مولانارشید احمد گنگوہی رحمۃاللہ علیہ

Spread the love

تحریر: حکیم محمد شیراز

لکچرر شعبہ معالجات، ریجنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف یونانی میڈیسین

کشمیر یونیورسٹی ،سری نگر جموںو کشمیر۔

بعض نابغہ روزگار شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ ان زندگی میں ا ن کے معاصرین ان کی عبقریت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔بعد حیات عارضی ، سالوں بعد لوگ ان کے علمی و عملی کاموں کو دیکھ کر ان کی عظمت کا اندازہ لگاتے ہیں۔مجاہدین آزادی میں سے جن لوگوں کے تذکرہ کو آج کل فراموش کردیا گیا ان میں میرے اکابر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کا اسم گرامی بھی شامل ہے۔آج ان کا یوم پیدائش ہے سوچا چند سطور آپ کی نذر جائے۔

گنگوہ ضلع سہارنپور کا قدیم قصبہ ہے، عرصہ قدیم سے بڑے بڑے اولیاء اللہ کا مولد اور مدفن ہے، سہارنپور سے تقریباً سولہ میل اور تھانہ بھون سے تیرہ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کی ولادت باسعادت قصبہ گنگوہ محلہ سرائے متصل خانقاہ حضرت شاہ عبدالقدوس صاحب گنگوہی رحمہ اللہ، مولانا ہدایت احمد صاحب کے گھر میں ۶؍ذی القعدہ 1244 ہجری بروز شنبہ بوقت چاشت ہوئی۔

آپ کے والد ماجد کا نام مولانا ہدایت احمد صاحب بن قاضی پیربخش صاحب ہے اور آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے۔ حضرت کے والد ماجد مولانا ہدایت احمد اپنے زمانے کے ایک جید دینی عالم تھے، وہ دہلی کے حضرت شاہ غلام علی مجددی دہلویؒ سے مجاز تھے۔حضرت گنگوہی قرآن شریف وطن میں پڑھ کر اپنے ماموں کے پاس کرنال چلے گئے اور ان سے فارسی کی کتابیں پڑھیں، پھر مولوی محمد بخش رامپوری سے صرف و نحو کی تعلیم حاصل کی۔مزیدابتدائی تعلیم گنگوہ کے ایک میاں جی صاحب سے حاصل کی پھر عربی و فارسی مولانا عنایت صاحب اور مولانا محمدتقی صاحب سے پڑھی بعد ازاں 1261 ہجری میں تحصیل علم کے لئے دہلی کا سفر کیا اور چند دنوں قاضی احمدالدین پنجابی سے کچھ کتابیں پڑھیں اور پھر اسی سال حضرت مولانا مملوک علی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہاں دلجمعی سے پڑھنا شروع کیا، حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ1261 ہجری میں دہلی پہنچ چکے تھے اور شروع سے مولانا مملوک علی صاحب کی خدمت میں رہتے تھے تھوڑے دنوں بعد علم و فضل کے یہ دونوں شمس و قمر ایک ساتھ ہوگئے اور تا حیات ساتھ رہے، یہ دونوں شمس و قمر مولانا مملوک علی صاحب کی خدمت میں عرصہ تک پڑھتے رہے، معقولات کی مشکل اور اونچی کتابیں صدرا، شمس بازغہ، میر زاہد قاضی و غیرہ سے پڑھا کرتے تھے۔ دہلی میں معقولات کی بعض کتابیں مفتی صدرالدین آزردہ سے بھی پڑھیں، آخر میں حضرت شاہ عبد الغنی مجددی ؒ کی خدمت میں رہ کر علم حدیث کی تحصیل کی۔

ذکاوت و ذہانت میں یہ دونوں حضرات دہلی میں مشہور ہوگئے تھے اسی وجہ سے اساتذہ خصوصاً مولانا مملوک علی صاحب کو ان دونوں سے بہت زیادہ محبت تھی۔ اگر طبیعت ناساز ہوتی تو عیادت فرماتے اور قیام گاہ پر جا کر ان حضرات کو پڑھاتے تھے، علم حدیث آپ نے ہندوستان میں خاندان شاہ ولی اللہ کے آخری چشم و چراغ حضرت شاہ عبدالغنی محدث دہلوی رحمہ اللہ سے حاصل کیا ہے شاہ صاحب علم ظاہر و باطن میں شہرہ آفاق ہیں۔ الحاصل حضرت گنگوہی رحمہ اللہ ۱۲سال کی عمر میں تمام علوم و فنون پڑھ کر واپس وطن تشریف لے گئے اسی سال آپ کا نکاح آپ کے بڑے ماموں مولانا محمدتقی صاحب کی صاحبزادی سے ہوا جو آپ کے استاذ بھی تھے اور بڑے پاکباز بزرگ تھے، حضرت گنگوہی رحمہ اللہ جب دہلی سے واپس تشریف لائے اور وطن عزیز میں قیام پذیر ہوئے تو بمقتضائے طبیعت آپ کو شوق ہوا کہ کوئی طالب علم دین مل جاتا تو اس کو پڑھانا ہی شروع کردیتے اللہ تعالی نے اس خواہش کو پورا کیا اور ایک صاحب سید مومن علی صاحب کو بھیج دیا ان ہی ایام میں ایسا اتفاق ہوا کہ حضرت مولانا شیخ محمد صاحب تھانوی رحمہ اللہ کی تحریر دربارہ مسئلہ روضہ اقدس سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم میں جو جگہ ایک قبر کے لئے افتادہ ہے اس میں حضرت عیسی علیہ السلام مدفون ہوں گے، شیخ صاحب نے حکم لگایا تھا کہ یہ امر قطعی ہے اور اس کا منکر ایسا ہے ویسا ہے، یہ تحریر کسی نے حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کردی آپ نے اس پر تحریر فرمایا کہ سارا ثبوت باحادیث اخبار احاد ہے اس لئے اس سے علم ظنی حاصل ہوگا، قطعیت کا ثبوت دشوار ہے۔

یہ جواب جس وقت حضرت شیخ صاحب رحمہ اللہ کی نظر سے گزرا تو جوش و غضب میں بھر گئے اور پھر کیا تھا طرفین سے سوال و جواب شروع ہوگئے۔ بالآخر مولانا گنگوہی رحمہ اللہ نے بغرض مناظرہ ایک بارات کے ساتھ تھانہ بھون کا سفر اختیار کیا اور بارات کے متعلق امور نکاح و غیرہ سے فارغ ہوکر حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بعد استفتار آنے کا منشاء ظاہر کیا تو حضرت حاجی صاحب قدس سرہ نے یہ کہہ کر وہ ہمارے بڑے ہیں۔ مناظرے سے منع فرمایا۔

حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی سے تعلق:

چنانچہ آپ نے حضرت حاجی صاحب کی بات مان لی اور مناظرے سے باز آئے اور اپنا ارادہ بیعت ظاہر کیا تب حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ نے باصرار و بسفارش حضرت حافظ ضامن شہید بیعت کر لیا۔ بیعت ہونے کے بعد آپ نے بموجب ارشاد حضرت صاحب ذکر و شغل شروع کیا اور بقول خود ’’کہ پھر تو میں مر مٹا‘‘ چنانچہ حضرت حاجی صاحب نے آٹھویں دن فرمایا: ’’میاں رشید احمد جو نعمت حق تعالیٰ نے مجھے دی تھی وہ آپ کو دیدی آئندہ اس کو بڑھانا آپ کا کام ہے‘‘

جب آپ کو بیالیس دن رہتے ہوئے ہوگئے تب آپ نے وطن عزیز رخصت ہونے کی اجازت چاہی، حضرت حاجی صاحب نے گنگوہ کے لئے رخصت کرتے وقت خلافت اور اجازت بیعت ان الفاظ کے ساتھ عنایت فرمائی: ’’اگر تم سے کوئی بیعت کی درخواست کرے تو بیعت کرلینا‘‘

خدا کی دین کا موسی سے پوچھئے حال
کہ آگ لینے کو جائیں پیغمبری مل جائے

اس خدائی نعمت کو (جس کے لئے در در کی خاک چھانی جاتی ہے) پا کر جب آپ گنگوہ تشریف لائے تو خانقاہ شاہ عبدالقدوس گنگوہی رحمہ اللہ کو جو تین سو سال سے ویران اور خراب و خستہ پڑی تھی مرمت کر کے آباد کیا اور رات دن ذکر و فکر الٰہی میں مشغول رہتے، راتوں کو رویا کرتے تھے اور جو لحاف آپ اوڑھا کرتے تھے باران اشک سے داغدار ہوگیا تھا۔

قیام دارالعلوم دیوبند:

گرچہ قیامِ دار العلوم دیوبند میں کوئی فعال کردار آپ کا نہیں ملتا مگر طالب علمی کے زمانے سے ہی حجۃالاسلام محمد قاسم نانوتویؒ سے تعلق رہا۔ اسی وجہ سے مؤرخین کا کہنا ہے کہ 1283 ہجری مطابق 1866ء میں دار العلوم کے قیام سے آپ بے خبر نہیں تھے۔ مدرسہ عربی اسلامی دیوبند کے قیام کے دوسال بعد 1285 ہجری میں دار العلوم دیوبند سے حضرت گنگوہی کے رسمی تعلق کا سراغ ملتا ہے۔ حجۃالاسلام مولانا محمدقاسم نانوتویؒ بانی دار العلوم دیوبند کی وفات کے بعد آپ دار العلوم دیوبند کے دوسرے سرپرست مقرر ہوئے۔ دار العلوم کا نصاب تیار کرنے میں آپ کا اہم کردار رہا ہے۔ اس لیے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے ساتھ آپ بھی مسلک دار العلوم دیوبند کے پیشوا ہیں۔

برطانوی سامراج کے خلاف جنگ

اگر حقیقی نگاہ سے دیکھا جائے تو حضرت رشید گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو علمی تحریک کا حصہ بعد میں بنے مگر اس سے قبل وہ ایک مجاہد اور ایک حریت پسند نوجوان کی صورت میں سامنے آئے اور 1857ء میں خانقاہِ قدوسی سے مردانہ وار نکل کر انگریزوں کے خلاف صف آرا ہو گئے اور اپنے مرشد حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی صاحب اور دوسرے رفقا کے ساتھ شاملی کے معرکۂ جہاد میں شامل ہوکر خوب دادِ شجاعت دی۔ جب میدان جنگ میں حافظ ضامن شہید ہوکر گرے تو آپ ان کی نعش اٹھاکر قریب کی مسجد میں لے گئے اور پاس بیٹھ کر قرآن شریف کی تلاوت شروع کردی۔ جب 1857ء کا ہولناک حادثہ ختم ہوا تو حکومت برطانیہ نے ہر اس آدمی کو تختہ دار پر لٹکا دیا یا گولی کا نشانہ بنادیا جس کے متعلق ذرا بھی شبہ تھا، چنانچہ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی، مولانا محمدقاسم نانوتوی اور مولانا گنگوہی رحمہم اللہ کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے، حضرت حاجی صاحب مکہ مکرمہ ہجرت فرما گئے، مولانا محمد قاسم صاحب اور مولانا گنگوہی رحمہماللہ روپوش رہے لیکن مخبر کی خبررسانی سے آپ کو گرفتار کیا گیا اور سہارنپور جیل کی کال کوٹھڑی میں رکھا گیا بالآخر جب حکومت کو کوئی ثبوت آپ کے متعلق نہ ملا تو رہا کردیا گیا۔

چونکہ اللہ نے آپ سے دین کا کام لینا تھا اس لئے حکومت آپ کا بال بھی بیکا نہ کرسکی، آپ نے زندگی میں تین دفعہ حج کی سعادت حاصل کی اور تمام عمر دین کی خدمت میں مصروف رہے۔ فتاویٰ رشیدیہ آپ کا علمی شاہکار ہے اس کے علاوہ کئی تصانیف ہیں اور ہزاروں علما و مشائخ آپ کے فیض علمی و روحانی سے مستفید ہوئے ہیں۔

درس حدیث

جیل سے رہائی کے بعد آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع فرمایا، 1299ہجری میں تیسرے حج کے بعد آپ نے یہ التزام کیا کہ ایک سال کے اندر اندر پوری صحاح ستہ کو ختم کرادیتے تھے، معمول یہ تھا کہ صبح سے 12 بجے تک طلبہ کو پڑھاتے تھے۔ آپ کے درس کی شہرت سُن سُن کر طالبانِ حدیث دور دور سے آتے تھے، کبھی کبھی ان کی تعداد ستّر اسّی تک پہنچ جاتی تھی، جن میں ہند و بیرونِ ہند کے طلبہ بھی شامل ہوتے تھے۔ طلبہ کے ساتھ غایت محبت و شفقت سے پیش آتے تھے۔ درس کی تقریر ایسی ہوتی تھی کہ ایک عامی بھی سمجھ لیتا تھا، آپ کے درس حدیث میں ایک خاص خوبی یہ تھی کہ حدیث کے مضمون کو سن کر اس پر عمل کرنے کا شوق پیدا ہوجاتا تھا۔ جامع ترمذی کی درسی تقریر ’’الکوکب الدری‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہے، جو مختصر ہونے کے باوجود ترمذی کی نہایت جامع شرح ہے، 1314 ہجری تک آپ کا درس جاری رہا، تین سو سے زائد حضرات نے آپ سے دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔ درسِ حدیث میں آپ کے آخری شاگرد حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ کے والد ماجد حضرت مولانا محمد یحیٰ کاندھلویؒ تھے۔ آخر میں نزول الماء کی بیماری کی وجہ سے درس بند ہو گیا تھامگر ارشاد و تلقین اور فتاویٰ کا سلسلہ برابر جاری رہا، ذکراللہ کی تحریص و ترغیب پر بڑی توجہ تھی، جو لوگ خدمت میں حاضر ہوتے، رغبتِ آخرت کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لے کر جاتے، اتباع سنّت کا غایت اہتمام فرماتے تھے۔

رشید احمد گنگوہی کے سلسلے میں مولانا عبید اللہ سندھی کا بیان

شیخ الاسلام ابو مسعود رشید احمد گنگوہی حضرت ہدایت اللہ انصاری کے فرزند تھے۔ آپ کی پیدائش 1244 ہجری میں ہوئی، آپ نے مولانا مملوک علی نانوتویؒ، مولانا عبد الغنی دہلوی، مولانا احمد سعید دہلوی اور مولانا امداداللہ مہاجر مکی وغیرہ سے تعلیم حاصل کی۔ سنن ابی داود کاایک بڑا حصہ میں نے الگ سے آپ سے پڑھی۔ اس سے مجھے بہت بڑا فائدہ حاصل ہوا۔ یہ مولانا رشید احمد گنگوہی کی ہی صحبت کا نتیجہ تھا کہ میں نے ان کے مسلک کو اس طرح اپنالیا کہ پھر انحراف کا خیا ل تک نہ آیا۔ آپ ہی کے واسطے سے فقہ و حدیث میں ولی اللٰہی معرفت حاصل ہوئی۔ اور آپ ہی کی برکتوں سے علوم فقہ، سلوک و معرفت، عربی اور قرآن و سنت میں اعلیٰ عقلی مباحث اور مبادیات و اصول میں مجھے کافی مہارت حاصل ہوئی، میں نے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کو مسلک حنفیت کا پلند پایہ امام اور مجتہد پایا، وہ اپنے استاذ مولانا عبد الغنیؒ کے مکتب فکر پر بہت سختی سے عمل پیرا اور چٹان کی طرح راسخ تھے اور مسلکِ ولی اللہی میں قریب قریب مولانا محمد اسحاق دہلویؒ جیسے تھے، سنت و بدعت کی حقیقت مجھے آپ کی کتاب براہین قاطعہ سے سمجھ میں آئی، حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تصنیف ایضاح الحق کی اعانت میں آپ نے یہ کتاب تصنیف کی،امیر امداداللہ ؒاور مولانا محمد قاسم نانوتوی کے بعد حضرت مولانا رشید احمدؒ ہی دیوبندی جماعت کے امام ہوئے، تین ہزار سے زائد مشائخ نے آپ سے علم دین حاصل کی،1323 ہجری میں آپ کی وفات ہے۔

دار العلوم کی سر پرستی

1297 ہجری میں حضرت مولانا قاسم نانوتوی کی وفات کے بعد دار العلوم دیوبند کے سرپرست ہوئے،مشکل حالات میں دار العلوم کی گتھیوں کو سلجھادینا ان کی ایک بڑی خصوصیت تھی۔ 1314 ہجری سے مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور کی سرپرستی بھی قبول فرمالی تھی۔ فقہ اور تصوف میں تقریباً 14 کتابیں تصنیف فرمائیں۔

سلسلہ شیوخ

حضرت شیخ مولانا رشید احمد گنگوہیؒ

حضرت شیخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ

حضرت شیخ نور محمد علوی جھنجھانویؒ

حضرت شیخ سید احمد بریلویؒ

حضرت شیخ شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

حضرت شیخ احمدشاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ

حضرت شیخ شاہ عبد الرحیم دہلویؒ

حضرت شیخ سید عبد اللہ واسطیؒ

حضرت شیخ سید آدم بنوری مہاجر مدنیؒ

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ

معمولات پر مداومت اور استقامت مشائخ دیوبند کی خصوصی شان ہے اور حقیقۃً یہی کمال ولایت اور علامت عبدیت ہے چنانچہ ان مشائخ کے یہاں جو چیز روز اول معمولات میں داخل ہوئی اس کو ہمیشگی اور دوام حاصل رہا ان حضرات نے احب الاعمال عنداللہ کو دل نشین کرکے اعمال میں شان محبوبیت پیدا کی اور تقرب و ولایت کے اعلی منازل کو طے کیا چنانچہ حضرت گنگوہی قدس سرہ کے مجاہدات و ریاضات کا پیرانہ سالی میں یہ عالم تھا کہ دیکھنے والوں کو رحم آتا تھا۔ دن بھر صائم رہتے اور بعد مغرب ۴ رکعت نوافل کی بجائے بیس رکعت صلوۃ الاوابین پڑھا کرتے تھے جس میں تقریباً دو پارے قرآن شریف تلاوت فرماتے تھے، نماز سے فارغ ہو کر جب دولت کدہ برائے تناول طعام تشریف لے جاتے تو اثنا راہ اور گھر ٹھہرنے کے وقفہ میں کئی کئی پارہ تلاوت فرمالیتے تھے اور بعد نماز عشا تھوڑی دیر تک استراحت فرماتے اور دو بجے تہجد کے لئے کھڑے ہوجاتے، بعض نے آپ کو ایک بجے بھی وضو کرتے دیکھا ہے، اور اڑھائی تین گھنٹے صلوۃ اللیل میں مشغول رہتے اور صبح کی نماز سے فارغ ہوکر ڈاک و جوابات استفتاء میں مصروف ہوتے اور دو پہرہ کو قیلولہ فرما کر بعد نماز ظہر تا عصر تلاوت کلام پاک میں مشغول رہتے، رمضان شریف میں تو آپ کے یہاں دن رات مساوی ہوتے تھے۔

آپ اپنے وقت کے فقہ و حدیث کے امام تھے اور تمام علوم کے بحر ذخار تھے لیکن حدیث و فقہ سے آپ کو بہت زیادہ شغف تھا، آپ نے چودہ مرتبہ سے زیادہ ہدایہ کو پڑھایا ہے اور تقریباً صحاح ستہ کی تمام کتابیں آپ نے پڑھائی ہیں۔ غرضیکہ آپ کے عملی و روحانی کمالات کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے صرف اتنا عرض کردینا کافی ہے کہ آپ کے فیض صحبت اور کفش برداری سے شیخ الہند مولانا محمود الحسن حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبدالرحیم رائپوری رحمہ اللہ اور حضرت مولانا حسن احمد مدنی رحمہ اللہ جیسے حضرات فلک ہند کے نیر اعظم ہوئے ہیں۔ آپ کے علمی و روحانی کمالات کے متعلق حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ آپ کے شیخ طریقت کا خراجِ عقیدت ہی کافی ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ’’جو آدمی اس فقیر امداداللہ سے محبت و عقیدت و ارادت رکھتا ہے وہ مولوی رشید احمد سلمہ اور مولوی محمد قاسم صاحب سلمہ کو جو تمام کمالات علوم ظاہری اور باطنی کے جامع ہیں بجائے میرے بلکہ مجھ سے بھی بڑھ کر شمار کرے اگرچہ معاملہ برعکس ہے وہ بجائے میرے اور میں بجائے ان کے ہوں، ان کی صحبت غنیمت جاننی چاہئے کہ ان جیسے آدمی اس زمانہ میں نایاب ہیں‘‘ (ضیاء القلوب)

۱۱۔ اگست1905ء کو راہیٔ ملک ابد ہوگئے۔ اناللہ و اناالیہ راجعون۔

آپ کے تلامذہ کا ایک وسیع حلقہ ہے، جس میں بڑے بڑے نامور علما شامل ہیں، اسی طرح آپ کے خلفا کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔ آپ کے تفصیلی حالات تذکرۃ الرشید مصنفہ مولانا عاشق الٰہی میرٹھی میں درج ہیں، یہ کتاب دوجلدوں پر مشتمل ہے۔

ماخذ و حوالہ جات:
۱۔مولانا رشید احمد گنگوہی۔دائرۃ المعارف۔
۲۔اکابر علمائے دیوبند، ص۷۲۔۲۳

Please follow and like us:

Leave a Reply