غزل (ڈاکٹر فیاض احمد علیگ)

Spread the love

ڈاکٹر فیاض احمد علیگ
اسسٹنٹ پروفیسر ابن سینا طبیہ کالج 
بینا پارہ اعظم گڑھ

جن کو سجدے میں میاں ہم رات بھر دیکھا کئے
صبح دم ان کی دعائیں بے اثر دیکھا کئے ۔

توڑ کر سارے قفس ہم آسماں تک آ گئے
لوگ بیٹھے آشیاں میں بال و پر دیکھا کئے۔

جب ہمیشہ کے لئے گھر چھوڑ کر جانے لگے
دور تک مڑ مڑ کے ہم دیوار و در دیکھا کئے۔

ہوش اپنا تھا نہ دنیا کی خبر تھی یار کچھ
ہم جنوں میں بس انہیں کو آنکھ بھر دیکھا کئے۔

یوں تو دامن میں ہمارے ایک جگنو بھی نہ تھا
پھر بھی خوابوں میں مگر شمس و قمر دیکھا کئے ۔

ہم تو آنکھوں کے دوانے آنکھ میں ڈوبے رہے
لوگ ان کے عارض و گیسو ،کمر دیکھا کئے ۔

چاند بانہوں میں لئے تو گود میں سورج لئے
ایک ہی مرکز سے ہم شمس و قمر دیکھا کئے۔

گھوم پھر کر لوٹ آئے پھر اسی کوفہ میں ہم
زندگی کا پھر ستم شام و سحر دیکھا کئے۔

سب کی وقعت کو بڑھانے کے لئے تو عمر بھر
خود کو ہی فیاض ہوتے ہم صفر دیکھا کئے ۔

یہ بھی پڑھیں

Please follow and like us:

Leave a Reply