145

ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال برقرار، او پی ڈیز بند،مریض خوار

Spread the love

لاہور(جنرل رپور) پنجاب کے مختلف شہروں میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن

ایکٹ (ایم ٹی آئی )کے خلاف ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری ، سرکاری ہسپتالوں

کی او پی ڈیز بند ہونے سے مریض پریشانی کا شکار ،ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ

حکومت نے معاملات حل نہ کیے اور فوری طور پر ہیلتھ بل پر نظرثانی نہ کی تو

ایمرجنسی کا بائیکاٹ بھی شروع کر دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے

سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن

ریفارمز کے خلاف گزشتہ روز بھی احتجاج جاری رہا جس کے باعث ڈاکٹرز نے

او پی ڈی میں کام بند کر رکھا ہے۔ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ہڑتال

کے سبب او پی ڈی میں علاج ومعالجے کی غرض سے آنے والے مریضوں کو

شدید مشکلات کا سامنا ہے۔پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، سروسز، چلڈرن

اور شیخ زید سمیت دیگر سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز نے کام بند کردیا ہے

جبکہ راولپنڈی میں بھی ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے او پی ڈی کا

بائیکاٹ کردیا۔فیصل آباد کے الائیڈ اور سول ہسپتال سمیت دیگر سرکاری اسپتالوں

میں بھی ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری ہے جبکہ ملتان کے نشتر ہسپتال کے آوٹ

ڈور وارڈز بھی بند ہیں۔دوسری جانبمسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حنا

پرویز بٹ نے سرکاری ہسپتالوں کی ممکنہ نجکاری کرنے کیخلاف پنجاب اسمبلی

میں قرارداد بھی جمع کرادی ۔علاوہ ازیںوزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے

ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت پنجاب کے کسی بھی میڈیکل ٹیچنگ

انسٹی ٹیوشن کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے اور نہ ہی نجکاری کرنے جا رہی

ہے، چند سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے

غریب مریضوں کے لئے مشکلات بڑھا کر حکومت کو بلیک میل کرنے کی

کوشش کی جا رہی ہے،ایم ٹی آئی ایکٹ لانے کا بنیادی مقصد سرکاری ٹیچنگ

ہسپتالوں کے معیار مزید بلند کر کے مریضوں کیلئے مزید آسانیاں پیدا کرنا ہے۔

اس موقع پر سپیشل سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میاں

شکیل اور ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز پنجاب ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر سمیت میڈیا

نمائندگان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔



اپنا تبصرہ بھیجیں