149

بھارت ’’فانی‘‘ طوفان نے 8 لوگوں کی جان لے لی

Spread the love

مغربی بنگال میں 35 ہزار سے زائد لوگوں نے شیلٹرز میں رات گزاری

مشرقی ساحلی علاقوں سے لگ بھگ 12 لاکھ افراد کومحفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا

شہریوں کو بچانے کیلئے 1 ہزارعارضی قیام گاہیں تیارکی گئیں،بندرگاہوں پر آپریشنز بند

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کے مشرقی ساحلوں پر آنے والے’’ فانی‘‘ نامی طوفان کے باعث 8 افراد

ہلاک ہو گئے۔ اڑیسہ سے ٹکرانے کے بعد طوفان مغربی بنگال میں داخل ہو گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مغربی

بنگال میں 35 ہزار سے زائد لوگوں نے عارضی پناہ گوہوں میں رات گزاری، سمندری طوفان کے پیش

نظربھارت کے مشرقی ساحلی علاقوں سے لگ بھگ 12 لاکھ افراد کومحفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 240

کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے اور موسلا دھار بارش سے اڑیسہ کے کئی شہروں اور دیہاتوں

میں تباہی پھیلائی ہے ، 20برسوں میں آنے والے بدترین طوفان سے شہریوں کو بچانے کے لیے ریاستی

حکومتوں کی جانب سے ایک ہزار عارضی قیام گاہیں تیارکی گئیں ۔ ان عارضی قیام گاہوں میں ساحلی علاقوں

سے لوگوں کو منتقل کرنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ بھارتی حکام نے مشرقی ساحل پر قائم دن بندرگاہوں

پر جہازوں کی آمد و رفت سمیت تمام آپریشنز بند کر دیئے ہیں اور ہزاروں اہلکار نشیبی علاقوں میں رہنے

والوں افراد کو نکالنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ آندھرا پردیش اور تامل ناڈو کی ریاستوں میں بھی ممکنہ

طوفان کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ سیاحتی شہر پوری میں 858 سال قدیم جگن ناتھ مندر بھی ہے

جس کے بارے میں حکام کو سمندری طوفان کے باعث نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اوڑیسہ میں تمام سکول

اور یونیورسٹیوں کو بند کر دیا گیا۔ بھارتی ریاست آندھرا پردیش اور مغربی بنگال میں بھی سکول اورکالجز بند

کردیئے گئے۔ انڈین بحریہ نے بتایا کہ انہو ں نے علاقے میں 7 جنگی جہاز بھیجے ہیں جبکہ6 جہاز اور 7

ہیلی کاپٹر کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے اور امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ موسمی حال بتانے والوں

نے خبردار کیا ہے کہ طوفانی بارشوں کے باعث مغربی بنگال کے نشیبی علاقوں میں پانچ فٹ تک سیلاب کا

خطرہ ہو سکتا ہے۔ سائیکلون فانی چوتھا سمندری طوفان ہے جو گذشتہ تین دہائیوں میں ملک کی مشرقی ساحل

سے ٹکرایا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں