’ ’مدارس اور اردو‘‘ (ایک نہایت مفید اصافہ)

Spread the love

مرتب: ڈاکٹر فیض قاضی آبادی

مبصر: ڈاکٹر رحمت اللہ میر

لیکچرر شعبہ اردو، گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین بارہ مولہ

ہندوستان میں اردو زبان کی تدریس اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے کوشش کرنے والے اداروں میں مدارس اسلامیہ ایسے مراکز ہیں جن کا بنیادی مقصد اگرچہ اردو کا فروغ نہیں ہے مگر اردو کی خدمت کے لیے وقف اداروں سے ان کی خدمات کسی بھی طرح کم نہیں ہیں۔ علمانے معلومات کی ترسیل کے لیے ہمیشہ اردو زبان کا سہارا لیا ہے۔ وعظ و نصیحت ، تقریر اور خطبے عموماََ اردو زبان میں ہوا کرتے ہیں۔ یہی حال تصانیف کی بھی ہے ۔ آج جہاں عوام میں خالص ادبی کتابوں کی پذیرائی نہ کے برابر ہے وہیں اردو میں مذہبی کتابوں کی تجارت آج بھی ایک منفعت بخش پیشہ ہے ۔ اسلامی لٹریچر کی اسی فراوانی کی وجہ سے مدارس میں عموماََ ذریعہ تعلیم اردو ہے۔ اردو ہی کی کتابیں پڑھ کر اور سمجھ کر طلبہ اور اساتذہ اپنی علمی استعداد بڑھاتے ہیں۔ اگر چہ مدارس نے اپنے یہاں کوئی اردوکا شعبہ نہیں کھولا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اردوکے لیے جو کچھ کر رہے ہیں وہ کم نہیں ہے۔ اس کے علاوہ زبان کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اردو زبان کی صحیح فہم کے لیے فارسی اور عربی زبان کی تھوڑی بہت معرفت ضروری ہے۔ عربی اور فارسی زبان سے عدم واقفیت کی وجہ سے دیکھا گیا ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبااور اساتذہ صحیح اردو نہیں بول پاتے اور اصطلاحات کا مفہوم و مطلب سمجھنے میں اکثر غلطی کر جاتے ہیں۔ اس کے برعکس مدارس کے طلبا کے لیے اردو زبان میں مہارت حاصل کرنا آسان ہے۔ مدارس میں اَساتذہ طلبا کی زبان اور بیان کو تراش خراش کر کے معیاری بناتے ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مدارس کے طلبا کی اردو تحریر دوسروں سے نمایاں ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو مدارس میں خوش خط لکھنا سکھایا جاتا ہے۔ اردو کے حوالے سے مدارس کی خدمات گنانے کے لیے ماضی کی ادبی شخصیات کا نام لیا جا سکتا ہے۔ صوفیائے کرام سے لے کر ترقی پسند تحریک تک ایک لمبی فہرست ہے جن کے بارے میں کتاب میں اشارہ کیا گیا ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہیںکہ جب اردو کا چراغ جھلملا کر بجھ رہا تھا تو ہمارے مدارس میں اس چراغ کی روشنی اور بھی زیادہ بڑھ رہی تھی۔ تقسیم ہند کے المیہ کے بعد اس زبان کے ساتھ ملک میں کچھ اس قسم کے حالات پیدا ہوئے کہ یہ مسلمانوں کی زبان بن کر رہ گئی ۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس زبان کو عام کریں۔ قابل تحسین اور لائقِ مبارک باد ہیں ہمارے مدارس جنھوں نے تقسیم کے بعد اس زبان کو اپنے گلے کا ہار بنائے رکھا ۔لیکن مدارس اسلام کی اردو زبان و ادب کے تیئں پر خلوص خدمات سے ہماری نوجواں نسل بے خبر اور لا تعلق ہے۔ ملک کی مختلف جامعات میں اس موضوع پر کام کرانے کی ضرورت ہے ۔ یہ بڑا المیہ ہے کہ ادبیات میں تحقیق کا دائرہ بہت محدود کردیا گیا ہے۔ نئی نسل کو مدارس اسلامیہ کی ان خدمات سے متعارف کرانا وقت کا اہم تقاضا ہے ۔گیسوئے اردو کی مَشاطگی میں اہلِ مدارس کے لا ثانی و لا فانی رول کا اعتراف کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اس پہلو کو زیادہ وضاحت اور تفصیل کے ساتھ علمی اور عوامی حلقوں کے سامنے لایا جائے۔

چنانچہ اسی تقاضے اور مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ڈاکٹر فیض قاضی آبادی نے ’’مدارس اور اردو‘‘ کتاب کی ترتیب عمل میں لائی اور اس میں شامل کئے جانے والے مقالات کو ترتیب و تدوین کے بعد زیر نظر مجموعے کی شکل دی۔ ڈاکٹر فیض قاضی آبادی کسی رسمی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ انہوں نے ریاستی اوربیرون ریاستی ادبی حلقوں میں اپنی ایک خاص پہچان بنا لی ہے۔اقبالیات ان کا خاص میدان ہے اور اسی میںانہوں نے پی ۔ ایچ۔ڈی کے لیے تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔ابھی تک ان کی چار کتابیں شائع ہو کر دادِ تحسین حاصل کر چکی ہیںاور یہ ان کی پانچویں کتاب ہے جومدارس کی اردو زبان و ادب کے تئیں خدمات کا احاطہ کرنے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فیض صاحب نے مذکورہ کتاب کو ترتیب دے کرمدارس کی خدمات سے متعارف کرایا ہے اور ان کی یہ کوشش قابل ستائش ہے۔

کتاب کی ضخامت ۳۵۲ صفحات ہے۔ اس میں جملہ ۲۴ مقالات اور کچھ اہل علم و ادب کے تاثرات شامل ہے۔ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں شامل مقالات مجموعی طور پرمدارس کی اردو خدمات کے بارے میں ہیں اور دوسرے حصے میں ریاست و بیرون ریاست کے کچھ اہم اور مقبول مدارس کی خدمات کا اِحاطہ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ مُرتِب نے’اپنی بات‘ کے عنوان سے موضوع کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا ہے اور بہت ہی پتے کی بات کہی ہے ۔ لکھتے ہیں ’’مدارس میں اردو عملی طور پر زندہ ہے۔ یہاں ذریعہ تعلیم بھی اردو ہے۔ اشتہار اردو میں چھپتے ہیں۔ حاضری رجسٹر اردو میں ہوتی ہے۔ تنخواہ بلیں اردو میں تیار کی جاتی ہیں۔ اسباق اردو میں پڑھائے جاتے ہیں۔ درخواستیں اردو میں دی جاتی ہیں۔ فتوی ارود میں لکھے جاتے ہیں۔ کاروائی اردو میں لکھی جاتی ہے۔ یہ چکیں اردو میں لکھتے ہیں۔ ان کی مہریں اردو میں ہوتی ہیں۔ یہ دستخط اردو میں کرتے ہیں۔ یہ ہندسے اردو میں بولتے ہیں۔ یہ ATMسے پیسے نکالتے وقت اردو زبان کا انتخاب کرتے ہیں۔ غرض اردو اگر عملی سطح پر کہیں زندہ و تابندہ ہے تو وہ مدارس ہیں۔ ــ‘‘

مولانا خضر محمد نقشبندی ’تقریظ‘میںلکھتے ہیں کہ’ نئی نسل کو مدرارس کی خدمات سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح سابقہ صدر شعبہ اردو جامعہ کشمیر پروفیسر نذیر احمد ملک کے علاوہ ڈاکٹر جوہر قدوسی اور ڈاکٹر نذیر احمد زرگر نے اس کتاب کی اہمت کی طرف اشارہ کیا ہے اور فیض صاحب کو یہ کتاب شائع کرنے پر مبارک باد پیش کی ہے۔

مفتی نذیر احمد قاسمی، شیخ الحدیث دارلعلوم بانڈی پورہ نے ’اردو کی بقا اور ترویج میں مدارس اسلامیہ کا ممتاز کردار‘ کے عنوان سے کافی معلوماتی اور دلچسپ مقالہ تحریر کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مقالے میں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کا فتوی نقل کر کے کیا ہے جو چشم کشا ہے۔’’اردو زبان کی حفاظت (چونکہ) دین کی حفاظت ہے ۔اس بنا پر (اس زبان کی) حفاظت حسب استطاعت واجب ہوگی اور باجود قدرت کے اس میں غفلت اور سستی کرنا مصیبت (بھی ہوگی) اور موجب مواخذئہ آخرت (بھی) ہوگا‘‘۔ ’’اردواور دینی مدارس عالمی تناظر کی روشنی میں ‘‘مفتی محمد اسحق نازکی کا مقالہ بھی دینی مدارس کی بے لوث خدمت کے تناظر میں کافی اہم اور معلوماتی ہے۔وہ اپنے مقالے میں لکھتے ہیں ’’ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے لیکن مذاہب نے زبانوں کی ترویج اور ان کی بقا کے لیے سب سے زیادہ اہم رول ادا کیا ہے۔‘‘ اس کے علاوہ پروفیسر ابولکلام قاسمی، حقانی القاسمی، ڈاکٹر واثق الخیر، ڈاکٹر عزیر اسرائیل، توقیر راہی، خوشتر نورانی، ڈاکٹرجوہر قدوسی، ڈاکٹر محمد سراج ، ڈاکٹر شاہ فیصل وغیرہ کے مقالہ جات اردو کی بقا و ارتقا کے سلسلے میں مدارس اسلامیہ کی خدمات کی عکاسی کرتے ہیں۔ حقانی القاسمی اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زبان و بیان کی سطح پر اردو کو جو توسیع اور تنوع میسر آیا ہے وہ مدارس ہی کا فیض ہے۔ ڈاکٹر واثق الخیر نے اپنے مقالے میں ایک اہم نکتے کی طرف ہماری تَوجُہٗ مبزول کرائی ہے کہ آج تک کسی مدرسہ کے تعلیم یافتہ فرد نے اردو زبان کے مادری اسکرپٹ (عربی)کو بدلنے کی بات نہیں کی ہے جب کہ اردو ادب کو فروغ دینے والے کچھ اُدبا نے اردو کو دیوناگری یارومن اسکرپٹ میں لکھنے کی وکالت کرچکے ہیں۔

کتاب کے دوسرے حصے میںنو مقالات شامل ہیں،جن میں مفتی شیخ محمد احسان رحمانی، شاہد زبیری، مولانا محمد مزمل، مولانا محمد الرحمن، مولانا محمد ادریس اور محمد یوسف مشہور کا مضمون’جموں و کشمیر کے مدارس اسلامیہ اور اردو زبان و ادب‘ میں ریاست کے مختلف علما کا حوالہ دیتے ہوئے مدارس کی اردو خدمات کو بڑے احسن طریقے سے پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا محمدمسعودی کا مضمون ’اردو زبان کی خدمات میں دارالعلوم المصطفوی کا حصہ‘ بھی اہم اور معلوماتی ہے۔’صوبہ جموں کے مدارس کا کردار ، اردو زبان کے تناظر میں‘ مضمون میں ڈاکٹر محمد آصف ملک علیمی نے جموں کے جموں صوبے کے مختلف مدارس کا نام گناتے ہوئے اردو کے تئیں ان مدارس کی خدمات کا بھر پور جائزہ پیش کیا ہے۔ کتاب کے مرتب ڈاکٹر فیض قاضی آبادی نے اپنے مضمون ’اردو زبان کے فروغ میں دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کشمیر کا رول‘ میں اس مدرسے کی اردو خدمات کا بھرپور ااحاطہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں اس اہم نقطے کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے کہ اردو زبان و ادب کی تاریخ مرتب کرنے والوں نے کس بنا پر مدارس کی اردوخدمات کو یکسر نظر انداز کیا ہے۔اسی طرح مفتی شیخ محسن احسان رحمانی نے اپنے مضمون بعنوان’’اردو زبان کی اشاعت و ارتقا میں دارالعلوم رحمانیہ حیدر آباد کا کردار‘‘ میں اس دارلعلوم کی اردو خدمات کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے جو کافی بصیرت افروز اور معلوماتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک طرف مدارس کے قیام سے جہاں یہاںعربی داں پیدا ہوئے وہیںدوسری طرف اردو ادب کو ماہر قلمکار، مرتب، مصنف اور مقرربھی دستیاب ہوئے ہیں۔اسی طرح شاہد زبیری کا مضمون بعنوان’ دارالعلوم دیوبند اورمظاہر علوم سہارنپور میں اردو: ایک جائزہ‘ ان مدارس کی اردو خدمات کا احاطہ کرتا ہے۔

بہرحال مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اس کتاب میں شامل مقالات اہل قلم و محبانِ اردو کے مدارس کے تئیں خدمات کے اعتراف نامے ہیں۔ امید ہے کہ ان تحریروں سے اہل قلم مدارس کے عزائم کو بلند کرنے اور اردو زبان و ادب کو فروغ دینے کے تعلق سے ان کے حوصلوں کو تعمیر کرنے میں مدد ملے گی۔ نیز اردو کے عام حلقے اہل مدارس کے ساتھ وفاداری اور خدمات سے روشناس ہو سکیںگے۔ اس کتاب میں شامل جملہ مقالات کی حسنِ ترتیب دیکھ کردل دے سے بے اختیار تحسین و آفرین کے کلمات نکل رہے ہیں۔ مدارس اور اردو کے حوالے سے اس کتاب کے مشمولات معلومات افزا ہے۔یہ کتاب’کتابی دنیاـ، دہلی‘سے چھپ کر آئی ہے۔کتاب کا سرورق دیدہ زیب ہے اور اس کی قیمت ۴۷۰ روپیہ ہے۔امید ہے کہ یہ کتاب اردو دنیا میں مقبول ہوجائے گی اور اردو اسکالروں کو اس موضوع کی مختلف جہتوں پر کام کرنے کے لیے ابھارے گی۔

Leave a Reply