طوفانوں کے آنے کی وجوہات

Spread the love

حکیم محمد شیراز

لکچرر شعبہ معالجات

ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسین، کشمیر یونیورسٹی ، سری نگر، جموں و کشمیر

ہندوستان کی ریاست اڑیسہ سے ایک طوفان ٹکرایا ہے جسے ’ فانی‘ کا نا م دیا گیا ہے۔آئے دن ماہرین موسمیات کوئی نہ کوئی طوفان کی خبر دیتے رہتے ہیں۔صرف ریاست آندھرا پردیش سے ٹکرانے والے طوفان یہ ہیں۔سن 1990 میں بی او بی 2 ،پھرسن 1998 میں بی او بی5 ،پھرسن 2003 میں 3 بی،پھرسن 2007 میں ’یامن‘ ۔سن 2008 میں’ کھائی مک‘ ، 2012 میں’ نیلم‘ ، 2013 میں ’ہیلن‘ پھر اسی سال ’لہر‘، 2014 میں ’ھد ھد‘،2016 میں ’کیانت‘ اورپھر سن 2019میں ’فانی‘ نامی طوفان آندھرا پردیش سے ٹکرائے ہیں۔ اسی طرح ریاست مہاراشٹر ، ریاست تمل ناڈواور ریاست بنگال سے ٹکرانے والے طوفانوں کی ایک الگ فہرست ہے۔ جو بہت ہی کم وقفے سے ملک سے ٹکرائے ہیں۔ ان طوفانوں نے ہندوستان کا جو نقصان کیا ہے وہ بے حد و بے حساب ہے۔ آج ذہن میں یہ سوال آرہا ہے کہ آخر یہ ان طوفانوں کی کثرت اہل ہند کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ موجودہ دور میں ان ناگہانی طوفانوں کی کثرت کا سبب بتانے سے سائنس بھی قاصر ہے۔ بلکہ ناگہانی آفات کے مقابلہ سائنس اپنے تمام تر آلات اور بچاؤ کار ٹیم کے ساتھ بے بس نظر آرہا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ وطن عزیز اس وقت طوفانوں سے گھرا ہو ا ہے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان آسمانی آفتوںکے اسباب کو آسمانی کتاب قرآن اور حدیث نبوی ﷺ کی روشنی میں تلاش کیا جائے اور ان سماوی و بحری مصیبتوں کے سد باب کے لیے اسی کے مناسب تدبیریں اختیار کی جائیں۔
ارشاد ربانی ہے:
ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ
(سورۃ روم آیۃ نمبر 41)
’’ خشکی تری میں جو فساد ہے یہ لوگوں کے اپنے ہاتھوںکی کمائی ہیں۔ تاکہ لوگ اللہ کی طرف رجوع کریں (توبہ کریں)۔

راقم السطور مرکزی حکومت میں ملازم ہے اوراسے ملازمت کے سلسلے میں ہند کے طول و عرض کے مختلف مقامات، شہروں میں رہنے اور جانے کا موقع ملا ہے۔اپنی کوتاہ نظر کے موافق اس نے ہندوستان کی عوام کو ان اعمال میں مبتلا دیکھا ہے جن سے متعلق قرآن و حدیث میں وعیدیں آئی ہیں اور جن کو عوام الناس تک پہنچانا راقم اپنا فریضہ سمجھتا ہے تاکہ اس سے بچا جا سکے۔ ریاست اڑیسہ جہاں کا ساحل ایک خوفناک طوفان سے نبرد آزما ہے، وہاںناچیز نے اپنے دیڑھ سالہ قیام میں خود دیکھا ہے کہ ہر طرف جہالت و غربت کا دور دورہ ہے نیز اس جہالت اور غربت نے لوگوں کو بے حیائی کے کاموں پر آمادہ کر رکھا ہے۔ عورتیں عصمت فروشی کر رہی ہیں۔ قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ انصاف کے ترازو سے مظلوم کا خون ٹپک رہا ہے۔ سیاسی لوگ اپنی دکان چمکانے کے لیے مذہبی منافرت پھیلانے کاکام کر رہے ہیں۔ ہندو مسلم فسادات کی کثرت ہے۔ بے شک اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ جب گناہ کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو طوفانوں کا آنا، زلزلوں کا آنا، سرخ آندھیوں کا چلنا بعید از قیاس نہیں۔ اس قسم کے عذاب پہلی قوموں پر بھی آئے ہیں۔ قوم لوط جب امرد پرستی کے عمل میں مبتلا ہوئی تو ان کی بستیاں پلٹ دی گئیں۔ بستی والوں کی چینخ و پکار کو آسمان کے فرشتوںنے سنا۔ قوم نوح، جب کفر پر بضد ہوئی تو طوفان میں غرقاب کر دی گئی۔ قوم عاد کو ان کی عناد و انارکی کے سبب ہو ا سے پٹک کر ہلاک کر دیا گیا۔ فرعون کو رعونت اور نا فرمانی کے سبب دریائے نیل میں اس کی فوج سمیت ڈبو دیا گیا۔ قوم صبا کے باغات پانی کے ریلے سے تباہ کر دیے گئے۔ قوم ثمود نے جب اللہ کی نافرمانی کی اور حضرت صالح کی بات نہ مانی تو انھیں ایک چیخ کے ذریعہ ہلاک کر دیا گیا۔ بے شک ان سب واقعات میں اہل عقل کے لیے عبرت اور نصیحت ہے۔

آج کل سیاست کی گرما گرمی ہے۔ مذہبی منافرت پھیلائی جا رہی ہے۔ کہیں برقعہ پر پابندی کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ کہیں شریعت سے چھیڑ چھاڑ ہو رہی ہے۔ شرک، ناک اٹھا کہ چل رہا ہے جب کہ اہل ایماں ستائے نیز ملک بدر کئے جا رہے ہیں۔ اللہ کے گھر کو شہید کرنے والے ایڑی مار کر چل رہے ہیں اور اپنے گناہوں کو فخریہ بیان کر رہے ہیں۔ مسلمان قوم کے جوان جوحقیقت کی دنیا سے دور، خیالی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں نیزفلمیں، ڈرامے ،موبائیل، رقص اور موسیقی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اللہ کرے کہ وقت سے پہلے اہل ہند اپنے گریبان میں جھانکیں نیز اپنا احتساب کریں اس سے پہلے کے حساب لینے والاحساب لینا شروع کر دے۔ یاد رہے کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پسا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے باہر کے طوفان کو اگر روکنا ہے تو اپنے ضمیر کے طوفان کو بیدار کیا جائے، جس کی طرف اقبال نے اشارہ کیا ہے:

میں کسی بھی مذہب میں جھانک کر دیکھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کوئی بھی اپنے دین پر چلنے کو تیار نہیں ہے، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کس مذہبی پیشوا نے شراب جوا، پانسے، عصمت فروشی کا درس دیا ہے۔ دین چاہے آفاقی ہو یا غیر آفاقی اس کے قاعدے ضابطے آسمان سے اترے ہوں یہ کچھ لوگوں نے مل کر طے کئے ہوں ان سب میں ایک چیز تو مشترک ہے اور ہو ہے اخلاق اور حقوق العباد۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کون اپنے دین پر ایمانداری سے عمل پیرا ہے۔ میں یہ بات اس لیے پوچھنے کا حق رکھتا ہوں کہ میرا خدا ایسا خدا ہے جو کسی کا محتاج نہیں اور میرے پیغمبر کا لایا ہوا پیغام ابدی و آفاقی ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے میرے آقا و مولا تاجدارِ انبیا، فخر موجوداتِ ارض و سما صرف مسلم امہ کے راہبر و رہنما نہیں ہیں بلکہ وہ پوری انسانیت بلا تخصیص مذہب فرقہ و رنگ نسل قوم و علاقہ یا وطن کے رہنما ہیں۔ دنیا میں جس نے ان کے پیغامات پر عمل کیا ان کی تعلیمات کا اپنایا بلاشبہ وہ کامیاب ہوا۔ افسوس صد افسوس کہ آج مسلم امہ فرقہ فرقہ ہے نہ یہ امہ پوری طرح پیغمبر اعظم علی نبینا کی پوری زندگی کو نمونہ بنا کر چل رہی ہے اور نہ ہی دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے پیشواوں کی تعلیمات کو مسترد کئے بیٹھے ہیں۔ کسی کا مذہب دوسرے کا حق کھانے کی تلقین نہیں کرتا کسی کا مذہب دوسرے کو بلا وجہ قتل کرنے اور کسی پر ظلم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جو بھی لوگ شدت پسندی کے ساتھ اپنے اپنے مفاد کے لیے لڑ رہے ہیں ان کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مذہب آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا۔ ایک زمین پر رہنے والے اسی زمین کا سینہ چیر کا اناج اگاتے ہیں اور اسی زمین میں جاری چشموں اور دریاوں سے استفادہ کرتے ہیں مگر جب یہ پانی اور یہ اناج ہماری کوٹھریوں میں پہنچتا ہے تو اس پر ملکیت کے دعوے کرنے والے لوگ کیا نہیں جانتے کہ خدا وہ ہے جس سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے وہ جانتا ہے اس کو نہ نیند آتی ہے اور نہ اونگھ اور وہ خوب جانتا ہے کہ انصاف کیا اور ظلم کیا۔ اسی کو معلوم ہے کہ دلوں میں کیا ہے۔اگر دوسرے اپنے مذہب پر عمل نہ کریں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بھی اپنی تعلیمات کو بھول جائیں۔ فلاح و کامیابی اجتماعیت میںجو قوم مجتمع ہو گی وہی حاکم ہو گی۔

Please follow and like us:

Leave a Reply