گوادر: فائیو اسٹار ہوٹل پر دہشت گردوں کا حملہ گارڈ شہید مہمان محفوظ: آئی ایس پی آر

Spread the love

ہوٹل میں داخل ہونے والے تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا

سکیورٹی فورسز کے اہلکار دہشت گردوں کو گھیرے میں لے کر بالائی منزل تک لے گئے،،آئی ایس پی آر

بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے گوادر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی،بی بی سی کا دعوی

گوادر،راولپنڈی (نمائندہ خصوصی، ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)گوادر کے فائیو اسٹار پی سی ہوٹل پر دہشت

گردوں کے حملے میں ایک سیکیورٹی گارڈ شہید ہو گیا۔ جبکہ تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ،پاک فوج

کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق تین دہشت گردوں نے پی سی گوادر میں زبردستی داخل

ہونے کی کوشش، انٹری پر موجود گارڈ نے دہشت گردوں کو روکا، دہشت گردوں کی فائرنگ سے پی سی ہوٹل

کا سیکیورٹی گارڑ شہید ہوا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پی سی میں موجود مہمانوں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا

ہے اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ۔سیکیورٹی فورسز کے اہلکار دہشت گردوں کو

گھیرے میں لے کر بالائی منزل تک لے گئے او ر کلیئرنس آپریشن شروع کردیا۔دوسری جانب وزیر اطلاعات

بلوچستان کا کہنا ہے کہ گوادر کے ہوٹل میں صرف اسٹاف موجود تھا جنہیں بحفاظت باہر نکال لیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ تین دہشت گردوں نے ہوٹل پر حملہ کیا جس پر سیکیورٹی فورسز نے بروقت

کارروائی کی۔بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے غیرملکی میڈیا کو بتایا کہ گوادر میں پرل

کانٹینینٹل ہوٹل کی عمارت میں سکیورٹی فورسز نے تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ،میر ضیا اللہ لانگو کا

بھی یہی کہنا تھا کہ ہفتہ کی شام تین مسلح حملہ آور ہوٹل میں داخل ہوئے تھے۔انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں

کے داخل ہوتے ہی ہوٹل کے الارم بجا دیے گئے تھے جس کے باعث ہوٹل میں موجود افراد کو بحفاظت نکال

لیا گیا تاہم بعض افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ

زخمیوں کی تعداد کتنی ہے۔ضیا اللہ لانگو نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ہوٹل کو گھیرے میں لے لیا ہے اور

حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔انھوں نے بتایا کہ ہوٹل کو کلیئر

کرنے کے بعد ہی یہ بتایا جا سکے گا کہ زخمیوں کی تعداد کتنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل میں چینی شہریوں

سمیت کوئی بھی غیر ملکی شہری موجود نہیں تھا۔میر ضیا اللہ نے کہا کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ

حملہ آور سمندر سے یا کس راستے سے ہوٹل پہنچے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں خود کش حملہ آوروں

کے داخلے کے بارے میں اطلاعات تھیں لیکن گوادر میں کسی حملے کی اطلاع نہیں تھی۔قبل ازیں ایس ایچ او

گوادر اسلم بنگلزئی کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں 4 بج کر 50 منٹ پر یہ اطلاع ملی کہ 3 سے 4 دہشت گرد پرل

کانٹیننٹل ہوٹل میں داخل ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری

ہے۔’انہوں نے کہا کہ ہوٹل میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں ہے ،انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محسن حسن

بٹ نے بھی ہوٹل میں کسی غیر ملکی کے موجود نہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‘2 سے 3 حملہ آروں

نے پہلے فائرنگ کی اور پھر ہوٹل کے اندر داخل ہوئے۔’ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں پاک فوج کو طلب

کیا گیا ‘انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں حملہ آور کشتی کے ذریعے ہوٹل میں حملہ کے لیے آئے۔گوادر میں

پرل کانٹیننٹل ہوٹل، مغربی خلیج کے جنوب میں فِش ہاربر روڈ پر کوہ باطل پہاڑی پر واقع ہے، جبکہ ہوٹل میں

اکثر کاروباری افراد اور سیر و تفریح کے غرض سے گوادر آنے والے قیام کرتے ہیں۔پی سی ہوٹل پر اس سے

قبل بھی راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا۔گوادر پاکستان چین اقتصادی راہداری کا اہم مرکز ہے جہاں بڑی تعداد میں

چینی انجنیئرز اور کارکن موجود ہیں ۔گوادر انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔اس

ضلعے کی سرحد مغرب میں ایران سے ملتی ہے۔بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد مکران ڈویژن کے

دیگر علاقوں کی طرح گوادر میں بھی بد امنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں ۔گزشتہ ماہ بھی ضلع گوادر کی

تحصیل اورماڑہ میں مسافر بسوں سے سکیورٹی فورسز کے 14 اہلکاروں کو اتار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ دریں

اثناء برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے گوادر حملے

کی ذمہ داری قبول کی ہے، بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مجید برگیڈ کے

فریڈم فائٹرز نے پی سی ہوٹل میں گھس کر حملہ کیا جہاں چینی اور دیگر سرمایہ کاروں نے رہائش اختیار کی

ہوئی ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply