اپوزیشن جماعتوں کا زرداری ہائوس اسلام آباد میں مشاورتی اجلاس

Spread the love

دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے اعلیٰ سطح کے وفود شریک ہوئے، دیگر جماعتوں کے رہنما بھی موجود تھے ،

متحدہ حزب اختلاف کا سابق وزیراعظم اور کوٹ لکھپت جیل میں قید محمد نوازشریف سے اظہاریکجہتی

پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاسوں میںمہنگائی، بیروزگاری، معیشت کے حوالے سے درپیش بحران کیخلاف شدید احتجاج کا فیصلہ

شرکاء میں بلاول ، مریم نواز، آصف زرداری ، حاصل بزنجو، شیرپائو، لیاقت بلوچ،محسن داوڑ، ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی، جہانگزیب جمالدینی، ایمل ولی خان، حمزہ شہباز

اسلام آباد(اپنے سٹاف رپورٹر سے)اپوزیشن جماعتوں کا اتوارکو زرداری ہائوس اسلام آباد میں اجلاس ہوا۔دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے اعلیٰ سطح کے وفود شریک ہوئے، متحدہ حزب اختلاف نے سابق وزیراعظم اور کوٹ لکھپت جیل میں قید محمد نوازشریف سے اظہاریکجہتی کیا ہے، پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاسوں میںمہنگائی، بیروزگاری، معیشت کے حوالے سے درپیش بحران کیخلاف شدید احتجاج کا فیصلہ کرلیا گیا۔اجلاس کی میزبان پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف زرداری تھے۔

مستقبل میں اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی پرمشاورت کی گئی، اپوزیشن جماعتوں نے گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کردیا ہے آئی ایم ایف سے ڈیل کالے دھن کو سفیدکرنے کی ایمنسٹی سیکم پر تحفظات کا اظہارکردیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے نیب کارروائیوں پربھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیب کی یک طرفہ کارروائیوں کو انتقامی کارروائیاں قرار دیدیا گیا۔ اجلاس میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کی صاحبزادی مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ،پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ،سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف، عوامی نینشل پارٹی کے رہنما، ایمل ولی خان، زاہد خان، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپائو، نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر حاصل بزنجو، بلوچستان نینشل پارٹی (مینگل) کے رہنما جہانزیب جمالدینی، سینیٹر میاں رضا ربانی، سینیٹر شیری رحمان ، نیئر بخاری ، فرحت اللہ بابر اور دیگر شریک ہوئے۔

ملکی معاشی صورت حال اور حکومت کے خلاف حکمت عملی پر غور کیا گیا ۔پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بلاول بھٹو زرداری کے افطار ڈنر میں شریک ہونا تھا تاہم ان کی کوئٹہ سے اسلام آباد کی پرواز چھوٹ گئی تھی جس کے باعث محمود خان اچکزئی کی جگہ سینیٹر عثمان افطار ڈنر میں شر ک ہوئے۔ بلاول نے حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کو مشورہ دیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف صرف پارلیمنٹ میں احتجاج کافی نہیں، اپوزیشن کو عوامی قوت کا مظاہرہ بھی کرنا ہو گا، شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نون لیگ احتجاجی تحریک میں ساتھ چلنے کے لئے تیار ہے تاہم اس کے ایجنڈے کے نکات پہلے طے کرنے چاہئیں۔

بلاول بھٹو نے حمزہ شہباز سے شہباز شریف کی واپسی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ طبی معائنہ مکمل ہوتے ہی واپس آئیں گے۔میاں نواز شریف کی صحت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کی طبیعت ٹھیک نہیں تاہم وہ اپنے نظریے پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ بلاول نے کہا کہ نیب کسی کی کٹھ پتلی بنا ہوا ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply