کشمیر میں افپسا کی دفعہ 4 کے تحت کوئی بھی سپاہی افسر یا مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر گھروں کوجلا سکتا ہے

Spread the love

انسانوں کو مارسکتا ہے اورتباہی مچاسکتا ہے اور وہی کچھ برسوں سے کشمیر میں ہورہا ہے پر وفیسر سیف الدین سوز

سری نگر(کے پی آئی)سینئرکانگریس رہنما

اور سابق بھارتی وزیر پروفیسر سیف الدین

سوز نے وزیردفاع نرملا سیتارمن کے اس

بیان کو ردکیا ہے جس میں انہوں نے جموں وکشمیر میں افسپا قانون کے ہٹائے جانے کوخارج ازامکان

قراردیتے ہوئے کہا تھاکہ اس قانون کی فورسز کو ضرورت ہے۔ ایک بیان میںپروفیسر سوز نے کہا کہ 10

نومبر 1990 کو جب لوک سبھا میں اس بل کو پیش کیاگیا تو میں نے اس قانون کی بل کو اسپیکرکے سامنے

پھینک دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ اس قانون کی دفعہ4کے تحت کوئی بھی سپاہی

افسریامجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر گھروں کوجلاسکتا ہے اورانسانوں کو مارسکتا ہے اورتباہی مچاسکتا ہے

اور وہی کچھ برسوں سے کشمیر میں ہورہا ہے ۔سوزنے کہا کہ جب میں نے لوک سبھامیں اس قانون کیخلاف

احتجاج کیا تو بی جے پی کے ناخواندہ اورزبان درازممبروں نے مجھے عسکریت پسندوں کاحامی قراردیاتھا۔

سوزنے سوال کیا کہ کیا انہیں ابھی لوک سبھا الیکشن کے دوران کشمیریوں کی ہندیونین کے ساتھ دوری

اورناراضگی نظر نہیں آئی ؟انہوں نے کہاکہ وزیردفاع کو کشمیرکی زمینی حقیقت نظرنہیں آرہی ہے ۔ان کو یہ

بھی معلوم نہیں ہے کہ اس قانون کے ذریعے ہزاروں کشمیریوں کو بے رحمی کے ساتھ قتل کیاگیا۔سوزنے

کہاخوش آئندبات یہ ہے کہ کانگریس نے اپنے منشور میں کشمیریوں کویہ یقین دلایا ہے کہ اس قانون میں تبدیلی

لائی جائے گی اور انسانی حقوق کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔

Please follow and like us:

Leave a Reply