جائزہ لیں عافیہ صدیقی کی سزا پاکستان میں پوری ہو سکتی ہے؟ سپریم کورٹ

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ میں عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کیس کی

سماعت ہوئی۔دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ

صدیقی کی ہر تین ماہ بعد قونصلر سے ملاقات ہوتی ہے۔دوران سماعت جسٹس

عظمت سعید نے استفسار کیا کہ جائزہ لیں کہ عافیہ صدیقی کی سزا پاکستان میں

پوری ہو سکتی ہے؟۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دئیے کہ عافیہ کا معاملہ

دیگر پاکستانیوں کے ساتھ اٹھانے سے شاید کچھ ہو جائے۔عدالت نے کیس کو

بیرون ملک قید پاکستانیوں کے کیس سے منسلک کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم

کورٹ نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔خیال رہے

گذشتہ ہفتے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا ہے کہ امریکی جیل میں

دہشت گردی کے الزام میں سزا بھگتنے والی پاکستانی نژاد ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے

اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کر دی۔سینیٹ کے

اجلاس وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ کے

معاملے پر تحریری جواب جمع کرایا گیا ۔ اس تحریری جواب میں بتایا گیا تھا کہ

حکومت پاکستان امریکی حکام کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے میں

مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کی واپسی کا معاملہ امریکی حکومت سے اٹھا

رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی کے لیے امریکی

حکام کو درخواست دے دی ہے۔چند روز قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ

ترجمان دفترِ خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو

دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان نہیں آنا

چاہتیں ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی امریکی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ اور ڈاکٹرشکیل آفریدی کے

حوالے سے بات ہو سکتی ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply