178

قطر کا ایرانی تیل کی برآمدات پر امریکی پابندی کا فیصلہ ماننے سے انکار

Spread the love

امریکی فیصلے سے عالمی معیشت پر مثبت نہیں بلکہ منفی اثرات مرتب ہوں گے، محمد بن عبدالرحمان آل ثانی

قطر امریکا کی طرف سے ایران پریک طرفہ پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا

امریکہ ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندی کا فیصلہ واپس لے،قطری وزیر خارجہ

دوحہ(ویب ڈیسک)خلیجی ملک قطر نے امریکہ کی جانب سے ایران سے تیل کی خریداری پر دی گئی مہلت

ختم کرنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے

ایک بیان میں کہا کہ امریکی فیصلے سے عالمی معیشت پر مثبت نہیں بلکہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔قطری

وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران سے تیل خریدنے پرپابندی کے فیصلے کا خود امریکہ کو نقصان پہنچے گا۔ اس

کے علاوہ ایرانی تیل پرانحصار کرنے والے ممالک براہ راست امریکی فیصلے سے متاثر ہوں گے۔انہوں نے

امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندی کا فیصلہ واپس لے۔ محمد عبدالرحمان آل ثانی نے

مزیدکہا کہ قطر امریکہ کی طرف سے ایران پریک طرفہ پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا۔ امریکی فیصلے سے

خطے میں جاری بحرانوں کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ بحرانوں کو حل

اور اختلافات دور کرنا چاہتا ہے تو اسے مذاکرات کی میز پرآنا ہوگا۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے

عہدہ سنبھالنے کے بعد 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کو

منسوخ کردیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی

جس کے بدلے اس پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں نرم کردی گئی تھیں۔ٹرمپ انتظامیہ ایران سے نیا معاہدہ

چاہتی ہے جس میں جوہری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے کی شرط بھی

شامل ہوگی تاہم ایران اس کیلئے تیار نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں