171

تھوڑی رشوت کام زیادہ وزیر اعظم امبر شہزادہ

Spread the love

موجودہ حکومت ناکام ہوئی تو ہماری پارٹی حکومت بنائے گی عوام ہمارے ساتھ ہیں

افطار پارٹیوں سے کرپشن کی دولت حلال نہیں ہوگی، بہت جلد لیڈروں کو جیل میں دیکھ رہا ہوں

متبادل وزیر اعظم نواب ڈاکٹر امبر شہزادہ کی صرف اردو ڈاٹ کام سے گفتگو

مجھ سے پہلے لوگ اندر سے مسخرے تھے میں باہر سے مسخرہ ہوں اندر سے سنجیدہ انسان ہوں

آپ جناب سرکار پارٹی کے چیئرمین نواب ڈاکٹر امبر شہزادہ نے صرف اردو ڈاٹ کام کے ساتھ خصوصی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت جس صورتحال سے دوچار ہے اس میں اتحاد و یگانگت کی ضرورت ہے، بلاول بھٹو کی طرف سے اتوار کے روز دی جانے والی افطار پارٹی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیسے بغیر روزہ رکھےمحض افطاری کرنے سے ثواب نہیں ملتا، اسی طرح کرپشن چھپانے کے لئے تحریک چلانے سے بھی نتائج ملنے کی کوئی امید نہی نہیں ہے ابھی لکھ لیں کہ اس کا نتیجہ بھی زیروہو گا۔

انہوں نے کہا کہ میں کرپٹ ترین خاندانوں کی اولادوں کی، کم عقلی پر حیران ہوںکہ اس قدر طاقتور میڈیا کے دور میں قوم کو بیوقوف بنانے کا سوچ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صاف نظر آ رہا ہے کہ افطاری کی آڑ میں قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو خرچ کرنے کے طریقے ایجاد کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں امبر شہزادہ نے کہ موجودہ صورتحال اور افطاری بیان بازی اور اجلت پسندی سے میں سمجھتا ہوںکہ جلدی جیل آباد کرنے کا سبب بنے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پرانی کرپٹ ترین سیاسی پارٹیاں دوبار اقتدار میں آ جائیں گی۔

قوم متعدد بار ان پارٹیوں کو آزما چکی ہے۔اب منفرد اور مشہور نعرہ رکھنے والی آپ جناب سرکار پارٹی جو سچائی پے یقین رکھتی ہے کو قوم موقع دے گی۔

تمام سابق حکمران اور ان کی اولادیں جیل بھی جائیں گی اور ان سے ریکوریاں بھی ہونگی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے حالات موجودہ حکومت کی طرح نہیں ہیں ہماری تیاری مکمل ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ملک کی بہتری کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں اور ہر اس آدمی کو لا سکتے ہیں جو کام کرنے کی اہلیت رکھتا ہو، کل ہم پر اعتراض نہ کیا جائےہم نے کسی حفیظ شیخ کو کام پر کیوں لگا دیا ہے۔

ان کےغیر سنجیدہ رویے اور سیاست کے سوال پر انہوں نے کہا کہ آج ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں اور تجزیہ کریں کہ 70 سالوں میں قائم ہونے والی حکومتوں کے سنجیدہ حکمرانوں نے ملک کو کیا دیا ہے؟ اب تک آنے والے تمام حکمران دراصل غیر سنجیدہ تھے وہ سنجیدہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے تھے مگر اندر سے سب مسخرے ہی تھے میں باہر سے بیشک مسخرہ لگتا ہوں مگر اندر سے نہایت سنجیدہ سیاستدان ہوں۔

ملکی ترقی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم ملک کی ترقی کے لیے نہیں بلکہ پائیدار ترقی کے لیے کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کا مطالعہ کر لیں ہر کسی نے ترقی کا نعرہ لگایا ہے مگر کسی نے پائیدار ترقی کی طرف توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی نگاہ صرف اپنے اثاثوں کے درجات بلند کرنے پر ہو ان کو ترقی اور پائیدار ترقی کا علم ہو ہی نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا کوئی ملک یا ادارہ اس وقت ترقی کر سکتا ہے جب وہاں کے لوگ ضرورت کے تحت کرپٹ ہوں لیکن جب لوگ عادت کے تحت کرپٹ ہوتے ہیں تو بربادی آتی ہے مثال آپ کے سامنے ہے۔ میں اور میری کابینہ بھی ضرورت کے تحت کچھ نہ کچھ کرپشن ضرور کریں گے البتہ کرپشن ہماری رگوں میں نہ دوڑ رہی ہے اور نہ ہی دوڑے گی۔

اپنی پارٹی کے منشور کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’’چمچہ چمچہ کھاواں گے اپنا ملک بچاواں گے‘‘ انہوںنے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت کرپشن کو ختم نہیں کر سکتی یہ قانون قدرت کے خلاف ہےالبتہ کرپشن کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے اس لیے میں نے کبھی نہیں کہا کہ ہم ملک سے کرپشن کا خاتمہ کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صرف میرے عنان حکومت سنبھالنے سے ہی ملک ترقی کر سکے گا کیوں کہ میں ایک سچا سیاستدان ہوںمیں تو نعرہ ہی یہی ہے کہ ، نیم کرپٹ آوے گا ملک ترقی پاوے گا۔ تھوڑی رشوت کام زیادہ وزیراعظم امبر شہزادہ، پوری قوم کا ایک ارادہ وزیراعظم امبر شہزادہ۔ ہم ضرورت کے تحت کرپشن کے قائل ہیں اور خواہش کے تحت کرپشن کے خلاف ہیں۔ کرپشن کو سرے سے ختم کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ھے

اپنا تبصرہ بھیجیں