پی ٹی اے کاغیر رجسٹرڈ موبائل کوبلاک کرنے کے نظام فیل، پیسہ مافیا کے جیبوں میں جا رہا ہے

Spread the love

فری لانسنگ کی تربیت پر بھی پیسہ ضائع ہوا، فری لانسرز کو مشکلات کا سامنا ہے

فری لانسرز کو ادائیگیوں کے لیے علی پے اور گوگل سے رابطہ کیا جائے، پے پال کو پاکستان لایا جائے

اسلام آباد(وائس آف ایشیا، صباح نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پی ٹی اے کاغیررجسٹرڈ موبائل کوبلاک کرنے کے نظام میں بڑی بد نظمی کاانکشاف ہوا، حکومت کوٹیکس دینے کے بجائے مافیا بیرون ممالک سے آنے والوں کے نام پر موبائل رجسٹرکروا کر 3 ہزر فی موبائل لے رہے ہیں۔

وزیرآئی ٹی خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ پے پال پاکستان نہیں آرہا گوگل اور علی پے سے بات ہورہی ہے حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ 17 سوکلومیٹر ہائی ویز اور موٹرویز کیساتھ موبائل سروس دیں گے، ہائی ویزاورموٹرویز پرایک نیٹ ورک دوسرے نیٹ ورک کونیشنل رومنگ دینے کاپابندہوگا۔ سابقہ حکومت کے منصوبوں کو جاری رکھنے پر وزیر آئی ٹی کو کمیٹی نے خراج تحسین پیش کیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کااجلاس چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت ہوا۔ یوایس ایف کے حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ موبائل نیٹ ورک خیبرایجنسی میں 70% کام مکمل ہوگیا ہے مہمند میں 11 جگہوں پر کام ہورہاہے۔ پورے ملک میں 7 ہزار فائبر آپٹک بچائی جاچکی ہے۔ براڈ بینڈ میں 10% اضافے سے جی ڈی پی میں 1% اضافہ ہوتاہے مستقبل میں 11 لاٹ میں تیزترین نیٹ فراہم کریں گے تین کروڑ عوام تک پہنچے گا ہائی وے کے ساتھ موبائل کی سہولت دیں گے ہائی وے اورموٹروے میں 18 سوکلومیٹر پر سروس فراہم کریں گے موٹروے اور ہائی وے پر موبائل سروس شروع ہوجائے گی اور اس پر نیشنل رومنگ کی سہولت ہوگی۔

سینیٹرعبدالغفور حیدری نے کہاکہ قلات شہر میں انٹرنیٹ نہیں ہے جبکہ اردگرد انٹرنیٹ ہوتا ہے اس کی وجہ کیا ہے یا پابندی لگاکربھول گئے ہیں۔

سینیٹرکلثوم پروین نے کہاکہ لوگوں کوبینک اکاؤنٹ کھولنا نہیں آتا ہے الیکشن میں بیلٹ پیپر پرشیر کا موٹا سا نشان تھا مگر لوگوں کونظر نہیں آیا اور شیر کے بجائے بلی پر ٹھپے لگائے۔

سینیٹرشیخ عتیق نے کمیٹی میںانکشاف کیاکہ پی ٹی اے کاموبائل رجسٹریشن کانظام فیل ہوگیاہے پیسے حکومت کے بجائے لوگ تین ہزارمیں موبائل ان بلاک کر رہے ہیں جس کے لیے بیرون ممالک سے آنے والوں کا ڈیٹا استعمال کیا جاتا ہے۔ بیرون ملک سے بغیر موبائل کے آنے والے مسافرون کے نام پر موبائل رجسٹر ہو رہے ہیں۔

قائمہ کمیٹی آئی ٹی کے اجلاس میں یونیورسل سروسز فنڈز کے حکام کی منصوبوں پر بریفنگ دی ۔حکام نے بتایاکہ جن علاقوں میں موبائل آپریٹرز کا جانا مشکل ہے وہاں یو ایس ایف کمپنیوں سبسڈی دیکر عوام کو سہولت فراہم کراتا ہے کمپنیاں اپنے ریونیو کا پانچ فیصد حصہ یو ایس ایف فنڈ میں جمع کراتی ہیں پچاس فیصد سے زائد کسی کمپنی کو یو ایس ایف فنڈز استعمال کی اجازت نہیں ہوتی آپریٹرز کے لائسنس میں شامل ہے وہ سب کو کوریج دیں۔

رحمن ملک نے کہاکہ کمپنیوں کے پاس آپشن نہیں لاہور میں سروسز دیں اور دیہی علاقوں کو چھوڑ دیں یو ایس ایف فنڈ تو واپس انہی کمپنیوں کو واپس دیا جا رہا ہے یہی پیسہ سافٹ وئیر ہاوسز اور آئی ٹی پارکس بنانے پر خرچ ہو سکتا تھا۔ سیکرٹری وزارت نے کہاکہ لائسنس میں معیاری سروس اور علاقے کا ذکر ہوتا ہے۔ آئی ٹی سافٹ وئیر اور ریسرچ کا پیسہ اگنائٹ کو دیا جاتا ہے۔

حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ ملک بھر میں خصوصی منصوبوں کے تحت 120 کمپیوٹر لیبز بنائی گئیںلیبز میں 24 سو کمپوٹرز فراہم کیے گئے ملک بھر میں خواتین کے ٹریننگ سینٹرز بنائے گئے اس پروگرام میں فیس بک اور ہواوے نے ہماری مدد کی ہواوے نے ٹیچرز کو 100 ٹیبلٹس دیئے خواتین نے اس پروگرام کے تحت کوڈننگ سیکھی۔

سینیٹر رحمن ملک نے کہاکہ سکولوں کی عمارتوں کو شام کے وقت استعمال میں لائیں، چیئرپرسن کمیٹی نے کہاکہ ہم سب مل کر نمبر گیم کھیل رہے ہیں، اگر اتنے لوگوں کو ٹریننگ دی گئی کہ ملک میں بے روزگاری کیوں ہے، پسماندہ علاقوں کی ان پڑھ لڑکیوں نے 4 ماہ میں کوڈنگ کیسے سیکھ لی، آپ یہ کہہ سکتے ہیں آپ نے لڑکیوں کو شعور دیا۔

سینیٹر عتیق نے کہایو ایس ایف کے نمائندوں کو سمجھنا چاہیے فری لانس کے کیا مسائل ہیں، سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ ہم نے فری لانس کے ساتھ سروے کیا ہے ان کو واقعی مشکلات ہیں، پے پال کے ساتھ ابھی بھی بات چل رہی ہے،پے پال کے اپنے اندرونی مسائل ہیں جس کی وجہ سے وہ نہیں آ رہے، اسٹیٹ بینک نے منی لانڈرنگ کے قوانین مزید سخت کر دیئے ہیں۔ سینیٹرمیاں عتیق نے کہاکہ آپ پے پال کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت معاہدہ کریں، منی لانڈرنگ کی وجہ سے پے پال پاکستان نہیں آرہاہے فری لانسر کے لیے مسائل ہیں۔ پے پال کے ساتھ تھرڈ پارٹی ایگریمنٹ کیاجائے۔ روبینہ خالد نے کہاکہ ہم اسی وجہ سے بڑی رقم کھو رہے ہیں۔وزیر آئی ٹی خالدمقبول نے کہاکہ ہماری اس معاملے پر گوگل اور علی پے سے بھی بات ہو رہی۔سینیٹررحمن ملک نے کہاکہ ڈالر کے معاملے پر وزیر اعظم کو 2 ماہ پہلے خط لکھا، 200 اکاونٹس پکڑے گئے جو پیسے کو اوپر نیچے کرتے تھے،پاکستان میں کریڈٹ چیکنگ کا کوئی نظام نہیں ہے، وزیر آئی ٹی ملک میں کریڈٹ ریٹنگ کا نفاظ کریں، وٹس ایپ بھی محفوظ نہیں یہ ہیک ہو جاتا ہے واٹس ایپ انتظامیہ سے پوچھ کر بتایا جائے محفوظ ہے کہ نہیں.ِ چین سے آنے والی فاِئبر آپیٹیکل جہاں سے گزرتی ہے لوکل لوگوں کو کنکشن دیں.خنجراب سے آنے والی اس کیبل سے فائدہ اٹھائیں.سی ای او ایف ڈبلیو او سے اجازت لیکر مقامی لوگوں کو فائدہ دیں۔حکام یو ایس ایف نے کہاکہ پاکستان میں آپیٹل فائبر کا نہ ہونا چیلنج ہے موبائل ٹاورز میں دس فیصد فاِئبر آپٹیکل ہے.یو ایس ایف نوے فیصد ٹاور پر مائیکرو ویو پر چل رہے ہیںفائیو جی کیلئے ٹاورز کے ساتھ سو فیصد فائبر آپٹیکل کنکشن ضروری ہے ۔

Please follow and like us:

Leave a Reply