حمزہ شہبازکوچیئرمن پی اے سی نہ بنانے پرن لیگ ناراض، قائمہ کمیٹیوں کے الیکشن کا بائیکاٹ

Spread the love

لاہور(جنرل رپورٹر )پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو چیئرمن

پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی ) نہ بنائے جانے پر ن لیگ حکومت سے

ناراض ہوگئی۔ن لیگ نے حمزہ شہباز کو چیئرمن پی اے سی بنائے جانے تک تمام

کمیٹیوں کے الیکشنز کا بائیکاٹ کردیا ہے۔مسلم لیگ ن نے آج ہونے والے قائمہ

کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے چناؤ کا بھی بائیکاٹ کردیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی 3

قائمہ کمیٹیوں کے چیئررمینوں کا چناؤ ہونا تھا۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ،پبلک

پراسکیوشن اور ریونیو کا انتخاب عمل میں لایا جانا تھا۔مسلم لیگ ن کی رہنما

عظمی بخاری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے حمزہ شہباز کو پی

اے سی چئیرمین بنانے کا وعدہ کیاتھااس پر یوٹرن لے لیاہے۔پنجاب کو بنی گالہ

سے چلانے کی مزید اجازت نہیں دیں گے۔عظمی بخاری نے کہا صوبائی خود

مختاری کیخلاف ہے کہ وزیر اعظم لاہور آ کر فیصلہ کریں کہ پنجاب اسمبلی میں

کیا ہوگا؟پنجاب اسمبلی میں تین قائمہ کمیٹیوں کے الیکشن کا بائیکاٹ کیاہے۔ ہم

قائمہ کمیٹیوں کے کسی الیکشن میں شامل نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر حمزہ

شہباز کو پی اے سی ون کا چیئرمین بنانے کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیاگیا تو

حکومت کے خلاف کسی بھی سطح تک جانے کیلئے تیار ہیں۔ہمارا بائیکاٹ حمزہ

شہباز کے پی ایسی ون کے چیئرمین بننے تک جاری رہے گا۔صوبائی وزیر قانون

راجہ بشارت نے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کی تقسیم پر اپوزیشن کے ساتھ معاملات

طے شدہ ہیں۔ طے شدہ فارمولہ کیمطابق 19 قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ

اپوزیشن اور اکیس قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ حکومت کو ملناہے۔ جو قائمہ

کمیٹیاں حکومت کے حصے میں آئیں اس میں اپوزیشن جان بوجھ کر رکاوٹیں ڈال

رہی ہے انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے۔راجہ بشارت نے کہا حکومت قائمہ کمیٹیوں

کے طے شدہ فارمولے پر قائم ہے ،تاہم پی اے سی ون کے چئیرمین کا فیصلہ نہیں

ہو سکا۔ پی اے سی ون کا معاملہ وقت گزرنے کے ساتھ حل کر لیں گے۔ اپوزیشن

کا نئی کمیٹیاں کے طے شدہ فارمولے کے باوجود بائیکاٹ مناسب نہیں ہے۔انہوں

نے کہا کہ انیس قائمہ کمیٹیوں میں سے پانچ یاچھ چیئرمین بنوا لئے ہیں،حکومت

اپوزیشن کی قائمہ کمیٹیوں میں تعاون کیلئے تیار ہے۔ پی اے سی ون کو بہانہ بناکر

پارلیمانی امور میں رکاوٹیں کھڑی کرنا پارلیمانی عمل نہیں ہے۔



Please follow and like us:

Leave a Reply