آج ڈاکٹر وزیر آغا، علی ظفر کا یوم پیدائش اور شاعر عبیداللہ علیم کا یوم وفات ہے

Spread the love

لاہور(صرف اردو ڈاٹ کام نیوز) اردو زبان کے معروف محقق ڈاکٹر وزیر آغا18 مئی 1922ء کو سرگودھا میں میں پیدا ہوئے اور انہوں نے 1943ء میں گورنمنٹ کالج لاہو ر سے معاشیات میں ایم اے کیا تھا۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری انہوں نے جامعہ پنجاب سے 1956ء میں حاصل کی۔ اپنی ادبی صحافت کا آغاز انہوں نے ادبی دنیا لاہو ر کے جوائنٹ ایڈیٹیر کی حیثیت سے 1960ء میں کیا تھا پھر انہوں نے لاہور سے اپنا سہ ماہی رسالہ اوراق 1965ء میں شائع کرنا شروع کیا۔ جو 2003ء تک باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا اور ان برسوں میں اس رسالے نے تو تین ادبی نسلوں کی آبیاری کی اوراق نے مضامین نو کے انبار لگا دیے۔ صحافتی مصروفیات کے علاوہ وزیرآغا کا اپنا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ ان کے اب تک 10شعری مجموعے،انشائیوں کے چھ مجموعے اور 15تنقیدی مضامین کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی شعری تخلیقات کی کلیات ’چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل‘ بھی چھپ چکی ہے۔ ان کا انتقال 8 ستمبر2010 کو ہوا۔

علی ظفر 18 مئی 1980ء کو پیدا ہوئے پاکستان سے تعقل رکھنے والے ایک موسیقار، گلوکار، پینٹر، ڈائریکٹر اور فلم اداکار ہیں۔ انہوں نے پاکستانی اداکارہ اور ڈائریکٹر ثمینہ پیرزادہ کی طرف سے ہدایت کردہ فلم شرارت میں گیت جگنوئوں سے بھر لو آنچل کے ساتھ اپنے گانے کے کیریئر کا آغاز کیا۔

عبید اللہ علیم 12 جون 1939ء کو بھوپال ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے۔ 1952ء میں وہ اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آ گئے۔ 1969ء میں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ پھر پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور پروڈیوسر ملازمت اختیار کی مگر حکام بالا سے اختلافات کی وجہ سے 1978ء میں انہوں نے اس ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ عبید اللہ علیم کا شمار موجودہ دور کے غزل کے بہترین شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ “چاند چہرہ ستارہ آنکھیں” 1978ء میں شائع ہوا جس پر انہیں آدمجی ادبی انعام بھی ملا۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعوں میں “ویران سرائے کا دیا” اور “نگارِ صبح کی امید” شامل ہیں۔ ان تینوں مجموعہ ہائے کلام پر مشتمل ان کی کلیات ’’یہ زندگی ہے ہماری‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ان کی دو نثری تصانیف “کھلی ہوئی ایک سچائی” اور “میں جو بولا” کے نام سے شائع ہو چکی ہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کا تعلق مرزائیت سے تھا۔ 18 مئی 1998ء کو عبید اللہ علیم کراچی پاکستان میں وفات پا گئے اور کراچی میں اسٹیل مل کے نزدیک رزاق آباد میں باغ احمد نامی قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply