شیخ محمد دین کون ہے جس کا گوگل پر ڈوڈل چلایا جا رہا ہے

Spread the love
بشکریہ آزاد دائرۃ المعارف انسائیکلوپیڈیا

شیخ دین محمد 1759 میں پٹنہ میں پیدا ہوا جب ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان پر قبضہ جما رہی تھی۔ اس زمانے میں پٹنہ بنگال کا حصہ تھا اب یہ بہار کا حصہ ہے۔ دین محمد نے انگریز افواج کے ساتھ جو سفر کیے اس کا سفرنامہ 1794 میں شائع کیا۔ یہ پہلی کتاب ہے جو کسی ہندوستانی نے انگریزی زبان میں چھپوائی تھی۔

دین محمد کے باپ دادا ترکی سے تعلق رکھتے تھے اور سترھویں صدی میں ایران کے راستے ہندوستان آئے تھے تاکہ مغل دربار میں اچھی نوکری کر سکیں۔ دین محمد کے زمانے میں مغلوں کی حکومت زوال پذیر ہو چکی تھی۔ اس کے سفر نامے میں شاہ عالم دوّم، الٰہ باد اور دہلی کا بڑی تفصیل سے ذکر ہے۔
دین محمد کا باپ اور بھائی ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم تھے۔ دین محمد کی عمر صرف گیارہ سال تھی جب اس کے باپ کا انتقال ہو گیا۔ دین محمد انگریزوں سے بڑا متاثر تھا اور فوجی زندگی گزارنے کا خواہش مند تھا اس لیے اپنی ماں کی مخالفت کے باوجود انگریزی فوج میں بطور خدمت گار شامل ہو گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کیپٹن ایوان بیکر نے دین محمد کو اپنے پاس رکھ لیا۔ دین محمد نے اپنے سفر نامے میں کیپٹن بیکر کو اپنا بہترین دوست قرار دیا۔

بارہ سال تک بیکر اور شیخ دین محمد کا کام برطانوی فوج کے لیے روزمرہ کا ضروری سامان فراہم کرنا تھا۔ اس کے لیے نزدیکی گاوں دیہات کے لوگوں کو دھونس دھمکی دیکران سے کھانے پینے کا سامان، گوشت کے لیے مرغیاں اور بکریاں اور نقل و حمل کی ضروریات کے لیے بیل گھوڑے اور اونٹ ہتھیا لیے جاتے تھے۔

1782 میں گورنر جنرل ہیسٹنگز نے بیکر کو تین قاتلوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ بعد میں بیکر کے خلاف دیہاتیوں نے شکایت کی کہ اُس نے پورے گاوں کو گرفتار کر لیا اور رقم وصول کر کے چھوڑا۔ ہیسٹنگز نے بیکر کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا۔ بنارس کے کمپنی ریزیڈنٹ نے تحقیقات کے بعد بیکر کو بے قصور قرار دیا مگر بیکر نے، جو ہندوستان میں 15 سال گزار چکا تھا، بنگال آرمی کی نوکری چھوڑنے کا ارادہ کر لیا اور 27 نومبر 1783 کو استعفاء دے دیا۔ (غالباً اس کا جرم چھپانے کے لیے اس سے استعفاء بھی لے لیا گیا اور اسے بے قصور بھی قرار دیا گیا)۔ قواعد کے مطابق نوکری چھوڑنے سے ایک سال پہلے استعفاء دینا ضروری تھا۔ 1784 میں جب بیکر کمپنی کی ملازمت سے فارغ ہوا تو دین محمد بھی نوکری چھوڑ کر 25 سال کی عمر میں بیکر کے ساتھ آئر لینڈ چلا گیا۔

یہ بات حیران کن ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے سابقہ ملازم ہونے کے باوجود کیپٹن بیکر اور صوبیدار دین محمد نے آئرلینڈ جانے کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کے جہاز میں سفر نہیں کیا بلکہ ایک ڈنمارک کے جہاز Christians borg میں سفر کیا حالانکہ ڈنمارک کی کمپنی برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی حریف تھی۔ اس سے شک ہوتا ہے کہ ان کے پاس ایسا سامان تھا جسے وہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے چھپانا چاہتے تھے۔ یہ جہاز پہلے جنوب مغربی انگلینڈ کی بندرگاہ Dartmouth پہ رکا جو اسمگلنگ کا اڈا تھی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ بیکر اور دین محمد نے اپنا کچھ سامان چھوٹی کشتیوں میں Cork بھجوا دیا۔ بیکر کا باپ Cork کی بندرگاہ کا ہاربر ماسٹر (Water Bailiff) تھا۔

تین سال بعد بیکر کا انتقال ہو گیا۔ دین محمد نے آئرش لڑکی جین ڈیلی (Jane Daly) سے شادی کرنے کے لیے اسلام ترک کر کے مسیحیت اختیار کی اور باقی عمر برطانیہ میں گزاری۔۔ 92 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوا۔

بی بی سی اردو کے مطابق محمد دین نے متعدد کاروبار کیے مگر بدقسمتی سے کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکا اس نےیہ بھی لکھا ہے کہ محمد دین فوج میں جراح اور مالشیے کے طور پر ملازم تھا جب اس کا کوی کان نہ چل سکا تو ان نے ایک حمام کھول لیا اور دعویٰ کیا کہ وہ نہانے کے پانی اور مالش کے تیل میں مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں استعمال کرتا ہے یہاں محمد دین لوگوں کی چمپی کیا کرتا تھا اور انگریزوں میں اس کا یہ طریقہ کار بہت مقبول ہوا اس کی یہی چمپی کا لفظ بگڑ کا شیمپو بن گیا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply