مجید امجد: جدید نظم کا بانی شاعر

Spread the love
مجید امجد

تحریر و تحقیق: مدثر بھٹی

مجید امجد کو جدید اردو نظم کے بنیاد گزاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے ان کے اسلوب کو اپنایا یہاں کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جنہوں نے مجید امجد کو خاص طور پر کاپی کیا اور اس کو اپنا طرز بیان و اسلوب کہہ کر خوب داد سمیٹی ان میں ایک شاعر وصی شاہ ہیں جنہوں نے ’’کاش میں تیرے ہاتھ کا کنگن ہوتا‘‘ لکھی اور اس بارے میں بڑے بڑے دعوے کیے اور خوب خوب داد پائی مگر یہ نظم دراصل مجید امجد کی نظم ’’کاش میں تیرے بُنِ گوش میں بُندا ہوتا!‘‘ کا سرقہ یا چربہ تھی۔ تو مجید امجد کو لوگوں نے اس طرح بھی کیش کیا ہے۔ ’’کاش میں تیرے بُنِ گوش میں بُندا ہوتا!‘‘ نمونہ کلام میں ملاحظہ فرمائیں۔

نام عبدالمجید اور امجد تخلص تھا۔ 29جون 1914ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ 1930ء میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے بی اے کیا۔ ہر آدمی کی طرح تعلیم سے فراغت کے بعد ان کے سامنے بھی ایک بڑا مسئلہ ذریعہ معاش تھا جس کے لیے انہوں نے کوشش شروع کی تو سب سے پہلے ووٹر لسٹیں مرتب کرنے کا کام ملا جو جلد ہی مکمل ہو گیا اور پھر سے گذشتہ دوڑ میں شامل ہو گئے پھر کسی اشتہار کے توسط سے ایک انشورنس کمپنی کے ایجنٹ بن گئے، مگر ایک فنکار کے لیے در در بھٹکنا کہاں پسندیدہ ہو سکتا ہے اور ظاہری سی بات ہے کہ یہ ان کے مزاج کے بھی خلاف تھا سو انہوں نے اس کام کو خود سے خیر باد کہہ دیا۔ 1935ء میں رسالہ ’’عروج‘‘ جاری ہوا تو یہ اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ مجید امجد کافی عرصہ اس سے منسلک رہے۔1949 میں محکمۂ خوارک میں ملازمت مل گئی۔ ترقی پاکر اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر بنے۔ ملازمت کا زیادہ عرصہ منٹگمری موجودہ ساہیوال میں گزار۔ جہاں سے وہ 29 جون 1972ء میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر، ساہیوال کے عہدے سےوظیفۂ فراغت پایا۔ انہوں نے زندگی کا زیادہ تر حصہ ساہیوال میں بسر کیا۔

1939ء میں خالہ کی بیٹی سے شادی ہوئی۔ جو گورنمنٹ سکول جھنگ میں بطور معلمہ تعینات تھیں۔ ایک فنکار اور ایک استاد دونوں کے مزاج کی مثال اندھیرا اور روشنی کی تھی، ان کی ازدواجی زندگی خوش گوار نہ تھی۔ اُن کی بیوی طلاق لیے بغیر ان سے الگ رہنے لگیں۔ مجید امجد اکیلے رہتے تھے۔ بڑی تنگ دستی سے گزر اوقات ہوتی تھی۔ ان کے بعض دوستوں کے توجہ دلانے پر حکومت پاکستان نے مارچ۱۹۷۴ء میں ان کا پانچ سو روپیہ ماہانہ ادبی وظیفہ مقرر کردیا تھا۔ مجید امجد کو شعروسخن سے فطری لگاؤ تھا۔ غزل کی نسبت نظم سے زیادہ شغف تھا۔ وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔

آخری ایام انتہائی عسرت اور تنگی میں گزرے۔ وفات سے ایک ماہ پہلے تک انہیں پینشن نہ مل سکی۔ نوبت تقریباً فاقہ کشی تک پہنچ گئی۔ آخر اسی کیفیت میں گیارہ مئی، 1974ء کے روز اپنے کوارٹر واقع فرید ٹاون ساہیوال میں مردہ پائے گئے۔ تدفین آبائی وطن جھنگ میں ہوئی۔

ان کے انتقال کے بعد ساہیوال کے مشہور باغ ’’کنعاں پارک‘‘ اور ’’ساہیوال ہال‘‘ کا نام بدل کر علی الترتیب ’’امجد پارک‘‘ اور ’’امجد ہال‘‘ رکھ دیا گیا۔ ان کے شعری مجموعوں کے نام یہ ہیں:’’شب رفتہ‘‘، ’’میرے خدا میرے دل‘‘، ’’شب رفتہ کے بعد‘‘۔ ’کلیات مجید امجد‘ بھی شائع ہوگئی ہے۔ ان کی کلیات ’’لوح دل‘‘ کے نام سے بھی شائع ہوئے۔

جدید اردو نظم کے ایک اہم ترین شاعر۔ جنہوں نے اپنی شاعری سے اردو نظم کو نیا آہنگ بخشا۔ ان کا شمار جدید اردو نظم کے عظیم شعرا میں ہوتا ہے۔ مجید امجد کی فطری بے نیازی کے سبب ان کی زندگی میں ان کا ایک مجموعہ شب رفتہ کے عنوان سے شائع ہوا۔ بعد ازاں تاج سعید اور ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے مجید امجد کا شعری کلیات مرتب کیا۔ مجید امجد نے بہت کم نثر لکھی مگر جو بھی لکھا اس نے مجید امجد کو ایک منفرد شناخت عطا کی۔ ڈاکٹر افتخارشفیع کی مرتبہ کلیات نثر سے ان کے تنقید،ترجمہ نگاری،بچوں کے ادب،کالم نگاری جیسی اصناف سے دل چسپی کا پتہ چلتا ہے

مجید امجد کے بارے میں خواجہ محمد زکریا لکھتے ہیں: مجید امجد اردو نظم کے ایک انتہائی اہم اور منفرد لہجے کے شاعر ہیں ان کا کلام معیار اور مقدار دونوں اعتبار سے بے مثال ہے۔ جتنا تنوع ان کے ہاں پایا جاتا ہے وہ اردو کے کسی جدید شاعر میں موجود نہیں۔ ان کی تقریباً ہر نظم مختلف موضوع اور مختلف ہیت میں تخلیق ہوئی ہے۔ ان کے کلام میں زبردست آورد پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود جذباتی گہرائی جتنی ان کے ہاں ملتی ہے، وہ عصر حاضر میں کسی اور کے ہاں نایاب ہے۔ انہیں ادبی حلقوں نے مسلسل نظر انداز کیا لیکن انہوں نے کبھی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

نمونہ کلام

کاش میں تیرے بُنِ گوش میں بُندا ہوتا!

رات کو بےخبری میں جو مچل جاتا میں

تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں

صبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول

میرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملول!

تو مجھے ڈھونڈتی کس شوق سے گھبراہٹ میں

اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میں

جونہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھے

ملتا اس گوش کا پھر گوشۂ مانوس مجھے

کان سے تو مجھے ہرگز نہ اتارا کرتی

تو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتی

یوں تری قربتِ رنگیں کے نشے میں مدہوش

عمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوش

کاش میں تیرے بُنِ گوش میں بُندا ہوتا!

٭ ٭ ٭

اگر میں خدا اس زمانے کا ہوتا
تو عنواں کچھ اور اس فسانے کا ہوتا
عجب لطف دنیا میں آنے کا ہوتا

مگر ہائے ظالم زمانے کی رسمیں
ہیں کڑواہٹیں جن کی امرت کی رس میں
نہیں مرے بس میں نہیں مرے بس میں

مری عمر بیتی چلی جا رہی ہے
دو گھڑیوں کی چھاؤں ڈھلی جا رہی ہے
ذرا سی یہ بتی جلی جا رہی ہے

جونہی چاہتی ہے مری روح مدہوش
کہ لائے ذرا لب پہ فریاد پر جوش
اجل آکے کہتی ہے خاموش! خاموش

غزل

کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا

کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا

اک تنکا آشیانہ اک راگنی اثاثہ

اک موسم بہاراں مہمان دو گھڑی کا

آخر کوئی کنارا اس سیل بے کراں کا
آخر کوئی مداوا اس درد زندگی کا

میری سیاہ شب نے اک عمر آرزو کی
لرزے کبھی افق پر تاگا سا روشنی کا

شاید ادھر سے گزرے پھر بھی ترا سفینہ
بیٹھا ہوا ہوں ساحل پر نے بہ لب کبھی کا

اس التفات پر ہوں لاکھ التفات قرباں
مجھ سے کبھی نہ پھیرا رخ تو نے بے رخی کا

اب میری زندگی میں آنسو ہیں اور نہ آہیں
لیکن یہ ایک میٹھا میٹھا سا روگ جی کا

او مسکراتے تارو او کھلکھلاتے پھولو
کوئی علاج میری آشفتہ خاطری کا

غزل

دن کٹ رہے ہیں کشمکش روزگار میں
دم گھٹ رہا ہے سایۂ ابر بہار میں

آتی ہے اپنے جسم کے جلنے کی بو مجھے
لٹتے ہیں نکہتوں کے سبو جب بہار میں

گزرا ادھر سے جب کوئی جھونکا تو چونک کر
دل نے کہا یہ آ گئے ہم کس دیار میں

میں ایک پل کے رنج فراواں میں کھو گیا
مرجھا گئے زمانے مرے انتظار میں

ہے کنج عافیت تجھے پا کر پتہ چلا
کیا ہم ہمے تھے گرد‌سر رہ گزار میں

تصانیف

پہلا شعری مجموعہ شب رفتہ کے نام سے ان کی زندگی میں ہی شائع ہوا۔’’ شب رفتہ کے بعد‘‘ ان کا دوسرا مجموعہ تھا جو ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے کلیات مجید امجد کے نام سے ان کا تمام کلام مرتب کیا ہے۔

حال ہی میں ان کی نثری تخلیقات پر مشتمل کتاب کلیاتِ نثر مجید امجد منظرِ عام پر آئی ہے یہ کتاب مجید امجد کے تنقیدی مضامین،دیباچوں،مضامین و مقالات،تراجم ،بچوں کے لکھی گئی تحریروں اور اداریوں کے علاوہ دو نایاب مباحث پر مشتمل ہے۔ مجید امجد کے Dr.Davidson کی علم فلکیات پر لکھی گئی کتاب کا ادھورا ترجمہ اور اس پر ایک مضمون بھی اس کتاب کا حصہ ہے۔

Please follow and like us:

مجید امجد: جدید نظم کا بانی شاعر” ایک تبصرہ

Leave a Reply