گیارہ بیٹے (Elf Söhne) (کہانی فرانز کافکا) ترجمہ: مقبول ملک

Spread the love

جرمن ادب پڑھنے والے قارئین کے لیے معروف جرمن ادیب کافکا کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں دنیا بھر میں ان کے لکھے گئے ادب کی قدر قیمت آج بھی کم نہیں ہوئی۔ قارئین کے لیے کافکا کے افسانے جو براہ راست جرمن زبان سے ترجمہ کئے گئے ہیں پیش کئے جا رہے ہیں۔ کافکا کی طرح ان کے مترجم مقبول ملک کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کو کسی تعارف کی احتیاج نہیں ہوتی۔ مقبول ملک کا تعلق اشفاق احمد، بانو قدسیہ، منیر نیازی، منٹو، حفیظ تائب اے حمید جیسے عظیم مصنفین کے شہر لاہور سے پطرس بخاری کی مادر علمی گورنمنٹ کالج لاہور سائنس میں گریجویشن کی اور پھر یہیں سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ متجسس طبیعت زمانہ طالب علمی سے ہی صحافت کے شعبہ میں لے آئی نوائے وقت لاہور سے صحافتی سفر شروع کیا پھر انگریزی صحافت سے بطور رپورٹر پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی روز نامہ ڈان کے ساتھ منسلک ہوئے۔ ان کی تقدیر نے روز گار کے لیے 1993 میں جرمنی پہنچا دیا اور یہاں بھی شعبہ صحافت سے ہی وابستہ ہیں اور جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو (ڈوئچے ویلے)میں بطور سینئر ایڈیٹر خدمات سرانجام دے رہے ہیں 25 برس سے زائد کا عرصہ جرمنی میں بسر کیا اور جرمن زبان و ادب و محاورے پر بھی خوب دسترس رکھتے ہیں پر۔ ادارہ صرف اردو ڈاٹ کام کی درخواست پر انہوں نے کافکا کے تراجم اشاعت کے لیے ارسال کئے ہیں جس پر ادارہ ان کا ممنون و مشکور ہے۔ جو افسانے ان کی اجازت سے شائع کئے جائیں گے یہ ان کی زیر طبع کتاب کا حصہ ہیں ان افسانوں کی مکرر اشاعت ملک صاحب کی اجازت کے بغیر غیر قانونی تصور ہو گی۔ کہانی مقبول ملک صاحب کے فیس بک صفحہ پر بھی پڑھی جا سکتی ہے ۔ واضح رہے کہ مقبول ملک کے تراجم ان کے ادارے ڈی ڈبلیو کی ویب سائٹ سمیت متعدد ویب صفحات پر شائع ہوتے ہیں

میرے گیارہ بیٹے ہیں۔
پہلا بظاہر بصیرت سے بالکل محروم ہے مگر سنجیدہ اور عقل مند۔ اس کے باوجود میں اس کی قدر کرتا ہوں اور بچپن ہی سے اسے بھی اتنا ہی پیار کرتا ہوں جتنا دیگر تمام بیٹوں کو۔ اس کا طرز فکر مجھے بہت ہی سادہ لگتا ہے۔ وہ دائیں دیکھتا ہے، نہ بائیں اور نہ ہی بہت دور تک۔ اپنے محدود سے حلقہ فکر میں وہ مسلسل دائرے میں گھومتا رہتا ہے یا بار بار مڑ جاتا ہے۔

دوسرا وجیہہ بھی ہے، دبلا اور اچھے قد کاٹھ کا مالک بھی۔ اسے ایک شمشیر زن کی پوزیشن میں دیکھنا بہت ہی جوش و جذبے کا باعث بنتا ہے۔ وہ بھی عقل مند ہے مگر ساتھ ہی اسے دنیا کا تجربہ بھی ہے۔ وہ بہت کچھ دیکھ چکا ہے اور اسی لیے اسے گفتگو کے لیے اپنے ارد گرد کے معاشرے میں فطرت ان لوگوں سے کہیں زیادہ جانی پہچانی لگتی ہے جو آج تک صرف اپنے گھروں میں ہی رہے ہیں۔ اس کی یہ خاصیت صرف اس کی بہت زیادہ سیاحت ہی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ اس بچے کی ناقابل تقلید فطرت کا حصہ بھی ہے کہ جسے مثال کے طور پر ہر وہ شخص باآسانی پہچان لے گا، جو اس کے کئی بار قلابازیاں کھا کر اور پھر بڑی خوبصورتی سے ایک ماہر فنکار کی طرح پانی میں چھلانگ لگانے کی نقل کرنے کی کوشش کرے۔ سوئمنگ پول کے جمپنگ بورڈ کے آخر تک تو ہمت اور خواہش کافی ثابت ہوتے ہیں، مگر وہاں سے آگے اس کی نقل کرنے والے پیراک بغیر کوئی معذرت کیے یکدم اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دیتے ہیں۔

ان سب باتوں کے باوجود، جب کہ مجھے اپنے اس بچے کی وجہ سے دراصل خوش ہونا چاہیے، اپنے اس بیٹے کے ساتھ میرے تعلقات پر کچھ کچھ بادل چھائے رہتے ہیں۔ اس کی بائیں آنکھ دائیں سے کچھ چھوٹی ہے اور معمول سے زیادہ جھپکتی رہتی ہے۔ صرف ایک معمولی سا نقص، جو یقینی طور پر اس کے چہرے کو اس سے بھی زیادہ باہمت بنا دیتا ہے جتنا کہ وہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہو سکتا تھا۔ اگر کوئی اس کی ذات کی خود ارادیت کو دیکھے، جس تک پہنچا ممکن ہی نہیں، تو یہ بات محسوس ہی نہیں کی جا سکتی کہ اس کی چھوٹی آنکھ کس طرح جھپکتی رہتی ہے۔

میں، اس کا باپ، یہی کرتا ہوں۔ اس کی وجہ اس کا وہ جسمانی نقص نہیں ہے، جو مجھے تکلیف دیتا ہے۔ اس کا سبب کسی نہ کسی طرح اس کی ذات سے ہم آہنگ اس کی روح کی وہ ہلکی سی بےقاعدگی ہے، جو ایک ایسے زہر کی طرح ہے جو اس کے خون میں ٹھوکریں کھاتا رہتا ہے، ایک طرح کی نااہلی، ایسی نااہلی جس کی وجہ سے وہ اپنی ان صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال کر ہی نہیں سکتا، جو صرف میں اس میں واضح طور پر دیکھ سکتا ہوں۔ دوسری طرف یہی بات اسے پھر سے میرا وہ حقیقی بیٹا بھی بنا دیتی ہے، جس کی یہ غلطی بیک وقت ہمارے پورے خاندان کی غلطی بھی بن جاتی ہے، مگر جو صرف اس بیٹے میں خاصی واضح طور پر نظر بھی آتی ہے۔

میرا تیسرا بیٹا بھی وجیہہ ہے مگر یہ اس کی وجاہت نہیں، جو مجھے پسند ہے۔ یہ ایک گلوکار کی خوبصورتی ہے: منہ کمان کی طرح، آنکھیں خوابوں سے بھری، سر جسے اپنا اثر دکھانے کے لیے اپنے پیچھے تکیے جیسے کسی تہہ دار کپڑے کی ضرورت ہو، سینہ معمول سے کچھ زیادہ ابھرا ہوا، آہستہ آہستہ اوپر جاتے اور پھر بڑی آسانی سے نیچے کی طرف حرکت کرتے ہاتھ، اور ٹانگیں جو اس لیے اپنی تعریف کرتی ہوئی محسوس ہوں کہ وہ زیادہ بوجھ نہ اٹھا سکتی ہوں۔

اس کے علاوہ اس کی آواز بھی بہت بھاری نہیں ہے: جیسے اس کی نظروں کو دھوکا دیتی ہوئی، جو کسی جاننے والے کو بھی دھیان سے سننے پر مجبور کر دے اور تھوڑی سی اس کے سانس کے پیچھے چلتے ہوئی۔ ان سب باتوں کے باوجود عمومی طور پر ایک پرکشش آواز۔ میں اپنے اس بیٹے کو اگر کسی شو میں متعارف کراؤں، تو ایسا جہاں تک ممکن ہو، چھپ کر ہی کروں۔ اس کے لیے وہ خود بھی کوئی اصرار نہیں کرتا۔ اس لیے نہیں کہ اسے اپنی خامیوں کا علم ہے، بلکہ محض اپنی معصومیت کی وجہ سے۔ وہ خود کو ہمارے عہد میں اجنبی بھی محسوس کرتا ہے۔ جیسے اس کا تعلق میرے خاندان سے تو ہو، مگر ساتھ ہی کسی ایسے دوسرے گھرانے سے بھی، جو اس کی نظروں میں ہمیشہ کے لیے گم ہو چکا ہو۔ اسے اکثر کچھ بھی کرنے کی کوئی چاہ نہیں ہوتی اور اسے کوئی بھی شے خوش نہیں کر سکتی۔

میرا چوتھا بیٹا وہ ہے، جس تک شاید ہر کسی کی رسائی سب سے زیادہ آسان ہے۔ حقیقی طور پر اپنے عہد کا ایک ایسا بچہ، جس کی باتیں ہر کسی کے لیے قابل فہم ہیں۔ وہ اگر سب کے لیے مشترک کسی فرش پر کھڑا ہو، تو ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اسے دیکھ کر اپنا سر ہلکا سا آگے کی طرف جھکا دے۔ شاید اسی عمومی اعتراف کے باعث اس کی ذات کچھ ہلکی سی ہو جاتی ہے، اس کی حرکات کچھ زیادہ آزاد اور اس کے فیصلے کسی بھی تشویش سے اور زیادہ مبرا۔

اس کی کہی ہوئی چند باتیں تو لوگ سن کر اکثر دہرانا چاہتے ہیں، لیکن صرف چند ہی، اس کے لیے کہ مجموعی طور پر اس کا یہی بہت زیادہ ہلکا پن پھر سے اس کا مرض بننے لگتا ہے۔ وہ ایک ایسے پرندے کی طرح ہے جو حیران کر دینے والے انداز میں اپنی پرواز شروع کرتا ہے، بگلوں کی طرح ہوا کو چیرتا جاتا ہے اور پھر بےہمت ہو کر بنجر مٹی پر جا گرتا ہے، ایک ایسا وجود جو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جب میں اپنے اس بچے کو دیکھتا ہوں، تو اس طرح کے خیالات میری نظروں میں کڑواہٹ بھر دیتے ہیں۔

میرا پانچواں بیٹا اچھا اور مہربان ہے، اس نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اس سے متعلق امید بہت کم ہوتی تھی اور کارکردگی زیادہ، وہ اتنا بےمعنی تھا کہ اس کی باقاعدہ موجودگی کے باوجود کوئی بھی دوسرا شخص خود کو اکیلا محسوس کرتا تھا لیکن پھر بھی اس نے اپنی تھوڑی سی ساکھ بنا ہی لی تھی۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھتا کہ ایسا کیسے ہوا، تو میں تقریباً کوئی جواب نہیں دے سکتا تھا۔

معصومیت شاید سب سے زیادہ آسانی سے اپنا راستہ اس دنیا میں عناصر کے انتشار کے بیچ میں سے ہی بنا لیتی ہے، اور میرا یہ بیٹا معصوم تو ہے ہی۔ شاید بہت ہی زیادہ معصوم۔ ہر کسی سے دوستانہ انداز میں ملنے والا۔ شاید بہت ہی دوستانہ انداز میں۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ جب کوئی میرے سامنے اس کی تعریف کرے تو مجھے اچھا نہیں لگے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تعریف اس وقت بہت معمولی اور سستی سی بات لگنے لگتی ہے جب کسی ایسے انسان کی تعریف کی جائے جو ویسے بھی واضح طور پر تعریف کے قابل ہو، جیسے کہ میرا یہ بیٹا۔

میرا چھٹا بیٹا کم از کم پہلی نظر میں ہی باقی سب سے زیادہ گہرے تفکرات کا حامل لگتا ہے۔ اسے سر جھکائے رکھنے کی عادت ہے مگر وہ باتیں بڑی شاندار کرتا ہے۔ اسی لیے اسے پکڑنا اتنا آسان نہیں ہے۔ جب وہ کمزور پڑ رہا ہو تو ناقابل تسخیر افسردگی کا شکار ہو جاتا ہے، جب وہ مضبوط ہو رہا ہو تو باتیں کرتے ہوئے اپنی اس حالت کا دفاع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں اس بات سے بھی انکار نہیں کرتا کہ وہ ایک خود فراموش جذبے کا شکار ہے، دن کی روشنی میں بھی اکثر اسے سوچ بچار کے عمل میں اتنی ہی جدوجہد کا سامنا رہتا ہے جیسے کسی خواب میں۔ وہ بغیر بیمار پڑے — اس کی صحت بہت اچھی ہے — کبھی کبھی لڑکھڑا جاتا ہے، خاص طور پر دھندلکے کے وقت، لیکن اسے کسی مدد کی ضرورت نہیں پڑتی اور وہ گرتا بھی نہیں۔

شاید اس کی یہ حالت اس کی جسمانی نشو و نما کی وجہ سے ہے۔ اپنی عمر کے لحاظ سے اس کا قد بہت ہی لمبا ہے۔ اس وجہ سے وہ مجموعی طور پر بدنما سا لگتا ہے، فوراً نظروں میں آ جانے والی کئی خوبصورت تفصیلات کے باوجود، جیسے مثال کے طور پر اس کے ہاتھ اور پاؤں۔ ویسے اس کا ماتھا بھی کافی بدنما ہے، صرف جلد ہی نہیں بلکہ ماتھے کی ان ہڈیوں کی ہیئت کی وجہ سے بھی، جن کی نشو و نما جیسے کچھ نامکمل رہ گئی ہو۔

ساتویں بیٹے کا مجھ سے تعلق شاید باقی سب سے زیادہ ہے۔ دنیا کو یہ سمجھ ہی نہیں کہ اس کی حوصلہ افزائی کیسے کی جائے، اس کے بہت مخصوص طرز مزاح کو دنیا سمجھتی ہی نہیں۔ میں اسے غیر ضروری اہمیت نہیں دے رہا۔ میں جانتا ہوں کہ وہ تھوڑی حد تک لیکن مناسب اہمیت کا حامل ہے۔ اگر دنیا اس کے سوا کوئی اور غلطی نہ کرتی، کہ اسے علم ہی نہیں کہ میرے اس بیٹے کی صلاحیتوں کا اعتراف کیسے کیا جائے، تو یہ دنیا آج بھی ہمیشہ کی طرح ہر خامی سے پاک ہوتی۔

لیکن اگر میرا یہ بیٹا خاندان میں موجود نہ ہوتا تو مجھے اس کی زیادہ پرواہ نہ ہوتی۔ وہ بے چینی کی وجہ بنتا ہے اور ساتھ ہی روایت کو بھی محترم جانتے ہوئے دونوں کو ملا کر، کم از کم مجھے یہ احساس ہوتا ہے، ایک ایسے مجموعے کا سبب بنتا ہے، جس کا مقابلہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ مگر اس مجموعے کے بارے میں اسے خود بھی یہ شعور انتہائی کم ہے کہ وہ آخر اس کا کیا کرے۔ وہ مستقبل کے پہیے کو کسی بھی طور حرکت میں نہیں لا سکے گا۔ مگر اس کی یہ حالت بہت زیادہ تحریک کا باعث بننے اور امید دلا دینے والی ہے۔

میری خواہش تھی کہ اس کے بچے ہوں اور ان بچوں کے بھی بچے۔ لیکن افسوس، مجھے لگتا ہے کہ یہ خواہش پورا ہونا ہی نہیں چاہتی۔ میرے لیے یہ بات قابل فہم لیکن اپنی ذات کے ساتھ اطمینان کی ایک ایسی ناپسندیدہ حالت ہے، جو میرے اس بیٹے کے ارد گرد کے ماحول سے قطعی متضاد بھی ہے، کہ وہ اکثر اکیلا ہی گھومتا پھرتا رہتا ہے اور لڑکیوں پر بھی کوئی دھیان نہیں دیتا، لیکن اس کے باوجود وہ کبھی بھی اپنی خوش مزاجی سے محروم بھی نہیں ہوتا۔

میرا آٹھواں بیٹا میری درد بھری اولاد ہے اور میں اس کی کوئی وجہ بھی نہیں جانتا کہ ایسا کیوں ہے۔ وہ مجھے اجنبیوں کی طرح دیکھتا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک والد کے طور پر اس کے ساتھ ایک قریبی رشتے میں بندھا ہوا ہوں۔ وقت نے بہت سی باتوں کی تلافی کر دی ہے لیکن پہلے تو جب میں اس کے بارے میں صرف سوچتا ہی تھا، تو کبھی کبھی مجھ پر کپکپی طاری ہو جاتی تھی۔ وہ اپنے منتخب کردہ راستے پر چلنے والا انسان ہے اور میرے ساتھ اپنے تمام رابطے منقطع کر چکا ہے۔
وہ اپنی سخت کھوپڑی اور کسی ایتھلیٹ کی طرح کے اپنے چھوٹے سے جسم کے ساتھ — ایک لڑکے کے طور پر اس کی صرف ٹانگیں بہت کمزور تھیں مگر وہ کمزوری بھی اب ختم ہو گئی ہو گی — یقینی طور پر اپنی پسند کی ہر جگہ تک پہنچ سکتا ہے۔ کئی بار میرے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ میں اسے واپس بلاؤں، اس سے پوچھوں کہ اس کے حالات کیسے ہیں، وہ اپنے باپ سے اس قدر کٹا ہوا کیوں رہتا ہے اور بنیادی طور پر اس کے عزائم کیا ہیں، لیکن اب وہ اتنا دور ہے اور اس دوران اتنا زیادہ وقت گزر چکا ہے کہ اب سب کچھ ویسا بھی رہ سکتا ہے جیسا کہ ہے۔ میں سنتا ہوں کہ میرے بیٹوں میں سے وہ واحد بیٹا ہے جس نے پوری داڑھی رکھی ہوئی ہے، قدرتی سی بات ہے کہ ایک ایسے چھوٹے سے آدمی کے چہرے پر وہ اچھی تو نہیں لگتی ہو گی۔

میرا نواں بیٹا بہت پروقار ہے اور خواتین کے لیے اس کی نظروں میں ایک خاص طرح کا پیار پایا جاتا ہے۔ اتنا پیار کہ مجھے لگتا ہے کہ موقع ملنے پر وہ مجھے بھی مسحور کر دے، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اس کی غیر ارضی محسوس ہونے والی شان و شوکت کو ایک ہی ہاتھ سے صاف کرنے کے لیے دراصل ایک گیلا اسفنج ہی کافی ہو گا۔ لیکن اس نوجوان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ دل فریبی کی کوئی کوشش بالکل نہیں کرتا۔ اس کے لیے یہی کافی ہو گا کہ وہ عمر بھر کسی صوفے پر لیٹے لیٹے اپنی نظروں کو چھت کو گھورتے ہوئے ہی ضائع کر دے یا اس سے بھی بہت ہی بہتر اس کے لیے یہ بات ہو کہ وہ اپنی نظروں کو اپنے پپوٹوں کے نیچے آرام ہی کرتا رہنے دے۔

وہ جب اپنی اس پسندیدہ حالت میں لیٹا ہوتا ہے، تو بڑے شوق سے گفتگو کرتا ہے اور وہ بھی بہت اچھی گفتگو۔ بہت نپی تلی اور پرمغز، لیکن تنگ سی حدود کے اندر رہتے ہوئے۔ اگر وہ ان حدود سے باہر نکل جائے، جیسا کہ اکثر ہوتا ہے کیونکہ اس کی گفتگو کی حدود بہت محدود ہوتی ہیں، تو جو کچھ بھی وہ کہتا ہے، وہ بالکل خالی پن کا عکاس ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی آنکھ کے اشارے سے اسے روکنے کے کوشش کر سکتا تھا، اگر اسے یہ امید ہوتی کہ وہ اپنی نیند سے بھری آنکھوں کے باوجود ایسے کسی اشارے کو محسوس کر لے گا۔
میرا دسواں بیٹا ایک غیر مخلص قسم کا کردار سمجھا جاتا ہے۔ میں اس غلطی کی نہ تو قطعی طور پر کوئی تردید کرنا چاہتا ہوں اور نہ ہی تصدیق۔ ایک بات یقینی ہے۔ جو بھی اسے اس سے کہیں زیادہ عمر کے کسی شخص کی طرح بڑی شان و شوکت سے اپنی طرف آتا دیکھتا ہے، ایسے کے اس کے لمبے کوٹ کے بٹن بڑی احتیاط سے پوری طرح بند ہوں، ایک پرانا لیکن بہت احتیاط سے صاف کیا ہوا سیاہ ہیٹ پہنے ہوئے، چہرہ جو بالکل بھی حرکت نہ کر رہا ہو، ٹھوڑھی تھوڑی سے آگے کو نکلی ہوئی، آنکھوں پر جھکے اور کافی زیادہ باہر کو نکلے ہوئے پپوٹوں کے ساتھ، اور کبھی کبھی دو ایسی انگلیوں کے ساتھ جو منہ پر رکھی ہوں، اسے جو بھی اس طرح دیکھتا ہے، سوچتا ہے کہ وہ بہت ہی بڑا منافق ہو گا۔

لیکن اب کوئی اسے گفتگو کرتے ہوئے بھی سنے، کسی باسمجھ انسان کی گفتگو، اچھی طرح سوچ بچار کے بعد، لہجے میں کچھ کچھ اکھڑ، جامع لیکن مخلتف سوالوں کا بڑی شاطرانہ زندہ دلی سے مقابلہ کرتے ہوئے، کائنات سے بالکل ہم آہنگ، ایسی ہم آہنگی جو حیران کن بھی ہو، قدرتی بھی اور خوش کن بھی۔ ایسی ہم آہنگی جو ضرورت پڑنے پر گردن کو بالکل سیدھا کر دے اور جسم کی رفعت اور فخر کا سبب بنتی ہو۔

بہت سے لوگ، جو خود کو بہت دانا سمجھتے تھے اور اپنے اسی احساس کی وجہ سے خود کو میرے اس بیٹے کے ظاہر کے باعث بہت بیزار محسوس کرتے تھے، اس نے انہیں اپنے الفاظ کی کشش کے ساتھ اپنے بہت قریب کر لیا تھا۔ لیکن پھر وہاں دوبارہ ایسے لوگ بھی تھے، جن کو میرے اس بیٹے کے ظاہر سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، لیکن جنہیں اس کے الفاظ پھر بھی منافقانہ لگتے تھے۔ ایک باپ کے طور پر میں یہاں کوئی فیصلہ نہیں سنا سکتا لیکن مجھے اعتراف کرنا پڑے گا کہ مؤخر الذکر رائے دہندگان اول الذکر ناقدین کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنجیدگی سے دیکھنے جانے کے حقدار ہیں۔

میرا گیارہواں بیٹا نرم خو ہے، میرے تمام بیٹوں میں سے سب سے کمزور ہے۔ لیکن اس کی کمزوری میں ایک دھوکا ہے۔ وہ بسا اوقات بہت توانا اور اپنے عزم میں پختہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طرح اس کی بنیاد اس کی کمزوری ہی ہوتی ہے۔ لیکن یہ کوئی باعث شرم کمزوری نہیں ہے بلکہ محض ایک ایسی شے ہے، جو بس ہماری زمین پر ہی کمزوری نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر کیا پرواز کے لیے تیاری کمزوری نہیں ہے، کیونکہ پرواز میں بھی تو اونچ نیچ ہوتی ہے، بے یقینی ہوتی ہے اور پروں کو پھڑپھڑانا پڑتا ہے۔
میرے بیٹے کی طبیعت میں بھی اسی طرح کی خاصیت ہے۔ کسی باپ کے لیے ایسی خصوصیات یقیناً خوشی کا باعث نہیں ہوتیں۔ بظاہر ان کا نتیجہ اکثر خاندان کی تباہی کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ کبھی کبھی میرا یہ بیٹا مجھے اس طرح دیکھتا ہے، جیسے کہنا چاہتا ہو، ’’ابا، میں آپ کو ساتھ لے جاؤں گا۔‘‘ اس پر میں سوچتا ہوں، ’’تم وہ بالکل آخری انسان ہو گے، جس پر میں اعتماد کروں گا۔‘‘ پھر اس کی نظریں جیسے دوبارہ کہنے لگتی ہیں، ’’تو پھر کم از کم مجھے بالکل آخری ہی رہنے دو۔‘‘

یہ میرے گیارہ بیٹے ہیں۔

Leave a Reply