راشد الخیری-طبقۂ نسواں کے غم خوار

Spread the love
دیپک بدکی

تحریر: دیپک بُدکی

علامہ راشد الخیری اردو ناول کے ان پہل کاروں میں سے ہیں جنھوں نے اردو ادب میں ناول کی طرح ڈالی۔ اردو ناول نگاری کے علاوہ انھوں نے افسانے بھی لکھے اور مزاحیہ مضامین بھی، شاعری بھی کی اور انشا پردازی بھی، تاریخی تحریریں بھی لکھیںاور صحافتی فرائض بھی نبھائے۔ پہلی تصنیف ’حیات صالحہ ‘ ۱۸۹۵ء میں شائع ہوئی ۔ ان کی اسّی( ۸۰) سے زائد تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں جن میں سے کچھ اہم تصانیف اور ان کے موضوعات یوں ہیں: آمنہ کا لال ، الزھرا، سیدہ کا لال ( سماجی ناول) ؛سوکن کا جلاپا ( کثیر الازدواج )؛سنجوگ ( نکاح برائے حصول دولت ) ؛صبح زندگی ، شام ِ زندگی ،شبِ زندگی، نوحۂ زندگی ( خواتین کے ازدواجی مسائل ) ؛ تاثیر عصمت ( خُلع کا حق )؛فسانہ ٔ سعید ( یتیم بچوں کی کسمپرسی)؛منازل السائرہ(بچوں کی بے راہ روی ) ؛طوفان حیات (فرسودہ رسوم ) ؛سرابِ مغرب ، بنتِ وقت ، ستونتی ،جوہر قدامت (مغربی اثرات کے سبب مادیت ، دہریت اور خود غرضی کا چلن)؛حیات صالحہ ؛بیلہ میں میلہ ؛غدر کی ماری شہزادیاں ؛ مچھیرن کا جھولا؛ نوبت پنج روزہ یعنی وداعِ ظفر؛ شہید مغرب، اندلس کی شہزادی، عروس مشرق، عروس کربلا ، روداد قفس ؛منظر طرابلس( تاریخی افسانے) وغیرہ ۔موضوعات سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا طبعی میلان معاشرے کی اصلاح کی جانب رہا اور اسی لیے ان کے ناول اور افسانے سماجی و تاریخی موضوعات پر مرتکز رہے ۔ ڈھلتی عمر میں انھوں نے طنز و مزاح کی طرف بھی توجہ فرمائی اور’ سات روحوں کے اعمال نامے‘ اور ’نانی عشو ‘ جیسی تصانیف رقم کیں مگر جو بات ان کے حزنیہ نثر میں ملتی ہے وہ طربیہ تحریروں میں مفقود ہے ۔راشد الخیری کو اردو کا پہلا افسانہ نگار بھی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ان کے افسانوں کا مجموعہ ’طوفان ِ اشک‘ بعد از مرگ ان کے صاحبزادے رازق الخیری نے مرتب کیا ہے۔ راشد الخیری کوطبقۂ نسواں سے متعلق صحافتی کاوشوں میں بھی کامیابی حاصل ہوئی ۔رسالہ ’عصمت ‘ ،جو انھوں نے ۱۹۰۸ء میں شرو ع کیا ،بہت کامیاب رہا ، پھراس کے بعد ۱۹۱۱ء میں ’تمدن‘ نام سے ایک اور رسالہ جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں:

شاہجہاںآباد کے معزز ادب پرست خاندان سے تعلق رکھنے والے راشد الخیری کو ادب ورثے میں ملا ،یہاں تک کہ اس خاندان کی خواتین نے بھی علم و ادب کے میدان میں کافی نام کمایا۔ راشد الخیری کا جنم جنوری ۱۸۶۸ء میں بمقام دہلی ہوا۔کمسنی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے سبب انھوں نے دادا اور چاچا کی نگرانی میں تعلیم و تربیت پائی۔ اردو اور فارسی کی تعلیم گھر میں اور انگریزی کی تعلیم دہلی کے عربک اسکول میں حاصل کی۔پھوپھا مولوی نذیر احمد اور مولانا حالی کی شاگردی نے اس ہیرے کو مزید تراش لیا ۔ چنانچہ انھوں نے مطالعے ، خصوصاً مغربی ادب کے مطالعے، کی جانب بہت دھیان دیا اس لیے ان کی نظر وسیع اور عالمگیر رہی۔ علاوہ ازیں ان کوموسیقی سے بھی کافی دلچسپی رہی۔ طالب علمی کے دوران ہی راشد الخیری نے ادبی میدان میں اپنا لوہا منوایا۔زندگی میں کئی ملازمتیں اختیار کیں مگر سیمابی فطرت کے سبب ہر مقام پر دل اچاٹ ہوگیا اور آخر کار ۱۹۱۰ء میں پوسٹل آڈِٹ آفس، دہلی سے استعفٰی دے دیا۔ ۳ ؍فروری ۱۹۳۶ء کو علامہ اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔

یونانی ڈرامہ کے زیر اثرزمانہ قدیم سے المیہ (Tragedy) کو ادب میں ایک ممتاز مقام حاصل رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اردو فکشن کے ابتدائی دور میں قلم کاروں کا رجحان حزنیہ افسانوں اور ناولوں کی جانب رہا ۔ راشد الخیری نے المیہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ زود نویس تو تھے ہی مگر جو کچھ بھی لکھتے غم انگیز ہوتااور اس کا محور ’عورت‘ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو ’ مصور غم ‘ کے لقب سے نوازا گیا ۔ حالانکہ آخری مرحلے میں انھوں نے ظریفانہ طرز نگارش اپنانے کی شعوری کوشش کی لیکن ان کے طنز و مزاح سے سطحیت صاف طور پر جھلکتی رہی۔ راشد الخیری کے افسانے اور ناول مسلم معاشرے کا بھر پوراحاطہ کرتے ہیں اور اس کے مختلف روشن اور کمزورپہلوؤں کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔دیکھا جائے تو وہ تانیثیت کے علمبردار تھے مگر ان کی تانیثیت جدیدبے لگام آزادروی کی خواہاں نہیں تھی۔ان کے اصلاحی اور مذہبی اسلوب کا یہ عالم تھا کہ نسیمہ احمد فرماتی ہیں کہ لکھنٔو میں ان دنوں راشد الخیری کو پڑھنے کے لیے ہر گھر میں زور دیا جاتا تھا جبکہ ’زخم عشق‘ جیسے رومانی ناولوں کو پڑھنے کی مناہی تھی۔ راشد الخیری اپنی نگارشات میں مسلم سماج کی برائیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کے تدارک کے لیے غیر شعوری طور پر پڑھنے والوں کے ذہن کو مسلسل کچوکتے ہیں۔ انھوں نے نسوانی ناخواندگی، کثیر الازدواج، نارضامندی کی شادی ،اِسرافِ جہیز و تجہیزاور دیگر رسوم، بیواؤں کی بدحالی، یتیم بچوں کی نظر اندازی ، سوتیلی ماؤں کا ظلم و ستم،لڑکیوں کو والدین کی وراثت سے محروم رکھنا، غریب رشتہ داروں سے توتا چشمی برتنا،چراغ سحری والدین اورساس سسر سے بے اعتنائی روا رکھنا اور مغربی زندگی کی نقالی جیسے موضوعات پر بار بار قلم اٹھایا۔ اپنے نظریات کا خلاصہ انھوں نے ’نالۂ زار ‘ میں براہ راست پیش کیا ہے ۔

چونکہ اس زمانے میں اردو فکشن کا ابتدائی دور شروع ہوا تھا اس لیے راشد الخیری اپنے ناولوں میں طے نہیں کر پارہے تھے کہ وہ تخیّلی رومانیت سے کام لیں یا پھر حقیقت پسندی سے حالانکہ ان کی نظر ہمیشہ معاشرے کے سُدھار اور اصلاح پر ٹکی ہوئی تھی۔ ایک طرف استنباط و استخراج پر مبنی سائنسی حقیقت پسندی تھی اور دوسری طرف نیم حقائق اور اساطیر پر مبنی تخیّلی کلاسیکیت ۔ ان کے ناول حسن نظامی کی طرح آدھے حقیقت پسند اور آدھے تخیلی ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی ناولوں میں ایک عجیب سا بکھراؤنظر آتا ہے۔ پلاٹ میں چستی ملتی ہے نہ بیان میں یکسوئی ، کرداروں میں تکمیلیت ملتی ہے نہ انجام میں فطری مناسبت ۔ قصہ پلاٹ در پلاٹ پھیلتا چلا جاتا ہے جس کی ڈور کا کوئی بھی سرا ہاتھ میں نہیں آتا۔دراصل راشد الخیری کے کردار سماجی بدعنوانیوں کو محوربنا کر ان کے ارد گرد گھومتے رہتے ہیں جب کہ خود ان کی شخصیت کوپنپنے کا موقع نہیں ملتا۔ اِدھربدعنوانی کا ازالہ ہوا ، اُدھر کردار نابود ہوگیا۔ اس طرح کردار محض ایک نظریے کا علمبردار بن کر رہ جاتا ہے اور اس کی اپنی شناخت قائم نہیں ہوپاتی۔یہی وجہ ہے کہ ان کا کوئی بھی کردار ایک مستقل اور دائمی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ ا س کے برعکس ان کی منظر نگاری دقیقہ شناسی کی عمدہ مثال پیش کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آنکھوں کے سامنے فلم کی ریل چل رہی ہو۔وہ سانسوں کے زیر و بم کی تصویر بھی ایسے کھینچتے ہیں کہ قاری متاثر ہوئے بغیرنہیں رہتا۔ ملاحظہ ہو لڑکی کی رخصتی کاایک منظر :

’’بیٹی کی رخصت کا سماں کچھ ایسا موثر ہوتا ہے ، کہ نہ صرف ماں باپ اور رشتہ دار بلکہ غیر اور جان پہچان بھی اس وقت بے تاب ہوجاتے ہیں !ہوتے ہیں اور بجا ہوتے ہیں ، وہی بنگالے کی مینا جو کل چاروں طرف میٹھی میٹھی باتیں کرتی پھرتی تھی آج سب کو چھوڑ چھاڑ تیرہ چودہ برس کا رشتہ توڑ -عزیز و اقارب سے منہ موڑ اپنا گھر الگ جا بساتی ہے ۔۔۔ ماں باپ ،بہن بھائی جو رات دن کے شفیق اور ہر وقت کے رفیق تھے ، مجبور و معذور کھڑے منہ دیکھتے ہیں۔ اور وہ کلیجہ کا ٹکڑا جو چند رو ز کی مہمان تھی وداع ہوجاتی ہے ! ماں ! جس نے مہینوں سینہ پر لٹایا، گود میں لٹایا، چھاتی پر سُلایا، اپنی تمام محنت گنوا خالی ہاتھ ہو بیٹھی!سواری کا وقت آیا ۔ پالکی دروازے پر لگی ! دل میں کہتی ہے کہ آج ہی کے دن کوخدمت کی تھی!بُرے دن کیے ، بری راتیں کیں ۔ پالا پوسا۔ مصیبتیں جھیلیں ، دُکھ سہے ! آنکھ کی پُتلی ، کلیجہ کی ٹھنڈک، دودوں نہائے، پوتوں پھلے !اللہ تیرا نگہبان اور خدا تیرا حافظ ، الٰہی دنیا کی خوبیاں ، جہان کے عیش! (نالۂ زار،مجموعہ راشد الخیری، فرید بک ڈپو ، نئی دہلی، ص۶۲۴)

اس کے علاوہ مکالمے بر محل ، چست اور اثر انگیز ہیں ۔زبان، سلیس، شستہ اور محاوراتی ہے ۔ ان کی تحریروں کو پڑھ کر قاری کا ذہن دِلّی کی گلیوں ، مکانوں کے چوباروں،حویلیوں اور بارہ دریوںمیں منتقل ہوجاتا ہے۔ان کے ناولوں ’صبح زندگی ‘، ’شام زندگی‘ ، ’شب زندگی‘ وغیرہ میںمولوی نذیر احمدکے انداز ِ تحریر کی تقلید ملتی ہے ۔اسی باعث رام بابو سکسینہ ’تاریخ ادب اردو ‘ میں فرماتے ہیں کہ ’’ ناول نویسی میں(راشد الخیری)مولانا نذیر احمد کے صحیح جانشین کہے جا سکتے ہیں ۔ ‘‘دونوں کے یہاں دِلّی کے متوسط مسلم گھرانوں کی زندگی کو درشایا گیا ہے تاہم یکسانی نہیں ملتی ۔ راشد الخیری کی تکنیک نذیر احمد سے بالکل مختلف ہے ۔ وہ ہمیشہ معلمانہ اور ناصحانہ طرز سے کام لیتے ہیں اور اخلاق آموزی کو ترجیح دیتے ہیں۔ دراصل نذیر احمد ان کے پیش رو تھے اور اس زمانے میں عوام معاشرے کی بدعتوں سے لاعلم تھی اس لیے انھیں نئی سوچ سے ہمکنار کرنا ہی ان کا نصب العین تھا جبکہ راشد الخیری کے زمانے تک آتے آتے ان کی ذہنی زمین نئی پودکے لیے تیار ہو چکی تھی اور نئے فکر و سوچ اور روشن ضمیری کا بیج بونے کے عین لائق تھی ۔ راشد الخیری نے اسی چیز کا فائدہ اٹھا لیا مگر ایسا کرتے ہوئے جذبات اور جنون میں یوں بہہ گئے کہ انھیں یہ خیال ہی نہ رہا کہ فکشن نگاری کے کچھ اپنے اصول بھی ہوتے ہیں جن کو نبھانا ہر فکشن نگار کا کام ہے۔ خیر جو کچھ بھی ہو راشد الخیری کے یہاں مقصدیت صاف طور پر نظر آتی ہے اور وہ مسلمان معاشرے کی تطہیر اور مسلمانوں کو روشن ذہن اور موڈرن تعلیم سے مسلح دیکھنے کے متمنی ہیں ۔ نذیر احمد اور راشد الخیری کا موازنہ وقار عظیم یوں کرتے ہیں:

’’راشد الخیری کے پورے فن کی بنیاد نذیر احمد کی دی ہوئی اس روایت پر ہے جس کا آغاز مراۃ العروس اور بنات النعش سے ہوا ۔ فرق صرف یہ ہے کہ نذیر احمد نے عورت کی اصلاح کو ایک وسیع تر اصلاحی پروگرام کا جز بنا کر پیش کیا ہے اور راشد الخیری نے اس کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اس کی معاشرتی حیثیت کے بلند کرنے کا بیڑا بھی اٹھایا ہے ۔نذیر احمد نے عورت اور اس کے مسائل کو ایک ایسے مصلح کی طرح دیکھا ہے جو اسے پورے معاشرتی نظام کا ایک حصہ سمجھتے ہیں اور اس لیے معاشرے کے اغراض کی خاطر اس کی اصلاح کے خواہاں ہیں ۔ اس کے برخلاف راشد الخیری نے عورت کے مسائل کو عورت کی نظر سے دیکھا اور اس کے دکھ درد کو اپنا دکھ بنا کر اس کا مداوا تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ۔‘‘ وقار عظیم ،’داستان سے افسانے تک‘، مکتبہ الفاظ، علی گڑھ، ص۷۶)

’مجموعہ راشد الخیری‘ان کے ناولوں’ صبح زندگی‘، ’شام زندگی ‘،’ شب زندگی‘ ،’ نوحہ زندگی‘ ،’ فسانۂ سعید‘ اور’ نالۂ زار‘کا مجموعہ ہے جو مولوی نذیر احمد سے متاثر ہوکر لکھے گئے ہیں۔مولوی نذیر احمد کی مانند وہ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ایک سگھڑ عورت اپنی چال چلن ہی سے گھریلو مصائب کا حل ڈھونڈ نکالتی ہے۔ مجموعے کا دیباچہ بہ عنوان ’ مصورِ غم ‘ رازق الخیری نے ۲۲؍جولائی ۱۹۳۶ء کو رقم کیا ہے۔ راشد الخیری ایک ناول میں کئی موضوعات پر اپنی توانائی صرف کرتے ہیں۔ ’صبح زندگی‘ میں تعلیم نسواں، بچوں کی صحیح تربیت، چغل خوری ، مذہب سے غفلت ، زکواۃ کا صحیح طریقہ ، جانوروں کے خلاف تشدد، بھیک کا جواز، پس ازدواج لڑکیوں کی صعوبتیں، ماں کے فرائض، ادب و اخلاق ، طریقۂ سلام و دعا ، بڑوں کی تعظیم ،آدابِ دستر خواں ،قرض کے نقصانات،مانگے تانگے پر فخر کرنا،قناعت کے فوائد، آتش بازی پر فضول خرچی اورجھوٹ بولنے کی بری عادت وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ بقول مصنف یتیم خانوں سے یتیموں کو لے کر گھر میں پالنا مذہب کی رو سے بہت بڑا ثواب ہے اورعورت کا سب سے بڑا زیور اور جہیز اس کا ادب و اخلاق ہے ۔چنانچہ فرماتے ہیں کہ ’’ با ادب با نصیب ، بے ادب بے نصیب ‘ہوتا ہے ۔اس ناول میں راشد الخیری نے اپنی شعری صلاحیت کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں ، پکوان کے مختلف طریقے ، پرندوں و جانوروں کو پالنے کے طریقے اور سلائی کٹائی کے طریقے بھی سجھائے ہیں ۔یہ ناول ایک لمبا ،بہت ہی لمبا ،قصہ ہے جس میں مرکزی کردار اپنے بھائی کی بیٹی کو ایک اچھا مسلمان بننے کی تربیت دیتی ہے اور اسطوری مثالیں پیش کر کے اسے زندگی کے مصائب سے آگاہ کرتی ہے جس کے سبب وہ آگے چل کر سرخرو ہوتی ہے۔ ضمنی طور پر ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کی بھاگم بھاگ پر بھی طنز کیا گیا ہے۔

’شام زندگی ‘ میںپس ازدواج عورت کی زندگی کی درد بھری داستاں رقم کی گئی ہے ۔ اس ناول میں جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ یہ کہ شادی سے پہلے فریقین کے خیالات اور طور طریقے میں کوئی بعد نہیں ہو نا چاہیے تاکہ پس ازدواج نا موافقت کی مشکلیں پیش نہ آئیں ۔ یعنی لڑکی اور اس کے ہونے والے شوہر کے درمیان ذہنی موافقت (Mental Compatibility) کا ہونا ضروری ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ ماں باپ رشتہ بچوں پر نہ ٹھونسے بلکہ نکاح سے پہلے لڑکی اور لڑکے دونوں سے رضامندی حاصل کرے ۔ اس ضمن میں خاموشی کو اقرار سمجھ لینا بہت بڑی غلطی ہے ۔ یہاں پر اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ پردے کے سبب اور زنانہ و مردانہ کی علیٰحدگی کے باعث کیسے ممکن ہے کہ لڑکی اپنے ہونے والے شوہر کی عادت و خصلت جان سکے گی اور معروضی طور پر اپنی رضامندی ظاہر کرسکے گی۔گو اس سوال پرمصنف نے ’نالۂ زار‘ میں تفصیل سے بحث کی ہے مگر وہ کوشش بسیار کے باوجود اس کا صحیح جواب نہیں ڈھونڈ پائے ہیں اور لفظوں کی آڑ میں خود کو بچاتے رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے ’ شب زندگی ‘ ۔ راشد الخیری کے یہاں عورتوں کے کردار یا تو بالکل گناہ گار ہیں یا پھر کامل پاکباز۔ قدرت بھی بار بار اپنے کھیل کھیلنے سے باز نہیں آتی ہے۔ فطری انصاف پر ناول نگارکا اتنا بھروسہ ہے کہ ہر صورت میں وہ اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ ’’ کیا خوب سودا نقد ہے ، اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے ‘‘ یعنی انسان کو اپنے کیے کی سزا اسی دنیا میں مل جاتی ہے مگر عام زندگی میں اس کا کہیں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ نیزراشد الخیری کے ناولوں میں موت ایسے بے دھڑک آتی ہے جیسے ہر دروازے پر کھڑی انتظار کر رہی ہو کہ کب کسی انسان سے چوک ہوجائے اور وہ اس کا کام تمام کردے۔موت کا فرشتہ دم ایسے نکالتا ہے جیسے غبارے میں سے ہوا نکال کر بچے محظوظ ہوتے ہیں،جب جی چاہا پھلا لیا اور جب جی چاہا ہوا نکال لی ۔مصنف جس کردار کو چاہتا ہے ٹھکانے لگا دیتا ہے کہ موت اتنی ارزاں ہوچکی ہے ۔ دنیا میں اس شرح سے مصیبتیں رونما ہونے لگیں اور موت واقع ہو تی رہی تو دنیا کب کی خالی ہوچکی ہوتی۔بہر کیف ناول نگار اپنی ناصحانہ سوچ و فکر کی ترسیل میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ ناول میں روایتی سوچ کے خلاف اپنی بھتیجی کو راہ راست پر لانے کے لیے اس کا حقیقی چاچا ، حاجی امداد حسین کہتا ہے :’’ تم ڈھونڈتی ہو نماز روزوں میں اور وہ ملتا ہے ناتواں دلوں میں ، تم دیکھتی ہو عبادت و ریاضت میں اور وہ رہتا ہے کمزور سینوں میں۔‘‘ اسی طرح ایک اور جگہ ناول نگار طنزاً کہتے ہیں کہ ’’مسلمان عورتوں کے واسطے کسی مرد یا عورت کا پاگل ہونا ولی اللہ یقین کرنے کو کافی ہے‘‘ (ص ۴۱۴) ۔

’ نوحہ زندگی ‘ اس مجموعے میں شامل ہونے سے بارہ سال پہلے شائع ہوچکی تھی اور بقول ناول نگار اس کی مقبولیت نے کم سے کم اتنا تو کیا کہ مسلمانوں میں نکاح ثانی کا رواج عام ہوگیا۔ وہ اس نکاح کی ناکامی اور پہلے ہی سے پیدا شدہ بچوں کی پرورش میں کوتاہی کے لیے نہ صرف سوتیلی ماں کی خود غرضی اور سوتیاہ ڈاہ بلکہ مرد کی لاپرواہی کو بھی ذمہ وار ٹھہراتے ہیں۔کتاب کے دیباچہ میںلکھتے ہیں ’’ بڑی خرابی جو ان تمام فسادات کی جڑ ہے وہ یہ ہے کہ مرد دوسری بیوی سے پہلی بیوی کی اولاد کے متعلق غلط توقعات قائم کرتا ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ یہ فطری طور پر ان بچوں کی خدمت سے معذور ہے ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غلط توقعات سوتیلی ماں کے اخلاقی فرائض کا بھی خاتمہ کر دیتی ہیں۔ ‘‘اس دور میں توہم پرستی اس قدر تھی کہ شادی کی تقریب میں بیواؤں کوشرکت کرنے سے روکا جاتا تھا ، نئی نویلی دُلھن یا دُلھا کی چیزوں کو ہاتھ لگانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔اس وہم کی جانب ناول نگار نے توجہ دلائی ہے۔ ساتھ ہی اس ناول میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ اکثر مرد بیوہ کی دولت کو ہتھیانے کے لیے عقد ثانی کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔اسی طرح یتیموں کا مال بیوہ کی وساطت سے غیروں کے قبضہ میں چلا جاتا ہے اور خود بیوہ اور بچے بھوک سے بلکتے رہ جاتے ہیں۔ دیباچہ میں انھوں نے اس مسئلے سے نبٹنے کے لیے کچھ تدابیر بھی تجویز کی ہیں۔البتہ راشد الخیری خود بھی یہ طے نہیں کر پاتے ہیں کہ حد فاصل کہاں پر کھینچی جائے ۔ ایک جانب وہ خواتین کو تعلیم یافتہ اور جدید علوم سے لیس دیکھنا چاہتے ہیں مگر دوسری جانب اپنی روایتی سوچ سے باہر نہیں نکل پاتے ہیں ، مشن سکولوں و ہوسٹلوں کو آوارہ گردی کے اڈے گردانتے ہیں اور ان میں لڑکیوں کا پڑھنا معیوب سمجھتے ہیں ۔اُدھر وہ لڑکی کو والدین کی ہر بات پرلبیک کہنے کے خواہاں ہیں اور اِدھر اس سے بغاوت کی امید بھی رکھتے ہیں۔ بکارت کے نام پر پدر سری نظام میں جو استحصال ہوتا ہے اور طبقۂ نسواں پر ہر دم پابندیاں لگائی جاتی ہیں، اس کو انھوں نے بھی خوب اچھالا ہے۔ ناول نگار ’ فسانۂ سعید ‘ میں فریقین کو اپنا ہم سفر چننے کی آزادی چاہتے ہیں اور کسی جبری طور طریقے کے سخت خلاف ہیں ۔سعید اور اسلام کے ازدواجی ان میل کے لیے وہ تعلیم کی کمی کو دوش دیتے ہیں۔اس ناول میں جہاں وہ عورت کے گنونتی ہونے کے تمنائی ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ تدبر اور عقل سے کام لے وہیں انھوں نے اس کتاب اور’ نالۂ زار‘میں والدین، جن کو وہ چراغ سحری کہتے ہیں، کی جانب بھی بچوں کے فرائض کواجاگر کیا ہے ۔ چنانچہ’نالۂ زار‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم کو مطلق یہ خیال نہیں آتا کہ ماں باپ کیا چیز ہے اور ان کی زندگی کیسی بڑی نعمت ہے ، یہ نہ ہمارے روپے کے بھوکے نہ دولت کے محتاج ، ہاں میٹھی زبان کے خواستگار اور سیدھے مُنہ بات کرنے کے طلبگار ، ہم کو جوان بنانے میں جو مصیبت انھوں نے اُٹھائی، اس کا بدلا دینا تو ہمارے کیا بڑے بڑوں کے اختیار میں نہیں ۔ لیکن کچھ نہیں اتنا تو کریں کہ ہم ان کے احسانوں کو یاد رکھیں (ص۶۰۸)۔‘‘

جیسے کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے جس دور میں راشد الخیری لکھتے رہے ، حقیقت پسند ی ابھی گھٹنوں گھٹنوں چل رہی تھی۔ اس لیے انھوں نے ایسے کئی واقعات یا تراکیب کو بیان کیا ہے جو نہ تو سائنسی اصولوں پر کھرے اترتے ہیں اور نہ ہی منطقی اصولوں پر ۔ دو مثالیں یہاں پر کافی ہیں ۔ ناول میں معشوقہ فاطمہ اپنے عاشق احسان کو کسی عجیب و غریب بیماری سے بچانے کے لیے اپنی گردن پرچاقو سے ضربِ خفیف لگاتی ہے اور زخم سے بہا ہوا خون ایک پیالے میں جمع کرکے رات کے اندھیرے میں چُپکے سے اس کے قریب رکھ دیتی ہے ۔ ڈاکٹر وہ خون ، جو ایک پیالے میں رکھا ہوتا ہے ، بہت وقفے کے بعد گھر ہی میں احسان کے بدن میں بھر دیتا ہے اور احسان اس خون کے ٹرانس فیوژن(Transfusion) سے رو بہ صحت ہوجاتا ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ فسادِ خون کی ایسی کون سی بیماری تھی جو صرف اور صرف گردن کے خون سے ٹھیک ہوسکتی تھی اور ایسا کون سا ڈاکٹر تھا جو گھر میں آکر اس خون کو، جو نہ جم جاتا ہے اور نہ آلودہ ہوجاتا ہے، مریض کی شریانوں میں بھر دیتا ہے ؟ یہ بات کم سے کم میری دانش سے تو باہر ہے ۔ نہ دینے والے کو ٹیٹنس(Tetanus) ہوجاتا ہے اور نہ لینے والے کو۔ مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ بڑی مدت کے بعد جب اسی خون کی دوبارہ ضرورت پڑتی ہے تو ایک گلاس میں اسی دن کا رکھا ہواخون طلب کیا جاتا ہے جو پھر سے مریض کو بچانے میں کامیاب ہوتاہے ۔ یہ خون اتنی مدت تک کیسے تازہ اور کار آمد رہا میری سمجھ میں نہیں آتا۔اس سے بھی بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کے بعد دونوں جیتے ہیں، عاشق معالج کی مہربانی سے اور معشوقہ رحمت غیب کی وجہ سے اور وہ بھی بنا دوا دارو کے ۔ اسی طرح ’شب زندگی ‘میں فاطمہ کی بیمار ی ، جونہ کوڑھ ہے اور نہ تپ دق ، مگر کچھ ایسی متعدی (Contagious) بتائی جاتی ہے کہ ہوا سے اڑ کر لگ سکتی ہے ، چھونے سے لگ سکتی ہے اور چھوئی ہوئی چیز کو چھونے سے بھی لگ سکتی ہے۔وبائی (Infectious) بیماریوں کا تو سنا ہے مگر ایسی بیماری کے بارے میں کم سے کم مجھے تو کوئی علم نہیں ہے اور نہ ہی اس کا نام مصنف نے ظاہر کیا ہے ۔ ایسی کون سی بیماری ہے کہ فاطمہ کی صورت اتنی بگڑ جاتی ہے کہ آدمی اور جانور بھی پناہ مانگتے ہیں؟ خود مریضہ مر نہیں رہی ہے مگر دوسروں کو چھوتے ہی مر جانے کا احتمال ہے ۔ کتنی عجیب سی بیماری ہے کہ دو سال معطل (dormant) رہ کر وہ پھر عود کر آتی ہے ۔ دیکھا جائے تو اپنے حزنیہ بیان کی شدت کو بڑھانے کے لیے مصنف نے عجیب ڈھنگ کے انوکھے امراض کا اختراع کیا ہے ۔اس پر طرہ یہ کہ مریضہ کے پاس ایسی سفوف بھی ہے جسے نہانے کے بعد انسان کو اس بیماری سے نجات مل سکتی ہے ۔شومیٔ قسمت کہ سفوف سے نہ نہانے کے سبب ثریا کو بہت عرصہ کے بعد اس بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یقین نہ آنے کے باوجود ان بناوٹی باتوں کو ہضم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہتا۔مصنف نے مذہب کی تبدیلی کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ مسلمان مغربی کلچر سے متاثر ہوکر عیسائی بن جاتے ہیں حالانکہ بقول مصنف کرسچن مسلمانوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ راشد الخیری کی تحریریں ناولوں سے زیادہ علم الاخلاق اور علم حفظان صحت کی کتابیں معلوم ہوتی ہیں ۔ اگر انھیں امور خانداری یا پھر ہدایت نامہ برائے خواتین کے طور پر مارکیٹ کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ اتنا تو صاف عیاں ہے کہ مصنف کی نظر ہمیشہ طبقۂ نسواں پر رہی ہے مگر ایسا کیا ہے کہ ہر فیصلہ عورت کے لیے، ہر اصول عورت کے لیے، ہر پند و نصیحت عورت کے لیے، صبر جمیل اور قناعت عورت کے لیے جبکہ مرد بداخلاقی کا پیکر بنا کھلے عام گھوم رہا ہے اور اس کے لیے کوئی اصول نہیں ، کوئی پابندی نہیں ، کوئی سماوی آفت نہیں ۔ناول نگار کی آئیڈیل عورت شریف ، قناعت پسند ، اطاعت شعار، درد مند، رحم دل اور خطا بخش ہے ، تیز طرار، فضول خرچ اور چٹوری نہیں ۔ان کی نظر میں عورت ’ بن داموں کی لونڈی ہے ‘ جس کا کام یا تو میاں کی تیمار داری ہے یا پھر خدا کی عبادت۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ ’’ وہ مرد ہے اور شوہر ہے ، تم عورت ہو اور بیوی ہو ، اس کا درجہ بلند اور مرتبہ اونچا ، تمھارے اختیا ر محدود اور کمزور۔ ‘‘بقول مصنف مرد کے ہاتھ میں بید کا ہونا ضروری ہے حالانکہ وہ اس بات کا بھی اعادہ کرتے ہیں کہ وہ عورت جو کنواری ہوکر مار کھائے بدنصیب ہے اور پھر شادی شدہ ہوکر بھی مار کھائے تو بہت ہی بد نصیب ہے۔ ناولوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا مقام صرف اپنے خاوند کے پیروں میں ہے، وہ اس کی کنیز اور لونڈی پہلے اور بیوی بعد میں ہے۔ مرد کی اطاعت کرنا اس کا فرض اولین ہے چاہے وہ مرد گھریلو تشدد کا مرتکب ہو ، زانی ہو ، شرابی ہو،بدقماش ہو، نٹھلا ہو یاپھر بال بچوں کی پروا نہ کرتا ہو۔چنانچہ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ ’’ زندگی کی کامیابی صرف شوہر کی رضامندی میں پوشیدہ ہے (ص ۴۷۶)۔تاہم عورت کی غیر محفوظ زندگی کے بارے میں ناول نگار یوںرقم طراز ہیں :’’کیسی شادی اور کس کا بیاہ ، ایک بیچاری کی آیندہ تقدیر کا فیصلہ ہے ! نئے لوگوں سے واسطہ ! اجنبیوں سے سابقہ ! دیکھیے کیا پڑے اور کیسی گزرے ، کوئی بھلا مانس ہوا!عزت آبرو سے گزر گئی!کسی بدذات سے پالا پڑا ، اٹھتے جوتی ، بیٹھتے لات !!‘‘

راشد الخیری کے فکشن کو پسِ غدر کے تناظر میں آنکنا ضروری ہے ۔ پہلی جنگِ آزادی کو ابھی ۳۸ برس ہی گزر چکے تھے کہ ان کا پہلا افسانہ شائع ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انگریزوں نے آخری مغل بادشاہ کو ملک بدر کرکے ہندستان پر پوری طرح قبضہ جمالیا تھا اور مسلمان پسپائی کے سبب انتہائی ندامت اور احساس کمتری میں مبتلا ہوچکے تھے۔ ’پدرم سلطان بود‘ کی رٹ لگاتے ہوئے مسلمان فرار یت اور خود تذلیل کے شکار ہوچکے تھے۔ انگریزی بود و باش سے تنفر اور اپنی قدیم روایات سے وفاداری ان کا شیوہ بن چکا تھا ۔ واعظ اور مولوی اپنی دھاک بٹھانے کے لیے مذہب کی آڑ میں فضول رسموں اور روایات کو بڑھاوا دے رہے تھے اور معاشرے کے تنزل کا ٹھیکرا طبقۂ نسواں پر پھوڑ رہے تھے۔ خواتین نرینہ عصبیت اور جبریت کا شکار ہوکر ناخواندگی، معاشی تنگدستی اور اس سے جڑی کئی محرومیوں سے جوجھ رہی تھیں۔ نتیجتاً عبقری طبقہ کو کچھ نہ کچھ قدم اٹھانے کی ضرورت محسوس ہوئی اوراس کے سرخیل سر سید احمد خان تھے۔ اسی سلسلے میںمولوی نذیر احمد اور راشد الخیری نے اپنی نثری تخلیقات سے سماج کو بیدار کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ راشد الخیری کے ناولوں کا مدعا قارئین کے ذہنوں میں ایسے لوگوں کی جانب حقارت ، خفگی ، ناپسندیدگی ،کراہت اور ہیبت کے جذبات ابھارنا تھا جو انسانیت سوز کارروائیوں میں ملوث تھے اور گھناؤنے سماجی جرائم کے مرتکب تھے ۔انھوں نے اپنی کاوشوں کے توسط سے عورتوں کے حق میں ایک ایسی تحریک چلائی جو آگے جاکر ان کی ذہنی نشو و نما اور معاشی آزادی کا باعث بنی۔ تاہم وہ اپنے مذہبی فرائض نہیں بھولے اور لگاتارمذہبی احکامات کا اعادہ کرتے رہے۔ راشد الخیری کی تخلیقات فکشن کے سبھی پیمانوں پر بے شک نہ اتر تی ہوں مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ بڑی حد تک اپنانصب العین پانے میں کامیاب رہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply