16 مئی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1943ء جرمنی میں یہودی بغاوت کو کچل دیا گیا

1960ء روسی صدر نیکیتا خرو شچیف نے امریکی جاسوسی جہاز کی روسی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر صدر آئزن ہاور سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا

2005ء کویتی پارلیمنٹ نے خواتین کے حق رائے دہی کا بل منظور کیا

2005ء پاکستان کی قومی اسمبلی نے پیمراکا بل منظور کیا

ولادت

1151ء ابو محمد عبد اللہ العاصد الدین اللہ دولت فاطیہ کا چودواں خلیفہ اور آخری 555 ہجری تا 567 ہجری۔ فائز کے انتقال کے بعد طلائع نے عاصد کو خلیفہ بنا دیا جو حافظ کا پوتا اور اس کے بیٹے یوسف کا بیٹا تھا۔

1883ء جلال بایار، ترکی کے ایک سیاست دان 1921ء سے 1937ء تک مختلف وزارتوں پر فائز رہے۔ 1923ء میں ترکی اور یونان کے مابین تبادلہ آبادی ہوا تو اس کے نگران تھے۔ 1937ء میں وزیر اعظم بنے۔ 1938ء میں کمال اتاترک کا انتقال ہوا تو استعفیٰ دے دیا۔ 1946ء میں عدنان میندریس کے ساتھ مل کر ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1950ء کے انتخابات میں ان کی جماعت نے کامیابی حاصل کی تو عصمت انونو کی جگہ ترکی کے صدر منتخب ہوئے۔ اس کا انتقال 22 اگست 1986 کو ہوا۔ انتقال کے وقت اس کی عمر 103 سے تھی۔

1923ء مرٹن ملرامریکا کے ماہر اقتصادیات ہیں اقتصا دیات میں انکی کام کی اہمیت کو دیکھ کر 1990 میں انھیںولیم ایف۔ شارپ اور ہیری مارکوٹز کو نوبل میموریل انعام برائے معاشیات مشترکہ طور پر دیا گیا۔ ان کا انتقال 3 جون 2000 کو ہوا۔

1950ء جونس جیورج بیڈنورز ایک مغربی جرمنی کے طبیعیات دان تھے۔ انھوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا یہ انعام 1987 میں انھوں نے سوئزرلینڈ کے سائنس دان کارل ایلکزینڈر میولر کے ہمراہ کرامک اشیاء میں سوپر کنڈکٹیوٹی کی دریافت کرنے پر یہ انعام ملا۔

1953ء پیئرس بروسنن، ایک آئرش اداکار اور فلم پروڈیوسر ہے۔ ایک آئیرش شہری ہونے کے علاوہ بروسنن ایک امریکی شہری بھی ہے۔ انہوں نے شہرہ آفاق جیمز بانڈ کا کردار بھی ادا کیا ان کی معروف فلموں میں
GoldenEye (1995), Tomorrow Never Dies (1997), The World Is Not Enough (1999) and Die Another Day (2002)

وفات

1604ء من بھاوتی بائی، مغل بادشاہ جہانگیر کی پہلی ملکہ اور شہزادہ خسرو مرزا کی ماں تھی۔ اپنے بیٹے کو جنم دینے کے بعد اس نے شاہ بیگم کا خطاب حاصل کیا۔

1926ء محمد سادس یا محمد وحید الدین، سلطنت عثمانیہ کے 36 ویں اور آخری فرمانروا تھے جو اپنے بھائی محمد پنجم کے بعد 1918ء سے 1922ء تک تخت سلطانی پر متمکن رہے۔ انہیں 4 جولائی 1918ء کو سلطنت کے بانی عثمان اول کی تلوار سے نواز کر 36 ویں سلطان کی ذمہ داریاں دی گئی تھیں۔ ان کے دور حکومت کا سب سے اہم اور بڑا واقعہ جنگ عظیم اول تھا جو سلطنت کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی۔ جنگ میں شکست کے نتیجے میں برطانوی افواج نے بغداد اور فلسطین پر قبضہ کر لیا اور سلطنت کا بیشتر حصہ اتحادی قوتوں کے زیر قبضہ آ گیا۔ اپریل 1920ء کی سان ریمو کانفرنس کے نتیجے میں شام پر فرانس اور فلسطین اور مابین النہرین پر برطانیہ کا اختیار تسلیم کر لیا گیا۔ 10 اگست 1920ء کو سلطان کے نمائندوں نے معاہدۂ سیورے پر دستخط کیے جس کے نتیجے میں اناطولیہ اور ازمیر سلطنت عثمانیہ کے قبضے سے نکل گئے اور ترکی کا حلقۂ اثر مزید سکڑ گیا جبکہ معاہدے کے نتیجے میں انہیں حجاز میں آزاد ریاست کو بھی تسلیم کرنا پڑا۔ ترک قوم پرست سلطان کی جانب سے معاہدے کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر سخت ناراض تھے اور انہوں نے 23 اپریل 1920ء کو انقرہ میں مصطفٰی کمال اتاترک کی زیر قیادت ترک ملت مجلس عالی (ترکی زبان: ترک بیوک ملت مجلسی) کا اعلان کیا۔ سلطان محمد سادس کو تخت سلطانی سے اتار دیا گیا اور عارضی آئین نافذ کیا گیا۔ قوم پرستوں نے جنگ آزادی میں کامیابی کے بعد یکم نومبر 1922ء کو سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا اور سلطان کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے ملک بدر کر دیا گیا جو 17 نومبر کو بذریعہ برطانوی بحری جہاز مالٹا روانہ ہو گئے اور بعد ازاں انہوں نے زندگی کے آخری ایام اطالیہ میں گزارے۔ 19 نومبر 1922ء کو اُن کے قریبی عزیز عبد المجید آفندی (عبد المجید ثانی) کو نیا خلیفہ چنا گیا جو 1924ء میں خلافت کے خاتمے تک یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔ محمد سادس کا انتقال 16 مئی 1926ء کو سان ریمو، اٹلی میں ہوا اور انہیں دمشق کی سلطان سلیم اول مسجد میں سپرد خاک کیا گیا۔

1947ء فریڈرک گولینڈ ہوپکنس ایک انگریز حیاتیاتی کیمیاءدان تھے جنھوں نے طب و فعلیات کا نوبل انعام 1929 میں جیتا تھا۔ انھوں نے وٹامن کو دریافت کیا تھا نیز وہ رائل سوسائٹی کے صدر بھی رہے تھے۔ وہ 20 جون 1861 کو پیدا ہوئے۔

1999ء ضمیر جعفری اردو کے ممتاز مزاح نگار اور شاعر ہیں۔ انکا پورا نام سید ضمیر حسین جعفری تھا۔ 1 جنوری 1916ء کو جہلم کے ساتھ ایک گاؤں چک عبدالخالق میں پیدا ہوئے۔ تعلیم جہلم، اٹک اور لاہور سے حاصل کی۔ صحافت سے وابستہ ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم میں فوج میں شامل ہوئے۔ 1948ء میں اخبار نکالا۔ 1950ء میں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا دوبارہ فوج میں آئے۔ سی ڈی اے اسلام آباد، نیشنل سنٹر اور اکادمی ادبیات پاکستان سے متعلق رہے۔ مافی الضمیر شعری مجموعہ ہے۔ آپ نے 16 مئی 1999ء کو وفات پاگئے۔

2000ء شیخ القرآن مولانا غلام علی اوکاڑوی اہلسنت کے اکابر مشائخ اور اہلسنت کے بڑے علما میں شمار ہوتے ہیں۔ شیخ القرآن کا مشغلہ دینی مدارس کے طلبہ کو درسی کتب کی تعلیم دینا تھا، ساری زندگی اسی شغف میں لگے رہے، اس کے ساتھ آپ دورہ تفسیر قرآن کورس کے نام سے دینی مدارس کی سالانہ تعطیلات میں اہتمام کرتے جو بڑی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ کیونکہ اس میں برسوں کی ریاضت کا نچوڑ ہوا کرتا۔ اس میں اعتقادی ،علمی اور فقہی مسائل آسان طریقے سے سمجھائے جاتے۔ غلام علی اوکاڑوی کی کاوش سے 1954ء میں جامعہ حنفیہ اشرف المدارس اوکاڑہ کا قیام ہوا جو علم کا ایک روشن مینار ہے۔ سیاسی و مسلکی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے تحریک پاکستان سے تحریک نظام مصطفے ٰ تک ہر پلیٹ فارم پر نمایاں خدمات ہیں سنی کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ عالمی سنی کانفرنس ملتان اور میلاد مصطفے ٰ کانفرنس رائے ونڈ ان کے کا رہائے نمایاں میں شامل ہیں۔

2013ء ہنرچ رورر ایک سوئزرلینڈ کے طبیعیات دان تھے۔ انھوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا یہ انعام 1986 میں انھوں نے اپنے دو جرمن سائنس دان گرڈ بنگکے سائنس دان ارنسٹ رسکا کے ہمراہ سکیننگ ٹنلنگ مائکروسکوپ کے ڈزائن تخلیق کرنے کی وجہ سے ظاہر کرنے پر پر یہ انعام ملا۔ ان کی پیدائش 6 جون 1933ء بیان کی گئی ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply