180

نیب اور کرپشن ساتھ، ساتھ نہیں چل سکتے۔جسٹس (ر)جاوید اقبال

Spread the love

چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس (ر)جاوید اقبال پریس کانفرنس کا مکمل متن

اسلام آباد (صباح نیوز) چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ یہ بڑا بلند بانگ دعویٰ ہے کہ نیب اور معیشت ساتھ، ساتھ نہیں چل سکتے، نیب اور معیشت ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں اورساتھ، ساتھ چلیں گے نیب اور کرپشن ساتھ، ساتھ نہیں چل سکتے،جب آپ پانچ ہزار کی جگہ پانچ لاکھ روپے خرچ کرتے ہیں ، پانچ لاکھ کی جگہ پانچ کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں تو اس وقت آپ کو اپنی پگڑیوں اور عزت اور احترام کا خیال ہونا چاہیے، نہ کہ اس وقت جب بڑے مودبانہ طریقہ سے آپ سے یہ پوچھا جائے کہ یہ اخراجات کہاں ہوئے۔

نیب کا تعلق ملک اور ریاست کے ساتھ ہے کسی حکومت کے ساتھ نہیںہے اور وہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں کہ جن کا یہ خیال ہے کہ نیب کو کوئی ڈکٹیٹ کر سکتا ہے یا حکومت نیب کو ڈکٹیٹ کر سکتی ہے، وہ دن گزر گئے اگر کبھی تھے بھی تو اب ایسا نہیں، حکومتی یا کسی ادارے کی ڈکٹیشن لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، حکومت کے ساتھ اتنے ہی دوستانہ مراسم ہوتے تو ہر چوتھے دن بجٹ کی کمی کی شکایت تو نہ کرتے۔

اب بھی جب نیا بجٹ تیار ہو رہا ہے تو نیب کو اپنا بجٹ منظور کروانے میں بہت سی مشکلات ہیں، جمہوریت کبھی احتساب کی وجہ سے خطرے میں نہیں آتی، جمہوریت اپنے اعمال کی وجہ سے خطرے میں آتی ہے۔بغیر وجہ، یا کسی کے کہنے پر، یا کسی کی ڈکٹیشن پر،یا کسی انتقامی کاروائی یا پولیٹکل انجینئرنگ کے لئے کسی آدمی کو پانچ منٹ کے لئے بھی زیر حراست نہیں رکھا، آئندہ کسی تاجر کو نیب میں نہیں بلایا جائے گا، ان کو سوالنامہ بھیج دیں گے۔

کچھ لوگ کیوں ملک سے بھاگ گئے ہیں؟ بھاگنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اب ان کو محسوس ہو گیا تھا کہ کوئی راہ فرار باقی نہیں ہے،

جسٹس (ر)جاوید اقبال نے نیب ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ الزام کی زد میں آنے والے تاجروں کوسوالنامہ ارسال کیا جائے گا، وہ سوالنامہ کا جواب دے دیں گے۔ ساری چیزوں کو سامنے رکھ کر اگر محسوس کیا کہ بادی النظر میں کیس بنتا ہے تو پھر ان کو تکلیف دی جائے گی، تاہم ایسا نہیں ہو گا کہ کسی کاروباری شخصیت کو بار، بار نیب کے دفتر میں بلایا جائے، نہ علاقائی دفاتر نہ ہیڈ آفس بلائے گا، تاجر بڑے اطمینان سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

حکومت سے دست بستہ عرض کرتا ہوں کہ کم از کم ان اعلیٰ افسروں کو عہدہ جلیلہ پر فائز نہ کریں جو نیب کے ریڈار پر ہیں یا جن کے کیسز نیب میں چل رہے ہیں یا جن کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے۔ یہ سوچ کر ان کوکوئی عہدہ نہ دیں کہ عہدہ پر آنے کے بعد نیب ان سے پوچھ گچھ نہیں کرے گی، کوئی کسی عہدہ پر ہو گا جس کا کیس چل رہا ہے اس کا کیس چلے گا۔ نیب کے مقدمات ہیں تو وہ چلتے رہیں گے۔

میں یقین دلاتا ہوں کہ نیب کسی قسم کی سیاست میں ملوث نہیں ہے اور نہ کوئی سیاست میں ملزث ہونے کا ارادہ ہے۔ نیب ایک انتہائی آزاد ادارے کی حیثیت سے اپنا کام کر رہا ہے ۔ کوئی حکومتی اثر نہیں ، کوئی ڈکٹیشن نہیں ، کوئی سیاست نہیں ،صرف واحد کام یہ ہے کہ پاکستان سے کسی نہ کسی طریقہ سے کرپشن کا خاتمہ ہو جائے ۔ہمارے ہاتھ میں کشکول نہ رہے اور ہم بھی باعزت لوگوں کی طرح کام کرسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت کافی بڑھ گئی اس کے نتائج لوگوں کے سامنے ہیں ، آئی ایم ایف سے معاہدہ حکومت کا کام تھا۔ ڈالر کی قیمت بڑھنا اور آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنا اور اس کے مابعد اثرات اس میں نیب کا کیا قصور ہے ؟نیب کہاں پر بیچ میں آجاتا کہ یہ سب کچھ نیب کی وجہ سے ہو رہا ہے اور نیب کی وجہ سے ہماری کاروباری سرگرمیاں نہیں ہو رہیں۔ نیب نے آج تک کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جو ملکی معیشت کے لئے تباہ کن ہوتا یا ملکی معیشت پر کیس بھی اعتبار سے اثر انداز ہوتا۔کیا نیب کوئی باہر سے آیا ہوا ادارہ ہے، نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے اور لوگوں کا اپنا ادارہ ہے۔ ہمارا کام تو کاروباری طبقہ کو تحفظ دینا ہے اور ہم کاروباری طبقہ کو تحفظ دے رہے ہیں۔

ہم نے کبھی بڑی کاروباری شخصیت کو نہ کبھی ہراساں کیا اور نہ کبھی ہراساں کرنے کی پالیسی رہی ہے ۔مجھے بتائیں جہاں پانچ ہزار لگنے ہوں اور وہاں 50ہزار روپے لگیں تو کیا نیب خاموش تماشائی بنا رہے گا؟کیا نیب یہ مودبانہ نہیں پوچھے گا کہ یہ کیا ہوا اور کیا یہ مودبانہ سوال کرنے سے پگڑیاں اچھل جاتی ہیں ۔ملک بہت غریب ملک ہے، 90ارب ڈالرز جو قرض تھا وہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے 100ارب ڈالرز تک پہنچ گیا ہے، یہ قرضہ کس نے ادا کرنا ہے، یہ ہم نے ادا کرنا ہے، میڈیا نے ادا کرنا ہے ، ہماری آنے والی نسلوں نے ادا کرنا ہے۔ اللے تللے کرنے والوں سے اگر یہ پوچھ لیا گیا ، کرپٹ عناصر سے اگر یہ پوچھ لیا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو اس میں میرا خیال ہے کہ نہ کوئی اخلاقی غلطی ہے اور نہ یہ کوئی جرم کےزمرے میں آتا ہے اور نہ اس میں کسی کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

موجودہ معاشی بحران حکومتی بحران نہیں ہے بلکہ یہ قومی ہے، جب ایک بحران قومی بحران ہو تو پھر ملک کے ہر شہری کا حق بنتا ہے کہ اس پر اپنی رائے کا اظہار کرے، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اس میں کوئی ایسا قانون نہیں کہ جس میں چیئرمین نیب سے کہا جائے کہ آپ اپنی رائے کا اظہار نہ کریں۔

اگر معیشت کی زبوں حالی ہے تو اس میں نیب کا کسی قسم کا کوئی دخل اور عمل اور قصور نہیں ہے۔ چند دنوں سے تواتر سے یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ نیب اس کا ذمہ دار ہے اور جب بات کی جاتی ہے آپ بتائیں نیب نے کیا کیا ہے تو ایک پر اسرار سی خاموشی چھا جاتی ہے۔ میں مودبانہ گزارش کروں گا کہ اس ایشو کر سیاسی نہ بنائیں یہ ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج تک کسی بزنس مین کی ٹیلی گرافک ٹرانسفر میں مداخلت نہیں کی لیکن کاروباری شخصیت اور عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کے درمیان امتیاز کرنا پڑے گا، ایک آدمی ایم پی اے، ایم این اے یا سینیٹ کا رکن ہے تو نیب قانون کے مطابق ان سے پوچھ سکتا ہے کہ آپ کی ٹی ٹیز کی کیا بنیا دہے اور کیا قانونی حیثیت ہے، اس کے پیچھے کون ساقانونی تحفظ ہے، یہ جو کروڑوں روپے آ رہے ہیں اور کروڑوں روپے جا رہے ہیں یہ آپ نے کہاں سے لیے اور کہاں سے کمائے ؟

پبلک آفس ہولڈر سے اگر یہ سوال کیا جا رہا ہے تو باالکل قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جا رہا ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ خلیجی مماک کے ایک اہم رکن نے نیب سے رابطہ کیا کہ آپ کی بجلی اور پانی کی مشکلات ہم حل کر دیتے ہیں ، ہم خطیر سرمایا کاری کرتے ہیں لیکن نیب کے توسط سے کریں گے ، نیب اس کو دیکھے نیب کی نگرانی میں کریں گے وگرنہ نہیں۔

میں نے انہیں مودبانہ بتایا کہ یہ نیب کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ نیب ہر وہ قدم اٹھائے گا جو ملک کے مفاد میں ہو گا ، کسی ڈر، کسی خوف، کسی دھمکی، کسی اثرورسوخ کی کوئی پرواہ نہ کبھی پہلے کی اور نہ کبھی آئندہ کروں گا۔ یہ لیبل لگا دینا کہ نیب سیاست زدہ ہو گیا ہے ، آج تک اگر کوئی قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی یا سینیٹ کا کوئی رکن یہ کہہ دے کہ نیب کے کسی افسر نے بشمول جادید اقبال اسے سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ آپ مشرق کی بجائے مغرب کی طرف جائیں اگر ایک آدمی بھی کہہ دے تو میڈیا موجود ہے میں الوداعی خطاب کر کے گھر چلا جائوں گا۔

اگر نیب پر پولیٹکل انجینئرنگ کا الزام ثابت ہو جائے تو میں نیب میں آخری شخص ہوں گا جو کہے کہ مجھے چیئرمین نے بنا ہے اور آپ مجھے کام جاری رکھنے دیں۔ کچھ الزامات ایسے ہیں جن کے بارے میں کوئی صداقت نہیں ہے اس لئے میں ان کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ نیب کا ہر اقدام جو آج تک لیا گیا ہے وہ ملک کے مفاد میں تھا ۔ ملک میں حکومت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، حکومتیں بدلتی رہیں ہیں، اس ملک نے ، اس ریاست نے جو اللہ کے نام پر وجود میں آئی تھی، پروردگار کا کرم ہو گا اور یہ ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔ اس لئے جو ملک کے مفاد میں ہو گا وہ کروں گا۔

نیب صرف وہ کرے گا جو نیب سمجھتا ہے کہ قانون کے مطابق ہے اور جب بھی کوئی اقدام اٹھایا ہے وہ عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے نظائر کی روشنی میں ہی اٹھایا ہے۔میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہماری بھی خامیاں ہوں گی لیکن کیا خامیوں کا ہونا اس بات کا جواز ہے کہ دشنام طرازیوں میں اضافہ ہو جائے۔ ان کا کہنا کہ خامیوں سے پاک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور رب کی ذات کے علاوہ نہ کوئی ادارہ اور نہ کوئی شخصیت یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ہم خامیوں سے پاک ہیں۔ خامیوں پر قابو پانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔

اگر حکومت کے ساتھ اتنے ہی دوستانہ مراسم ہوتے تو ہر چوتھے دن بجٹ کی کمی کی شکائت تو نہ کرتے۔ اب بھی جب نیا بجٹ تیار ہو رہا ہے تو نیب کو اپنا بجٹ منظور کروانے میں بہت سی مشکلات ہیں۔ اگر تعلق بہت ہی بہتر ہوتا ، بہت ہی دوستانہ ہوتا جیسے کچھ لوگوں کا خیال تو ہمیں کیوں مشکل پیش آتی۔ ہمیں اگر 10 روپے کی ضرورت تھی تو ہمیں 20 روپے مل جاتے مگر ایسا نہیں ہے اب تک تگ و دو جاری ہے جو ہمارا مطالبہ ہے اس کے مطابق ہمیں بجٹ مل جائے۔

میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر نیب کو پانچ روپے کی ضرورت ہے تو میں ساڑھے پانچ روپے کا مطالبہ نہیں کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ الزام تراشی اپنی جگہ اور ملک کا مفاد اپنی جگہ اور نیب صرف اور صرف ملک کے مفاد کو ترجیح دے گا چاہے اس کے لئے نیب کے چیئرمین کو ذاتی یا کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے، ملکی مفاد سے بالاتر کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ ملک کے مفاد کا تحفظ کریں گے او ر ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکلوانا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کا جو امیج خراب ہوا ہے اس کو ٹھیک کرنا ہے اگر اس امیج کو ٹھیک کرنا گناہ ہے تو پھر میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ نیب گنہگار ہے، لیکن اس کو ٹھیک کیا جائے گا۔

اس وقت نیب کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جائے اور منی لانڈرنگ کے حوالہ سے پاکستان کو انتباہ کیا گیا ہے۔ ہر منی لانڈرر کو اس کے اختتام تک پہنچایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ریفرنس فائل ہو جاتا ہے تو نیب کی جانب سے مقدمہ منطقی طور پر ختم ہو جاتا ہے، 1250 ریفرنس ہوں اور 25 ججز ہوں تو پھر نیب کو تو مورد الزام نہ ٹھہرائیں کہ کیسز کے فیصلے جلدی نہیں ہو رہے یا مقدمات منطقی انجام تک نہیں پہنچے۔کچھ لوگ عارضی ریلیف ملنے کے بعد جب باہر تشریف لاتے ہیں تو یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے کہ ان پر گل پاشی بھی کی جا رہی ہے اور ان کو سونے کے تاج بھی پہنائے جارہے ہیں، آوے ای آوے کے نعرے بھی لگ رہے ہیں، یہ بہت خوشی کی بات ہے اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن ان کا یہ کہنا کہ نیب پہلے انکوائری کرے پھر گرفتارکرے یہ 100 فیصد غلط ہے۔

نیب پہلے انکوئری کرتی ہے اور دیکھتی ہے کہ بادی النظر میں کیس ہے ، ثبوت ہوتا ہے تو نیب گرفتارکرتی ہے۔ اگر فرض کریں کسی کو نیب نے بغیر ثبوت کے گرفتار کیا ہے توسب سے پہلا ہمارا احتساب تو احتساب عدالت کے پاس ہے، ہم نے 24 گھنٹے کے اندر کسی بھی ملزم کو احتساب عدالت میں پیش کرنا ہے اور احتساب عدالت پر ہمارا کوئی بس نہیں چلتا کیونکہ انتظامی اختیار ہائی کورٹ کے پاس ہے۔

ہمیں احتساب عدالت کی جانب کیس کو دیکھنے کے بعد ملزم کا ریمانڈ ملتا ہے۔ لہٰذا وہ لوگ جو پھولوں کے ہار پہن کر نیب کی مذمت کرتے ہیں اور ساتھ فرماتے ہیں کہ نیب پہلے ثبوت دے اور اس کے بعد ہمیں گرفتار کرے۔ نیب کے پاس ثبوت ہوتے ہیں جس کے بعد آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ اگرہمارے پاس ثبوت نہ ہوتے تو کئی لوگ اس وقت ملک سے بھاگ نہ جاتے اور وہ ملک میں موجود رہتے، وہ عدالتوں کا سامنا کرتے، نیب کا سامنا کرتے، وہ کیوں ملک سے بھاگ گئے ہیں۔بھاگنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اب ان کو محسوس ہو گیا تھا کہ کوئی راہ فرار باقی نہیں ہے، وہ جس طرف جا رہے تھے سامنے نیب موجود تھی، فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا تو انہوں نے یہ بہتر سمجھا کہ ہم باہر چلیں جائیں۔

دکھ کی بات یہ ہے کہ جن کے بارے میں ہم نے باقاعدہ حکومت کو لکھا کہ ان کے نام ای سی ایل پہ رہنے چاہیں، ان کے نام ای سی ایل میں نہیں رہنے دیئے گئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔کہا جاتا ہے عوامی نمائندوں کے خلاف صحیح تفتیش نہیں ہوتی، آج وہ گرفتار ہوتے ہیں صبح آپ پارلیمنٹ کا اجلاس بلا لیتے ہیں، قائمہ کمیٹی کا اجلاس بلا لیتے ہیں۔ صبح آٹھ بجے اسمبلی میں جاتے ہیں اور رات کو واپس آتے ہیں اور جب رات کو کوئی سوال پوچھا جائے تو آپ کہتے ہیں مجھے نیند آرہی ہے۔ ہفتوں ایسا ہوتا رہا ہے کہ تفتیش کو سبوتاژ کرنے کے لئے یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ لیکن چونکہ یہ قانون کے مطابق تھا ، آئین کے مطابق تھا، ہم نے کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں کی لیکن ایک وجہ ضرور بتائی ہے کہ تحقیقات میں کچھ تاخیر ہوئی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔

کسی کی مذمت کرنا مقصود نہیں ہے، مجھے پارلیمنٹ کا مکمل احترام ہے اور عوامی نمائندوں کا بھی مکمل احترام ہے۔ ایک سوال پر جسٹس (ر)جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ عبدالعلیم خان کی ضمانت ہوئے ابھی چند دن ہوئے ہیں اور یہ سوال کہ اس کے خلاف نیب اپیل دائر کرے گا یا نہیں یہ معاملہ ابھی زیر غور ہے۔ جبکہ ملک ریاض اور آصف علی زرداری کے ساتھ میرا اتنا گہرا تعلق ہوتا تو ان کے ریفرنس کبھی دائر نہ ہوتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں