187

4 مئی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1493ء پوپ ایلکسینڈر ششم نے نئی دنیا کو ہسپانیہ اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔

1494ء کرسٹوفر کولمبس جمیکا میں اتر گئے۔

1904ء پاناما نہر کی تعمیر کا کام شروغ ہو گیا۔

1910ء موجودہ اسرائیل کے دار الحکومت تل ابیب کی بنیاد رکھی گئی

1924ء فرانس میں اولمپک کھیل کا آغاز۔

1931ء مصطفی کمال پاشا ترکی کے صدر بنے

1979ء مارگریٹ تھیچر برطانیہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔

1990ء پاکستان نے آسٹریلیا کو چھتیس رنز سے ہرا کر آسٹریلیا ایشیاکپ جیتا

1994ء اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن اور پی ایل او کے رہنما یاسرعرفات نے فلسطین کی مشروط خود مختاری کے معاہدے پردستخط کیے

1996ء ہوزے مریا ازنار ہسپانیہ کے وزیر اعظم بن گئے۔

2005ء صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے میں ملوث مبینہ القاعدہ کے رہنما ابوفراج کو سیکورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا

ولادت

1006ء – خواجہ عبداللہ انصاری، شاعر و صوفی، شیخ ہرات۔ شیخ ابو اسماعیل عبد اللہ حیراوی انصاری یا پیر ہرات گیارہویں صدی میں ہرات (خراسان، موجودہ صوبہ ہرات افغانستان) کے رہنے والے فارسی زبان کے مشہور صوفی شاعر تھے۔ آپ پانچویں صدی ہجری/ گیارہویں صدی عیسوی میں ہرات کی ایک نادر شخصیت، مفسر قرآن، راوی، مناظر اور شیخ طریقت تھے جو عربی اور فارسی زبانوں میں اپنے فن تقریر اور شاعری کے باعث جانے جاتے تھے۔ ان کا انتقال 8 مارچ 1089ء۔

1649ء مہاراجا چھترسال بندیل، قرون وسطی کے ایک نامور راجپوت جنگجو تھے جنہوں نے مغل بادشاہ اورنگزیب سے جنگ کرکے بندیل کھنڈ میں اپنی ریاست قائم کی تھی اور “مہاراجا” کا لقب اختیار کیا تھا۔ اس کا انتقال 20 دسمبر 1731ء۔

1905ء اختر شیرانی اردو شاعر، محمد داود خان نام ٹونک (راجپوتانہ) میں پیدا ہوئے۔ تمام عمر لاہور میں گزری۔ والد پروفیسر محمود شیرانی اورینٹل کالج لاہور میں فارسی کے استاد تھے۔ اختر کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ منشی فاضل کا امتحان پاس کیا لیکن والد کی کوشش کے باوجود کوئی اور امتحان پاس نہ کر سکے اور شعروشاعری کو مستقل مشغلہ بنا لیا۔ ہمایون اور سہیلی کی ادارت کے بعد رسالہ انقلاب پھر خیالستان نکالا اور پھر رومان جاری کیا۔ شاہکار کی ادارت بھی کی۔ اردو شاعری میں اختر پہلا رومانی شاعر ہے جس نے اپنی شاعری میں عورت سے خطاب کیا۔ عالم جوانی میں ہی اختر کو شراب نوشی کی لت پڑ چکی تھی، جو آخر کار جان لیو ثابت ہوئی۔ لاہور میں انتقال ہوا اور میانی صاحب میں دفن ہوئے۔

1922ء محشر بدایونی 4 مئی، 1922ء کو بدایوں، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام فاروق احمد تھا۔ انھوں نے بدایوں سے ہی تعلیم حاصل کی اور قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کے جریدے آہنگ سے منسلک ہو گئے۔ محشر بدایونی کا شمار اردو کے ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔ غزل ان کی محبوب صنف سخن تھی۔ ان کی تصانیف میں شہر نوا، غزل دریا، گردش کوزہ، فصل فردا، چراغ ہم نوا، حرف ثنا، شاعر نامہ، سائنس نامہ اور بین باجے کے نام شامل ہیں۔ ان کا انتقال 9 نومبر 1994ء کو ہوا۔

1928ء – حسنی مبارک، مصر کے سابق صدر۔ 1928ء میں قاہرہ کے نزدیک مینوفیہ کے صوبے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قاہرہ کی امریکی یورنیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والی خاتون سوزین سے شادی کی جن سے ان کے دو بچے جمال اور علا ہیں۔ انہوں نے ایک نہایت مشکل دور میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔ اور اس اعلیٰ عہدے تک پہنچے۔ انھوں نے تباہ حال مصری فضائیہ کی ازسر نو تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

1928ء پروفیسر آفاق صدیقی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور سندھی زبان کے نامور شاعر، نقاد، مترجم اور پروفیسر تھے۔ ان کا انتقال 17 جون 2012ء کو ہوا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ سکھر میں آباد ہوئے اور انہوں نے تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔

1950 عابد کشمیری، معروف پاکستانی فلم ٹیلی ویژن اور اسٹیج اداکار اور کامیڈین ہیں انہوں نے مزاحیہ اداکاری میں زیادہ نام کمایا اوراسٹیج پر بہت کام کیا

وفات

1799ء – ٹیپو سلطان والیٔ میسور، 20 نومبر، 1750ء کو دیوانہالی میں پیدا ہوئے۔ موجودہ دور میں یہ بنگلور دیہی ضلع کا مقام ہے جو بنگلور شہر سے 33 کلومیٹر (21 میل) شمال میں واقع ہے۔ ٹیپو سلطان کا نام آرکاٹ کے بزرگ ٹیپو مستان اولیا کے نام پر ہے۔ اسے اپنے دادا فتح محمد نام کی مناسبت سے فتح علی بھی کہا جاتا تھا۔ حیدر علی نے ٹیپو سلطان کی تعلیم پر خاص توجہ دی اور فوج اور سیاسی امور میں اسے نوعمری میں ہی شامل کیا۔ 17 سال کی عمر میں ٹیپو سلطان کو اہم سفارتی اور فوجی امور پر آزادانہ اختیار دے دیا۔ اسے اپنے والد حیدر علی جو جنوبی بھارت کے سب سے طاقتور حکمران کے طور پر ابھر کر سامنے آئے کا دایاں ہاتھ سمجھا جاتا تھا۔ ٹیپو سلطان کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ آپ بنگلور، ہندوستان میں 20 نومبر، 1750ء میں حیدر علی کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو بزورِ طاقت روکے رکھا اور کئی بار انگریزافواج کو شکست فاش بھی دی۔ ٹیپو سلطان کا قول تھا: ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘

1963ء – شوکت تھانوی، ممتاز مزاح نگار

1938ء – کارل فان اوسیتزکی، جرمنی کے صحافی نوبل انعام یافتہ

1972ء – اڈوارڈ کیلون کینڈل ایک امریکی کیمیاء دان تھے جنھوں نے 1950 کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔ انھوں نے ایڈرینل گلینڈ کے ہارمون کے متعلق کام کیا تھا۔ وہ 8 مارچ 1886ء کو پیدا ہوئے۔

1980ء – مارشل ٹیٹو، یوگوسلاوی فیلڈ مارشل و پہلے صدر

1989ء سید صادق حسین شاہ کاظمی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر اور قانون دان تھے۔ وہ یکم اکتوبر، 1898ء کوکھادڑ پاڑہ، کشمیر میں پیدا ہوئے۔ ان کا مجموعہ کلام برگِ سبز کے نام سے اشاعت پزیر ہو چکا ہے۔ اردو کا یہ مشہور شعر جو بیشتر اوقات علامہ اقبال سے منسوب کر دیا جاتا ہے انہی کا ہے۔
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

2013ء –کرسچن ڈی دوویایک بیلجئیمی خلیاتی اور حیاتیاتی کیمیاءدان تھے جنھوں نے 1974 کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔ وہ 2 اکتوبر 1917ء کو پیدا ہوئے۔

تعطیلات و تہوار

فائر فائٹرز کا عالمی دن

فائر فائٹرز کے حوالے سے دیبا شہناز اختر کا مضمون پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں