غزل (ڈاکٹر فیاض احمد علیگ)

Spread the love

ڈاکٹر فیاض احمد علیگ
اسسٹنٹ پروفیسر ابن سینا طبیہ کالج 
بینا پارہ اعظم گڑھ

محبت میں بھلا ایسی نشانی کون دیتا ہے
کسی کے واسطے یوں جان جانی کون دیتا ہے


مرے اندر کہیں چھپ کر یہ آخر کون بیٹھا ہے
مرے نطق و بیاں کو لن ترانی کون دیتا ہے


میاں خدمت ہرے پھلدار پیڑوں کی ہی ہوتی ہے
بھلا سوکھے ہوئے پیڑوں کو پانی کون دیتا ہے


ردیف و قافیہ کچھ بھی نہیں آتا مگر پھر بھی
مری غزلوں کو آخر یہ روانی کون دیتا ہے


مری آنکھیں نئے سپنے سجاتی ہیں تو پھر آخر
مرے خوابوں کو تعبیریں پرانی کون دیتا ہے


مسل دیتے ہیں کلیوں کو کچل دیتے ہیں پھولوں کو 
انہیں ظالم کو پھر بھی باغبانی کون دیتا ہے


مری وحشت تو صحرا کو بھی رونق بخش دیتی ہے
مجھے فیاض لیکن لامکانی کون دیتا ہے

یہ بھی پڑھیے:

Leave a Reply