ملک کو مقروض کرنے اور اپنے قرض معاف کرانے والے لیڈروں کی کہانی (دوسرا حصہ)

Spread the love

محض 336 افراد ہیں جن سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لیا جائے تو پاکستان کو قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہر سال قرض ان لوگوں کو زندہ رکھنے کے لیے لینا پڑتا ہے

پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے آخر کار IMF سے قرضہ لیکر قوم پر مزید بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے حالانکہ کپتان چاہتا تو این ڈی ایف سی کے 336 لٹیروں سے 1280ارب روپے واپس لیکر ملک کو قرضوں کی لعنت سے پاک کرسکتے تھے مگر ناجانے کیوں الیکشن سے قبل کیے ہوئے وعدوں پر یوٹرن لے لیا گیامیں نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ کیا وزیراعظم اپنے سیاسی حلیف چوہدری پرویز الٰہی اینڈ برادران سے تقریبا 18 سال بعد تین ارب ننانوے کروڑ بیس لاکھ باسٹھ ہزار تین سو بتیس روپے کا معاف کروایا گیا قرضہ واپس لے سکیں گے جو یقینا نہیں واپس ہوسکتا کیونکہ چوہدریوں کی ڈیڑھ اینٹ کی وجہ سے عمران خان کے ہاتھ میں وزیراعظم کی لکیر ابھری ہوئی ہے مگر عمران خان کو ایک بار تو سوچنا چاہیے تھا کہ تقریبا 7 ارب ڈالر یعنی 980 ارب روپے کا قرضہ پاکستانی قوم کے نام پر لے کر پہلے سے 30 ہزار ارب روپیہ کے قرضوں کے پہاڑوں کے نیچے دبی ہوئی قوم کے اوپر مزید وزن ڈالنے سے پہلے صرف اور صرف پاکستان کے ایک قومی مالیاتی ترقیاتی ادارے NDFC کے 336 لٹیروں سے اس قوم کا لوٹا ہوا 1280 ارب روپیہ واپس کروانے کے احکامات جاری کرتے صرف نواز شریف کو جیل میں ڈالنے سے تو پیسہ واپس نہیں آسکتا۔

عمران خان کی وزارت عظمی چوہدری پرویز الٰہی کی وجہ سے قائم ہے ان سے حساب کون لے گا

ہاں یہ پیسہ اب بھی واپس آسکتا ہے اگر وزیراعظم این ڈی ایف سی کی وہی پرانی ریکوری ٹیم کو حکم دیں تب ورنہ آپ قرضے لیتے جائیں گے اور شکاری انہیں ہضم کرتے رہیں گے کیونکہ سال 1978 سے لیکر 1998 تک لوٹا ہوا پیسہ جوکہ پچھلی حکومتوں نے اس غریب قوم کے نام پر عالمی مالیاتی اداروں اور دنیا کے مختلف ممالک کی بینکوں سے قرضہ لیاہوا تھا جن کی مالیت سال 2000 میں 88 ارب روپے سے زیادہ بنتی تھی یہ سارے پیسے پاکستان کی اشرافیہ جن میں نواز شریف گروپ، آصف علی زرداری گروپ، چودھری شجاعت حسین گروپ،غلام المصطفی جتوئی گروپ، یوسف رضا گیلانی گروپ، شون گروپ، توکل گروپ،چودھری قاسم لاہوری گروپ، سہگل گروپ، لاکھانی گروپ، دادا بھائی گروپ، حب پاور حبکو، انوار زیب وائٹ سیمنٹ گروپ، پاک لینڈ سیمنٹ گروپ اورفیکٹو گروپ کے علاوہ بھی کچھ اشرافیہ کے گروپ ہیں جن کی طرف آج کی دن کے مطابق 12 کھرب 75 ارب روپے قرض بنتا ہے NDFC کے ریکارڈ کے مطابق پورے پاکستان میں ان اشرافیہ کی کل تعداد 336 ہے جنہوں نے اس غریب قوم کو مقروض کرکے سارا پیسہ خود کھا لیا ہے۔

این ڈی ایف سی کو بند ہوئے ایک عرصہ ہوچکا ہے اور اب یہ نام لوگوں کے ذہنوں سے بھی مٹنا شروع ہوچکا ہے اپنے پڑھنے والوں کی یاد داشت کو تازہ کرنے کے لیے بتاتا چلوں کہ پاکستان کا سب سے بڑا قومی ترقیاتی مالیاتی ادارہ (NDFC) 1973 کو پاکستان کی غریب عوام کی ترقی کے لیے قومی اسمبلی سے NDFC ACT 1973کے ذریعے وجود میں آیا تھا اور پھر اپنے قیام کے تھوڑے ہی عرصہ بعد اس ادارہ کے تعاون سے پاکستان اسٹیل مل اور ہیوی مکینیکل کمپلیکس سمیت پاکستان میںبڑی بڑی انڈسٹریز لگواکر پاکستان کو ترقی کے راستے پرگامزن کردیا مگر سال 1978 سے پاکستان کی ترقی کے دشمن رہبر کے روپ میں رہزن بن کر غریب عوام کے نام ورلڈ بینک اور اسلامک ڈویلپمنٹ بینک سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے بینکوں سے قرضہ لے لے کر اپنی حکومتوں کو مضبوط کرنے کے لیے مخصوص ٹولے کو نوازتے رہے جن میں پاکستان کے دو سابق وزرائے اعظم غلام المصطفی جتوئی اور مخدوم سیدیوسف رضا گیلانی جیسے رہبر بھی NDFC کے لٹیروں میں شامل ہیں۔

سابق وزیراعظم غلام المصطفی جتوئی کی مورو ٹیکسٹائل مل کے ڈائریکٹر غلام مرتضی’ جتوئی ولد غلام المصطفی جتوئی شناختی کارڈ نمبر 9278351۔91۔514، مسرور جتوئی، طارق مصطفی جتوئی، شیخ نئیم الرحمن،مسز ہدایت خاتون، مسز نوین مرتضی جتوئی،مسز نزہت جتوئی اور ابو طاہر کی طرف سال 2000 تک NDFC کا قرضہ Rs.211328000/اکیس کروڑ تیرہ لاکھ اٹھائیس ہزار بنتا تھا اور آج کے حساب کتاب کے مطابق یہ رقم Rs.5626255776/پانچ ارب باسٹھ کروڑ باسٹھ لاکھ بچپن ہزار سات سو چھہتر روپے بنتی ہے اسی طرح سابق وزیراعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کی ملتان اڈیبل آئل مل کی ڈائریکٹر مسز فوزیہ رضا گیلانی بیوی مخدوم سید یوسف رضا گیلانی شناختی کارڈ نمبر
724708، 322-58-انور نسرین گیلانی، ضیاءالرحمن، نسیم انور، سید ثمینہ ابرار، چودھری منور حسین، چودھری خالد حسین کی طرف سال 2000 تک NDFC کا قرضہ Rs.103691000/دس کروڑ چھتیس لاکھ اکانوے ہزار روپے بنتاتھا اور آج یہ قرضہ Rs.2760600051 / دو ارب چھہتر کروڑ چھ لاکھ اکاون ہزار روپے بن رہا ہے یہ ہیں ہمارے وہ اپنے جنہوں نے سال 1978 سے لیکر سال 1998 تک NDFC کے پیسہ سے اس غریب قوم کو لوٹااور پھر انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے مجھے آج افسوس صرف اس بات کا ہے کہ یہی لوگ اب کہتے پھر رہے ہیں کہ ہم نے پاکستانی قوم کی خدمت کی ہے جس کی وجہ سے ہمارے خلاف انتقامی کاروائیاں ہو رہی ہیں اور اس غریب قوم پر بہت بڑا احسان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ یہ جمہوریت کو خطرہ ہے۔

جناب خان صاحب اللہ کے واسطے اس ملک کی غریب قوم پر رحم کریں اور عوام کو مزید قرضوں کے پہاڑ کے نیچے نہ دھکیلیں اس سلسلہ میں تمام محب وطن افراد سمیت چیئرمین نیب اور تمام خفیہ اداروں سے میری التجا ہے اس غریب قرضوں تلے ڈوبی ہوئی قوم پر ترس کھائیں اوران افراد سے لوٹا ہوا قوم کا پیسہ واپس کروائیں انشاءاللہ یہ قوم آپ کی احسان مند رہے گی۔

پاکستانی عوام کی آخری امید نواب ڈاکٹر امبر شہزادہ کی پارٹی ہی ہو سکتی ہے۔ مستقبل قریب میں عمران خان کی طرح وہ کسی بھی وقت لاکھوں کا مجمع سے خطاب کر سکتے ہیں

آخر میں اپنے ایک انتہائی پیارے دوست آپ جناب سرکار پارٹی کے سربراہ نواب ڈاکٹر امبر شہزادہ کی دردمندانہ اپیل کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کی روشنی میں اور سپریم کورٹ آف پاکستان، الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تازہ ترین تیار کردہ رپورٹ کی روشنی میں کرپٹ ترین سیاستدانوں سے سوفیصد ریکوری کا مستند،موثر اور فوری حل نکالے چونکہ میری قوم پریشانیوں کی آخری حد کو چھو رہی ہے اس لیے آرمی چیف سے گزارش ہے کہ وہ فوری ریکوری کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ساتھ دیں اور سپریم کورٹ سے التجا ہے کہ ملک کے تمام کنفرم کرپٹ ترین سیاستدانوں کو بمعہ بیٹے بیٹیاں تاحیات الیکشن لڑنے پر پابندی عائد کرے اور نہ ہی سابق صدر، سابق وزیراعظم، سابق وزیراعلی کا لفظ اپنے نام کے ساتھ لکھ سکیں صرف ان کے جیلوں میں جانے سے ٹھنڈ نہیں پڑ رہی بلکہ ملک کی معاشی صورتحال کو بحال کرنے کے لئے اور مہنگائی کو ختم کرنے کے لیے ان سے ریکوری بے حد ضروری ہے موجودہ حکومت اپنا سیاسی ایجنڈا پورا کرے ورنہ قوم بطور آخری حل نیم کرپٹ نواب ڈاکٹر امبر شہزادہ کی 30 سالہ سیاسی جد وجہد کے اعتراف میں اقتدارِ آپ جناب سرکار پارٹی کو دے گی۔

Leave a Reply