میں رہے گا اور دوسرا جاگیر کی دیکھ بھال کر کے سپاہیوں کے اخراجات اور رعیت کی نگہداشت کا انتظام اور باپ کی خدمت کرے گا۔ دولت خان نے ایک روز فرید کی خواہش سلطان ابراہیم لودھی کے سامنے بیان کی۔ بادشاہ نے جواب دیا کہ ’’کیسا بدطینت شخص ہے جو اپنے باپ کی شکایت کرتا ہے‘‘

دولت خان نے بادشاہ کے جواب سے فرید کو آگاہ کیا اور تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں کسی مناسب وقت پر بادشاہ سے دوبارہ بات کرونگا‘‘ دولت خان نے فرید کی دل جوئی کے لئے اس کو ادا کئے جانے والے روزینے میں اضافہ کیا اور اس ہوشیار افغانی نے اپنی عمدہ سیرت، خوش اخلاقی اور مروت کی وجہ سے سب کے دل میں جگہ کر لی۔ دولت خان بھی ہر بات میں فرید ہی کا ساتھ دیتا تھا۔ جب حسن کا انتقال ہوا تو دولت خان نے بادشاہ کو حسن کی وفات کی خبر دی اور حسن کی جاگیر کا انتظام و انصرام فرید اور نظام کے نام منتقل کرا دیا۔

فرید سہسرامپور، خواص پور اور ٹانڈہ کی حکومت کا فرمان لے کر جاگیر کی طرف روانہ ہوا اور سپاہیوں اور رعایا کی نگہداشت میں مشغول ہوگیا۔ سلیمان اپنے بھائی فرید سے مقابلہ نہ کرسکا اور اس نے جونپور کے حاکم محمد خان سور کے دامن میں پناہ لی۔ محمد خان سور پندرہ سو سواروں کا مالک تھا۔ سلیمان نے محمد خان سے فرید کی شکایت کی۔ محمد خان نے جواب دیا کہ ظہیر الدین بابر بادشاہ ہندوستان آچکا ہے اور بہت جلد مغلوں اور افغانوں میں جنگ ہونے والی ہے۔ اگر ابراہیم لودھی کامیاب رہا تو میں تجھے بادشاہ کی خدمت میں لے جاوں گا اور تیری سفارش بھی کروں گا۔ سلیمان نے جواب دیا کہ میں اتنا انتظارنہیں کر سکتا میری ماں حیران ہے اور میرے ملازم حیران و پریشان در بدر پھر رہے ہیں۔

محمد خان نے ایک قاصد فرید کی خدمت میں بھیج کر بھائیوں کے درمیان صلح کی کوشش شروع کی۔ فرید نے جواب دیا کہ مشہور ہے ’’ایک نیام میں دو تلواریں اور ایک شہر میں دو حاکم نہیں رہ سکتے‘‘ محمد خان سور نے سلیمان کو تسلی دیتے ہوئے کہا ’’تم مطمئن رہو میں تلوار کے زور پر فرید سے حکومت چھین کر تمہیں دوں گا‘‘۔ اس ساری صورت حال کی فرید کوبھی اطلاع ہوگئی اور اپنے معاملے میں غور و فکر کرنے لگا۔ فرید بابر اور ابراہیم لودھی کے درمیان باہمی معرکہ آرائی کے نتیجہ کا منتظر ہی تھا کہ ادھر سارے ہندوستان میں ابراہیم لودھی کے قتل اور بابر کی فتح کی خبر پھیل گئی۔ یہ خبر سن کر فرید فکر مند ہوا اور بہادر خان ولد دریا خان لوحانی کے پاس چلا گیا۔ ان دنوں بِہار پر بہادر خان قابض تھا، اس نے خود کو بہار کا بادشاہ مشہور کر کے سلطان محمد کا خطاب اختیار کر لیا۔
فرید نے بہادر خان کی ملازمت کر لی۔ ایک دن سلطان محمد شکار کے لیے شہر سے باہر گیا کہ اچانک سامنے سے ایک شیر آیا، فرید نے شیر کا سامنا کرتے ہوئے اسے ہلاک کر دیا۔ سلطان محمد نے فریدپر بے حد مہربانی کی اور اسے ’’شیرخان‘‘ کے خطاب سے سرفراز کیا۔ مختصر یہ کہ شیرخان نے رفتہ رفتہ سلطان محمد کے مزاج کو سمجھ کر اس کے ہاں ایک خاص حیثیت حاصل کر لی۔ سلطان محمد نے شیرخان کو اپنے چھوٹے بیٹے جلال خان کا اتالیق مقرر کیا۔ ایک مدت کے بعد شیر خان رخصت لے کر اپنی جاگیر پر واپس آیا اور اتفاق سے اسے اپنی مقررہ چھٹی سے کچھ زیادہ دن یہاں قیام کرنا پڑ گیا۔

ایک دن سلطان محمد اپنی محفل میں شیرخان کا گلہ کرنے لگا کہ یہ شخص وعدے کا سچا نہیں ہے اور اب تک واپس نہیں آیا۔ محمد خان حاکم جونپور، نے موقع پا کر بادشاہ سے کہا کہ ’’شیرخان بڑا دھوکے باز اور مکار شخص ہے، سلطان محمود بن سکندر لودھی کی آمد کا منتظر ہے‘، غرض کہ محمد خان نے اسی طرح کی باتیں بنا کر سلطان محمد کو شیر خان کی طرف سے بدظن کر دیا اور جب دیکھا کہ بادشاہ پوری طرح بدظن ہو چکا ہے تو بادشاہ سے عرض کیا کہ ’’شیرخان کے باپ حسن کی زندگی میں اس کا بھائی سلیمان اس کا قائم مقام بن چکا تھا اور وہ آج کل میرے پاس پناہ لئے ہوئے ہے تو کیوں نہ شیر خان کی جاگیر سلیمان کے حوالے کر دی جائے؟ مجھے پورا یقین ہے کہ اس کارروائی سے شیر خان بھاگتا ہوا بارگاہ میں حاضر ہوجائے گا۔ سلطان محمد نے شیرخان کی سابقہ خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور بغیر جرم ثابت ہوئے اس قسم کی تبدیلی کو غیر مناسب خیال کیا اور محمد خان سور سے کہا کہ جاگیر کو مناسب طریقے سے تمام بھائیوں میں تقسیم کر کے اس فتنے کو ختم کرو۔

محمد خان سورواپس اپنی پر آیا اور جونپور پہنچ کر اس نے ساوی نامی ایک غلام کو شیرخان کے پاس بھیجا اور اسے پیغام دیا کہ تمہارے دونوں بھائی سلیمان اور احمد ایک مدت سے میرے پاس مقیم ہیں اورابھی تک انہیں وراثت میںسے حصہ نہیں ملا بہتر یہ ہے کہ ان کا حصہ انہیں دے دو۔ شیرخان نے جوا ب دیا کہ یہ سرزمین کسی کی ذاتی ملکیت نہیں، یہ مملکت ہندوستان ہے جس کو بادشاہ سرفراز کرتا ہے جاگیر اسی کے قبضے میں رہتی ہے۔ آج تک سلاطین ہندوستان کی روایت یہی رہی ہے کہ میت کا تمام مال اس کے وارثوں میں تقسیم کرتے ہیں اورپسماندگان میں سے جو کوئی سرداری کے قابل ہوتا ہے اسی کو امیر اور حاکم بنا دیتے ہیں، میں بھی سلطان ابراہیم لودھی کے حکم سے سہسرام، خواص پوراور ٹانڈہ کا حاکم مقرر کیا گیا ہوں۔ ساوی نے شیر خان کا جواب محمد خان تک پہنچا دیا۔ شیر خان کا جواب سنتے ہی محمد خان آپے سے باہر ہوگیا اور ساوی سے کہا کہ میری تمام فوج کو ساتھ لے جاو اور شیر خان سے تلوار کے زور پر جاگیر چھین کر سلیمان اور احمد کے حوالے کرو اور ان کی حفاظت کے لئے بڑی فوج سہسرام میں تعینات کرکے لوٹ آنا۔

اس دور میں شیر خان کی طرف سے ملک خواص خان کا باپ ملک سکہ نامی غلام خواص پور ٹانڈے کا داروغہ تھا۔ شیرخان نے دشمنوں کے آنے کی خبر سن کر ملک سکہ کو لکھا کہ پوری قوت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرے۔ ساوی غلام اور سلیمان و احمد خواص پور کے نواح میں پہنچے اور ملک سکہ ان کا مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا۔ شیرخان دشمن کے مقابلے میں کمزور ہوا تو اس نے کسی دوسرے علاقے میں جانے کا سوچا تو اس کے ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ دوبارہ سلطان محمد کی خدمت میں حاضر ہونا بہتر ہے، شیرخان نے جواب دیا کہ محمد خان سلطان محمد کا نامور امیر ہے مجھے یقین ہے کہ بادشاہ میری خاطر محمد خان کو ناراض نہیں کرے گا۔ شیرخان نے اپنی صائب رائے سے کام لیا اور یہ طے کیا کہ اسے فی الحال جنید برلاس کے پاس پناہ لینی چاہیے۔ جنید برلاس اس زمانے میں ظہیر الدین بابر کی طر ف سے کڑہ مانک پور کا حاکم تھا۔ شیرخان کے بھائی نظام نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا۔ مختصر یہ کہ شیرخان نامہ و پیغام بھیجنے اور قول و قرار لینے کے بعد جنید برلاس کی خدمت میں حاضر ہوا اور رقم نذرانہ پیش کر کے برلاس کے مقربوں میں شامل ہوگیا۔ شیر خان نے جنید برلاس سے فوجی امداد حاصل کی اور اس کی مدد سے واپس اپنی جاگیر پر آ گیا۔

اب صورتحال بدل گئی اور محمد خان سور، شیرخان سے مقابلہ نہ کرسکا اور روہتاس کے پہاڑی سلسلہ میں جا پہنچا۔ شیر خان نے اپنے دونوں علاقوں کے علاوہ جونپور اور اس کے مضافات پر بھی قبضہ کر لیا۔ شیرخان نے اپنے معاونین کی خوب اچھی طرح خاطر داری کی انہیں انعام و اکرام سے نواز کر سپاہیوں کو رخصت کیا اور ان کے ساتھ سلطان جنید برلاس کے لیے بھی بیش قیمت تحفے اور ہدیئے روانہ کئے۔ شیر خان نے اپنی قوم اور قبیلے کے ان لوگوں کو جو پہاڑوں میں جا چھپے تھے اپنے پاس بلایا اور اس طرح ایک اچھی خاصی قوت جمع کر لی۔ شیرخان نے محمد خان سور کو لکھا کہ میرا مقصد بھائیوں سے انتقام لینا تھا آپ کو اپنے چچا کی جگہ سمجھتا ہوں میری عرض ہے کہ آپ واپس آکر اپنی جاگیر کا انتظام سنبھالیں۔ مجھے میرے ذاتی علاقوں کے ساتھ سلطان ابراہیم سے ملنے والا علاقے بہت کافی ہیں۔ محمد خان سور اپنی جاگیر کو واپس آیا اور شیرخان کا ممنونِ احسان ہوا۔ شیرخان کو اس طرف سے پورا اطمینان ہوگیا اور اپنے بھائی نظام خان کو جاگیر کے انتظام کے لیے چھوڑ کر خود سلطان جنیدبرلاس کی خدمت میں کڑہ پہنچ گیا۔ اتفاق سے اس زمانے میں جنید برلاس بابر بادشاہ سے ملنے جا رہا تھا۔ جنید برلاس شیرخان کو بھی اپنے ساتھ آگرہ لے گیا۔

شیرخان نے بابر کے دربار میں پہنچ کر اس کو اپنی حمایت کا یقین دلا کر سلطنت کے بہی خواہوں میں شامل ہو گیا۔ چندیری کے سفر میں شیرخان بھی بابر کے ساتھ تھا۔ شیرخان نے چند دن بابر کے لشکر میں گزارے اور مغلوں کے اطوارو عادات کے متعلق خوب واقفیت حاصل کر لی۔ ایک دن شیرخان نے اپنے دوستوں سے کہا کہ مغلوں کو ہندوستان سے نکالنا بہت آسان ہے، مصاحبوں نے پوچھا کہ اس دعویٰ کی دلیل کیا ہے؟ تو شیرخان نے جواب دیا
’’اس قوم کا فرمانروا خود امور سلطنت پر بہت کم توجہ کرتا ہے اور ساری مہمات کا دارو مدار وزرا پر ہے۔ وزرا رشوت خور ہیں رشوت لے کر شاہی احکامات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ جب کہ ہم افغانوں میں یہ عیب ہے کہ ایک دوسرے سے نفاق رکھتے ہیں، اگر میری قسمت ساتھ دے تو میں افغانوں کے دلوں سے نفاق دور کر کے اپنا کام ممکنہ حد تک پورا کروں‘‘
شیر خان کے دوستوں کو یہ سب ناممکن لگا اور وہ اس پر خوب ہنسے اور اس کا خوب مذاق اڑیا۔

ایک دن بابر کے دستر خوان پر شیر خان کے سامنے ران کا ایک بڑا ٹکڑا طباق میں رکھا ہوا تھا، شیرخان نے دیکھا کہ وہ اس کو روایتی طریقہ سے نہیں کھا سکتا۔ لہٰذا اس نے یہ ٹکڑا روٹی پر رکھا اور چھری سے اس کو ریزہ ریزہ کر کے پھر پیالے میں رکھ کر کھایا۔ بابر یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ شیر خا ن نے جوکچھ کہ محمد خان سو ر کے سا تھ کیا تھا اس کی اطلا ع بھی بابر کو پہلے سے مل چکی تھی، بابر نے میر خلیفہ سے کہا کہ اس پٹھان نے آ ج عجیب کام کیا اس جملے سے بابر کی مراد شیر خان کی فہم و فراست کا اعتراف تھا۔
شیر خا ن نے بھی با د شاہ اور میر خلیفہ کی گفتگو سنی اور ا تنا سمجھ گیا کہ با د شا ہ اس کو نگاہِ عبرت سے دیکھ رہا ہے، شیر خا ں پہلے ہی سے توہمات میں گر فتار تھا بابر کی اس گفتگو اور ا شارے سے اور زیا دہ پر یشا ن ہو گیا اور اسی رات شا ہی لشکر سے خاموشی سے رخصت ہو کر اپنی جا گیر پر جا پہنچا، یہاں پہنچ کر شیر خا ں نے سلطان جنید برلاس کو لکھا کہ محمد خا ں سور نے میری طرف سے سلطا ن محمد کے خو ب کان بھرے ہیں اور میری جاگیر پر فوج کشی کرنا چاہتا ہے اور میں پریشان ہو کر بلا اجازت یہاں چلا آیا، لیکن میں یہاں بھی آپ کو خیر خواہ ہوں۔ مختصر یہ کہ شیرخان مغلوں سے بالکل مایوسی ہوگیا اور اپنے بھائی نظام کو ساتھ لے کر دوبارہ سلطان محمود کی خدمت میں حاضر ہوا۔

سلطان محمود نے شیرخان پر نوازش کی اور اسے پھر شہزادہ جلال خان کا اتالیق مقرر کیا، شیرخان کو دوبارہ وہی مقام مل گیا جو وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ قضائے الٰہی سے سلطان محمود کا انتقال ہو گیا اور اس کا نوعمر بیٹا جلال خان باپ کا جانشین قرار پایا۔ جلال خان کی ماں لاڈو ملکہ نے سلطنت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی اور شیرخان کی مدد سے امور سلطنت انجام دینے لگی۔ اسی دوران جلال خان کی ماں بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئی اور بہار کی سلطنت پوری طرح شیرخان کے قبضے میں آگئی۔ حاکم بنگالہ کے ایک امیر مخدوم عالم نے جو حاجی پور کا حاکم تھا شیرخان کے ساتھ دوستی اور محبت بڑھائی۔ شیر خان سے دوستی بڑھانے پر سلطان محمود والی بنگالہ مخدوم عالم سے ناراض ہوا۔ سلطان محمود نے قطب خان حاکم مونگیر کو مخدوم عالم اور شیرخان کی تباہی کے لیے نامزد کیا۔ شیرخان نے صلح کے لئے بہت ہاتھ پائوں مارے التجائیں کیں لیکن اس کو کچھ کامیابی نہ ہوئی۔ شیرخان نے افغانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور مرنے تک لڑنے پر تیار ہو گیا۔ شدید جنگ کے بعد قطب خان مارا گیا اور شیر خان کو فتح نصیب ہوئی۔ شیرخان نے دشمن کے خزانے، ہاتھیوں اور ددسرے ساز و سامان پر قبضہ کیا اور اب پہلے سے بھی کہیں زیادہ صاحب قوت اور بااقتدار ہوگیا۔

شیرخان کے اقتدار سے لوحانی پٹھان اس پر حسد کرنے لگے اور اندورنی طور پر شیرخان سے منحرف ہو کر اس کی جان کے دشمن ہو گئے۔ دوسری طرفشیر خان نے اپنے امیروں کو دوگروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو مال گزاری کے حصول کے لیے روانہ کرو اور دوسری جماعت کو حاکم بنگالہ کے مقابلے کو بھیجا۔ اس کارروائی کے بعد شیرخان نے اپنی حفاظت کا اس طرح انتظام کیا کہ جلال خان اور اس کے لوحانی سردار اس کا بال بھی بیکانہ کر سکے۔ ان لوحانی پٹھانوں نے اب محمود شاہ بنگالی کے پس جا کر اسے بہار پر قبضہ کرنے پر اکسایا۔ سلطان محمود نے ابراہیم خان کو فوجی مدد دے کر شیرخان کے مقابلے میں بھیجا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply