196

2 مئی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1885ء بلجیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم نے کانگو آزاد ریاست کی بنیاد رکھی۔

1889ء حبشہ کے شاہنشاہ مینیلیک دوم نے اطالیہ کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کر لیا۔

1900ء بوئر جنگ کے دوران سویڈن کے بادشاہ آسکر دوم نے برطانیہ کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا۔

1933ء جرمنی میں ہٹلر نے ٹریڈ یونینز پر پابندی عائد کردی

1945ء روسی فوجوں نے برلن پر قبضہ کر لیا اور رائخستاگ پر اپنا جھنڈا لہرایا۔

1953ء اردن میں شاہ حسین کی تخت نشینی۔

1971ء امریکہ میں جنگ مخالف احتجاج کے دوران تیرہ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا

1982ء فاکلینڈ جنگ میں برطانوی جہاز کانکرر نے ارجنٹائن جہاز جنرل بلگرانو کو ڈبا دیا۔

1997ء ٹونی بلیئر برطانیہ کے وزیر اعظم بن گئے۔

2005ء لاہورمیں گیس سلنڈر پھٹنے سے تین عمارتیں تباہ ہوگئیں جس سے سولہ افراد ہلاک ہوئے

2005ء عراقی تاریخ میں پہلی بار منتخب حکومت نے اقتدارسنبھالا

2008ء میانمار میں نرگس نامی ہوائی طوفان سے ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے

ولادت

920ء امام الحافظ، شیخ الاسلام ابویعلیٰ الموصلی (پیدائش: 27 جنوری 826ء— وفات: 2 مئی 920ء) محدث، فقیہ تھے۔اُن کی وجہ شہرت اُن کی تالیف حدیث مسند ابویعلیٰ ہے۔ نام احمد بن علی ہے جبکہ نسب یوں ہے: احمد بن علی بن المثنی ابن یحیی بن عیسی بن ہلال التمیمی الموصلی۔ امام ابویعلیٰ 13 شوال 210ھ مطابق 27 جنوری 826ء کو موصل میں پیدا ہوئے۔ تمام عمر موصل میں بسر کی۔عمر کے طویل دور میں امام ابویعلیٰ نے خلیفہ عباسی المامون سے المقتدر باللہ تک 12 خلفائے عباسیہ کا دورِ حکومت دیکھا۔ ایک روایت کے مطابق ان کی وفات کا سال 926 ہے۔ جبکہ اکابرین کے نزدیک 920 کو زیادہ معتبر تسلیم کیا گیا ہے۔

1729ء کیتھرین دوم، روسی ملکہ

1912ء شاہ عراق فیصل اول کا اکلوتا فرزند جو 1933ء میں بادشاہ بنا۔ غازی بن فیصل فطرتاً آزاد و خود مختار تھا۔ حکومت برطانیہ کی جو روش فیصل اول کے زمانے میں رہی تھی اسے قطعاً پسند نہیں کرتا تھا۔ عربوں میں اس نے بڑی ہردلعزیزی حاصل کر لی تھی۔ 27 سال کی عمر میں موٹر کے ایک حادثے میں بغداد میں وفات پائی۔

1924ء ـ جمال ابڑوجمال ابڑو ممتاز ماہر تعلیم علی خان ابڑو کے بیٹے تھے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم میہڑ کے قریب اپنے گاؤں سانگی میں حاصل کی۔ وہ کچھ عرصہ جوناگڑھ میں بھی زیر تعلیم رہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1948 میں جمال ابڑو وکالت کے پیشے سے وابستہ ہو گئے۔ کچھ عرصے تک پبلک پراسیکیوٹر رہنے کے بعد عدلیہ سے منسلک ہو گئے۔ وہ سندھ ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ اس دوران وہ سندھ اسمبلی کے سیکریٹری اور سروسز ٹربیونل کے چیئرمین بھی رہے- لیکن ان کی پہچان ادب اور ان کے ترقی پسند خیالات تھے۔ انہوں نے اسکول کے زمانے سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے سچ، پیار، محبت، انسانی حقوق، مساوات اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر قلم اٹھایا۔ان کی پہلی کتاب ’ پشو پاشا ‘ افسانوں کا مجموعہ تھی جس نے انہیں امر کر دیا- ان کی کہانیوں نے مواد، اسلوب، فن اور خیالات کے حوالے سے سندھی ادب میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ انہوں نے سندھی افسانہ نگاری کو نئے رجحانات سے روشناس کیا۔ ابڑو کا شمار جدید سندھی افسانے کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ ان کے بعض افسانوں کے ترجمے انگریزی، اردو، روسی اور جرمن زبانوں میں بھی ہوچکے ہیں۔ جمال ابڑو کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سندھی ادب میں ترقی پسند خیالات کو ناصرف روشناس کرایا بلکہ اس مقصد کے لیے علمی کام اورتنظیم سازی بھی کی۔ وہ سندھی ادیبوں کی ترقی پسند تنظیم سندھی ادبی سنگت کے بانیوں میں سے تھے- اس تنظیم نے سندھ میں سیاسی فکر کی ترقی اور ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بیٹے بدر ابڑو سندھ کے ممتاز ادیب اور محقق ہیں۔ جمال ابڑو کو ادب کے علاوہ سندھ کی تاریخ اور ثقافت پر بھی دسترس حاصل تھی۔ انہوں کی خود نوشت سوانح کی چار جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ ترقی پسند فکر رکھنے والے ابڑو عمر کے آخری حصے میں مذہب کی طرف راغب ہو گئے تھے ۔80 سال کی عمر میں 30 جون 2004 کو یہ عظیم انسان اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

1935ء فیصل دوم، عراق کا آخری بادشاہ تھا۔ اس نے 4 اپریل 1939 سے 1958 جولائی تک حکومت کی، جب وہ 14 جولائی 1958ء کے انقلاب کے دوران ہلاک ہو گیا۔ اس کی اور اس کے والد غازی بن فیصل دونوں کی تاریخ پیدائش ایک ہی دن یعنی دو مئی ہے۔

1938ء صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق گورنر۔ اردو زبان کے مشہور شاعر احمد فراز کے بھائی۔ ضلع کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے 1960ء میں قانون کی سند حاصل کی اور 1968ء میں انہیں لنکن بار میں بلایا گیا۔ انہوں نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں متعدد اہم مقدمات میں پیروی بھی کی۔ ان کو 2011 میں اویس غنی کے سبکدوش ہونے پر اس وقت کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے باہمی مشاورت سے گورنر مقرر کیا۔

1957ء فابیو اوچوا واسکیز، ایک کولمبیائی منشیات کا اسمگلر اور میڈئلین کارٹل کے بانی ارکان میں سے تھا۔(میڈئلین کارٹل میڈئلین، کولمبیا سے شروع ہونے والا ایک انتہائی منظم اور خوفناک کولمبیائی منشیات کی تنظیم تھی۔ یہ منشیات کارٹیل 1970ء اور 1980ء کے دہائیوں میں بولیویا، کولمبیا، پاناما، وسطی امریکہ، پیرو اور ریاستہائے متحدہ امریکا اور اس کے علاوہ کینیڈا اور یورپ میں فعال تھا۔)

1969ء برائن لارا، ٹرینیڈیڈا ویسٹ انڈیز کا کرکٹ کھلاڑی

وفات

1519ء لیونارڈو ڈا ونچی، اطالوی مصور

1997ء جان ایکلس آسٹریلوی عصبیاتی فعلیات دان اور فلسفی تھے جنھوں نے 1963 کا نوبل انعام وصول کیا تھا۔ وہ 27 جنوری 1903ء کو پیدا ہوئے۔

1997ء گیلیو ناٹا ا یک اطالوی کیمیادان تھے جنھوں نے 1963ء کا نوبل انعام کارل زیگلر کے ساتھ مشترکہ طور پر جیتا جس کی وجہ ان دونوں کی جانب سے پولی مر پر کیا گیا تحقیقی کام تھا۔

2001ء مولانا عبدالستار خان نیازی، یکم اکتوبر بروز جمعتہ المبارک 1915ء بمطابق 27 رمضان المبارک کی رات اٹک پنیالہ تحصیل عیسی خیل ضلع میانوالی کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم ذو الفقار علی خان زمیندار تھے۔ آپ کا تعلق عیسی خیل کے مشہور پٹھان قبیلے نیازی سے تھا

2013ء سربجیت سنگھ ایک بھارتی جاسوس تھا جس نے 1990ء میں پاکستان میں گھس کر بم دھماکے کیے جس میں لاہور اور فیصل آباد میں چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ سربجیت سنگھ نے پہلے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ بھارتی پنجاب کے ترن تاران ضلعے سے ایک کسان تھا جو غلطی سے سرحد پار کرکے پاکستان میں آگیا۔اس نے یہ بھی کہا کہ وہ واپس بھارت جانے کی بھرپور کوشش میں تھا مگر اسی دوران اس کو گرفتار کر لیا گیا۔ پاکستانی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایا گیا اور اس کو دفاع کا پورا موقع دیا گیا مگر وہ اپنی بےگناہی ثابت کرنے میں ناکام رہا اور اس کو سزائے موت کا حکم ہوا اس کے پھانسی کے حکم پر عملدرامد نہیں ہوا۔ 2013ء میں زنداں میں کسی قیدی نے حملہ کر کے اس شدید زخمی کر دیا جس سے وہ چل بسا۔

تعطیلات و تہوار

—ایران میں اساتذہ کا دن منایا جا تاہے

اپنا تبصرہ بھیجیں